شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب قول النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : أنزل القرآن على سبعة أحرف · حديث 1227
1227 - أخبرنا عبد القاهر الجرجاني ، أنا عبد الغافر بن محمد الفارسي ، أنا محمد بن عيسى الجلودي ، نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا محمد بن عبد الله بن نمير ، نا أبي ، نا إسماعيل بن أبي خالد ، عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ، عن جده. صفحة رقم 504 عن أبي بن كعب قال : كنت في المسجد ، فدخل رجل يصلي ، فقرأ قراءة أنكرتها عليه ، ثم دخل آخر ، فقرا قراءة سوى قراءة صاحبه ، فلما قضينا الصلاة دخلنا جميعا على رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقلت : إن هذا قرأ قراءة أنكرتها عليه ، ودخل آخر ، فقرأ سوى قراءة صاحبه ، فأمرهما رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقرآ ، فحسن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) شأنهما ، فسقط في نفسي من التكذيب ولا إذ كنت في الجاهلية. فلما رأى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ما قد غشيني ، ضرب في صدري ، ففضت عرقا ، وكأنما أنظر إلى الله عز وجل فرقا ، فقال لي : يا أبي أرسل إلي : أن أقرأ القرآن على حرف ، فرددت إليه : أن هون على أمتي ، فرد إلي الثانية : اقرأه على حرفين ، فرددت إليه : أن هون على أمتي ، فرد إلي الثالثة : أقرأه على سبعة أحرف ، ولك بكل ردة رددتكها مسألة تسألنيها ، فقلت : " اللهم أغفر لأمتي ، اللهم اغفر لأمتي ، وأخرت صفحة رقم 505 الثالثة ليوم يرغب إلي الخلق كلهم حتى إبراهيم عليه السلام. هذا حديث صحيح.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں تھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا ،اس نے قراءت کی جس کو میں نے اپنی قراءت ک خلاف پایا ،پھر ایک اور شخص آیا ،اس نے اپنے ساتھی کی قراءت سے بھی ہٹ کر پڑھا ،جب ہم نے نماز پور ی کرلی تو ہم سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،میں نے کہا :میں نے کہا اس نے میری قراءت سے مختلف پڑھا ،دوسرا شخص آیا تو اس نے اپنے ساتھی کی قراءت سے مختلف پڑھا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان دونوں کی تصویب فرمائی ،تو میرے دل میں کچھ تکزیب آگئی جو زمانہ جاہلیت کی تکزیب کی طرح نہ تھی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میری صورت حال کو بھانپ لیا جس نے مجھے ڈھانپ لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پیسنے سے شرابور ہوگیا اور مجھے گویا خوف کے مارے اللہ نظر آنے لگا ۔تب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :اے ابی !پہلے میری طرف حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن کو ایک لہجے پر پڑھوں ،تو میں نے بارگاہ الہٰی میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی اور نرمی فرمائی جائے ،دوبارہ مجھے حکم ملا کہ دو حروف میں قرآن پڑھوں ،میں نے پھر عرض کیا کہ میری امت پر آسانی کیجئے ،تیسری بار مجھے حکم ہو اکہ سات حروف پر قرآن پڑھوں اور ارشاد ہوا کہ تم نے جتنی مرتبہ امت پر آسانی کے لیئے عرض کیا ہر مرتبہ کے عوض ایک دعا مقبول ہے ،تم ہم سے مانگ لو ،میں نے کہا :اے اللہ میری امت کو بخش دے ،اے اللہ !میری امت کو بخش دے ،اور میں نے تیسری دعا اس دن کے لیئے موخر کردی ہے جس دن تمام مخلوق میری طرف رغبت کرے گی حتی کہ ابراہیم علیہ اسلام بھی ۔"
أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← جده صفحة رقم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سفيان ← محمد بن عيسى الجلودي ← عبد الغافر بن محمد الفارسي ← عبد القاهر الجرجاني
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Chapter on the saying of the Prophet (may God bless him and grant him peace): The Qur’an was revealed in seven letters · Hadith 1227
