شرح السنة للبغوي · ( كتاب الطب والرقى ) ‹ ( باب السحر · حديث 3261
3261 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن أبي الرجال محمد بن عبد الرحمن عن أمه عمرة بنت عبد الرحمن صفحة رقم 189 عن عائشة زوج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أنها أعتقت جارية لها عن دبر منها ، ثم إن عائشة مرضت ، فدخل عليها سندي ، فقال : إنك مطبوبة ، فقالت : من طبني ؟ قال : امرأة من نعتها كذا وكذا ، وقد بال في حجرها صبي ، فقالت عائشة : أدعو لي فلانة لجارية لها تخدمها ، فوجدوها في بيت جيران لها ، في حجرها صبي قد بال ، فقالت : حتى أغسل بول هذا الصبي ، فغسلته : ثم جاءت فقالت لها عائشة : أسحرتيني ؟ فقالت : نعم ، فقالت : لم ؟ قالت : أحببت العتق ، قالت عائشة : والله لا تعتقي أبدا ، فأمرت ابن أخيها أن يبيعها من الأعراب ممن يسيء ملكتها ، ثم ابتع بثمنها رقبة حتى أعتقها ، ففعلت. قالت عمرة : فلبثت عائشة ما شاء الله من الزمان ، ثم إنها رأت في النوم أن اغتسلي من ثلاث أبؤر يمد بعضها بعضا ، فإنك تشفين ، فاغتسلت ، فشفيت. وروي أن امرأة دخلت على عائشة ، فقالت : هل علي حرج أن صفحة رقم 190 أقيد جملي ؟ قالت : قيدي جملك ، قالت : فأحبس علي زوجي ؟ فقالت عائشة : اخرجوا عني الساحرة ، فأخرجوها. وروي أنها قالت لعائشة : أؤخذ جملي ، ومعناه هذا ، يقال : أخذت المرأة زوجها أخذت ، إذا حبسته عن سائر النساء. وقال سعيد بن المسيب في الرجل يؤخذ عن امرأته ؟ قال : اتئدوا لم تنهوا عما ينفعكم ، إنما نهيتم عما حرم عليكم. قال قتادة : قلت لسعيد بن المسيب : رجل به طب أيحل عنه ؟ قال : من استطاع أن ينفع أخاه فليفعل. وعن عطاء قال : لا بأس أن يأتي المؤخذ عن امرأته ، والمسحور من يطلق عنه.
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو یہ کہا کہ میری وفات کے بعد تو آزاد ہے (مدبر کیا) پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار پڑگئیں۔ ایک روز ان کے پاس سندی آیا تو اس نے کہا:آپ پر تو جادو ہو چکا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا:مجھ پر جادو کس نے کیا ہے؟ اس نے کہا:ایک عورت نے جس کا یہ یہ خلیہ ہے اور اس کی گود میں بچے نے پیشاب کر رکھا ہے۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:فلاں کنیر کو بلاؤ جو ان کی خدمت اور گھریلو کام کاج کیا کرتی تھی۔ بلانے والوں نے اسے پڑوسیوں کے گھر موجود پایا اور واقعی اس وقت اس کی گود میں بچے نے پیشاب کیا ہوا تھا۔ اس نے کہا:میں پیشاب دھو کر آتی ہوں۔ چنانچہ وہ کپڑے دھو کر حاضر ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے دریافت کیا:کیا تو نے مجھ پر جادو کرایا ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا:کیوں؟ اس نے جواب دیا:آزادی کی محبت میں۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے ایک بھتیجے سے کہا کہ اسے بدخلق اور اُجڈ دیہاتیوں کے ہاں فروخت کر دے اور اس قیمت سے ایک گردن خرید کر اسے آزاد کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ عمرہ نے کہا:پھر کچھ عرصہ جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی کشمکش میں رہیں، پھر انہوں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہہ رہا ہے:آپ تین مختلف کنووں کا پانی لیں اور اسے ملا کر غسل کر یں تو آپ صحت یاب ہو جائیں گی ، چنانچہ انہوں نے اس طرح کیا اور شفا پائی۔
عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أمه عمرة بنت عبد الرحمن صفحة رقم ← أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Medicine and Development) › (Chapter on magic · Hadith 3261
