شرح السنة للبغوي · كتاب البر والصلة ‹ باب ثواب المتحابين في الله · حديث 3464
3464 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ، أنا إسماعيل بن محمد الصفار ، نا أحمد بن منصور الرمادي ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن ابن أبي حسين ، عن شهر بن حوشب. عن أبي مالك الأشعري قال : كنت عند النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فنزلت عليه هذه الآية ) يا أيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أشْياءَ إنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ) ) المائدة : 101 ) قال : فنحن نسأله إذ قال : " إن لله عباداً ليسوا بأنبياء ، ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء بقربهم ومقعدهم من الله يوم القيامة " قال : وفي ناحية القوم أعرابيٌّ ، فجثا على ركبتيه ، ورمى بيديه ، ثم قال : حدثنا يا رسول الله عنهم من هم ؟ قال : فرأيت في وجه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) البشر ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " هم عبادٌ من عبادِ الله من بلدان شتى ، وقبائل شتى من شعوب القبائل لم تكن بينهم أرحام يتواصلون بها ، ولا دنيا يتباذلون صفحة رقم 51 بها ، يتحابون بروح الله ، يجعل الله وجوههم نوراً ، ويجعل لهم منابر من لؤلؤ قدام الرحمن ، يفزع الناسُ ، ولا يفزعون ، ويخاف الناس ولا يخافون ". ورواه عبد الله بن المبارك ، عن عبد الحميد بن بهرام ، قال : حدثنا شهر بن حوشب ، قال : حدثني عبد الرحمن بن غنم ، عن أبي مالك الأشعري ، عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ).
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ آپ پر اس آیت کریمہ کا نزول ہوا:(یَأَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُو الَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاءَ إِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ).... ’’اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘‘ (سورۂ مائدہ:۱۰۲) سیدنا ابو مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:ہم آپ سے پوچھ پاچھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ بلاشبہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ پیغمبر ہیں اور نہ شہید لیکن پیغمبر اور شہید لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ان کے قرب اور مقام ومرتبہ پر رشک کریں گے۔“ راوی نے کہا:مجلس کے ایک جانب ایک دیہاتی شخص بیٹھا ہوا تھا ، وہ زمین پر اپنے گھٹنے ٹیک کر اکڑوں ہو بیٹھا اور اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر کہنے لگا:اے اللہ کے رسول! ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں؟ راوی حدیث نے کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر بشاشت کے آثار دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ اللہ کے بندوں میں سے ایسے لوگ ہیں جن کا تعلق مختلف علاقوں سے ہے اور جو مختلف برادریوں اور قبیلوں سے ہیں، ان کے مابین کوئی رشتہ داری نہیں جس کی بنا پر وہ آپس میں محبت کرتے ہیں، نہ ان کے درمیان کوئی مالی لین دین ہے، وہ اللہ کی رحمت سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے چہرے روشن اور تابناک کر دے گا اور رحمٰن کے سامنے ان کے لیے نور کے منبر لگا دیئے جائیں گے ،لوگ گھبرائیں گے مگر وہ گھبراہٹ میں مبتلا نہیں ہوں گے، لوگ خوف زدہ ہوں گے لیکن انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا۔‘‘
أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ← أحمد بن عبد الله الصالحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Righteousness and Relation › Chapter reward those who love in God · Hadith 3464
