شرح السنة للبغوي · ( كتاب الزكاة ) ‹ ( باب فضل الصدقة · حديث 1630
1630 - أنا أبو عمر عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أبو منصور محمد بن محمد بن سمعان ، نا أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار الرياني ، نا حميد بن زنجوية ، حدثنا النضر بن شميل ، أنا عباد بن منصور ، سمعت القاسم بن محمد سمعت أبا هريرة يذكر عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) أنه قال يوما : " إن الله تبارك وتعالى يقبل الصدقات ، ولا يقبل منها إلا الطيب يأخذها بيمينه ، ثم يربيها لصاحبه كما يربي أحدكم مهره أو فصيله حتى تصير اللقمة مثل أحد " صفحة رقم 131 وتصديق ذلك في كتاب الله سبحانه وتعالى المنزل ) يمحق الله الربى ويربي الصدقات ( [ البقرة : 276 ] و ) أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات ( [ التوبة : 105 ]. هذا حديث صحيح.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ نے ایک دن فرمایا : بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ صدقات قبول فرماتے ہیں اور ان میں سے پاکیزہ ہی کو قبول کرتے ہیں طیب صدقہ کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑتے ہیں ، پھر اسے صدقہ دینے والے کے لیے پالتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی ایک گھوڑے کے چھوٹے بچے کو یا اونٹ کے چھوٹے بچے کو پالتا ہے حتی کہ ( صدقے میں دیا گیا ) ایک لقمہ احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے ؟ اس بات کی تصدیق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب میں ہے ( یمحق اللہ الربو و یربی الصدقت ) ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقے کو بڑھاتا ہے ۔ ( سورۃ بقرہ : ۲۷۶) مزید ارشاد خداوندی ہے : ( ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ و یا خذ الصدقت ) ۔۔ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے ۔ ( سورۃ توبہ : ۱۰۴)
أَبَا هُرَيْرَة يَذْكُرُ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار الرياني ← أبو منصور محمد بن محمد بن سمعان ← أبو عمر عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Zakat) › (Chapter on the merit of charity · Hadith 1630
