Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح السنة للبغوي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi

by Imam Al Baghvi

4,339 Hadith1416 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب المن والفداء · حديث 2714

2714 - أخبرنا عبد الوهاب بن محمد الكسائي ، أنا عبد العزيز بن أحمد الخلال ، نا أبو العباس الأصم ، ( ح ) وأخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، ومحمد بن أحمد العارف ، قالا : أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، نا أبو العباس الأصم ، أنا الربيع ، أنا الشافعي ، أنا عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ، عن أيوب ، عن أبي قلابة ، عن أبي المهلب عن عمران بن الحصين قال : أسر أصحاب رسول الله [ ] رجلا من بني عقيل ، فأوثقوه ، فطرحوه في الحرة ، فمر به رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ونحن معه ، أو قال : أتى عليه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) على حمار وتحته قطيفة ، فناداه : يا محمد ، يا محمد ، فأتاه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال : ما شأنك ؟ فقال : فيم أخذت ، وفيم أخذت سابقة الحاج ؟ قال : " أخذت بجريرة صفحة رقم 84 حلفائكم ثقيف ، وكانت ثقيف قد أسرت رجلين من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) فتركه ومضى ، فناداه : يا محمد يا محمد ، فرحمه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فرجع إليه ، فقال : " ما شأنك ؟ " قال : إني مسلم ، فقال : لو قلتها وأنت تملك أمرك أفلحت كل الفلاح ، قال : فتركه ومضى ، فناداه : يا محمد ، فرجع إليه ، فقال : إني جائع ، فأطعمني ، قال : " وأحسبه قال : وإني عطشان فاسقني " قال : " هذه حاجتك " ففداه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بالرجلين اللذين أسرتهما ثقيف ، وأخذ ناقته تلك ، قال عمران : سبيت امرأة من الأنصار ، وكانت الناقة قد أصيبت قبلها ، فكانت تكون فيهم ، وكانوا يجيئون بالنعم إليهم ، فانفلتت ذات ليلة من الوثاق ، فأتت الإبل ، فجعلت كلما أتت بعيرا منها فمسته ، رغا ، فتتركه حتى أتت تلك الناقة ، فمستها فلم ترغ ، وهي ناقة هدرة ، فقعدت في عجزها ، ثم صاحت بها ، فانطلقت ، فطبت من ليلتها ، فلم يقدر عليها ، فجعلت لله عليها إن الله أنجاها عليها لتنحرنها ، فلما قدمت المدينة ، عرفوا الناقة ، وقالوا : ناقة رسول الله [ ] ، فقالت : إنها قد جعلت لله عليها لتنحرنها ، فقالوا : صفحة رقم 85 والله لا تنحريها حتى نؤذن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأتوه فأخبروه أن فلانة قد جاءت على ناقتك ، وإنها قد جعلت لله عليها إن أنجاها الله عليها لتنحرنها ، فقال رسول الله [ ] : " سبحان الله بئس ما جزتها إن أنجاها الله عليها لتنحرنها ، لا وفاء لنذر في معصية الله ، ولا وفاء لنذر فيما لا يملك العبد ، أو قال : ابن آدم ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن زهير بن حرب ، وعلي بن حجر ، عن إسماعيل بن إبراهيم ، عن أيوب ، وأخرجه عن أبي الربيع العتكي ، عن حماد بن زيد ، عن أيوب بهذا الإسناد ، وقال : كانت العضباء لرجل من بني عقيل ، وكانت من سوابق الحاج ، وقال : كان ثقيف حليفا لبني عقيل ، فأسرت ثقيف رجلين من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، وأسر أصحاب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) رجلا من بني عقيل وأصابوا معه العضباء فأتى عليه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وهو في الوثاق ، فقال : يا محمد... وساق الحديث إلى آخره. قوله : " ناقة هدرة " يقال : هدر البعير : إذا صاح ، ويروى : كانت ناقة منوقة ، أي : مذللة مروضة ، ويروى : كانت مجرسة ، أي : مجربة في الركوب والسير. قال الإمام : فيه دليل على جواز شد الأسير بالوثاق ، وأن الكافر إذا قال : أنا مسلم لا يحكم بإسلامه بهذه اللفظة حتى يشهد بالوحدانية ، صفحة رقم 86 والرسالة ، لأنه يريد به أنا منقاد ، ولو كان محكوما بإسلامه ، لما رده إلى الكفار. وفي قوله : " لو قلت وأنت تملك أمرك ، لأفلحت " دليل على أن الكافر إذا وقع في الأسر ، فادعى أنه كان قد أسلم قبله ، لا يقبل قوله إلا ببينة تقوم عليه ، وإذا أسلم بعد ما وقع في الأسر ، حرم قتله ، وجاز استرقاقه ، وإذا قبل الجزية بعد الأسر هل يحرم قتله ؟ فعلى قولين ، وفيه دليل على جواز الفداء ، وروي عن ابن عباس أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) جعل فداء أهل الجاهلية يوم بدر أربعمئة. ولو وقع في أسر المسلمين صبي من أهل الحرب يحكم بإسلامه تبعا للسابي ، ولا يجوز رده إليهم ، وكذلك لو أسلم أحد أبوي الصغير الكافر يحكم بإسلام الولد ، ويكون مع المسلم منهما ، كان ابن عباس مع أمه من المستضعفين ، ولم يكن مع أبيه على دين قومه ، فإن الإسلام يعلوا ، ولا يعلى.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بنوعقیل کا ایک شخص قید کرلیا اور اسے باندھ کر حرہ کے میدان میں پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے پاس سے گزر ہوا، ہم آپ کے ہمراہ تھے یا راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گدھے پر سوار ہو کر آئے ، اور آپ کے نیچے ایک چادر تھی ، اس نے آپ کو پکارا، اے محمد ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا کہتا ہے؟ وہ بولا : مجھے کس قصور میں پکڑا گیا ہے اور حاجیوں کے اونٹوں سے آگے نکل جانے والی (یعنی عضباء کو) کس قصور میں پکڑا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے تمہارے دوست اور حلیف ثقیف کے قصور کے بدلے پکڑا گیا ہے، اور بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا، یہ کہہ کر آپ اسے وہیں چھوڑ کر چلے تو اس نے پھر پکارا: اے محمد ! اے محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر ترس آیا، چنانچہ آپ اس کی طرف پلٹے اور دریافت کیا: تو کیا کہتا ہے؟ وہ بولا: میں مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس وقت یہ کہتا جب تو مختار تھا(یعنی گرفتارنہیں ہوا تھا) تو بالکل نجات پاتا۔ پھر آپ نے اسے اسی حال میں چھوڑا اور چل دیے، اس نے پھر پکارا: اے محمد! آپ پھر آئے تو اس نے کہا: مجھے بھوک لگی ہے مجھے کھانا کھلایئے ، راوی نے کہا: مجھے یاد پڑتا ہے اس نے (یہ بھی) کہا کہ میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تو تیری ضرورت ہے (اور کھانا پینا اس کو دیا) پھر وہ ان دوشخصوں کے بدلے چھوڑا گیا جن کو ثقیف نے قید کر لیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹنی (عضباء ) بھی اپنے پاس رکھ لی ۔سید نا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک انصاری خاتون قید ہوگئی اور عضباء اونٹنی اس ا سے پہلے قید ہو چکی تھی ، ( یعنی کافروں کے ہاتھ لگ گئی تھی ) اور وہ عورت انہیں کے پاس تھی ، کافر تمام جانور اس کے پاس لاکر باندھتے ۔ وہ خاتون ایک رات نکل بھاگی اور اونٹوں کے پاس آئی۔ وہ جس اونٹ کے پاس آتی اسے ہاتھ لگاتی تو وہ آواز کرتا۔ وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ عضباء کے پاس آئی ۔اس نے اس کو چھوا تو اس نے آواز نہ نکالی حالانکہ وہ آواز نکالنے والی اونٹنی تھی ، چنانچہ وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی ، پھر اس کو ڈانٹا تو وہ چل پڑی، اسی رات اونٹنی کا تعاقب کیا گیا لیکن اس تک رسائی حاصل نہ کی جاسکی۔ اس عورت نے اللہ کی نذر مانی کہ اگر عضباء مجھے بچالے جائے تو میں اس کی قربانی کروں گی ۔ جب وہ عورت مدینہ آئی تو لوگوں نے عضباء اونٹنی کو پہچان لیا اور لوگوں نے کہا: یہ تو اللہ کے رسول کی اونٹنی ہے۔ وہ عورت بولی: میں نے نذر کی ہے کہ اگر عضباء پر بیٹھ کر مجھے اللہ نے نجات دی تو میں اس کو راہ للہ قربان کروں گی۔ یہ سن کر صحابہ نے کہا: اللہ کی قسم! تو اس کو ذبح نہیں کرے گی جب تک ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دے دیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورے واقعہ کی خبر دی کہ فلاں خاتون آپ کی اونٹنی لے کر آئی ہے اور اس نے نذر مان رکھی ہے کہ اگر اس کو اللہ نے نجات دی تو وہ اسے نحر کر دے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ ! کیا برا بدلہ اس عورت نے عضباء کو دیا (یعنی عضباء نے تو اس کی جان بچائی اور وہ عضباء کی جان لینا چاہتی ہے) اس نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عضباء کی پیٹھ پر اس کو نجات دے تو وہ عضباء ہی کی قربانی کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی والی نذرکو پورا نہ کیا جائے اور اور نہ اس نذرکو جس کا انسان مالک نہیں یا فرمایا جس کا ابن آدم مالک نہیں۔‘‘

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Chapter of Manna and Redemption · Hadith 2714

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب الكافر إذا جاء مسلما بعد ما غنم ماله لا يجب الرد عليه · حديث 2715

2715 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا سعيد بن عفير ، حدثني الليث ، حدثني عقيل ، عن ابن شهاب ( ح ) قال محمد صفحة رقم 87 ابن إسماعيل ، وحدثني إسحاق ، نا يعقوب بن إبراهيم ، حدثني ابن أخي ابن شهاب ، قال محمد بن شهاب : وزعم عروة بن الزبير أن مروان والمسور بن مخرمة أخبراه أن رسول الله [ ] قام حين جاءه وفد هوازن مسلمين ، فسألوه أن يرد إليهم أموالهم وسبيهم ، فقال لهم رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " معي من ترون وأحب الحديث إلي أصدقه ، فاختاروا إحدى الطائفتين : إما السبي ، وإما المال ، وقد كنت استأنيت بكم " وكان أنظرهم رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بضع عشرة ليلة حين قفل من الطائف ، فلما تبين لهم أن رسول الله [ ] غير راد إليهم إلا إحدى الطائفتين ، قالوا : فإنا نختار سبينا ، فقام رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في المسلمين ، فأثنى على الله بما هو أهله ، ثم قال : " أما بعد ، فإن إخوانكم جاؤوا تائبين ، وإني قد رأيت أن أرد إليهم سبيهم ، فمن أحب أن يطيب ذلك فليفعل " فقال الناس : قد طيبنا ذلك يا رسول الله ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " إنا لا ندري من أذن منكم في ذلك ممن لم يأذن ، فارجعوا حتى يرفع إلينا عرفاؤكم أمركم " فرجع الناس ، فكلمهم عرفاؤهم ، ثم صفحة رقم 88 رجعوا إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأخبروه أنهم قد طيبوا ، أو أذنوا ، هذا الذي بلغني عن سبي هوازن. هذا حديث صحيح. قال الإمام : في هذا الحديث من الفقه جواز سبي العرب ، واسترقاقهم كالعجم ، واختلف فيه أهل العلم ، وللشافعي فيه قولان ، وفيه أن من جاء وأسلم بعد ما غنم ماله ، لا يجب رد ماله عليه ، ويستدل بهذا من يقبل إقرار الوكيل على الموكل ، لأن العرفاء ، بمنزلة الوكلاء ، وقد أطلق النبي ( صلى الله عليه وسلم ) السبايا بقول العرفاء من غير أن يرجع على الموكلين. وجوز أبو حنيفة إقرار الوكيل على الموكل في مجلس الحكم ، ولم يجوز جماعة منهم ابن أبي ليلى والشافعي ، أما من أسلم قبل أن وقع في الأسر ، فقد أحرز أمواله وأولاده ، قال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) لصخر بن الغيلة : " إن القوم إذا أسلموا أحرزوا أموالهم ودماءهم ".

محمد بن شہاب ( زہری رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا کہ ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت دینے کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے (قبیلے کے قیدی ) انہیں واپس دے دیئے جائیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ جیسا کہ تم لوگ دیکھ رہے ہو، میرے ساتھ کتنے اور لوگ بھی ہیں اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، اس لیے تم لوگ ایک چیز پسند کرلو یا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو، میں نے تم ہی لوگوں کے خیال سے (قیدیوں کی تقسیم میں ) تاخیر کی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر تقریبا ًدس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر واضح ہو گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہم اپنے (قبیلے کے ) قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کرنے کے بعد فرمایا: ’’اما بعد! تمہارے بھائی (قبیلہ ہوازن کے لوگ) توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں، اس لیے جوشخص ( بلا کسی دنیاوی معاوضہ کے) اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کردے۔‘‘ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خوشی سے ( بلا کسی بدلہ کے) واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس طرح ہمیں اس کا علم نہیں ہوا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں، اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں ۔‘‘ چنانچہ سب واپس آگئے اور ان کے چودھریوں نے ان سے گفتگو کی ، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب نے خوشی اور فراخ دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہے وہ حدیث جو مجھے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق پہنچی ہے۔

ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْحَاقُ ← محمد صفحة رقم ابن إسماعيل ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Chapter of the Infidel If a Muslim comes after he has seized his money, he should not be answered · Hadith 2715

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب الأمان · حديث 2716

2716 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو صفحة رقم 89 إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن أبي النضر مولى عمر ابن عبيد الله أن أبا مرة مولى أم هانئ بنت أبي طالب أخبره أنه سمع أم هانئ بنت أبي طالب تقول : ذهبت إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) عام الفتح ، فوجدته يغتسل وفاطمة ابنته تستره بثوب ، فقالت : فسلمت ، وقال : " من هذه ؟ " فقلت : أنا أم هانئ بنت أبي طالب ، فقال : " مرحبا بأم هانئ " فلما فرغ من غسله ، قام ، فصلى ثماني ركعات ملتحفا في ثوب واحد ، ثم انصرف ، فقلت له : يا رسول الله زعم ابن أمي علي بن أبي طالب أنه قاتل رجلا أجرته فلان بن هبيرة ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " قد أجرنا من أجرت يا أم هانئ ، وذلك ضحى ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف ، وأخرجه مسلم عن يحيى بن يحيى ، كلاهما عن مالك. صفحة رقم 90 قوله : مرحبا ، أي : لقيت رحبا وسعة ، وقيل : رحب الله بك مرحبا ، فوضعه موضع الترحيب ، والرحب : السعة ، وقوله سبحانه وتعالى : ( وضاقت عليهم الأرض بما رحبت ( [ التوبة : 25 ] أي : بما وسعت. وقوله : " أجرنا " أي : أمنا ، ومنه قوله سبحانه وتعالى : ) وهو يجير ولا يجار عليه ( [ المؤمنون : 88 ] أي : يؤمن من أخافه غيره ، ومن أخافه هو لم يؤمنه أحد. وفيه بيان أن أمان المرأة نافذ ، وروينا عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " المسلمون يد على من سواهم يسعى بذمتهم أدناهم " " ففيه دليل على صحة أمان العبيد ، سواء كانوا مأذونين من جهة مواليهم في القتال ، أو لم يكونوا ، يروى ذلك عن عمر ، وعلي ، وابن عمر ، وبه قال الشافعي ، وأحمد وإسحاق ، ولم يجوز أبو حنيفة أمان العبد إذا لم يكن مأذونا في الجهاد ، أما أمان الصبي ، والمجنون ، فباطل ، ولو نزل كافر بأمان صبي ، فقال : ظننته جائزا يرد إلى مأمنه لجهله بالحكم. وقال شقيق بن سلمة : كتب إلينا عمر ابن الخطاب رضي الله عنه ونحن بخانقين إذا قال أحدكم للرجل : مترس ، فقد أمنه ، فإن الله عز وجل يعلم الألسنة.

ابومرہ مولیٰ ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی (جب ) میں وہاں پہنچی تو آپ غسل فرما رہے تھے اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے کے ساتھ آپ کو پردے میں کیا ہوا تھا، میں نے سلام کیا تو آپ نے دریافت کیا: یہ کون ہے ؟ میں نے جواب دیا، میں ام ہانی ابوطالب کی بیٹی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام ہانی کو خوش آمدید ہو! جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعت (نفل) ادا کئے ، پھر آپ (میری جانب) متوجہ ہوئے ، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا بھائی علی کہتا ہے کہ وہ ایک شخص فلاں بن ہبیرۃ کوقتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کو میں نے پناہ دے رکھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! ہم نے پناہ دی اسے جس کو تو نے پناہ دی ، اور یہ چاشت کا وقت تھا۔

أبي النضر مولى عمر ابن عبيد الله، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو صفحة رقم إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Security door · Hadith 2716

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب الأمان · حديث 2717

2717 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا عبد الرحمن بن أبي شريح ، أنا أبو القاسم البغوي ، نا علي بن الجعد ، أخبرني حماد صفحة رقم 91 هو ابن سلمة بن دينار ، عن عبد الملك بن عمير عن رفاعة بن شداد قال : كنت أقوم على رأس المختار فلما تبين لي كذابته ، هممت ، وأيم الله أن أسل سيفي ، وأضرب عنقه حتى ذكرت حديثا حدثنيه عمرو بن الحمق قال : سمعت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يقول : " من آمن رجلا على نفسه ، فقتله ، أعطي لواء الغدر يوم القيامة ". قال الإمام : وإنما يصح الأمان من آحاد المسلمين إذا أمن واحدا أو اثنين ، فأما عقد الأمان لأهل ناحية على العموم ، فلا يصح إلا من الإمام على سبيل الاجتهاد ، وتحري المصلحة ، كعقد الذمة ، لأنه المنصوب لمراعاة النظر لأهل الإسلام عامة ، ولو جعل ذلك لآحاد الناس ، صار ذريعة إلى إبطال الجهاد.

جناب رفاعہ بن شداد رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے سر کے پاس کھڑا ہوتا تھا ( باڈی گارڈ تھا) جب میرے لیے اس کی کذب بیانی واضح ہوئی تو اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی تلوار سونت لوں اور اس کی گردن اڑادوں، پھر مجھے ایک حدیث یا دآ گئی جو مجھے سید نا عمر و بن حمق ( خزاعی ) رضی اللہ عنہ نے بیان کی ، انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جس شخص سے کوئی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہو اور وہ اسے قتل کر ڈالے تو قیامت والے دن اسے ( قاتل ) عہد شکنی کاجھنڈا دیا جائے گا ۔‘‘

رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حماد صفحة رقم هو ابن سلمة بن دينار ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Security door · Hadith 2717

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب النزول على الحكم · حديث 2718

2718 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا سليمان بن صفحة رقم 92 حرب ، نا شعبة ، عن سعد بن إبراهيم ، عن أبي أمامة هو ابن سهل ابن حنيف عن أبي سعيد قال : لما نزلت بنو قريظة على حكم سعد هو ابن معاذ ، بعث رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ).. وكان قريبا منه فجاء على حمار ، فلما دنا ، قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " قوموا إلى سيدكم " فجاء فجلس إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال له : إن هؤلاء نزلوا على حكمك ، قال : فإني أحكم أن تقتل المقاتلة ، وأن تسبى الذرية ، قال : " لقد حكمت فيهم بحكم الملك ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن محمد بن بشار وغيره عن محمد بن جعفر ، عن شعبة. قال الإمام : فيه من العلم أن قول الرجل لصاحبه : يا سيدي غير محظور إذا كان صاحبه خيرا فاضلا ، وفيه أن قيام الرجل بين يدي الرئيس الفاضل ، والوالي العادل ، وقيام المتعلم للعالم مستحب غير مكروه ، وكذلك يجوز إقامة الإمام والوالي الرجال على رأسه في موضع الحرب ، ومقام الخوف ، فقد كان المغيرة بن شعبة قائما على رأس النبي ( صلى الله عليه وسلم ) يوم صفحة رقم 93 الحديبية ، ومعه السيف ، وعليه المغفر ، وما روي عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أنه قال : " من سره أن يتمثل له الرجال قياما ، فليتبوأ مقعده من النار " فمعناه أن يأمرهم بذلك على مذهب الكبر والنخوة. وفيه أن من نزل من أهل الكفر على حكم رجل مسلم ، نفذ حكمه إن وافق الحق. وقوله : " لقد حكمت فيهم بحكم الملك " يريد بحكم الله عز وجل ، وروى بعضهم بحكم الملك بفتح اللام ، أي : الملك الذي نزل بالوحي في أمرهم ، والأول أصح بدليل أنه يروى أنه عليه السلام قال : " قضيت بحكم الله ".

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو قریظہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی (سعد رضی اللہ عنہ ) کو بلایا۔ وہ وہیں قریب ہی ایک جگہ پر قیام پذیر تھے ( کیونکہ زخمی تھے ) سیدنا سعد گدھے پر سوار ہو کر آئے ، جب وہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ (اورسواری سے اترنے میں معاونت کرو)۔‘‘ آخر آپ اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آکر بیٹھ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ان لوگوں (یعنی بنو قریظہ کے یہود) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں (اس لیے آپ ان کا فیصلہ کردیں)۔ ‘‘ انہوں نے کہا: پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں، انہیں قتل کر دیا جائے ، اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔‘‘

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أبي أمامة هو ابن سهل ابن حنيف ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← سليمان بن صفحة رقم حرب ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Section down to judgment · Hadith 2718

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب حل الغنيمة لهذه الأمة · حديث 2719

2719 - أخبرنا أبو علي حسان بن سعيد المنيعي ، أنا أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الزيادي ، أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ، حدثنا أبو الحسن أحمد بن يوسف السلمي ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " غزا نبي من الأنبياء فقال للقوم : لا يتبعني رجل قد كان ملك بضع امرأة يريد أن يبني بها ولما يبن ، ولا أجد قد بنى بناء له ولما يرفع سقفها ، ولا أحد قد اشترى غنما ، أو خلفات وهو ينتظر ولادها ، فغزا ، فدنا للقرية حين صلى العصر ، أو قريبا من ذلك ، فقال للشمس : أنت مأمورة ، وأنا مأمور ، اللهم احبسها علي شيئا ، فحبست عليه حتى فتح الله عليه ، فجمعوا ما غنموا ، فأقبلت النار صفحة رقم 95 لتأكله ، فأبت أن تطعمه ، فقال : فيكم غلول ، فليبايعني من كل قبيلة رجل ، فبايعوه ، فلصقت يد رجل بيده ، فقال : فيكم الغلول ، فلتبايعني قبيلته ، فبايعته قبيلته ، فلصق يد رجلين أو ثلاثة ، فقال : فيكم الغلول أنتم غللتم ، قال : فأخرجوا إليه مثل رأس بقرة من ذهب ، فوضعوه في المال وهو بالصعيد ، فأقبلت النار ، فأكلت قال : " فلم تحل الغنائم لأحد من قبلنا ذلك بأن الله رأى ضعفنا وعجزنا ، فطيبها لنا ". قال : وقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " أيما قرية أتيتموها ، وأقمتم فيها مسهمكم أظنه قال : فهي لكم ، أو نحوه من الكلام ، وأيما قرية عصت الله ورسوله ، فإن خمسها لله ورسوله ، ثم هي لكم ". قال : وقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " ما أوتيكم من شيء صفحة رقم 96 ولا أمنعكموه ، إن أنا إلا خازن أضع حيث أمرت ". هذه أحاديث متفق على صحتها أخرجاه من أوجه عن عبد الرزاق ، وأخرجه مسلم عن محمد بن رافع ، عن عبد الرزاق. وفيه بيان أن الأراضي المغنومة مقسومة كالمنقول ، وذهب أصحاب الرأي إلى أن الإمام في الأراضي المغنومة مخير بين أن يقسمها بين الغانمين ، وبين أن يمن بها على الكفار ، فيردها عليهم ، كما فعل النبي [ ] بدور مكة ، وبين أن يقفها ، كما فعل عمر بن رضي الله عنه بسواد العراق ، ونحن نقول : مكة فتحت صلحا ، فلم تكن أراضيها مغنومة ، وسواد العراق وقفها عمر بطيب أنفس الغانمين أعطاهم عليها عوضا ، فتركوا حقوقهم فوقفها.

سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(بنی اسرائیل کے ) پیغمبروں میں سے ایک نبی ( یوشع علیہ السلام ) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ کوئی رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ ڈال سکا ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہوتو (ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے، پھر انہوں نے جہاد کیا اور جب اس آبادی (اریحا) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہو گیا یا اس کے قریب وقت ہوا، انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔اے اللہ ! میرے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے، چنانچہ سورج رک گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی ، پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی لیکن جلا نہ سکی ، اس نبی نے فرمایا: تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے اس لیے ہر قبیلے کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے (جب بیعت کرنے لگے تو) ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا، انہوں نے فرمایا کہ چوری تمہارے ہی قبیلے والوں نے کی ہے۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں، چنانچہ اس قبیلے کے دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چپک کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے اور تم چور ہو ۔ وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سرلائے (جوغنیمت میں چرا لیا گیا تھا ) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا، تب آگ آئی اور اسے جلا گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم سے پہلے کسی امت کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جب ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو ہمارے لیے ان کا استعمال پاکیزہ قرار دیا۔‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بستی میں تم آؤ اور وہاں اقامت اختیار کرلو تو اس میں تمہارا حصہ ہے (یعنی جوصلح سے فتح ہوتو فے میں تمہارا حصہ معروف ہے ) میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بستی سب کی سب تمہاری ہے یا آپ نے اس سے ملتی جلتی کوئی بات کی اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کاخمس ( پانچواں حصہ ) اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے پھر یہ تمہارے لیے ہے ۔‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں تمہیں جو چیز بھی دیتا ہوں یا نہیں دیتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک خزانچی کی طرح ہوں ، چیزوں کو وہیں رکھتا ہوں جہاں مجھے رکھنے کاحکم دیا گیا ہے ۔‘‘

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الزيادي ← أبو علي حسان بن سعيد المنيعي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › The door to dissolve the booty for this nation · Hadith 2719

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب حل الغنيمة لهذه الأمة · حديث 2720

2720 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا سعيد ابن أبي مريم ، أنا محمد بن جعفر ، أخبرني زيد بن أسلم ، عن أبيه أنه سمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : أما والذي نفسي بيده لولا أن أترك آخر الناس ببانا ليس لهم شيء ما فتحت علي قرية إلا قسمتها كما قسم النبي ( صلى الله عليه وسلم ) خيبر ، ولكن أتركها خزانة لهم يقتسمونها. صحيح. صفحة رقم 97 قوله : " ببانا " قيل : شيئا واحدا ، قال أبو عبيد : لا أعرفه عربية ، قال الخطابي : قد كان يعلم - عمر رضي الله عنه أن المال يعز ، والشح يغلب ، وأن لا ملك بعد كسرى يغنم ماله ، فيغني المسلمين ، وأشفق أن يبقى آخر الناس لا شيء لهم ، فرأى أن تحبس الأرض ، ولا يقسمها قسمة سائر الأموال ، وأن يضع عليها خراجا يبقى نفعها ، ويدر خيرها للمسلمين أبدا كما فعل بسواد العراق نظرا للمسلمين ، وشفقة على آخرهم.

سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کی نسلیں بے جائیدادرہ جائیں گی اور ان کے پاس کچھ نہ ہوگا تو جو بھی بستی میرے زمانہ خلافت میں فتح ہوتی میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چیز کی تقسیم کی تھی۔ میں ان مفتوحہ اراضی کو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے محفوظ چھوڑے جا رہا ہوں تا کہ وہ اسے تقسیم کرتے رہیں۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سعيد ابن أبي مريم، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › The door to dissolve the booty for this nation · Hadith 2720

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب الغنيمة لمن شهد الوقعة · حديث 2721

2721 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا محمد بن العلاء نا أبو أسامة ، نا يزيد بن عبد الله ، عن أبي بردة عن أبي موسى قال : بلغنا مخرج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ونحن باليمن ، فخرجنا مهاجرين إليه أنا وأخوان لي أنا أصغرهم ، أحدهما أبو بردة ، والآخر أبو رهم - إما قال في بضع ، وإما قال في ثلاثة وخمسين ، أو اثنين وخمسين رجلا من قومي - فركبنا سفينة ، فألقتنا سفينتنا إلى النجاشي بالحبشة ، فوافقنا جعفر بن أبي طالب وأصحابه صفحة رقم 98 عنده ، فقال جعفر : إن رسول الله بعثنا هاهنا ، وأمرنا بالإقامة ، فأقيموا معنا ، فأقمنا معه حتى قدمنا جميعا ، فوافقنا النبي ( صلى الله عليه وسلم ) حين افتتح خيبر ، فأسهم لنا ، أو قال : فأعطانا منها ، وما قسم لأحد غاب عن فتح خيبر منها شيئا إلا لمن شهد معه ، إلا أصحاب سفينتنا مع جعفر وأصحابه قسم لهم معهم ، فكان أناس من الناس يقولون لنا يعني لأهل السفينة : سبقناكم بالهجرة ، ودخلت أسماء بنت عميس - وهي ممن قدم معنا - على حفصة زوج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) زائرة ، وقد كانت هاجرت إلى النجاشي فيمن هاجر ، فدخل عمر على حفصة وأسماء عندها ، فقال عمر حين رأى أسماء : من هذه ؟ قالت : أسماء بنت عميس ، قال : آلحبشية هذه البحرية هذه ؟ قالت أسماء : نعم ، قال : سبقناكم بالهجرة ، فنحن أحق برسول الله منكم ، فغضبت وقالت : كلا والله ، كنتم مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يطعم جائعكم ، ويعظ جاهلكم ، وكنا في دار ، أو في أرض البعداء البغضاء بالحبشة ، وذلك في الله وفي رسول الله ، وايم الله لا أطعم طعاما ولا شرابا حتى أذكر ما قلت للنبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، صفحة رقم 99 وأسأله ، والله لا أكذب ولا أزيغ ، ولا أزيد عليه ، فلما جاء النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، قالت : يا نبي الله إن عمر قال : كذا وكذا ، قال : " فما قلت له ؟ " قالت : قلت كذا وكذا ، قال : " ليس بأحق فيّ منكم ، وله ولأصحابه هجرة واحدة ولكم أنتم أهل السفينة هجرتان ، قالت : فلقد رأيت أبا موسى وأصحاب السفينة يأتوني أرسالا يسألوني عن هذا الحديث ما من الدنيا شيء هم به أفرح ولا أعظم في أنفسهم مما قال لهم النبي ( صلى الله عليه وسلم ). هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم أيضا عن محمد بن العلاء الهمداني. قولها : " يأتوني أرسالا " تريد أفواجا متفرقين وهو جمع الرسل ، وكل شيء أرسلته ، فهو رسل كالهمل فيما أهملته ، والسبل فيما أسبلته. قال الإمام : الغنيمة إنما يستحقها من شهد الوقعة على قصد الجهاد ، سواء قاتل ، أو لم يقاتل ، فأما من حضر بعد انقضاء الحرب ، فلا حق له فيها ، روي عن أبي بكر وعمر رضي الله عنهما أنهما قالا : الغنيمة لمن صفحة رقم 100 شهد الوقعة وهذا قول مالك ، والشافعي ، وأحمد ، وقال الأوزاعي : من دخل الدرب ، أسهم له ، وإن لم يشهد القتال. وذهب أصحاب الرأي إلى أن المدد إذا لحقوا بعد انقضاء الحرب أسهم لهم ، وكذلك قالوا : من دخل دار الحرب فارسا ، فمات فرسه قبل حضور الوقعة يستحق سهم الفرس ، ولو مات الفارس ، قالوا : لا يستحق ، واحتج هؤلاء بحديث أبي موسى أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أسهم لهم من غنائم خيبر ، وقد لحقوا بعد الفتح ، وأجاب الآخرون عنه بأنه إنما أعطاهم من الخمس الذي هو حقه دون حقوق من شهد الوقعة. وقد روي أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أسهم عثمان وطلحة من غنائم بدر وهما لم يشهدا بدرا ، وكان ذلك في وقت كانت الغنيمة خالصة للنبي ( صلى الله عليه وسلم ) قبل نزول قوله تعالى : ( واعلموا أنما غنمتم من شيء ( [ الأنفال : 41 ] الآية ، فكان يعطيهم من خالص حقه دون حق غيره. وروي عن أبي هريرة أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بعث أبان بن سعيد بن العاص على سرية من المدينة قبل نجد ، فقدم أبان وأصحابه على رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بخيبر بعد أن فتحها ، فلم يقسم لهم.

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی تو ہم یمن میں تھے،اس لیے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے، میں تھا اور میرے دو بھائی تھے۔ میری عمر اُن دونوں سے کم تھی ،( دونوں بھائیوں میں) ایک ابو بردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابو رہم ۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا کہ تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ ( یہ لوگ روانہ ہوئے تھے) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملے جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں۔ اس لیے آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہر جائیں ، چنانچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے ، اور پھر سب ایک ساتھ (مدینہ) حاضر ہوئے، جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے مجاہدین کے ساتھ ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا، یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا حالانکہ آپ نے کسی ایسے شخص کو غنیمت میں حصہ نہیں دیا جولڑائی میں شریک نہ رہا ہو، صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا جولڑائی میں شریک تھے ۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا۔ کچھ لوگ ہم سے یعنی کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ، ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں ، سید نا عمر رضی اللہ عنہ بھی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس ،عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا وہ جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں، اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو، تم میں جو بھوکے ہوتے تھےاسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو تاواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت وموعظت کیا کرتے تھے، لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے، یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہ لوں ۔ اللہ کی قسم ! نہ میں جھوٹ بولوں گی ، نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی ( خلاف واقعہ بات کا) اضافہ کروں گی۔ چنانچہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! عمر اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ جواب دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں ۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کوصرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ ‘‘ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسی ٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › The door of the booty for those who witnessed the incident · Hadith 2721

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب قسمة الغنائم · حديث 2722

2722 - أخبرنا أبو صالح أحمد بن عبد الملك المؤذن ، أنا عبد الله ابن يوسف ، أخبرنا أبو سعيد بن الأعرابي ، نا سعدان بن نصر ، نا أبو معاوية ، عن عبيد الله بن عمر ، عن نافع عن ابن عمر أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) أسهم للرجل ولفرسه ثلاثة أسهم : سهما له ، وسهمين لفرسه. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبيد بن إسماعيل عن أبي أسامة ، وأخرجه مسلم عن ابن نمير ، عن أبيه ، كل عن عبيد الله بن عمر. قال الخطابي رحمه الله : قوله : " سهما له " اللام في هذه الإضافة لام التمليك ، وقوله : " سهمين لفرسه " اللام فيه ، لام التسبيب ، وتحرير الكلام فيه : أنه أعطى الفارس ثلاثة أسهم : سهما له ، وسهمين لأجل فرسه ، أي : لغنائه في الحرب ، ولما يلزمه من مؤونته ، إذ كان معلوما أن مؤونة الفرس متضاعفة على مؤونة صاحبه ، فضوعف له العوض من أجله. قال رحمه الله : وهذا قول أكثر أهل العلم من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وغيرهم ، وإليه ذهب الثوري ، والأوزاعي ، ومالك ، وابن المبارك ، صفحة رقم 102 والشافعي ، وأحمد ، وإسحاق ، وأبو يوسف ، ومحمد ، قالوا : للراجل سهم ، وللفارس ثلاثة أسهم ، وذهب أبو حنيفة إلى أن للفارس سهمين ، وروي هذا الحديث من طريق عبد الله بن عمر عن نافع ، عن ابن عمر قال فيه : " للفارس سهمان ، وللراجل سهم " وعبيد الله بن عمر أحفظ من عبد الله ، وأثبت باتفاق أهل الحديث كلهم. روي عن مجمع بن جارية الأنصاري ، قال : قسمت خيبر على أهل الحديبية ، فقسمها رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ثمانية عشر سهما ، فكان الجيش ألفا وخمسمائة ، فيهم ثلاثمائة فارس ، فأعطى الفارس سهمين ، والراجل سهما. قال أبو داود : حديث أبي معاوية أصح ، وأتى الوهم في حديث مجمع ، أنه قال : ثلاثمائة فارس ، وإنما كانوا مائتي فارس. قال الإمام : ويسهم للبراذين ، كما يسهم للخيل ، ولا يسهم إلا لفرس واحد ، ولا يسهم لغيرها من الدواب ، كالفيلة ، والإبل ، والبغال ، والحمير ، إنما لها الرضخ.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےپیدل مجاہد کے لیے ایک حصہ اور گھڑ سوار کے لیے تین حصے مقررفرمائے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک اس کا اپنا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عبد الله ابن يوسف ← أبو صالح أحمد بن عبد الملك المؤذن

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Spoils division door · Hadith 2722

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب من يستحق الرضخ من الغنيمة · حديث 2723

2723 - أخبرنا عبد الوهاب بن محمد الكسائي ، أنا عبد العزيز ابن أحمد الخلال ، نا أبو العباس الأصم ( ح ) وأخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ومحمد بن أحمد العارف ، قالا : أنا أبو بكر الحيري ، نا أبو العباس الأصم ، أنا الربيع ، أنا الشافعي ، أنا حاتم يعني ابن إسماعيل ، عن جعفر بن محمد ، عن أبيه عن يزيد بن هرمز أن نجدة كتب إلى ابن عباس يسأله عن خلال ، فقال ابن عباس : إن ناسا يقولون : إن ابن عباس يكاتب الحرورية ، ولولا أني أخاف أن أكتم علما لم أكتب إليه ، فكتب نجدة إليه ، أما بعد ، فأخبرني هل كان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يغزو بالنساء ؟ وهل كان يضرب لهن بسهم ؟ وهل كان يقتل الصبيان ؟ ومتى ينقضي يتم اليتيم ؟ وعن الخمس لمن ؟ فكتب إليه ابن عباس : إنك كتبت تسألني هل كان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يغزو بالنساء ؟ وقد كان يغزو بهن يداوين المرضى ، ويحذين من الغنيمة ، وأما السهم ، فلم يضرب لهن بسهم ، وأن رسول الله [ ] لم يقتل الولدان ، فلا تقتلهم إلا أن تكون تعلم منهم صفحة رقم 104 ما علم الخضر من الصبي الذي قتل ، فتميز بين المؤمن والكافر ، فتقتل الكافر وتدع المؤمن ، وكتبت متى ينقضي يتم اليتيم ، ولعمري إن الرجل لتشيب لحيته وإنه لضعيف الأخذ ، ضعيف الإعطاء ، فإذا أخذ لنفسه من صالح ما يأخذ الناس ، فقد ذهب عنه اليتم ، وكتبت تسألني عن الخمس ، وإنا كنا نقول : هو لنا ، فأبى ذلك علينا قومنا ، فصبرنا عليه. هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، عن حاتم بن إسماعيل ، وأخرجه عن محمد بن حاتم ، عن بهز ، عن جرير بن حازم ، عن قيس بن سعد ، عن يزيد بن هرمز ، وقال : وسألت عن المرأة والعبد : هل كان لهما سهم معلوم إذا حضروا البأس ؟ وإنهم لم يكن لهم سهم معلوم ، إلا أن يحذيا من غنائم القوم. قال الإمام : والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم أن العبيد ، والصبيان ، والنسوان إذا حضروا القتال ، يرضخ لهم ، ولا يسهم لهم ، وذهب الأوزاعي إلى أنه يسهم لهم ، وقال : لأن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أسهم للصبيان والنسوان بخيبر ، وإسناده ضعيف لا تقوم به الحجة. وقد قيل : صفحة رقم 105 إذا قاتلت المرأة ، أو المراهق إذا قوي على القتال ، يسهم لهما ، وقال مالك : لا يسهم للنساء ولا يرضخ. وإذا حضر الذمي الوقعة ، فإن كان قد استأجره الإمام على الجهاد ، فله الأجرة ، ولا سهم له ، وأجرته من خمس خمس الغنيمة سهم النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، وإن لم يستأجره ، فله الرضخ من الغنيمة إلا أن يكون نهاه الإمام عن الحضور ، فإذا حضر لا يستحق شيئا ، وأكثر أهل العلم على أنه لا يستحق السهم وإن قاتل ، وقال بعضهم : يسهم له. والرضخ يكون من أربعة أخماس الغنيمة كالسهم ، وقيل من رأس الغنيمة ، وقيل : من خمس الخمس سهم النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وقيل : رضخ أهل الذمة من خمس الخمس ، ورضخ العبيد ، والنسوان ، والصبيان من الأربعة الأخماس.

جناب یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری ( خارجیوں کے سردار ) نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو لکھا اور چند باتوں کے متعلق دریافت کیا، سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ لوگ یہ چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ ابن عباس خارجیوں سے خط کتابت کرتے ہیں ۔ اگر علم کے چھپانے کی سزا نہ ہوتی تو میں اس کو جواب تحریر نہ کرتا۔نجدہ نے انہیں یہ لکھ بھیجا تھا: اما بعد! آپ مجھے یہ بتلائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ غزوے کرتے تھے؟ اور کیا ان کو کوئی حصہ دیتے تھے؟ ( مال غنیمت میں سے) اور کیا آپ بچوں کو بھی قتل کرتے تھے؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ اور خمس کا حقدار کون ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواباً تحریر کیا: تو نے بذریعہ تحریر مجھ سے یہ پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کے ساتھ تھے؟ تو یقیناً آپ خواتین کو ساتھ رکھتے تھے۔ وہ زخمیوں کو دوائی دیتی تھیں اور انہیں غنیمت کے مال سے عطیہ بھی دیا جا تا تھا لیکن آپ نے ان کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو نہیں مارتے تھے تو بھی بچوں کو قتل مت کر الا یہ کہ تجھے ان کے بچوں کے متعلق وہ کچھ معلوم ہو جائے جو جناب خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے میں پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے قتل کیا تھا اور اس طرح مومن اور کافر بچے کے درمیان امتیاز کی کوئی صورت پیدا ہو جائے اور تو کافر کو قتل کردے اور مومن (بچے) کو چھوڑ دے (اور ایسا وحی کے بغیر ممکن نہیں) اور تو نے لکھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو میری عمر کی قسم! کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی داڑھی سفید ہو جاتی ہے لیکن نہ وہ لینے کا شعور رکھتا ہے اور نہ دینے کا وہ یتیم ہے (یعنی اس کا حکم یتیموں کا ساہے) پھر جب اپنے فائدے کے لیے وہ اچھی باتیں کرنے لگے جیسے کہ لوگ کرتے ہیں تو اس کی یتیمی جاتی رہی ، اور تو نے لکھا ہے مجھ سے استفسار کرتا ہے کہ خمس کس کا حق ہے؟ بلاشبہ ہم کہا کرتے تھےخمس ہمارا(اہل بیت کا) حق ہے لیکن ہماری قوم نہ مانی تو ہم نے صبر سے کام لیا۔

يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر الحيري، ← محمد بن أحمد العارف ← أحمد بن عبد الله الصالحي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← عبد العزيز ابن أحمد الخلال ← عبد الوهاب بن محمد الكسائي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › The door of who deserves to surrender from the spoil · Hadith 2723

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب السلب للقاتل · حديث 2724

2724 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن يحيى بن سعيد ، عن عمر بن كثير بن أفلح ، عن أبي محمد مولى أبي قتادة الأنصاري عن أبي قتادة الأنصاري ثم السلمي أنه قال : خرجنا مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) عام حنين ، فلما التقينا ، كانت للمسلمين جولة قال : فرأيت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين ، فاستدرت له حتى أتيته من ورائه ، فضربته على حبل عاتقه ضربة ، فقطعت الدرع ، قال : وأقبل صفحة رقم 106 علي ، فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت ، ثم أدركه الموت ، فأرسلني ، فلحقت عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، فقلت له : ما بال الناس ؟ قال : أمر الله ، قال : ثم إن الناس رجعوا ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " من قتل قتيلا له عليه بينة ، فله سلبه " قال أبو قتادة : فقمت ، ثم قلت : من يشهد لي ؟ ثم جلست ، ثم قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه " قال أبو قتادة : فقمت ، ثم قلت : من يشهد لي ؟ ثم جلست ، ثم قال ذلك الثالثة ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " ما لك يا أبا قتادة ؟ " فاقتصصت عليه القصة ، فقال رجل من القوم : صدق يا رسول الله ، وسلب ذلك القتيل عندي ، فأرضه عنه ، فقال أبو بكر رضي الله عنه : لا ها الله إذا لا يعمد إلى أسد من أسود الله يقاتل عن الله وعن رسوله ، فيعطيك سلبه ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " صدق فأعطيه إياه " قال أبو قتادة : فأعطانيه ، فبعت الدرع ، فابتعت به مخرفا في بني سلمة ، فإنه لأول مال ثأثلته في الإسلام. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف ، صفحة رقم 107 وأخرجه مسلم عن أبي الطاهر ، عن عبد الله بن وهب ، كلاهما عن مالك ، وأبو محمد مولى أبي قتادة : اسمه نافع. قوله : " فضربته عل حبل عاتقه ". حبل العاتق : عرق يظهر على عاتق الرجل ، ويتصل بحبل الوريد ، في باطن العنق. وقوله : " لا ها الله إذا " قال الخطابي : والصواب : لا ها الله ذا بغير ألف قبل الذال ، ومعناه في كلامهم : لا والله ، يجعلون " الهاء " مكان الواو ، ومعناه ، لا والله يكون ذا. والمخرف بفتح الميم : البستان يريد حائط نخل يخترف منه الثمر ، أي : يجتنى ، والمخرف بكسر الميم ، الوعاء الذي يخترف فيه الثمر. وقوله : " تأثلته " أي : جعلته أصل مال ، يقال : تأثل ملك فلان : إذا كثر ماله ، وأثلة كل شيء : أصله. وفي الحديث دليل على أن كل مسلم قتل مشركا في القتال يستحق سلبه من بين سائر الغانمين ، وأن السلب لا يخمس قل ذلك أم كثر ، وروي أن سلمة بن الأكوع قتل مشركا ، فجاء بجمله يقوده عليه رحله وسلاحه ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " من قتل الرجل ؟ " قالوا : ابن الأكوع ، قال : " له سلبه أجمع " وسواء نادى الإمام بذلك أو لم يناد ، وسواء كان القاتل بارز المقتول ، أو لم يبارزه ، لأن أبا قتادة قتل القتيل قبل صفحة رقم 108 قول النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " من قتل قتيلا فله سلبه " ولم يكن بينهما مبارزة ، ثم جعل النبي ( صلى الله عليه وسلم ) جميع سلبه له ، فكان ذلك القول من الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) شرع حكم ، وهذا قول جماعة من أهل العلم من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، ومن بعدهم أن جميع سلب المقتول لقاتله وإن لم يكن الإمام نادى به ، ولا يخمس عند كثير منهم ، وإليه ذهب الأوزاعي ، والشافعي ، وأبو ثور ، غير أن الشافعي يشرط أن يكون الكافر المقتول مقبلا على القتال ، فأما بعد ما ولى ظهره منهزما إذا قتله ، أو أجهز على جريح عجز عن القتال ، فلا يستحق سلبه إلا أن يكون القاتل هو الذي هزمه ، أو أثخنه. وقال بعضهم : يخمس السلب ، فخمسه لأهل الخمس ، والباقي للقاتل ، روي ذلك عن عمر ، وهو قول آخر للشافعي ، والأول أولى ، لأنه كما اختص به من بين سائر الغانمين ، كذلك يختص به من بين أهل الخمس ، وقال إسحاق : السلب للقاتل إلا أن يكون كثيرا ، فرأى الإمام أن يخرج منه الخمس ، كما فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه فله ذلك. وذهب قوم إلى أنه نادى الإمام أن من قتل قتيلا فله سلبه ، فيكون له على وجه التنفيل ، فأما إذا لم يكن سبق لنداء فلا يستحقه ، وهو قول مالك ، والثوري ، وأصحاب الرأي ، وقال أحمد : إنما يستحق السلب من قتل قرنه في المبارزة دون من لم يبارز. والسلب الذي يستحقه القاتل كل ما يكون على المقتول من ثوب ، وسلاح ، ومنطقة ، وفرسه الذي هو راكبه ، أو ممسكه ، هذا قول الشافعي رضي الله عنه. وقال الأوزاعي : له فرسه الذي قاتل عليه ، وسلاحه ، وحاجته ، ومنطقته ، وخاتمه ، وما كان في سرجه وسلاحه من حليه ، صفحة رقم 109 ولا يكون له الهميان ، ولا الدراهم ، والدنانير التي لا يتزين بها للحرب ، بل هي غنيمة ، وعلق الشافعي القول في التاج ، والسوار ، والطوق ، وما ليس من آلة الحرب. وقال أحمد : المنطقة فيها الذهب والفضة من السلب ، والفرس ليس من السلب. وسئل عن السيف ، فقال : لا أدري ، وقيل للأوزاعي : يسلبون حتى يتركوا عراة ، فقال : أبعد الله عورتهم ، وكره الثوري أن يتركوا عراة.

سید نا ابوقتاده انصاری السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے۔ جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو (ابتدا میں ) اسلامی لشکر ہارنےلگانے میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے میں فورا ً گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری، اور میں نے اس کی ذرہ کاٹ کر رکھ دی ، اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی ، آخر جب اس کو موت نے آدبوچا، تب کہیں جاکر اس نے مجھے چھوڑا، اس کے بعد مجھے سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حال میں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا۔ لیکن مسلمان شکست کھانے کے بعد پھر مقابلے پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس نے بھی کسی کافر کوقتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ لیکن ( جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو) میں بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی کافر کوقتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا۔ تیسری مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد د ہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا: ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپ کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا تو حاضرین میں سے ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی ) نے کہا کہ ابوقتادہ سچ کہتےہیں اے اللہ کے رسول! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئے ( کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں ) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا :نہیں اللہ کی قسم ! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے، آپ علیہ السلام ایسا نہیں کر یں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوبکر نے سچ کہا ہے۔ تو سامان ابو قتادہ کو دے دے۔‘‘ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ نے وہ حصہ مجھے دلوادیاپھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا۔

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ← أبي محمد مولى أبي قتادة الأنصاري ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › The murderer's robbery door · Hadith 2724

شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب السلب للقاتل · حديث 2725

2725 - أخبرنا محمد بن الحسن الميربند كشائي ، أنا أبو سهل السجزي ، أنا أبو سليمان الخطابي ، أنا أبو بكر بن داسة ، نا أبو داود السجستاني ، نا أحمد بن حنبل ، نا الوليد بن مسلم ، حدثني صفوان بن عمرو ، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير ، عن أبيه عن عوف بن مالك الأشجعي قال : خرجت مع زيد ابن حارثة في غزوة مؤتة ، ورافقني مددي من أهل اليمن ، فلقينا جموع الروم ، وفيهم رجل على فرس أشقر عليه سرج مذهب ، وسلاح مذهب ، فجعل الرومي يفري بالمسلمين ، وقعد له المددي خلف صخرة ، فمر به الرومي فعرقب فرسه ، فخر وعلاه فقتله ، وحاز فرسه وسلاحه ، فلما فتح الله على المسلمين ، بعث خالد بن الوليد إليه ، فأخذ السلب ، قال عوف : فأتيته ، فقلت : يا خالد أما علمت أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قضى بالسلب للقاتل ؟ قال : بلى : ولكني استكثرته ، قلت : لتردنه إليه ، أو صفحة رقم 110 لأعرفنكما عند رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأبى أن يرده عليه ، قال عوف : فاجتمعنا عند رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقصصت عليه قصة المددي وما فعل خالد ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " رد عليه ما أخذت منه " قال عوف : فقلت : دونك يا خالد ألم أف لك ؟ فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " وما ذلك ؟ " قال فأخبرته ، فغضب وقال : " يا خالد لا ترد عليه هل أنتم تاركون لي أمرائي ، لكم صفوة أمرهم وعليهم كدره ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن زهير بن حرب ، عن الوليد ابن مسلم. قلت : فيه دليل على أن القاتل يستحق السلب وإن كان كثيرا ويستحق الفرس ، وأنه لا يخمس ، وإنما كان رده إلى خالد بعد الأمر الأول بإعطائه القاتل نوعا من النكير على عوف ، وردعا له ، وزجرا ، لئلا يتجرأ الناس على الأئمة ، وكان خالد مجتهدا في صنعيه ذلك إذ كان قد استكثره ، فأمضى النبي ( صلى الله عليه وسلم ) اجتهاده لما رأى فيه من المصلحة العامة بعد أن خطأه في رأيه الأول ، والأمر الخاص مغمور بالعام ، واليسير من الضرر محتمل للكثير من النفع والصلاح ، ويشبه أن يكون النبي ( صلى الله عليه وسلم ) قد عوض المددي من الخمس الذي هو له ، وترضى خالدا صفحة رقم 111 بالنصح له ، وتسليم الحكم له في السلب والله أعلم. هذا كله قول الخطابي وكلامه على هذا الحديث.

سید نا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں روانہ ہوا، اہل یمن سے جو کمک ہمیں ملی ان میں سے ایک شخص میرے ساتھ ہولیا، پھر ہمارا مقابلہ رومی جماعتوں سے ہوا۔ ان میں ایک آدمی اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین اور ہتھیار سنہری تھے۔ وہ رومی مسلمانوں پر بڑے سخت حملے کر رہا تھا، تو یمن کی کمک والا یہ آدمی ایک چٹان کی اوٹ میں اس رومی کی تاک میں بیٹھ گیا۔ جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو اس یمنی نے اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں تو رومی گر پڑا اور یہ یمنی خود اس آدمی پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر دیا اور اس کا گھوڑا اور اسلحہ لے لیا۔ جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس یمنی کو بلوایا اور اس کا مال اسباب لے لیا، سید نا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے خالد ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ سلب قاتل کا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔لیکن میں اسے بہت زیادہ سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا: آپ اسے واپس کر دیں ورنہ میں تم دونوں کا معاملہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا ،مگر انہوں نے اس کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ سید نا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں جمع ہوئے تو میں نے آپ سے اس یمنی کا قصہ بیان کیا اور وہ بھی جو خالد رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے جو کچھ اس سے لیا ہے وہ اس کو واپس کر دو ۔‘‘ عوف کہتے ہیں: میں نے خالد سے کہا: خالد الواب میں نے جو بات کہی تھی پوری کر دی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’وہ کیا بات ہے؟‘‘ میں نے آپ کو بتا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اور فرمایا: ’’ خالد ! وہ مت واپس کرو، کیا تم لوگ میری خاطر میرے امراء سے کوئی رعایت نہیں کر سکتے ؟ ( یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ) ان کے معاملات کی عمدگی اور بھلائی تو تمہارے لیے ہو اور ان کی خرابی کے وہ خود ذمہ دار ہوں ۔‘‘

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أبو سليمان الخطابي ← أبو سهل السجزي ← محمد بن الحسن الميربند كشائي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › The murderer's robbery door · Hadith 2725

chevron_left Previous
1…456…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. (The Book of Faith)
    1. Door2. (Chapter explaining the deeds of Islam and the reward for establishing them)3. (Chapter explaining that deeds are part of faith, and that faith increases and decreases, and responding to the Murji'ah)4. (Chapter of the sweetness of faith and love of God Almighty and His Messenger (may God bless him and grant him peace)5. (Chapter of the one who embraced Islam on the good that he had previously accepted6. (Chapter of pledging allegiance to Islam and its laws and fighting with those who refuse)7. (Chapter signs of hypocrisy8. (Chapter on major sins9. Chapter He who dies does not associate anything with God10. (Chapter on pardoning self-talk11. (Chapter on responding to waswasah12. (The door of Islam began strange and will return as it began13. (Chapter on Belief in Destiny14. (Matters chapter with the will of God Almighty15. (Chapter of business with endings16. (Bab and Abdul Qadriyah17. (Children of the polytheists chapter18. (Chapter on the words of God Almighty (We turn their minds and eyes) as they did not believe in it for the first time.19. (Chapter in response to Jahmiyya20. (Chapter on responding to those who said about the creation of the Qur’an)21. (The door to sit-in with the Qur’an and Sunnah22. (Chapter Rejecting heresies and whims23. (Door to avoiding the people of passions24. (Chapter Reward for one who calls for guidance or revives Sunnah and the sin of one who invents heresy or calls for it)
3. (The Book of Knowledge)
    25. Chapter on communicating the hadith of the Messenger (may God bless him and grant him peace)26. Chapter: The Sin of Who Lied to the Prophet (may God bless him and grant him peace)27. (Chapter of those who say in the Qur’an without knowledge28. (Chapter on litigation in the Qur’an29. (Chapter of the one who narrated a hadeeth who thinks that it is a lie30. (Chapter of the hadith of the People of the Book31. (Chapter on the merit of knowledge32. (Chapter of Al-Tafaqah in Religion33. (Science scribes chapter34. (Chapter on envy in science35. (Chapter: Whoever leaves a note to benefit from it36. (Chapter and feast of the concealment of knowledge he knows37. (Chapter re-speech to understand38. (Chapter on Prevention of Fatwa39. (Chapter put the issue to friends for testing40. (Chapter on entitlement to sermon41. (The door to capture the flag
4. (The Book of Purity)
    42. (Chapter on the merit of ablution43. (Chapter on what requires ablution44. (Ablution from sleep door45. (Ablution door from touching the vulva46. (Ablution from touching a woman chapter47. Chapter Leaving ablution, which touches the fire48. (The chapter on rinsing of milk and suwaiq49. (Chapter of doubt about the event is based on certainty50. (Chapter on outdoor literature51. (The door to concealment when defecating52. (Chapter What to say if he enters the toilet53. (Chapter on hate speech to relieve the toilet54. (Chapter of the places in which it is forbidden to relieve themselves55. (Urine door standing56. (Urine in the vessel chapter57. (Chapter on cleaning oneself with water58. (Chapter on tooth brushing59. (Chapter Intention in ablution and other acts of worship60. (Chapter on washing hands when starting ablution61. (Chapter on naming it in ablution62. (The chapter on rinsing and sniffing, exaggerating them, and picking fingers63. (Chapter Pickling the beard64. (Beginning door in Mayman65. (Chapter on prolonging the bangs66. (Chapter on the obligation to wash the legs67. (Chapter on the attribute of the ablution of the Prophet (may God bless him and grant him peace)68. (Chapter on wiping the head and ears
4. (The Book of Purity)
    75. Chapter What requires washing76. Chapter on how to wash77. Door overturning braids78. Menstrual washing door79. The door of washing a man with a woman80. Ablution door thanks to others81. Ablution door thanks to women82. The side shaking hands and mixing with him door83. The door of the side if he wants to sleep, oud, or food, he does ablution84. Bab al-Muhaddith eats before ablution85. Chapter on the prohibition of reading the Qur’an on the side and staying in the mosque86. The updated section does not touch the Koran87. The door of ablution and washing water88. Chapter Water provisions89. Water door that is not defiled90. Chapter forbidding urine in permanent water91. The door of the purity of the captures of lions and kittens except for a dog92. The door to washing the impurity of a dog93. Menstrual blood washing section94. Urine door hits the ground95. The door of Paul, the boy who was not fed96. Semen that infects a garment97. The door hurts the sole98. Door tanner99. The door of tayammum100. Chapter How to perform tayammum101. Chapter prohibition of Ghashabban menstruating women from homes, as the action of the Jews102. The door of intercourse with menstruating women
5. prayer book
    111. Chapter of the virtue of the five daily prayers112. The door and the feast of the one who does not pray113. Chapter of prayer times114. The door to expediting prayers115. The door to expediting the dawn prayer116. The door to expedite the noon prayer117. The door of the refrigerator at the back in the heat118. The door to accelerate the era119. Chapter and feast from the end of the afternoon until the yellowing of the sun and the warning of the missed120. Door to accelerate Morocco121. The door to delay dinner122. The door of those who hate to be called dinner dark123. Chapter of the merit of Fajr and Asr prayers124. Chapter of the merit of evening and dawn prayers in the congregation125. Middle prayer door126. The door to hasten prayer if the imam is delayed127. The door to spend the past128. Time keeping section129. The door of the catch of time130. The door to prayer and residence, and that it is two-fold, and the residence is individual131. Chapter rewind in the call to prayer132. The door of redemption133. Chapter twisting in the call to prayer134. Chapter on the merit of the call to prayer135. Chapter answering the muezzin136. Chapter of supplication between the call to prayer and residence137. The door to prayer between the call to prayer and residence
5. prayer book
    180. (Chapter of the description of prayer181. (Chapter on takbeer at the beginning of prayer182. (Chapter on raising the hands when opening the opening takbeer, when bowing, rising from it, and standing up from the two rak'ahs183. (Chapter placing the right over the left in prayer184. (Chapter on what begins with prayer of supplication185. (Chapter on seeking refuge186. (Chapter: It is obligatory to read the beginning of the book187. (Opening the door to reciting with al-fatiha and leaving the name out loud188. (Chapter on loudly securing loudspeakers189. (Chapter on the merit of insurance190. (Chapter on reading in the afternoon and afternoon191. (The chapter on reading secrets in the afternoon and afternoon192. (Chapter on reading in the Maghrib prayer193. (Chapter on reading at dinner194. (Chapter on reading in the morning195. (Chapter on reading behind the imam and whoever said: He should not recite if the imam is speaking aloud196. (Chapter What is partial to the illiterate and the non-Muslim recitation197. (Kneeling body door198. (Chapter of the celebration of the one who does not bow and prostrate, and the necessity of tranquility in moderation199. (Chapter on what he says in bowing and prostrating200. (Chapter forbidding reading in bowing and prostrating201. (Chapter on straightening up from kneeling and prostrating202. (Chapter: What to say after straightening up from bowing203. (Bab Al Qunoot204. (Chapter on supplication in Qunoot
6. (Sections of redundancy
    281. (Chapter on Sunan salaries282. (The door of the two rak'ahs of Fajr and their preference283. (Chapter on reducing the two rak'ahs of Fajr and what is recited in them284. (The door of the dajaa after the two rak'ahs of dawn285. (Chapter of the one who prays four before noon and after four286. (Chapter on the four before afternoon and the daytime prayer statement287. (The door to prayer before sunset288. (Chapter of prayer between sunset and dinner289. (The door of the two rak'ahs after dinner
6. (Sections of redundancy
    290. Night prayer door291. The door of the one who opened his prayer with two light rak'ahs at night292. The door to lengthening night prayers293. Chapter how reading at night294. The door of incitement to pray the night295. The door of diligence in the night prayers296. The introduction of minors in the night and other things297. The door to work continuity298. The door to leave work when sleep and apathy prevail299. The door to pray in the middle of the night300. The door of reviving the end of the night and its preference301. Chapter what he says if he rises from the night302. The door of the night prayer is two by two, and the tendon is one303. The door of tendon with three and five and seven or more304. The door makes the last prayer at night and see305. The door of the initiative waxing with tendon306. Witr door before bed307. The door of greed to rise at the end of the night at the end of the tendon308. Chapter of all hours of the night time for Witr309. The door to wake up parents to tendon310. Chapter of what is read in the gut311. Chapter on the merit of Witr312. Night prayer door sitting313. Prayer of the base on the half of the prayer of the Qaem314. The door of the one who slept for his party spent it during the day315. The door to the month of Ramadan and its preference
7. Travel prayer doors
    327. The door of the prayer palace328. The door of the passport of minors in the event of security329. A door if the traveler stays in a house to how short it is330. Chapter prayer for the resident behind the traveler331. The door of those who did not volunteer to travel332. Chapter on volunteering and tendon on the traveler where she headed333. Chapter combining prayers in travel334. The door to combine with an excuse for rain
8. Friday book
    335. The door to impose Friday336. Chapter preferred on Friday and what was said in the hour of response337. The door and the slave of leaving Friday without an excuse338. Friday door in the villages339. Chapter of who is not obligated by Friday340. The door of cleaning and perfume on Friday341. Door early to Friday342. Chapter expediting the Friday prayer and the nap after it343. The door to surrender if ascending the pulpit and relying on the stick344. The door to call to prayer on Friday345. The door of the engagement standing and sitting between the two sermons346. The door of the engagement palace347. Chapter reading the Qur’an in the sermon348. The hatred of raising hands in the sermon349. The door to listen to the sermon and receive the imam350. The door of the person who entered the sermon and the imam prayed two rak'ahs351. The hatred of skipping on Friday352. The door of sleepiness turns353. Chapter reading on Friday prayers354. Chapter If the enemy was not in the direction of the Qiblah, the Imam dispersed them two divisions, and he prayed in each sect355. Chapter of the one who said: The first sect stands up and completes its prayer, then the second sect comes and the imam prays with them one rak'ah356. The door of those who said pray two rak'ahs in each sect357. Section If the enemy was from the direction of the qiblah, the Imam prayed with all of them and guarded in prostration358. The door of the two feasts
9. (Book of invitations)
    408. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for his nation409. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for the one who cursed him from his ummah is to make it a bag for him410. Chapter: The merit of remembrance of God Almighty and the majlis of dhikr411. (Chapter on drawing closer to God Almighty with redundancy and remembrance412. (The door of the one who sits in a council in which God did not mention413. (Chapter on the names of God Almighty414. (Chapter of what was said in the greatest name415. (Chapter of the Reward of Praise416. (Chapter of holding praise by hand417. (Chapter on the Reward of Hamid418. (Chapter on the Reward of Tahlil419. (Chapter: Reward Glory be to God, Praise be to God, and there is no god but God and God is Great420. (Chapter of the merits of there is no strength or power except with God421. (The door for forgiveness422. (Chapter of Repentance423. (The door to the best of forgiveness424. (Chapter what he says if he takes his bed425. Chapter426. (Chapter of what he says when it becomes427. (Chapter on what the married person says428. (Chapter of what he says when talking with parents429. (Chapter on what to say when distress430. (Chapter what to say when angry431. (Chapter of what he says when a rooster crows432. (Chapter of what he says when seeing the crescent
69. (Ablution door once
70. (Ablution door twice twice
71. (Ablution three trips
72. (Chapter on the desirability of ablution for every prayer
73. (Chapter on wiping over the socks
74. (Timing section in the survey
103. Section on the time of puerperium
104. The door of the menstruating woman, if she becomes pure, she should make up the fast and not make up the prayer
105. The chapter on the ruling of the case
106. Bab Al-Safra and Al-Brown
107. The door of his blood
108. Friday washing door
109. Door washing from washing the dead
110. The door of washing when Islam
138. The traveler's call to prayer
139. The door of the call to prayer for morning before dawn
140. The door of the call to prayer for the missed person and the residence for her
141. Chapter when the muezzin resides and when the people rise
142. The door of the one who does not hurry after residency
143. Speech after the stay
144. The door to convert Qibla from Jerusalem to the Kaaba
145. The door of a kiss who missed Mecca
146. The door to prayer in the Kaaba
147. Chapter on the merit of praying in the Grand Mosque, Madinah Mosque and Al-Aqsa Mosque
148. The door of the Al-Aqsa Mosque
149. The door of the Quba Mosque
150. Chapter of the virtue of mosques
151. The door of reward for those who built a mosque
152. Chapter preferred to attain mosques
153. The door of guidance in walking to prayer
154. Door
155. Gravel door in the mosque and sweep it
156. The door to greet the mosque
157. Chapter what to say if he entered the mosque
158. The door of the merit of sitting in the mosque to wait for prayer
159. Chapter on hatred of buying and selling in the mosque
160. The door to sleep in the mosque
161. The hatred of slugs in the mosque and towards the Qiblah
162. The door of eating garlic, not close to the mosque
163. Prayer door on the pulpit
164. Mosques door in homes and cleaned
165. The door to prayer in the pens of sheep and donated camels
166. Chapter of places where prayer was prohibited
167. Door hatred to take the grave as a mosque
168. The door to prayer in one garment
169. Door sidl in prayer
170. The door to prayer in the quilts of women
171. The hatred of prayer door in a dress with flags
172. Chapter about how many clothes a woman prays
173. The door to prayer on the winery and mats
174. Prayer door in slippers
175. Bab Sitra Al-Musalla
176. Door near the jacket
177. Blazer pot door
178. The hatred of passing in the hands of the worshiper and the permissibility of pushing him
179. Door does not cut his prayer what passed between his hands
205. (The door to prostration on seven members
206. (Chapter of the body of prostration
207. (Chapter on the merit of prostration
208. (The door to sitting between the two prostrations
209. (Chapter what he says between the two prostrations
210. (The door to sitting next to the two prostrations in the first and third
211. (Chapter How to get up
212. (Chapter on easing sitting for the first Tashahhud
213. (Chapter on how to sit for the two Tashahhuds
214. Chapter How to put the hands in the two Tashahhuds
215. (Chapter on reading the Tashahhud
216. (Chapter on concealing the tashahhud
217. Chapter: Prayer on the Prophet (may God bless him and grant him peace)
218. Chapter: The merit of praying upon the Prophet (may God bless him and grant him peace)
219. (The chapter on supplication before peace
220. (Chapter of submission in prayer
221. (Chapter on turning away from prayer
222. (The man's door leaves before the imam
223. (Door of the imam staying in the prayer hall until the women leave
224. Chapter: What is desirable to sit in the mosque after the morning prayer
225. (Dhikr chapter after prayer
226. (Chapter on the prohibition of speaking in prayer
227. (Chapter on yawning during prayer
228. (Chapter on crying in prayer
229. (Chapter on dislike abbreviation in prayer
230. (Chapter on detestation of turning around in prayer
231. (The hatred of raising the gaze to the sky in prayer
232. (The chapter on reverence during prayer
233. (Carrying a boy during prayer door
234. (Chapter on killing snakes and scorpions in prayer
235. (The door to simple work does not nullify prayer
236. (Chapter of praise if something swirls during prayer
237. (Chapter on the event in prayer
238. (Chapter on prostration for forgetfulness
239. Chapter: Whoever doubts his prayer and does not know how much he prayed based on certainty
240. (Chapter of the five noon prayers
241. (Chapter on the one who left the first tashahhud
242. (Chapter of the blessings of two rak'ahs
243. (Chapter on prostration of the Qur’an
244. (Chapter on prostration in Hajj
245. (Chapter on prostration on p
246. (Chapter on the prostration of recitation in prayer
247. (The door of prostration with the prostration of the reader
248. (Chapter on the one who neglects the prostration of recitation
249. (Chapter of what he says in the prostration of recitation
250. (Prostration of thanksgiving chapter
251. (Chapter of the times during which it is forbidden to pray
252. (Chapter on the concession to pray at midday on Friday
253. (Chapter on the permission to pray at these times in Mecca, may God protect it
254. (Chapter on what is prayed during these past times
255. Chapter: The Prophet (peace and blessings be upon him) persevering two rak'ahs after Asr
256. (Chapter on the merit of the group
257. (Emphasis on leaving the group
258. (Chapter of the permission to leave in congregation and Friday when rain and excuse
259. (Chapter of starting food if attended and if the prayer is performed
260. (Bab does not pray while he is an injector
261. (Chapter: If the prayer is established, there is no prayer except the written one
262. (Class leveling and completion chapter
263. (Chapter on the merit of the first row
264. (Who is the first in the first grade chapter
265. (Chapter of those who pray behind the row alone
266. (Chapter if there is one man with the imam standing on his right
267. (Chapter if they were three, the imam would lead, and the other two stood behind him in a row, and the woman stood behind the men alone
268. (Chapter if the imam stood in a higher place
269. (Chapter Who is the first to lead the imamate
270. (Chapter about who is the mother of a people and they hate him
271. (Chapter: What an imam must complete the prayer
272. (The Imam door reduces the prayer
273. (Mitigation section to order happen
274. (Chapter: It is obligatory to follow the imam
275. (Chapter and the feast of one who raises his head before the imam
276. (Chapter if the imam prays sitting
277. (The door to the side who prays with people who are people
278. (Chapter of the one who prays alone then catches up with a group he is praying with them
279. (Chapter of the one who prays once and then the mother of people in that prayer
280. (Women go out to mosques door
316. Bab in the night of the fifteenth of Shaban
317. Chapter preferred to volunteer at home
318. Duha prayer door
319. 4 Chapter number of Duha prayers
320. Chapter of the merit of Duha prayer
321. Door time for Duha prayer
322. Chapter of the merit of one who purifies and prays his punishment
323. The door to prayer upon repentance
324. Chapter of Istikhara prayer
325. Chapter of praise prayers
326. Chapter on the merit of volunteering
359. Exit door to the prayer hall on Eid
360. Section No call to prayer or Iqama for Eid prayer and offering prayer
361. The door to eating the day of breaking the fast before going out
362. Chapter Takbeers Eid prayer and reading in it
363. The door of someone who crosses the road if he returns from the prayer hall
364. The door to prayer before and after the Eid prayer
365. The door for women to go out to the two Eids
366. The license door to play on Eid
367. Chapter of the year of Eid al-Adha and delaying the sacrifice
368. Chapter What is desirable from the sacrifice and what is disliked from it
369. Chapter on the reward for the sacrifice
370. Chapter reward work in the tenth of Dhu al-Hijjah
371. Chapter If the tithe enters, whoever wants to sacrifice does not touch anything of his hair and nails
372. Chapter sharing in the sacrifice
373. Chapter eating from the sacrifice after three or more
374. Chapter of the eclipse prayer and its lengthening
375. Chapter of the one who prays in each rak'ah two rak'ahs and the call to prayer is combined
376. Chapter How to read in the eclipse prayer
377. The door of alienation in the eclipse
378. Chapter fear of profit
379. Star Throwing Door
380. The door of prostration when a verse occurs
381. Drops door
382. Door raising hands in dropsy
383. The door of rain of righteous people and people of the house of prophethood
384. Chapter of rain in the Friday sermon
385. The hatred of raining rain
386. The door of the unseen only God knows
387. The jutting door of the rain
388. Chapter on the merit of learning the Qur’an and teaching it
389. Chapter on the merit of reciting the Qur’an
390. Door
391. Chapter preferred to open the book
392. Chapter virtue of Surat Al-Baqara and the family of Imran
393. Chapter on the merit of Ayat al-Kursi and the two verses from the end of Surat al-Baqarah
394. Seven door height
395. Chapter preferred Surat Al-Kahf
396. Door in the pain of downloading prostration and blessing
397. Chapter of the merit of Surat Al-Ikhlas
398. The door of Almoothtin
399. Chapter How to read and rewind it
400. The door to singing the Quran
401. The door to hear the Qur’an
402. The door of pledging the Qur’an and promising those who forgot it
403. Section on how much it reads
404. Door
405. Chapter on the saying of the Prophet (may God bless him and grant him peace): The Qur’an was revealed in seven letters
406. Chapter of collecting the Qur’an
407. Door does not travel the Quran to the land of the enemy
433. (Chapter what to say if he is seen afflicted
434. Chapter What to say if it enters the market
435. (Chapter on penance for the Council
436. (Chapter what he says if he goes out to travel
437. (Chapter what to say if riding an animal
438. (Farewell door
439. (Chapter What to say if he went down
440. (Chapter on Takbir if it rises honor and praise if it is revealed
441. (Chapter what to say if locked from travel
442. (Chapter on praying for infidels with guidance
443. (Chapter on supplication for infidels
444. Chapter: Abandoning supplication to the oppressor
445. (The chapter on seeking refuge
446. (Chapter of the Mosque of supplication
447. (Encouraging supplication chapter
448. (Abandoning urgency section
449. (Chapter of the one who called, let him resolve
450. (Chapter on whose call is answered
451. (Chapter on the etiquette of supplication and raising hands in it
452. ( Door