شرح السنة للبغوي · كتاب السير والجهاد ‹ باب فضل الجهاد · حديث 2610
2610 - أخبرنا الإمام أبو علي الحسين بن محمد القاضي ، حدثنا أبو القاسم إبراهيم بن محمد بن علي بن الشاه ، نا أبي ، نا أبو الحسن علي ابن أحمد بن صالح المطرز. ، نا محمد بن يحيى ، نا شريح بن النعمان ، نا فليح ، عن هلال بن علي ، عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : ( من آمن بالله ورسوله ، وأقام الصلاة ، وصام رمضان ، كان حقاً على الله أن يدخله الجنة ، جاهد في سبيل الله ، أو جلس في أرضه التي هو فيها ) قالوا : يا رسول الله أفلا ننذر الناس بذلك ؟ قال : ( إن في الجنة مائة درجة أعدها الله تعالى للمجاهدين في سبيله ما بين كل درجتين ، كما بين السماء والأرض ، فإذا سألتم الله ، فاسألوه الفردوس ، فإنه أوسط الجنة ، وأعلى الجنة ، وفوقه عرش الرحمن ومنه تفجر أنهار الجنة ). صفحة رقم 347 هذا حديث صحيح أخرجه محمد عن يحيى بن صالح ، عن فليح.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے ، اللہ تعالی ٰپر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے ، (خواہ ) اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا یا اپنی آبادی میں رہا جہاں وہ رہائش پذیر ہے۔ ‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو اس سے خبر دار نہ کر دیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’ بلاشبہ جنت کی سو منزلیں ہیں ۔ اللہ تعالی ٰنے ان کو ان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، دو منزلوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو ۔ اس لیے کہ وہ افضل اور اعلی ٰجنت ہے، اس کے اوپر اللہ تعالی ٰکا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحٌ، ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو الحسن علي ابن أحمد بن صالح المطرز. ← أَبِي ← أبو القاسم إبراهيم بن محمد بن علي بن الشاه ← الإمام أبو علي الحسين بن محمد القاضي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Sir and Jihad › Chapter on the merit of jihad · Hadith 2610
