شرح السنة للبغوي · ( كتاب الصيام ) ‹ ( باب صوم الدهر · حديث 1810
1810 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، أنا ابن مقاتل ، أنا عبد الله ، أنا الأوزاعي حدثني يحيى بن أبي كثير ، حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص قال لي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) " يا عبد الله ألم أخبر أنك تصوم النهار ، وتقوم الليل " قلت : بلى يا رسول الله ، قال : " فلا تفعل صم وأفطر ، وقم ونم ، فإن لجسدك عليك حقا ، وإن لعينك عليك حقا ، وإن لزوجك عليك حقا ، وإن لزورك عليك حقا ، وإن بحسبك أن تصوم كل شهر ثلاثة أيام ، فإن لك بكل صفحة رقم 367 حسنة عشر أمثالها ، فإذا ذلك صيام الدهر كله " فشددت فشدد علي. قلت : يا رسول الله إني أجد قوة قال : فصم صيام نبي الله داود ، ولا تزد عليه ، قلت ، وما صيام نبي الله داود ؟ قال : نصف الدهر " فكان عبد الله يقول بعد ما كبر : يا ليتني قبلت رخصة النبي ( صلى الله عليه وسلم ). هذا حديث صحيح. الزور : الزائر ، يقال رجل صوم ، أي : صائم ، ونوم : أي نائم. والزور أيضا جمع زائر ، كقولهم : راكب وركب ، وتاجر وتجر. وفي قوله " وإن لزورك عليك حقا " دليل على أن المستحب له أن يأكل مع ضيفه ليزيد في إيناسه مواكلته ، وذلك نوع من إكرام الضيف.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: " اے عبداللہ ! مجھے بتایا گیا ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو۔ " میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا: " ایسے نہ کرو، روزے رکھو اور افطار بھی کرو ( رات ) کو قیام کرو اور آرام بھی کرو ،یقیناً تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری بیویں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے، تجھے یہ کافی ہے کہ تو ہر مہینے میں تین روزے رکھ لے، یقینا ً ہر نیکی کا ثواب دس گنا کے حساب سے دیا جاتا ہے اور یہ صیام دہر (زمانہ بھر کے روزوں) کی طرح ہی ہے۔" میں نے اپنے اوپر سختی کی تو آپ نے بھی مجھ پر سختی کر دی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مین اپنے اندر قوت پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ، اور اس پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " وہ ایک دن روزہ رکھا کرتےاور ایک دن افطار کرت تھے۔ " سیدنا عبداللہ جب بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے: اے کاش میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لیتاہے۔
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← ابْنُ مُقَاتِلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Fasting) › (Chapter on fasting forever · Hadith 1810
