شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب المن والفداء · حديث 2714
2714 - أخبرنا عبد الوهاب بن محمد الكسائي ، أنا عبد العزيز بن أحمد الخلال ، نا أبو العباس الأصم ، ( ح ) وأخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، ومحمد بن أحمد العارف ، قالا : أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، نا أبو العباس الأصم ، أنا الربيع ، أنا الشافعي ، أنا عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ، عن أيوب ، عن أبي قلابة ، عن أبي المهلب عن عمران بن الحصين قال : أسر أصحاب رسول الله [ ] رجلا من بني عقيل ، فأوثقوه ، فطرحوه في الحرة ، فمر به رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ونحن معه ، أو قال : أتى عليه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) على حمار وتحته قطيفة ، فناداه : يا محمد ، يا محمد ، فأتاه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال : ما شأنك ؟ فقال : فيم أخذت ، وفيم أخذت سابقة الحاج ؟ قال : " أخذت بجريرة صفحة رقم 84 حلفائكم ثقيف ، وكانت ثقيف قد أسرت رجلين من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) فتركه ومضى ، فناداه : يا محمد يا محمد ، فرحمه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فرجع إليه ، فقال : " ما شأنك ؟ " قال : إني مسلم ، فقال : لو قلتها وأنت تملك أمرك أفلحت كل الفلاح ، قال : فتركه ومضى ، فناداه : يا محمد ، فرجع إليه ، فقال : إني جائع ، فأطعمني ، قال : " وأحسبه قال : وإني عطشان فاسقني " قال : " هذه حاجتك " ففداه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بالرجلين اللذين أسرتهما ثقيف ، وأخذ ناقته تلك ، قال عمران : سبيت امرأة من الأنصار ، وكانت الناقة قد أصيبت قبلها ، فكانت تكون فيهم ، وكانوا يجيئون بالنعم إليهم ، فانفلتت ذات ليلة من الوثاق ، فأتت الإبل ، فجعلت كلما أتت بعيرا منها فمسته ، رغا ، فتتركه حتى أتت تلك الناقة ، فمستها فلم ترغ ، وهي ناقة هدرة ، فقعدت في عجزها ، ثم صاحت بها ، فانطلقت ، فطبت من ليلتها ، فلم يقدر عليها ، فجعلت لله عليها إن الله أنجاها عليها لتنحرنها ، فلما قدمت المدينة ، عرفوا الناقة ، وقالوا : ناقة رسول الله [ ] ، فقالت : إنها قد جعلت لله عليها لتنحرنها ، فقالوا : صفحة رقم 85 والله لا تنحريها حتى نؤذن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأتوه فأخبروه أن فلانة قد جاءت على ناقتك ، وإنها قد جعلت لله عليها إن أنجاها الله عليها لتنحرنها ، فقال رسول الله [ ] : " سبحان الله بئس ما جزتها إن أنجاها الله عليها لتنحرنها ، لا وفاء لنذر في معصية الله ، ولا وفاء لنذر فيما لا يملك العبد ، أو قال : ابن آدم ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن زهير بن حرب ، وعلي بن حجر ، عن إسماعيل بن إبراهيم ، عن أيوب ، وأخرجه عن أبي الربيع العتكي ، عن حماد بن زيد ، عن أيوب بهذا الإسناد ، وقال : كانت العضباء لرجل من بني عقيل ، وكانت من سوابق الحاج ، وقال : كان ثقيف حليفا لبني عقيل ، فأسرت ثقيف رجلين من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، وأسر أصحاب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) رجلا من بني عقيل وأصابوا معه العضباء فأتى عليه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وهو في الوثاق ، فقال : يا محمد... وساق الحديث إلى آخره. قوله : " ناقة هدرة " يقال : هدر البعير : إذا صاح ، ويروى : كانت ناقة منوقة ، أي : مذللة مروضة ، ويروى : كانت مجرسة ، أي : مجربة في الركوب والسير. قال الإمام : فيه دليل على جواز شد الأسير بالوثاق ، وأن الكافر إذا قال : أنا مسلم لا يحكم بإسلامه بهذه اللفظة حتى يشهد بالوحدانية ، صفحة رقم 86 والرسالة ، لأنه يريد به أنا منقاد ، ولو كان محكوما بإسلامه ، لما رده إلى الكفار. وفي قوله : " لو قلت وأنت تملك أمرك ، لأفلحت " دليل على أن الكافر إذا وقع في الأسر ، فادعى أنه كان قد أسلم قبله ، لا يقبل قوله إلا ببينة تقوم عليه ، وإذا أسلم بعد ما وقع في الأسر ، حرم قتله ، وجاز استرقاقه ، وإذا قبل الجزية بعد الأسر هل يحرم قتله ؟ فعلى قولين ، وفيه دليل على جواز الفداء ، وروي عن ابن عباس أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) جعل فداء أهل الجاهلية يوم بدر أربعمئة. ولو وقع في أسر المسلمين صبي من أهل الحرب يحكم بإسلامه تبعا للسابي ، ولا يجوز رده إليهم ، وكذلك لو أسلم أحد أبوي الصغير الكافر يحكم بإسلام الولد ، ويكون مع المسلم منهما ، كان ابن عباس مع أمه من المستضعفين ، ولم يكن مع أبيه على دين قومه ، فإن الإسلام يعلوا ، ولا يعلى.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بنوعقیل کا ایک شخص قید کرلیا اور اسے باندھ کر حرہ کے میدان میں پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے پاس سے گزر ہوا، ہم آپ کے ہمراہ تھے یا راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گدھے پر سوار ہو کر آئے ، اور آپ کے نیچے ایک چادر تھی ، اس نے آپ کو پکارا، اے محمد ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا کہتا ہے؟ وہ بولا : مجھے کس قصور میں پکڑا گیا ہے اور حاجیوں کے اونٹوں سے آگے نکل جانے والی (یعنی عضباء کو) کس قصور میں پکڑا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے تمہارے دوست اور حلیف ثقیف کے قصور کے بدلے پکڑا گیا ہے، اور بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا، یہ کہہ کر آپ اسے وہیں چھوڑ کر چلے تو اس نے پھر پکارا: اے محمد ! اے محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر ترس آیا، چنانچہ آپ اس کی طرف پلٹے اور دریافت کیا: تو کیا کہتا ہے؟ وہ بولا: میں مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس وقت یہ کہتا جب تو مختار تھا(یعنی گرفتارنہیں ہوا تھا) تو بالکل نجات پاتا۔ پھر آپ نے اسے اسی حال میں چھوڑا اور چل دیے، اس نے پھر پکارا: اے محمد! آپ پھر آئے تو اس نے کہا: مجھے بھوک لگی ہے مجھے کھانا کھلایئے ، راوی نے کہا: مجھے یاد پڑتا ہے اس نے (یہ بھی) کہا کہ میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تو تیری ضرورت ہے (اور کھانا پینا اس کو دیا) پھر وہ ان دوشخصوں کے بدلے چھوڑا گیا جن کو ثقیف نے قید کر لیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹنی (عضباء ) بھی اپنے پاس رکھ لی ۔سید نا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک انصاری خاتون قید ہوگئی اور عضباء اونٹنی اس ا سے پہلے قید ہو چکی تھی ، ( یعنی کافروں کے ہاتھ لگ گئی تھی ) اور وہ عورت انہیں کے پاس تھی ، کافر تمام جانور اس کے پاس لاکر باندھتے ۔ وہ خاتون ایک رات نکل بھاگی اور اونٹوں کے پاس آئی۔ وہ جس اونٹ کے پاس آتی اسے ہاتھ لگاتی تو وہ آواز کرتا۔ وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ عضباء کے پاس آئی ۔اس نے اس کو چھوا تو اس نے آواز نہ نکالی حالانکہ وہ آواز نکالنے والی اونٹنی تھی ، چنانچہ وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی ، پھر اس کو ڈانٹا تو وہ چل پڑی، اسی رات اونٹنی کا تعاقب کیا گیا لیکن اس تک رسائی حاصل نہ کی جاسکی۔ اس عورت نے اللہ کی نذر مانی کہ اگر عضباء مجھے بچالے جائے تو میں اس کی قربانی کروں گی ۔ جب وہ عورت مدینہ آئی تو لوگوں نے عضباء اونٹنی کو پہچان لیا اور لوگوں نے کہا: یہ تو اللہ کے رسول کی اونٹنی ہے۔ وہ عورت بولی: میں نے نذر کی ہے کہ اگر عضباء پر بیٹھ کر مجھے اللہ نے نجات دی تو میں اس کو راہ للہ قربان کروں گی۔ یہ سن کر صحابہ نے کہا: اللہ کی قسم! تو اس کو ذبح نہیں کرے گی جب تک ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دے دیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورے واقعہ کی خبر دی کہ فلاں خاتون آپ کی اونٹنی لے کر آئی ہے اور اس نے نذر مان رکھی ہے کہ اگر اس کو اللہ نے نجات دی تو وہ اسے نحر کر دے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ ! کیا برا بدلہ اس عورت نے عضباء کو دیا (یعنی عضباء نے تو اس کی جان بچائی اور وہ عضباء کی جان لینا چاہتی ہے) اس نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عضباء کی پیٹھ پر اس کو نجات دے تو وہ عضباء ہی کی قربانی کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی والی نذرکو پورا نہ کیا جائے اور اور نہ اس نذرکو جس کا انسان مالک نہیں یا فرمایا جس کا ابن آدم مالک نہیں۔‘‘
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Chapter of Manna and Redemption · Hadith 2714
