شرح السنة للبغوي · كتاب الحج ‹ باب القران · حديث 1889
1889 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا محمد بن يوسف ، نا سفيان عن قيس بن مسلم ، عن طارق بن شهاب. عن أبي موسى قال : بعثني النبي ( صلى الله عليه وسلم ) إلى قومي باليمن فجئت وهو بالبطحاء فقال : ( بم أهللت ) ؟ قلت : أهللت كإهلال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، قال : هل معك من هدي ؟ ) قلت : لا ، فأمرني فطفت بالبيت وبالصفا والمروة ، ثم أمرني فأحللت فأتيت امرأة من قومي ، فمشطتني أو غسلت رأسي. صفحة رقم 91 هذا حديث صحيح. وروى شعبة عن قيس وزاد : ( ثم أهللت بالحج ). هذا الحديث يدل على أن المتمتع إذا لم يكن معه هدي ، يتحلل بعد الفراغ من أعمال العمرة ، ويستبيح محظورات الإحرام إلى أن يهل بالحج ، وأمر علياً بأن يمكث على إحرامه لمكان هديه.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری قوم کے پاس یمن بھیجا تھا۔ جب (حجۃ الوداع کے موقع پر ) میں آیا تو آپ سے بطحاء (مکہ) میں ملاقات ہوئی ۔ آپ نے پوچھا: " کیا احرام باندھا ہے۔" میں نے عرض کی: اس احرام کے ساتھ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احرام ہے، آپ نے دریافت کیا: " کیا تمہارے ساتھ قربانی ہے؟ " میں نے عرض کی کہ نہیں ، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کروں ۔ اس کے بعد آپ نے احرام کھو ل دینے کے لیے فرمایا: چنانچہ میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس آیا، انہوں نے میرے سر کا کنگھا کیا یا میرا سر دھویا۔
بم أهللت قلت أهللت كإهلال النبي ← بعثني النبي إلى قومي باليمن فجئت وهو ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Hajj book › Chapter of the Quran · Hadith 1889
