شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب ما يقول في الركوع والسجود · حديث 624
624 - أخبرنا عمر بن عبد العزيز ، أنا القاسم بن جعفر ، أنا أبو علي اللؤلؤي ، نا أبو داود ، نا محمد بن المثنى ، نا محمد بن جعفر ، نا شعبة عن موسى بن أبي عائشة قال : كان رجل يصلي فوق بيته ، فكان إذا قرأ : ) أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى ( قال : سبحانك فبلى ، فسألوه عن ذلك ؟ قال : سمعته من رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ). وروي عن علي أنه قرأ في الصلاة بالليل ) أفرأيتم ما تمنون ءأنتم تخلقونه أم نحن الخالقون ( [ الواقعة : 58 ، 59 ] ، قال : بل أنت يا رب ، ثلاثا ، وكذلك في قوله سبحانه وتعالى : ( أم نحن الزارعون ( ) أم نحن المنزلون (.
موسیٰ بن ابی عائشہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ (صحابہ میں سے) ایک صاحب اپنے گھر کی چھت پر نماز پڑھاتے تھے۔ تو جب وہ (سورۂ قیامہ کی آخری آیت) (الیس ذلک بقادر علی ان یعیی الموتی)۔۔۔۔’’کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر سکے؟“ پڑھتے تو (جواب میں) کہے : (سبحانک فبلٰی ) ’’اے اللہ! تو پاک ہے تو یقیناً قدرت رکھتا ہے۔‘‘ لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔
مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي اللؤلؤي ← القاسم بن جعفر ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Chapter on what he says in bowing and prostrating · Hadith 624
