شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب من لا تجب عليه الجمعة · حديث 1057
1057 - أخبرنا أبو عثمان الضبي ، أنا أبو محمد الجراحي ، نا أبو العباس المحبوبي ، نا أبو عيسى ، حدثنا أحمد بن منيع ، نا أبو معاوية عن الحجاج ، عن الحكم ، عن مقسم. عن ابن عباس قال : بعث النبي ( صلى الله عليه وسلم ) عبد الله بن رواحة في سرية ، فوافق ذلك يوم الجمعة ، فغذا أصحابه وقال : أتخلف فأصلي مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ثم ألحقهم ، فلما صلى مع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) رآه ، فقال : " ما منعك أن تغدو مع أصحابك ؟ قال : أردت أن أصلي معك ، ثم ألحقهم ، فقال : " لو أنفقت ما في الأرض ما أدركت فضل غدوتهم ". صفحة رقم 228 وذهب بعضهم إلى أنه إذا أصبح يوم الجمعة فلا يسافر حتى يصلي الجمعة. وقال أصحاب الرأي : يجوز أن يسافر بعد الزوال إذا كان يفارق البلد قبل خروج الوقت. وروي أن عمر بن الخطاب سمع رجلا عليه هيئة السفر يقول : لولا أن اليوم يوم الجمعة لخرجت ، فقال عمر : أخرج فإن الجمعة لا تحبس عن سفر.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیدنا عبدالہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ دن جمعہ کا دن تھا، ان کے ساتھی صبح صبح مہم پر روانہ ہو گئے مگر انہوں نے کہا : میں پیچھے رہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اقتداء میں جمعہ پڑھ کر روانہ ہوں گا اور اپنے ساتھیوں سے جا ملوں گا۔ چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اقتداء میں جمعہ پڑھا تو آپ نے دیکھ لیا اور پوچھا : " اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آپ نے صبح صبح کوچ کیوں نہیں کیا۔" سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرا پروگرام تھا کہ آپ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ کر سفر روں گا اور ساتھیوں تک پہنچ جاؤں گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:" تم روئے زمین پر موجود ہر چیز بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو بھی ان کے صبح کے سفر کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتے۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجِ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو عِيسَى، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أبو محمد الجراحي ← أبو عثمان الضبي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Chapter of who is not obligated by Friday · Hadith 1057
