شرح السنة للبغوي · كتاب البر والصلة ‹ باب بر الوالدين · حديث 3416
3416 - أخبرنا أبو عمر عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أبو منصور محمد بن محمد بن سمعان النيسابوري ، أنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار الرياني ، نا حميد بن زنجويه ، نا عبد الغفار بن الحكم ، نا شريك ، عن عُمارة بن القعقاع ، عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة قال : أتى رجل النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال صفحة رقم 4 أنبئني بأحق الناس مني بحسن الصحبة ، قال : " نعم والله لتنبأن " قال : من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : " أمك " قال : ثم من ؟ قال : " أمك " قال : ثم من ؟ قال : " أبوك " قال : يا رسول الله نبئني عن مالي كيف أتصدق به ؟ قال : " نعم والله لتنبأن ، تصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر ، وتأمل الغنى ، ولا تمهل حتى إذا كان نفسك هاهنا - وأشار شريك إلى حلقه - قلت : مالي لفلان ، ولفلان ، وهو لهم ، وإن كرهت ". هذا حديث متفق على صحته أخرجا حديث البر عن قتيبة ، عن جرير ، عن عمارة ، وأخرجا الحديثين من طرق ، عن عمارة بن القعقاع ، وأخرج مسلم حديث البر عن أبي بكر بن أبي شيبة ، عن شريك. وروينا عن عبد الله بن مسعود قال : قلت : يا رسول الله أي الأعمال أفضل ؟ قال : " الصلاة لميقاتها " قلت : ثم ماذا ؟ قال : " بر الوالدين ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا:مجھے بتائے! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ نے فرمایا:’ہاں ، اللہ کی قسم تجھے ضرور بتایا جائے گا۔‘‘ اس نے کہا:کون ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ تمہاری ماں۔‘‘ اس نے کہا:پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہاری ماں۔‘‘ اس نے پوچھا:پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہاری ماں۔‘‘ اس نے پھر پوچھا:پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارا باپ۔‘‘ اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! مجھے مال کے متعلق بتائیے کہ میں اس کا صدقہ کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ہاں! اللہ کی قسم ! تجھے ضرور بتایا جائے گا ، تو صدقہ کر جبکہ تو صحت مند اور تندرست کے ساتھ ہو اور تجھے مال کی محبت ہو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف بالدار بننے کی تمنا ہو اور (اس صدقہ وخیرات میں) ڈھیل نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے (یہ کہہ کر شریک راوی نے حلق کی طرف اشارہ کیا) تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا، حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا خواہ تو ناپسند کرے۔‘‘
"أبوك" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← مَنْ ← نعم والله لتنبأن ← أتى رجل النبي فقال صفحة رقم أنبئني بأحق الناس مني بحسن الصحبة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← شَرِيکٍ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْحَكَمِ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار الرياني ← أبو منصور محمد بن محمد بن سمعان النيسابوري ← أبو عمر عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Righteousness and Relation › The door of honoring parents · Hadith 3416
