شرح السنة للبغوي · كتاب البيوع ‹ ( باب المساقاة والمزارعة والمضاربة · حديث 2180
2180 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، أنا علي بن عبد الله ، نا سفيان قال عمرو : قلت لطاووس : لو تركت المخابرة ، فإنهم يزعمون أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) نهى عنها ، قال : أي عمرو ، إني أعطيهم وأعينهم ، وإن أعلمهم أخبرني - يعني ابن عباس - أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) لم ينه عنه ، ولكن قال : " أن يمنح أحدكم أخاه خير له من أن يأخذ عليه خرجا معلوما ". هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن ابن أبي عمر ، عن سفيان. فأخبر ابن عباس أن المراد منه ليس هو تحريم المزارعة ، إنما أراد أن يتمانحوا أراضيهم ، وأن يرفق بعضهم بعضا يدل عليه ما
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے دونوں چچاؤں نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر ( کے قریب کی پیداوار ) کی شرط پر دیا کرتے یا کوئی بھی خطہ مالک زمین اپنے لیے چھانٹ لیتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔ حنظلہ کہتے ہیں: میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اگر درھم ودینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، لیث کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کی بٹائی سے منع فرمایا تھا وہ ایسی صورت ہے کہ حلال وحرام کی تمیز رکھنے والا کوئی بھی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا کیونکہ اس میں کھلا دھوکہ ہے۔
عمرو قلت لطاووس لو تركت المخابرة فإنهم يزعمون ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Hadith 2180
