شرح السنة للبغوي · كتاب قتال أهل البغي ‹ باب قتال الخوارج والملحدين · حديث 2552
2552 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا أبو اليمان ، أنا شعيب ، عن الزهري ، أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا سعيد الخدري قال : بينا نحن عند رسول الله [ ] وهو يقسم قسماً أتاه ذو الخويصرة وهو رجل من بني تميم ، فقال : يا رسول الله أعدل ، فقال : ( ويلك فمن يعدل إذا لم أعدل ، قد خبت وخسرت إن لم أكن أعدل ) فقال عمر : يا رسول الله أئذن لي أضرب عنقه ، فقال له : دعه ( فإن له أصحاباً يحقر أحدكم صلاته مع صلاتهم ، وصيامه مع صيامهم ، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، ينظر إلى نصله فلا يوجد فيه شيء ، ثم ينظر إلى رصافه ، فلا يوجد فيه شيء ، ثم ينظر إلى نضيه - وهو قدحه - فلا يوجد فيه شيء ، ثم ينظر إلى قذذه ، فلا يوجد فيه شيء ، قد سبق الفرث ، والدم ، صفحة رقم 225 آيتهم رجل أسود إحدى عضديه مثل ثدي المرأة ، أو مثل البضعة تدردر ، ويخرجون على حين فرقة من الناس. قال أبو سعيد : فأشهد أني سمعت هذا الحديث من رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، وأشهد أن علي بن أبي طالب قاتلهم وأنا معه ، فأمر بذلك الرجل ، فالتمس ، فأتي به حتى نظرت إليه على نعت النبي ( صلى الله عليه وسلم ) الذي نعته رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ). هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن أبي الطاهر ، عن عبد الله بن وهب ، عن يونس ، عن ابن شهاب. صفحة رقم 226 قوله : ( لا يجاوز تراقيهم ) أي : لا يقبل ولا يرفع في الأعمال الصالحة. وقوله : ( يمرقون من الدين ) أي : يخرجون من الدين ، أي : من طاعة الأئمة ، والدين : الطاعة ، وهذا نعت الخوارج الذين لا يدينون للأئمة ، ويستعرضون الناس بالسيف " كما يمرق " أي : كما يخرج السهم من الرمية ، فالرمية : الصيد الذي تقصده ، فترميه ، قال الأصمعي : هي الطريدة التي يرميها الصائد ، وهي كل دابة مرمية. والرصاف : عقب يلوى على موضع الفوق ، وعلى مدخل النصل من السهم ، وواحد الرصاف رصفة ، يقال : رصفت السهم أرصفه ، وسهم مرصوف ، والنضي : القدح قبل أن ينحت ، والنضي : ما بين النصل والريش من القدح. والقذذ : الريش يراش به السهم ، وهي جمع قذة ، وكل ريشة منها قذة ، يقال : هو أشبه به من القذة بالقذة ، لأنهن يحذين على مثال واحد. وقوله : ( قد سبق الفرث والدم ) يعني مر مراً سريعاً في الرمية لم يعلق به شيء من الفرث والدم. يقول : فكذلك دخول هؤلاء في الإسلام ، ثم خروجهم منه لم يتمسكوا فيه بشيء. وقوله : ( تدردر ) أي : تتحرك ، فتجيء وتذهب ، ومنه دردور الماء ، ومثله : تذبذب ، وتقلقل ، وتدلدل.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصر ہ آیا جو کہ بنو تمیم کا ایک فرد ہے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! انصاف کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ، کون انصاف کرے گا اگر میں انصاف نہیں کروں گا ، اگر میں نے عدل وانصاف نہ کیا تو میں نا کام ہوا اور میں نے خسارہ اٹھایا۔‘‘ اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن ماردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے کچھ نہ کہہ ! اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ ان کی نماز اور روزے کے سامنے تم اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھو گے ۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے، تیر کے پر کو دیکھا جائے لیکن اس پر کوئی نشان نہیں پھر اس پیکان کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کے باڑ کو دیکھا جائے اور یہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں کیونکہ وہ لید گوبر اور خون سب سے آگے (بے داغ ) نکل گیا (اسی طرح وہ لوگ اسلام سے صاف نکل جائیں گے ) ان کی نشانی ایک سیاہ رنگ کا مرد ہو گا جس کا ایک بازو عورت کی چھاتی کی طرح ہو گا یا یوں فرمایا: گوشت کا تھر تھرانے بوتھڑے کی طرح ہو گا، یہ لوگ مسلمانوں کی پھوٹ کے زمانے میں پیدا ہوں گے۔“
أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Hadith 2552
