شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 1 باب ركوب الرهن واستعماله وشرب لبنه ) · حديث 5753
5439 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال الظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب نفقته إذا كان مرهونا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن للراهن أن يركب الرهن بحق نفقته عليه ويشرب لبنه أيضا بحق نفقته عليه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس للراهن أن يركب الرهن ولا يشرب لبنه وهو رهن معه وليس له أن ينتفع منه بشيء وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن هذا الحديث الذي احتجوا به حديث مجمل لم يبين فيه من الذي يركب ويشرب اللبن فمن أين جاز لهم أن يجعلوه الراهن دون أن يجعلوه المرتهن هذا لا يكون لأحد إلا بدليل يدله على ذلك إما من كتاب أو سنة أو إجماع ومع ذلك فقد روى هذا الحديث هشيم وبين فيه ما لم يبين يزيد بن هارون
شعبی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ مرہونہ جانور پر اس کے خرچہ کے بدلے سواری کرنا اور دودھ والے جانور کے خرچہ کے عوض اس کا دودھ دوہنا ، پینا جائز ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہےکہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے دوسروں نے کہا رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کو ن پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں ۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے ہو یا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اجماع امت سے اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی ۔ روایت ہشیم یہ ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5753
