شرح السنة للبغوي · كتاب البيوع ‹ ( باب الإقطاع · حديث 2192
2192 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا عبد الله بن محمد نا سفيان صفحة رقم 276 عن يحيى بن سعيد ، سمع أنس بن مالك حين خرج معه إلى الوليد قال : دعا النبي ( صلى الله عليه وسلم ) الأنصار إلى أن يقطع لهم البحرين ، فقالوا : لا ، إلا أن تقطع لإخواننا من المهاجرين مثلها ، قال : " أما لا ، فاصبروا حتى تلقوني ، فإنه ستصيبكم أثرة بعدي ". هذا حديث صحيح. قال الإمام : هذا الحديث يدل على أنه يجوز للإمام أن يقطع للناس من بلاد العنوة ما لم يجر عليه ملك مسلم ، ومن أقطعه السلطان أرضا منها صار أولى بها من غيره ، فإذا أحياها وعمرها ، ملكها ، ولا يملكها قبل الإحياء ، كما لو تحجر أرضا كان أولى بها من غيره ، ولا يملكها إلا بالإحياء ، وكذلك لو أفرخ طائر على شجرة مملوكة لرجل ، كان أولى بالفرخ من غيره ، ولا يملكه حتى يأخذه. صفحة رقم 277 وروي عن علقمة بن وائل ، عن أبيه أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أقطعه أرضا بحضر موت. وروي عن عمر أنه أقطع ، واشترط العمارة ثلاث سنين ، وأقطع عثمان ولم يشترط. قال الخطابي : ويشبه أن يكون إقطاعه من البحرين ، إنما هو على أحد الوجهين ، إما أن يكون من الموات الذي لم يملكه أحد ، فيتملك بالإحياء ، وإما أن يكون ذلك من العمارة من حقه في الخمس ، فقد روي أنه افتتح البحرين ، وترك أرضها ، ولم يقسمها ، كما فتح أرض بني النضير فتركها ، ولم يقسمها كما قسم خيبر. أما المعادن ، فنوعان : نوع منها يكون نفعه ظاهرا ، كالملح في الجبال والنفط ، والقار ، والكبريت ، والمومياء ، فهذا النوع لا يملك بالعمارة ، ولا يجوز للسلطان إقطاعه ، والناس فيه شرع سواء ، فهو كالماء والكلإ والحجارة في غير الملك ، فإن أتاه رجلان ، فإن وسعهما ، عملا فيه ، وإن لم يسعهما ، كان أسبقهما أولى به ، فيأخذ قدر حاجته ، ثم يدعه إلى الثاني ، وإن جاءا معا ، أقرع بينهما ، والدليل عليه ما
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو جس کا نام’’ھنی‘‘ تھا چراگاہ پر نگران مقرر کیا تو انہیں یہ ہدایت کی: اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روک کے رکھنا ( ان پر ظلم نہ کرنا ) اورمظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا، کیونکہ مظلوم کی بددعا قبول ہوتی ہے، چند اونٹوں اور چند بکریوں کے مالکوں کو چراگاہ میں داخل ہونے دینا اور ابن عوف اور ابن عفان کے جانوروں سے بچنا (یعنی ان کی امارت کی وجہ سے ان کے جانوروں کو غریبوں پر چراگاہ پر مقدم نہ رکھنا ) کیونکہ ان کے جانور اگر ہلاک بھی ہوگئے تو یہ کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں لیکن تھوڑے جانوروں والے (غریب ) لوگوں کے جانور اگر مر گئے تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئیں گے، اور فریاد کریں گے، اے امیر المؤمنین (ان کو پالنا)، تو میں کیا انہیں چھوڑ دوں گا ( تیرا باپ نہ رہے ) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں ، اللہ کی قسم ! وہ (اہل مدینہ ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ انہوں نے جاہلیت میں اس کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا۔ اللہ کی قسم ! اگر وہ اموال ( گھوڑے وغیرہ) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقوں میں ایک بالشت زمین کو بھی چراگاہ نہ بناتا ۔
دعا النبي الأنصار إلى ← أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حِينَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَی الْوَلِيدِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سفيان صفحة رقم ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Hadith 2192
