شرح السنة للبغوي · كتاب البيوع ‹ ( باب بيان مال الربا وحكمه · حديث 2060
2060 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أن معاوية باع سقاية من ذهب أو ورق بأكثر من وزنها ، فقال له أبو الدرداء : سمعت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ينهى عن مثل هذا إلا مثلا بمثل ، فقال له معاوية : ما أرى بهذا بأسا ، فقال أبو الدرداء : من يعذرني من معاوية أخبره عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ويخبرني عن رأيه لا أساكنك بأرض أنت بها ، ثم قدم أبو الدرداء على عمر فذكر ذلك له ، فكتب عمر بن الخطاب إلى معاوية : لا تبع ذلك إلا مثلا بمثل ، وزنا بوزن.
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا ایک پیالہ اس سے زائد وزن سونا لے کر بیچ دیا تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے سنا ہے، آپ نے اس سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ برابر برابر ہو، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا تو ابو درداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے ! معاویہ کے معاملے میں مجھے کون معذور سمجھتا ہے کہ میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتاتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے بتاتا ہے، میں اس علاقے میں نہیں رہوں گا جہاں تو رہتا ہے، پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ اسے برابر برابر اور ہم وزن ہی بیچو۔
عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Sales book › (Chapter explaining the money of interest and its ruling · Hadith 2060
