شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3721
3721 - أخبرنا أبو الحسن الشزري ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة أنه سمع أنس بن مالك يقول : قال أبو طلحة لأم سليم : لقد سمعت صوت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ضعيفاً أعرف فيه الجوع ، فهل عندك من شيءٍ ؟ فقالت : نعم ، فأخرجت أقراصاً من شعير ، ثم أخذت خماراً لها ، فلفت الخبز ببعضه ، ثم دسته تحت يدي ، وردتني ببعضه ، ثم أرسلتني إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : فذهبت به ، فوجدت رسول الله [ ] جالساً في المسجد ، ومعه الناس ، فقمت عليهم ، صفحة رقم 301 فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " أرسلك أبو طلحة ؟ " قال : فقلت : نعم ، فقال : " لطعامٍ ؟ " فقلت : نعم ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) لمن معه : " قوموا " قال : فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة ، فأخبرته ، قال أبو طلحة : يا أم سليم قد جاء رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بالناس ، وليس عندنا ما نطعمهم. فقالت : الله ورسوله أعلم ، قال : فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأقبل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) معه حتى دخلا ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " هلمي ما عندك يا أم سليم " فأتت بذلك الخبز ، فأمر به رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ففت ، وعصرت أم سليم عكة لها فأدمته ، ثم قال فيه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ما شاء أن يقول ، ثم قال : ائذن لعشرة فاذن لهم ، فأكلوا حتى شبعوا ، ثم خرجوا ، ثم قال : ائذن لعشرة فأذن لهم ، فأكلوا حتى شبعوا ، ثم قال : ائذن لعشرة حتى أكل القوم كلهم وشبعوا ، والقوم سبعون رجلاً أو ثمانون. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف ، صفحة رقم 302 وأخرجه مسلم عن يحيى بن يحيى ، كلاهما عن مالك. العكة : وعاء السمن. قوله : فأدمته ، أي : أصلحته بالإدام ، أدمت الخبز آدمه وآدمه ، وخبز مأدوم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری والدہ اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا، میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مجھے بھیج دیا، میں جو گیا تو آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا ابو طلحہ نے آپ کو بھیجا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا:’’ کچھ کھانا دے کر؟“ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ کے ساتھ اس وقت موجود تھے ان سب سے آپ نے فرمایا:’’چلو اُٹھو!‘‘ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور میں آپ کے آگے آگے لپک رہا تھا اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پہنچ کر میں نے انہیں خبر دی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے:اُم سُلیم ! حضور اکرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں۔ ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جا سکے؟ اُم سُلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، ہم فکر مند کیوں ہوں؟ خیر ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے، آپ کے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے، گھر پہنچ کر آپ نے فرمایا:’’اُم سلیم ! تمہارے پاس جو کچھ ہے لے آؤ۔‘‘ اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہی روٹی لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے روٹیوں کا چورا کر دیا گیا ، اُم سُلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکُپی نچوڑ کر اس پر گھی ڈال دیا اور اس طرح سالن ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد اس پر دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر فرمایا:’دس آدمیوں کو بلا لو۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا ، ان سب نے روٹی پیٹ بھر کر کھائی اور جب یہ لوگ باہر آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر دس آدمیوں کو بلا لو ۔‘‘ چنانچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر دس آدمیوں کو اندر بلا لو ۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا ، اور ان دس آدمیوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا ، جب وہ باہر گئے تو آپ نے فرمایا:’’ پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔‘‘ اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔
إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشزري
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3721
