شرح السنة للبغوي · كتاب الحج ‹ باب التمتع بالعمرة إلى الحج · حديث 1877
1877 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنامحمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا يحيى بن بكير ، أنا الليث ، عن عقيل ، عن ابن شهاب ، عن سالم بن عبد الله. أن ابن عمر قال : تمتع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في حجة الوداع بالعمرة إلى الحج وأهدي ، فساق معه الهدي من ذي الحليفة وبدأ رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأهل بالعمرة ، ثم أهل بالحج ، فتمتع الناس مع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بالعمرة إلى الحج ، فكان من الناس من أهدي ، فساق الهدي ، ومنهم من لم يهد ، فلما قدم النبي ( صلى الله عليه وسلم ) مكة ، قال للناس : من كان منكم أهدى ، فإنه لا يحل من شيء حرم منه حتى يقضي حجه ومن لم يكن منكم أهدى ، فليطف بالبيت ، وبالصفا صفحة رقم 67 والمروة ، ويقصر ، وليحلل ثم يهل بالحج ، فمن لم يجد هدياً ، فليصم ثلاثة أيام في الحج ، وسبعة إذا رجع إلى أهله ) فطاف حين قدم مكة ، واستلم الركن أول شيء ثم خب ثلاثة أطواف ، ومشى أربعا ، فركع حين قضى طوافه بالبيت عند المقام ركعتين ، ثم سلم ، فانصرف فأتى الصفا ، فطاف بالصفا والمروة سبعة أطواف ، ثم لم يحلل من شيء حرم منه حتى قضى حجه ، ونحر هديه يوم النحر وأفاض ، فطاف بالبيت ، ثم حل من كل شيء حرم منه ، وفعل مثل ما فعل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) من أهدى وساق الهدي من الناس. وعن عروة أن عائشة أخبرته عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في تمتعه صفحة رقم 68 بالعمرة إلى الحج ، فتمتع الناس معه بمثل الذي اخبرني سالم عن ابن عمر ، عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ). هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن عبد الملك بن شعيب بن الليث ، عن أبيه ، عن جده ، عن عقيل.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حج سے پہلے عمرے کا فائدہ اٹھایا تھا اور قربانی بھی کی تھی، آپ ذوالحلیفہ ہی سے اپنے ساتھ قربانی کے جانور لے کر چلے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرے کا تلبیہ پکارا، پھر حج کا تلبیہ پکارا اور لوگوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج سے پہلے عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھا لیا، کچھ لوگ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے، کچھ نہیں لائے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے قریب تھے، تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: " تم میں سے جو شخص قربانی لایا ہے، اس پر کوئی حرام چیز حلال نہیں ہو گی( اس کا احرام ختم نہیں ہو گا) حتی کہ وہ اپنا حج پورا کرے اور جو شخص قربانی کا جانور نہیں لایا، وہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا مروہ کی سعی کرے اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے، پھر (حج کے دنوں میں) حج کا احرام باندھے (اور پھر قربانی بھی ذبح کرے) اور اگر وہ قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ دوارن حج میں تین روزے رکھے اور جب اپنے گھر واپس جائے تو سات روزے رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو آپ نے طواف فرمایا۔ سب سے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر طواف کے سات چکروں میں سے پہلے تین چکر قدرے دوڑ کر پورے کئے اور باقی چار چکر آرام سے چلے، پھر سلام پھیر کر مڑے اور صفا پر آئے اور صفا مروہ کے بھی سات چکر لگائے، پھر آپ کسی حرام چیز سے حلال نہ ہوئے حتی کہ آپ نے اپنا حج پورا فرمایا اور نحر (دس ذوالحجہ) والے دن اپنے قربانی کے جانور ذبح فرمائے اور واپس آکر بیت اللہ کا طواف فرمایا، پھر آپ پر ہر وہ چیز حلال ہو گئی جو (احرام کی وجہ سے) حرام ہو ئی تھی، جو لوگ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے بھی ایسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔
سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أحمد بن عبد الله النعيمي أنامحمد بن يوسف ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Hajj book › The door to enjoy Umrah to Hajj · Hadith 1877
