شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب فضل فاتحة الكتاب · حديث 1189
1189 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله صفحة رقم 449 النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا أبو النعمان ، نا أبو عوانة ، عن أبي بشر ، عن أبي المتوكل. عن أبي سعيد قال : انطلق نفر من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في سفرة سافروها حتى نزلوا على حي من أحياء العرب ، فاستضافوهم ، فأبوا أن يضيفوهم ، فلدغ سيد الحي ، فسعوا له بكل شيء لا ينفعه شيء ، فقال بعضهم : لو أتيتم هؤلاء الرهط الذين نزلوا لعله أن يكون عند بعضهم شيء ، فأتوهم ، فقالوا : يا أيها الرهط إن سيدنا لدغ ، وسعينا له بكل شيء لا ينفعه ، فهل عند أحد منكم من شيء ؟ قال بعضهم : نعم والله لأرقي ، ولكن والله لقد استضفناكم فلم تضيفونا ، فما أنا براق لكم حتى تجعلوا لنا جعلا ، فصالحوهم على قطيع من الغنم ، فانطلق يتفل عليه ، ويقرأ ) الحمد لله رب العالمين ( فكأنما نشط من عقال ، فانطلق يمشي وما به قلبه ، قال : فأوفوهم جعلهم صفحة رقم 450 الذي صالحوهم عليه ، فقال بعضهم : اقسموا ، قال الذي رقى : لا تفعلوا حتى تأتي النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فنذكر له الذي كان ، فننظر ما يأمرنا ، فقدموا على رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فذكروا له ، فقال : " وما يديرك أنها رقية " ، ثم قال " أصبتم أقسموا واضربوا لي معكم سهما " فضحك النبي ( صلى الله عليه وسلم ). هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن يحيى بن يحيى ، صفحة رقم 451 عن هشيم ، عن أبي بشر. ورواه عبد الله بن عباس ، وفي روايته " فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء فبرأ " فقالوا : يا رسول الله أخذ على كتاب الله أجرا فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) " إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله ". وقد روي مرسلا عن عبد الملك بن عمير. قال : قال رسول الله [ ] في فاتحة الكتاب " شفاء من كل داء ". صفحة رقم 452 قوله : " نشط من عقال " أي : حل ، قال الله سبحانه وتعالى : ) والناشطات نشطا ( [ النازعات : 2 ] وهي الملائكة تنشط أرواح المسلمين ، أي : تحلها حلا رفيقا ، وفي رواية " أنشط من عقال " بقال : أنشطت العقدة : إذا حللتها ، ونشطت الشيء : إذا شددته بلا ألف ، والأنشوطة : الحبل الذي يشد به الشيء.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے کچھ صحابہ سفر میں تھے ،دوران میں سفر انہوں نے عرب کے ایک قبیلہ کے پاس پڑاؤ کیا ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان سے مہمانی چاہی لیکن انہوں نے مہمان بنانے سے صاف انکار کردیا ،اتفاق سے اسی قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ،قبیلہ والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی لیکن سردار کو ذرہ بھر افاقہ نہ ہو ا،ان کے کسی آدمی نے کہا :چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آکر اترے ہیں ،ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس دم جھاڑ کی قسم سے کوئی چیز ہو،چناچہ قبیلہ والے ان کے پاس آئے اور کہا :بھائیو!ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے ،اس کے لیئے ہم ہر قسم کی کوشش کر چکے ہیں لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا ،کیا تمھارے پاس کوئی چیز (دم وغیرہ )ہے؟ایک صحابی نے کہا :جی ہاں ،اللہ کی قسم !میں اسے دم کروں گا لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیئے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کردیا ،اس لیئے اب میں بھی اجرت کے بغیر دم نہیں کرسکتا ۔آخر کا ر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے پاگیا ۔وہ صحابی وہاں گئے ،اس پر تھوکتے جاتے اور (الحمدللہ رب العالمین )پڑھتے جاتے ۔ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو اور وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا،تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں تھا۔راوی کہتا ہے:پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ادا کردی ۔کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کرلو،لیکن جنہوں نے دم کیا تھا وہ بولے کہ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کا ذکر کرلیں اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپ کیا حکم دیتے ہیں ،چناچہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے او ر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس واقع کی ذکر کیا ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :یہ تم کو کیسےمعلوم ہو اکہ سورۃ فاتحہ بھی ایک دم ہے؟پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :تم نے درست کیا ہے ،اسے تقسیم کرلو اور میرا بھی حصہ نکالو۔"یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہنس پڑے۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله صفحة رقم النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Chapter preferred to open the book · Hadith 1189
