شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب الأذان للفائتة والإقامة لها · حديث 438
438 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا عمران بن ميسرة ، نا محمد بن فضيل ، نا حصين ، عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه قال : سرنا مع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ليلة ، فقال بعض القوم : لو عرست بنا يا رسول الله ؟ قال : " أخاف أن تناموا عن الصلاة " ، فقال بلال : أنا أوقظكم ، فاضطجعوا ، وأسند بلال ظهره إلى راحلته ، فغلبته عيناه فنام ، فاستيقظ النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وقد طلع حاجب الشمس ، فقال : " با بلال أين ما قلت " ؟ قال : ما ألقيت علي نومه مثلها قط ، قال : " إن الله قبض أرواحكم حين شاء ، وردها عليكم حين شاء ، يا بلال قم فأذن للناس بالصلاة ". صفحة رقم 308 فتوضأ ، فلما ارتفعت الشمس وابياضت ، قام فصلى. هذا حديث صحيح
سیدنا ابو قتاده رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (خیبر سے لوٹ کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات میں سفر کر رہے تھے، کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ اب پڑاو ڈال دیتے تو بہتر ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہیں نماز کے وقت بھی تم سوتے نہ رہ جاؤ۔ اس پر سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے کہ میں آپ سب لوگوں کو جگا دوں گا۔ چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے اور سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی پیٹھ کجاوے سے لگالی اور ان کی بھی آنکھ لگ گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا۔ آپ نے فرمایا: بلال! تو نے کیا کہا تھا؟ وہ بولے: آج جیسی نیند مجھے بھی نہیں آئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تمہاری ارواح کو جب چاہتا ہے قبض کر لیتا ہے اور جس وقت ہے اور جس وقت چاہتا ہے واپس کر دیتا ہے۔ اے بلال! اٹھ اور اذان دے۔“ پھر آپ نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔
سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ لَيْلَةً فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← حُصَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › The door of the call to prayer for the missed person and the residence for her · Hadith 438
