شرح السنة للبغوي · أبواب صلاة السفر ‹ باب من لم يتطوع في السفر · حديث 1032
1032 - أخبرنا الإمام أبو علي الحسين بن محمد القاضي ، أنا أبو نعيم الإسفراييني ، أنا أبو عوانة ، حدثنا الدارمي ، عن جعفر بن عون ، أنا عيسى بن حفص. عن أبيه قال : كنا مع ابن عمر في سفر ، فصلى بنا ركعتين ، ثم انصرف إلى خشبة رحله ، فأتكأ عليها ، صفحة رقم 185 فرأى قوما وراءه قياما ، فقال : " ما يصنع هؤلاء ؟ قلت : يسبحون ، فقال : لو كنت مسبحا لأتممت صلاتي ، يا ابن أخي صحبت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) حتى قبضه الله ، فلم يزد على ركعتين ركعتين ، ثم صحبت أبا بكر حتى قبضه الله تعالى ، فلم يزد على ركعتين ركعتين ، ثم صحبت عمر ، فلم يزد على ركعتين ركعتين ، ثم صحبت عثمان ، فلم يزد على ركعتين ركعتين ، ثم قال : لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة. هذا حديث متفق على صحته ، أخرجه مسلم عن عبد الله بن مسلمة القعنبي ، عن عيسى بن حفص.
جناب عیسیٰ بن حفص اپنے والد حفص بن عاصم سے بیان کرتےہیں کہ انہوں نے کہا: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، انہوں نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی، پھر اٹھ کرگئے اور اپنے پالان کی لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تو کچھ لوگوں کو اپنے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا تو پوچھا : یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا سنتیں پڑھ رہے ہیں ، تو انہوں نے کہا : مجھے سنتیں پڑھنا ہوتیں تو میں نماز ہی پوری پڑھتا ، پھر کہا : اے میرے بھتیجے! سفر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی، آپ نے دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں ، پھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں سفر کرتا رہا یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی وفات دی ، اور میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو سے زیادہ نہ پڑھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔) "تمارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے "۔ (سو رۂ احزاب :21)
أَبِيهِ ← عِيسَى بْنِ حَفْصٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← الدَّارِمِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أبو نعيم الإسفراييني ← الإمام أبو علي الحسين بن محمد القاضي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Travel prayer doors › The door of those who did not volunteer to travel · Hadith 1032
