شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب المساجد في البيوت وتنظيفها · حديث 498
498 - أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة الكشميهني أخبرنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن الحارث ، أنا أبو الحسن محمد بن يعقوب الكسائي الباباني ، أنا عبد الله بن محمود ، أنا أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الله الخلال ، نا عبد الله بن المبارك ، عن معمر ، عن الزهري ، أخبره قال : حدثني محمود بن الربيع زعم أنه عقل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وعقل مجة مجها من دلو كانت في دارهم ، قال : سمعت عتبان بن مالك الأنصاري ، ثم أحد بني سالم يقول : كنت أصلي لقومي بني سالم ، فأتيت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقلت له : إني قد أنكرت بصري ، وإن السيول تحول بيني وبين مسجد قومي ، فلوددت أنك جئت فصليت في بيتي مكانا أتخذه مسجدا ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " أفعل إن شاء الله " قال : فغدا علي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وأبو بكر معه بعدما اشتد النهار فاستأذن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأذنت له ، فلم صفحة رقم 395 يجلس حتى قال : " أين تحب أن أصلي من بيتك " فأشرت له إلى المكان الذي أحب أن يصلي فيه ، فقام رسول الله [ ] ، وصففنا خلفه ، ثم سلم وسلمنا حين سلم ، فحبسناه على خزير صنع له ، فسمع به أهل الدار ، فثابوا حتى امتلأ البيت ، فقال رجل : أين مالك بن الدخشم ؟ قال رجل منا : ذلك رجل منافق لا يحب الله ورسوله ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " ألا تقولونه يقول : لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله " قال : أما نحن فنرى وجهه وحديثه إلى المنافقين ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أيضا : " ألا تقولونه يقول : لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله ؟ " ، قال : بلى أرى يا رسول الله ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " لن يوافي عبد يوم القيامة وهو يقول : لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله إلا حرم الله عليه النار " ، قال محمود : فحدثت قوما فيهم أبو أيوب الأنصاري صاحب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في غزوته التي توفي فيها مع يزيد بن معاوية ، فأنكر ذلك علي وقال : ما أظن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال ما قلت قط ، فكبر ذلك صفحة رقم 396 علي ، فجعلت لله علي إن سلمني الله حتى أقفل من غزوتي أن أسأل عنها عتبان بن مالك إن وجدته ، فأهللت من إيلياء بحج أو عمرة حتى قدمت المدينة ، فأتيت بني سالم ، فإذا عتبان بن مالك شيخ كبير قد ذهب بصره ، وهو إمام قومه ، فلما سلم من صلاته ، جئته فسلمت عليه ، وأخبرته من أنا ، فحدثني به ، كما حدثني به أول مرة. قال الزهري : ولكنا لا ندري أكان هذا قبل أن ينزل موجبات الفرائض في القرآن ، فإن الله أوجب على أهل هذه الكلمة التي ذكر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) فرائض في كتابه ، فنحن نخاف أن يكون الأمر قد صار إليها ، فمن استطاع أن لا يغتر فلا يغتر. هذا حديث متفق على صحته أخرجاه من طرق عن الزهري. صفحة رقم 397 يقال : الخزيرة بالخاء والزاء المعجمتين من النخالة والحريرة غير المعجمتين من اللبن والدقيق. وفي حديث عمر : ذري وأنا أحر لك ، يقول : ذري الدقيق لأتخذ لك حريرة ، وقال القتيبي : الخزيرة : لحم يقطع صغارا ويصب عليه ماء كثير ، فإذا نضج ، ذر عليه الدقيق ، فإذا لم يكن فيها لحم ، فهي عصيدة ، وقد جاء في حديث أم سليم أنها جعلت له خطيفة ، والخطيفة : لبن يذر عليه دقيق ، فيطبخ فيلعقها الناس ويختطفونها. قوله : فسمع به أهل الدار ، يريد : أهل المحلة ، كما قال : " خير دور الأنصار بنو النجار " وكما جاء : أمر ببناء المساجد في الدور ، يريد المحال التي فيها الدور ، ومنه قوله : ) سأريكم دار الفاسقين ( [ الأعراف : 145 ]. صفحة رقم 398 وفيه استحباب تأخي الصلاة في المواضع التي صلى فيها رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، قال موسى بن عقبة : رأيت سالم بن عبد الله يتحرى أماكن من الطريق ، فيصلي فيها ، ويحدث أن أباه كان يصلي فيها ، وأنه رأى النبي ( صلى الله عليه وسلم ) يصلي في تلك الأمكنة. وفيه أن الموضع الذي اتخذه في بيته مصلى لا يخرج عن ملكه ، وفيه أن النهي عن إيطان الرجل مكانا يصلي فيه إنما هو في المساجد دون البيوت. قلت : وقد احتج محمد بن إسماعيل على صحة سماع الصغير بقول محمود بن الربيع قال : عقلت من النبي ( صلى الله عليه وسلم ) مجة مجها في وجهي وأنا ابن خمس سنين من دلو. صفحة رقم 399 قوله : مجها ، أي : صبها ولا يكون مجا حتى يباعد به.
جناب زہری کہتے ہیں کہ ہمیں سیدنا محمود بن الربيع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا یاد ہے اور آپ کا وہ کلی کرنا بھی یاد ہے جو آپ نے ہمارے محلہ کے کنویں کے ڈول سے کی ۔ کہتے ہیں: میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں اپنی قوم بنو سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میری بینائی میں کچھ فرق آ گیا ہے اور بارشیں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: انشاء اللہ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کروں گا۔ عتبان نے کہا کہ (دوسرے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب دن چڑھا تو تشریف لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے بھی نہیں اور پوچھا ”تم اپنے گھر کے کس حصہ میں مجھ سے نماز پڑھنے کی خواہش رکھتے ہو۔“ عتبان نے کہا: میں نے گھر میں ایک کونے کی طرف اشارہ کیا جہاں مجھے نماز پڑھنا پسند تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس جگہ ) کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی۔ پھر آپ نے سلام پھیرا اور ہم نے بھی آپ کے بعد سلام پھیر دیا۔ پس ہم نے آپ کو تھوڑی دیر کے لئے روکا اور آپ کی خدمت میں حلیم پیش کیا جو آپ ہی کے لئے تیار کیا گیا تھا، محلہ والوں نے آپ کی آمد کے متعلق سن لیا۔ سب دوڑے چلے آئے یہاں تک کہ ایک مجمع گھر میں لگ گیا۔ ایک شخص بولا:مالک بن دخشم کہاں ہے؟ اس پر کسی دوسرے نے کہا: وہ تو منافق ہے جسے اللہ اور رسول سے کوئی محبت نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ’’کیا تم اس کے بارے میں یہ نہیں کہتے کہ وہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور اس سے مقصود خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے‘‘ تب منافقت کا الزام لگانے والا بولا: ہم تو بظاہر اس کی توجہات اور گپ شپ منافقوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ وہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور اس سے مقصود خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول، اسے (لا الہ الا اللہ پڑھتے تو) دیکھا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے لا الہ الا اللہ کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔‘‘ سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث کچھ لوگوں کو سنائی ان میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں موجود تھے۔ یہ اس غزوہ کی بات ہے جو یزید بن معاویہ کی سرکردگی میں لڑا گیا اور جس میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس حدیث کا انکار کیا اور کہا: میرے خیال میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ آپ کی یہ بات مجھ پر بڑی شاق گزری۔ میں نے اللہ کے لئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی بخشی اور میں غزوہ سے صحیح سلامت واپس آ گیا تو عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ضرور ملوں گا۔ پس اس مقصد کے لئے میں نے (ایلیا) بیت المقدس سے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور مدینہ منورہ آ پہنچا۔ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ضعیف ہو چکے تھے۔ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی اور وہ اپنی قوم کی امامت کر رہے تھے۔ جب انہوں نے نماز سے پھیرا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا، اور میں نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے ویسے ہی حدیث سنائی جیسے پہلی بار سنائی تھی۔ امام زہری کہتے ہیں: ہم نہیں جانتے کہ یہ حکم (کلمہ لا اله الا الله پڑھنے سے جہنم کا حرام ہو جانا) قرآن مجید میں فرائض کی تفصیل نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنی کتاب میں اس کلمہ کا اقرار کرنے والے شخص پرفرائض کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا ہے۔ ہمیں سخت اندیشہ ہے کہ معاملے کو کہیں ظاہر پہ محمول نہ کیا جائے جو شخص ظاہر پہ محمول نہ کر کے دھوکہ (ملی تفافل) سے بچنا چاہتا ہے اسے پانی چاہیے۔ (اور لا الہ الا اللہ کے اقرار کے بعد عمل صالح سے سستی اور غفلت نہ برتے۔)
مَحْمُود بن الرّبيع زعم ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الله الخلال ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ ← أبو الحسن محمد بن يعقوب الكسائي الباباني ← أبو طاهر محمد بن أحمد بن الحارث ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة الكشميهني
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Mosques door in homes and cleaned · Hadith 498
