شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب من صلى في كل ركعة ركوعين ونداء الصلاة جامعة · حديث 1141
1141 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا صفحة رقم 372 أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن يحيى بن سعيد ، عن عمرة بنت عبد الرحمن. عن عائشة زوج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أن يهودية جاءت تسألها ، فقالت لها : أعاذك الله من عذاب القبر ، فسألت عائشة رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : أيعذب الناس في قبورهم ؟ فقال رسول الله [ ] : " عائذ بالله من ذلك ، ثم ركب رسول الله [ ] ذات غداة مركبا ، فخسفت الشمس ، فرجع ضحى ، فمر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بين ظهري الحجر ، ثم قام يصلي ، وقام الناس وراءه ، فقام قياما طويلا ، ثم ركع ركوعا طويلا ، ثم رفع فقام قياما طويلا ، وهو دون القيام الأول ، ثم ركع ركوعا طويلا ، وهو دون الركوع الأول ، ثم رفع فسجد ، ثم قام قياما طويلا ، وهو دون القيام الأول ، ثم ركع ركوعا طويلا ، وهو دون الركوع صفحة رقم 373 الأول ، ثم رفع فقام قياما طويلا ، وهو دون القيام الأول ، ثم ركع ركوعا طويلا ، وهو دون الركوع الأول ، ثم رفع ، فسجد ، وانصرف ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ما شاء الله أن يقول ، ثم أمرهم أن يتعوذوا من عذاب القبر ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن مسلمة ، عن مالك ، وأخرجه مسلم أيضا عن عبد الله بن مسلمة ، عن سليمان ابن بلال ، عن يحيى بن سعيد ، وأخرجه محمد عن إسماعيل ، عن مالك ، وقال : ثم رفع فسجد سجودا طويلا ، وقال في الركعة الثانية : ثم سجد وهو دون السجود الأول.
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہرضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان سے بھیک مانگنے کے لیے آئی، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا:"أعاذك الله من عذاب القبر" (اللہ تجھے قبر کے عذاب سے پناہ دے۔) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا: کیا لوگ قبر میں عذاب سے دوچار ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز صبح صبح سوار ہوئے( کہیں جانے کے لیے ) ادھر سورج گرہن لگ گیا، آپ واپس آ گئے، اس وقت نمازضحیٰ کا وقت تھا، آپ اپنی ازواج کے حجروں سے گزرے اور مسجد میں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی آپ کی اقتداء میں صف باندھ کر کھڑے ہو گئے ، آپ نے طویل قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے کم ، اس کے بعد لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے ذرا مختصر، پھر رکوع سے سر اٹھا کر آپ سجدے میں گئے ، پھر لمبا قیام کیا اور یہ قیام بھی پہلے سے کم تھا ، اس کے بعد المبا رکوع کیا جو پہلے رکوع کے مقابلے میں کم تھا، پھر آپ رکوع سے کھڑے ہو گئے اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام کی نسبت ہلکا تھا، اب ( چوتھا ) رکوع کیا جو پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر رکوع سے سراٹھا کر آپ سجدے میں گئے اور نماز سے فارغ ہوئے پھر خطبہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اللہ نے کہلوانا چاہا، آپ نے لوگوں کوعلم دیا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگیں۔
عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← صفحة رقم أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Chapter of the one who prays in each rak'ah two rak'ahs and the call to prayer is combined · Hadith 1141
