Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 1 باب ركوب الرهن واستعماله وشرب لبنه ) · حديث 5753

5439 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال الظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب نفقته إذا كان مرهونا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن للراهن أن يركب الرهن بحق نفقته عليه ويشرب لبنه أيضا بحق نفقته عليه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس للراهن أن يركب الرهن ولا يشرب لبنه وهو رهن معه وليس له أن ينتفع منه بشيء وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن هذا الحديث الذي احتجوا به حديث مجمل لم يبين فيه من الذي يركب ويشرب اللبن فمن أين جاز لهم أن يجعلوه الراهن دون أن يجعلوه المرتهن هذا لا يكون لأحد إلا بدليل يدله على ذلك إما من كتاب أو سنة أو إجماع ومع ذلك فقد روى هذا الحديث هشيم وبين فيه ما لم يبين يزيد بن هارون

شعبی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ مرہونہ جانور پر اس کے خرچہ کے بدلے سواری کرنا اور دودھ والے جانور کے خرچہ کے عوض اس کا دودھ دوہنا ، پینا جائز ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہےکہ رہن رکھنے والے کو مرہونہ چیز پر خرچے کے عوض سواری کرنا اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے دوسروں نے کہا رہن رکھنے والے کو مرہونہ جانور پر سواری اور اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اس شئی سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ جس حدیث سے استدلال کیا گیا وہ مجمل ہے اس میں وضاحت نہیں ہے کہ سواری کس کو جائز ہے اور دودھ کو ن پی سکتا ہے فریق اول کو یہ حق نہیں کہ اس نفع اٹھانے والے سے راہن مراد لیں اور مرتہن قرار نہ دیں ۔ کوئی شخص بھی کسی ایسی دلیل کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا جو اس بات پر صاف دلالت کرے خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے ہو یا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اجماع امت سے اس روایت کو ہشیم نے اپنی سند سے بیان کیا اور اس میں وہ وضاحت ذکر کی جو کہ یزید بن ہارون نے ذکر نہیں کی ۔ روایت ہشیم یہ ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5753

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 1 باب ركوب الرهن واستعماله وشرب لبنه ) · حديث 5754

5440 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إسماعيل بن سالم السائغ قال ثنا هشيم عن زكريا عن الشعبي عن أبي هريرة ذكر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا كانت الدابة مرهونة فعلى المرتهن علفها ولبن الدر يشرب وعلى الذي يشرب نفقتها ويركب فدل هذا الحديث أن المعنى بالركوب وشرب اللبن في الحديث الأول هو المرتهن لا الراهن فجعل ذلك له وجعلت النفقة عليه بدلا مما يتعوض منه مما ذكرنا وكان هذا عندنا والله أعلم في وقت ما كان الربا مباحا ولم ينه حينئذ عن القرض الذي يجر منفعة ولا عن أخذ الشيء بالشيء إن كانا غير متساويين ثم حرم الربا بعد ذلك وحرم كل قرض جر نفعا وأجمع أهل العلم أن نفقة الرهن على الراهن لا على المرتهن وأنه ليس للمرتهن استعمال الرهن فمما روى في نسخ الربا ما

ہشیم عن زیادہ عن شعبی انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جانور مرہونہ نہ ہوتو مرتہن کے ذمہ اس کا چارہ ہے اور وہ اس کے دودھ کو استعمال کر سکتا ہے اور خرچہ اس کے ذمہ ہے جو دودھ استعمال کرے وہ سواری کر سکتا ہے اور اس پر اس جانور کا خرچہ ہے اس حدیث سے یہ دلالت مل گئی کہ پہلی روایت میں سوار ہونےدودھ پینے اور نفع اٹھانے کا حکم مرتہن کے لیے ہے راہن کے لیے نہیں اس بات کی اجازت بھی اس کو دی گئی اور خرچہ بھی اسی پر لازم کیا گیا جو کہ اس کے نفع اٹھانے کا عوض ہے ہمارے ہاں یہ حرمت رہا سے پہلے کی بات ہے اس وقت تک نفع والا قرض ممنوع نہ تھا اور کسی چیز کو دوسری چیز کے بدلے لینے کی ممانعت نہیں تھی اگرچہ وہ مساوی نہ ہوں پھر جب سود کو حرام کیا گیا تو ہر وہ قرض جو نفع لائے اس کو حرام قرار دے دیا گیا اور تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ مال مرہعنہ کا نفقہ راہن پر ہے مرتہن کے ذمہ نہیں مرتہن کو رہن کے استعمال کا حق نہیں ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← هُشَيْمٌ ← إسماعيل بن سالم السائغ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5754

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 1 باب ركوب الرهن واستعماله وشرب لبنه ) · حديث 5755

5441 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن منصور والأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة قالت لما نزلت الآيات التي في آخر سورة البقرة قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقرأهن على الناس ثم حرم التجارة في بيع الخمر

مسروق نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب سورۃ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھا پھر شراب فروخت کرنے کی تجارے کو حرام قرار دیا گیا ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5755

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 1 باب ركوب الرهن واستعماله وشرب لبنه ) · حديث 5756

5442 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن شعبة قال حدثني منصور عن مسلم عن مسروق عن عائشة مثله فلما حرم الربا حرمت أشكاله كلها وردت الأشياء المأخوذة إلى أبدالها المساوية لها وحرم بيع اللبن في الضروع فدخل في ذلك النهي عن النفقة التي يملك بها المنفق لبنا في الضروع وتلك النفقة فغير موقوف على مقدارها واللبن كذلك أيضا فارتفع بنسخ الربا أن تجب النفقة على المرتهن بالمنافع التي يجب له عوضا منها وباللبن الذي يحتلبه فيشربه ويقال لمن صرف ذلك إلى الراهن فجعل له استعمال الرهن أيجوز للراهن أن يرهن رجلا دابة هو راكبها فلا يجد بدا من أن يقول لا فيقال له فإذا كان الرهن لا يجوز إلا أن يكون مخلى بينه وبين المرتهن فيقبضه ويصير في يده دون يد الراهن كما وصف الله عز و جل الرهن بقوله فرهان مقبوضة فيقول نعم فيقال له فلما لم يجز أن يستقبل الرهن على ما الراهن راكبه لم يجز ثبوته في يده بعد ذلك رهنا بحقه إلا لذلك أيضا لأن دوام القبض لا بد منه في الرهن إذ كان الرهن إنما هو احتباس المرتهن للشيء المرهون بالدين وفي ذلك أيضا ما يمنع المرتهن من استخدام الأمة الرهن لأنها ترجع بذلك إلى حال لا يجوز عليها استقبال الرهن وحجة أخرى أنهم قد أجمعوا أن الأمة الرهن ليس للراهن أن يطأها وللمرتهن منعه من ذلك فكما كان المرتهن يمنع الراهن بحق الرهن من وطئها كان له أيضا أن يمنعه بحق الرهن من استخدامها وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وقد

مسلم نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت کی ہے پس جب سود حرام کر دیا گیا اور اس کی تمام صورتیں حرام ہو گئیں اور وہ سب اشیاء جو لی جاتی تھی اپنے ہم شکل برابر بدل کی طرف لوٹ گئے اور تھنوں میں دودھ کی فروخت کو حرام کر دیا گیا تو اس میں اس نفقہ کی ممانعت بھی شامل ہو گئی جس نے خرچ کرنے والے تھنوں کے اندر دودھ کا مالک بن جاتا تھا نہ تو وہ خرچہ کسی مقدار پر موقوف تھا اور نہ ہی دودھ کوئی مقدار متعین تھی تو سود کی حرمت سے اس نفقہ کا وجوب اٹھ گیا جو ان منافع کے منافع کے عوض ہوتا ہے جو اسے اس خرچہ کے سبب حاصل ہوتا ہے اور اس دودھ کے سبب ( نفقہ لازم ہوتا تھا ) جس کو وہ دوہتا اور پیتا ہے جنہوں نے اس کو راہن کی طرف پھیر ا اور اس کے لیے زہن کا استعمال جائز قرار دیا ان سے یہ سوال ہے کہ کیا راہن کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص کے پاس ایک ایسا جانور رہن رکھے جس پر وہ خود سوار ہوتا ہو تو اس کو لازم یہی جواب دینا پڑے گا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا یعنی اپنی سواری کو رہن نہیں رکھ سکتا پس جب رہن اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ مرہونہ شئی اور مرتہن کے درمیان تنہائی کر دی جائے اور وہ اس پر قبضہ کرے اس طرح وہ چیز مرتہن کے قبضہ میں آجائے گی راہن کے پاس نہ رہے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے " فرھان مقبوضۃ " پس وہ رہن ہو ایسی چیز کا رہن بننا صحیح نہیں جس پر راہن سوار ہو تو مرتہن کے قبضہ میں داخل ہونے کے بعد مرہونہ شئی میں یہ بات کس طرح صحیح ہو گی ( تصرف راہن درست نہ ہو گا) کیونکہ مرہونہ چیز پر قبضہ کا ہمیشہ پایا جانا ضروری ہے کیونکہ رہن کا مطلب ہی یہ ہےکہ مرتہن قرض کے بدللے میں مرہونہ شئی کو اپنے ہاں روک کر رکھے اور اس صورت میں وہ بات پائی جاتی ہے جو راہن کومرہونہ لونڈی سے ہمبستری سے مانع ہے کیونکہ اس فعل سے وہ اس حالت کی طرف جائے گی جو چیز راہن کی ابتداء میں جائز نہ تھی (قبضہ کا کسی وقت نہ پایا جانا ) دوسری دلیل یہ ہےکہ اس بات پر اس کااجماع ہے کہ مرہونہ لونڈی سے راہن جماع نہیں کر سکتا بلکہ مرتہن کو یہ حق حاصل یہ ہے کہ وہ اسے روکے تو جس طرح مرتہن رہن کی وجہ سے راہن کو وطی امہ مرہونہ سے منع کر سکتا ہے اسی طرح وہ حق رہن کی وجہ سے خدمت لینے سے بھی روک سکتا ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5756

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 1 باب ركوب الرهن واستعماله وشرب لبنه ) · حديث 5757

5443 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا الحسن بن صالح عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال لا ينتفع من الرهن بشيء فهذا الشعبي يقول هذا وقد روى عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما ذكرنا فيجوز عليه أن يكون أبو هريرة رضي الله عنه يحدثه عن النبي صلى الله عليه و سلم بذلك ثم يقول هو بخلافه ولم يثبت النسخ عنده فلئن كان ذلك كذلك فلقد صار متهما في رأيه وإذا كان متهما في رأيه كان متهما في روايته وإذا ثبتت له العدالة في ترك خلافها وإن وهب سقوط أحد الأمرين وهب سقوط الآخر والمحتج علينا بحديث أبي هريرة رضي الله عنه هذا يقول من روى حديثا عن النبي صلى الله عليه و سلم فهو أعلم بتأويله فكان يجئ على أصله ويلزمه في قوله أن يقول لما قال الشعبي ما ذكرنا مما يخالف ما روى عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم كان ذلك دليلا على نسخه

اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ مرہونہ شئی سے ذرہ بھر نفع نہیں اٹھایا جا سکتا ۔یہ امام شعبی ہیں جنہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ روایت نقل کی ہے ۔ اگر نسخ نہ مانا جائے تو تسلیم کرنا ہو گا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی پھر وہ شعبی خود اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں ( حالانکہ پہلی روایت کے راوی خود شعبی ہیں ) اگر یہ بات اسی طرح ہوتی تو رائے کے سلسلہ میں وہ متہم ہوئے اور جو رائے میں متہم ہے تو روایت میں بدرجہ اولیٰ متہم ہوا۔ حالانکہ روایت میں ان کی عدالت ثابت شدہ ہے تو روایت کی مخالفت کے چھوڑنے میں بھی ثابت ہے اگر ان دونوں میں سے ایک کو ساقط کرنا لازم ہے تو دوسری کا ساقط کرنا بھی لازم ہے حالانکہ ہمارے خلاف اس روایت سے استدلال کرنے والا یہ تسلیم کرتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کرتا ہے وہ اس روایت کی تاویل کو خوب جانتا ہے پس اسے اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہو گا اور اس پر لازم ہوجائےگا کہ وہ وہی بات کہے جو امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہی جس کوہم نے ذکر کیا جو کہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کےخلاف ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ روایت منسوخ ہے ۔ ( ورنہ شعبی جو اس کے مرکزی راوی ہیں یہ اس کےخلاف نہ کہتے )۔

الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5757

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5758

5444 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أنه سمع مالكا ويونس وابن أبي ذئب يحدثون عن بن شهاب عن بن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يغلق الرهن قال يونس بن يزيد قال بن شهاب وكان بن المسيب يقول الرهن لصاحبه غنمه وعليه غرمه

ابن شہاب نے ابن مسیب سے روایت کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے ۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ ابن مسیب فرماتے تھے کہ رہن مالک کے لیے غنیمت کی چیز ہے اور اس کا تاوان بھی اسی پر ہے ۔

بن المسيب ← بن شِهَابٍ ← مالكا ويونس وابن أبي ذئب يحدثون ← بن وهب أنه ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5758

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5759

5445 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن جريج عن عطاء وسليمان بن موسى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن قال أبو جعفر فقال قائل فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن لصاحبه غنمه وعليه غرمه ثبت بذلك أن الرهن لا يضيع بالدين وأن لصاحبه غنمه وهو سلامته وعليه غرمه وهو غرم الدين بعد ضياع الرهن وهذا تأويل قد أنكره أهل العلم جميعا باللغة وزعموا أن لا وجه له عندهم والذي حملنا على أن نأتي بهذا الحديث وإن كان منقطعا احتجاج الذي يقول بالمسند به علينا ودعواه أنا خالفناه وقد كان يلزمه على أصله لو أنصف خصمه أن لا يحتج بمثل هذا إذ كان منقطعا وهو لا يقوم الحجة عنده بالمنقطع فإن قال إنما قبلته وإن كان منقطعا لأنه عن سعيد بن المسيب ومنقطع سعيد يقوم مقام المتصل قيل له ومن جعل لك أن تخص سعيدا هذا وتمنع منه مثله من أهل المدينة مثل أبي سلمة والقاسم وسالم وعروة وسليمان بن يسار رحمة الله عليهم وأمثالهم من أهل المدينة والشعبي وإبراهيم النخعي وأمثالهما رحمة الله عليهم من أهل الكوفة والحسن وابن سيرين وأمثالهما رحمة الله عليهم من أهل البصرة وكذلك من كان في عصر من ذكرنا من سائر فقهاء الأمصار رحمة الله عليهم ومن كان فوقهم من الطبقة الأولى من التابعين مثل علقمة والأسود وعمرو بن شرحبيل وعبيدة وشريح رحمة الله عليهم لئن كان هذا مطلقا في سعيد بن المسيب فإنه مطلق لغيرك فيمن ذكرنا وإن كان غيرك ممنوعا من ذلك فإنك ممنوع من مثله لأن هذا تحكم وليس لأحد أن يحكم في دين الله بالتحكم وقد قال أهل العلم في تأويل قول رسول الله صلى الله عليه و سلم غير ما ذكرت

عطاء اور سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے اور اس کے مالک کو اس فائدہ ہے اور اس کا تاوان اسی پر ہے تو اس سے ثابت ہورہا ہے کہ رہن قرض کے بدلے ضائع نہ ہو گا اور اس کے مالک کے لیے اس کا نفع ہے اور وہ اس مرہونہ چیز کا سلامت رہنا ہے اور اسی کے ذمہ اس کا تاوان ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مرہونہ شئی کے ضائع ہونے کے بعد اس پر قرض کا تاوان ہو گا۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ تمام اہل لغت نے اس تاویل کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس معنی کی کوئی صورت نہیں ہے اگرچہ یہ روایت منقطع ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لانے پر اس وجہ سے مجبور ہوئے کہ مخالف نے اسی سے ہمارے خلاف استدلال کر کے ہمیں اس حدیث کے مخالف گردانا ہے حالانکہ اگر ہمارے ساتھ انصاف سے پیش آتا تو خود اپنے قاعدے کے مطابق اس سے استدلال ہی نہ کرتا ۔ کیونکہ یہ منقطع ہے اور حدیث منقطع ان کے ہاں حجت نہیں ۔ بالفرض اگر وہ کہیں کہ منقطع ہونے کے باوجود اس کو اس لیے قبول کیا کہ سعید بن مسیب کی منقطع بھی متصل کے قائم مقام ہے ۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ یہ بات سعید بن مسیب کے ساتھ خاص کرنے کا ھق آپ جو کہاں سے مل گیا حالانکہ ان کے برابر اہل مدینہ کے علماء مثلا ابو سلمہ ، قاسم ، سالم ، عروہ ، سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہم سے ایسی منقطع روایت کا آپ انکار کرتے ہیں اسی طرح ان جیسے اہل کوفہ کے علماء شعبی ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہم سے بھی تسلیم نہیں کرتے اگر منقطع روایت کا قبول کر لینا آپ کے لیے مطلقا سعد بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق درست ہے تو دوسروں کے لیے ان حضرات کی ایسی روایت مطلقاَ درست ہو گئی اور اگر دوسروں کے لیے یہ بات جائز نہیں مانتے تو آپ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ورنہ تو یہ محض ضد اور کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے دین میں ایسی ضد بازی کی قطعا اجازت نہیں ۔

عطاء وسليمان بن موسى ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5759

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5760

5446 - حدثنا علي بن عبد العزيز فيما أعلم فإن لم يكن فقد دخل فيما كان أجازه لي قال ثنا أبو عبيد قال ثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في رجل دفع إلى رجل رهنا وأخذ منه دراهم وقال إن جئتك بحقك إلى كذا وكذا وإلا في الرهن لك بحقك فقال إبراهيم لا يغلق الرهن قال أبو عبيد أفجعله جوابا لمسألته وقد روى عن طاوس نحو من هذا بلغني ذلك عن بن عيينة عن عمرو عن طاوس قال أبو عبيد وأخبرني عبد الرحمن بن مهدي عن مالك بن أنس وسفيان بن سعيد أنهما كان يفسرانه على هذا التفسير

مغیرہ نے ابراہیم سے اس آدمی کے متعلق بیان کیا جس نے ایک آدمی کو رہن حوالے کیا اور اس سے کچھ دراہم لیے اور اسے کہا اگر میں نے تمہارا حق فلاں وقت تک ادا کر دیا تو مناسب ورنہ رہن تمہارے لیے تمہارے حق کے بدلے ہو جائے گا تو ابراہیم کہنےلگے رہن بند نہ ہو گا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے اس سوال کا جواب قرار دیا اور ابن عینہ نے عمرو بن طاوس سے نقل کیا کہ وہ ابھی یہی تاویل کرتے تھے ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ مالک بن انس اور سفیان بن سعید دونوں بھی یہ تفسیر کرتے تھے ۔

مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو عُبَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5760

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5761

5447 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أخبرنا بن وهب عن مالك بن أنس بذلك أيضا

ابن وہب نے مالک بن انس سے بھی یہی نقل کی ہے ۔

مالك بن أنس بذلك أيضا ← بن وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5761

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5762

5448 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا سفيان عن الزهري قال قال سعيد بن المسيب قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن فبذلك يمنع صاحب الرهن أن يبتاعه من الذي رهنه عنده حتى يباع من غيره فذهب الزهري أيضا في ذلك الغلق إلى أنه في البيع لا في الضياع فهؤلاء المتقدمون يقولون بما ذكرنا وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا أيضا ما قد

زہری نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن بند نہ کیا جائے گا ۔ اسی وجہ سے مرتہن کو منع کیا گیا کہ رہن سے وہ چیز خرید ے جو اس نے اس کے ہاں رہن رکھی ہوئی ہے یہاں تک کہ وہ دوسرے آدمی پر فروخت کی جائے پس زہری بھی غلق میں بیع کی طرف گئے ہیں ہلاک ہوجانے کے متعلق نہیں متقدمین نے بھی وہی بات کہی جو ہم نے ذکر کی ہے ۔ اس سلسلہ میں ارشاد نبوت ملا حظہ ہو ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5762

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5763

5449 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن محمد التيمي قال أخبرنا عبد الله بن المبارك قال ثنا مصعب بن ثابت عن عطاء بن أبي رباح أن رجلا ارتهن فرسا فمات الفرس في يد المرتهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ذهب حقك فدل هذا من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم على بطلان الدين بضياع الرهن فإن قال هذا منقطع قيل له والذي تأولته أيضا منقطع فإن كان المنقطع حجة لك علينا فالمنقطع أيضا حجة لنا عليك وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من جهة أخرى ما يوافق ذلك أيضا

مصعب بن ثابت نے عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے گھوڑا بطور رہن لیا وہ مرتہن کے پاس مر گیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا حق ( قرض ) جاتا رہا ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے دلالت مل گئی کہ رہن کے ضائع ہونے سے قرض باطل ہو جاتا ہے اگر معترض کہے کہ یہ منقطع روایت ہے ۔ استدلال کیسے درست ہے ان کو جواب دیا جائے گا کہ آپ نے جو تاویل کی وہ بھی منقطع ہے اگر تمہاری منقطع ہمارے خلاف حجت ہے تو یہ منقطع ہماری طرف سے تمہارے خلاف حجت ہے ایک دوسری سند سے یہ روایت مروی ہے ۔

مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عبد الله بن محمد التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5763

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5764

5450 - حدثنا أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي قال ثنا خالد بن نزار الإيلي قال حدثني عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه قال كان من أدركت من فقهائنا الذين ينتهي إلى قولهم منهم سعيد بن المسيب وعروة بن الزبير والقاسم بن محمد وأبو بكر بن عبد الرحمن وخارجة بن زيد وعبيد الله بن عبد الله في مشيخة من نظرائهم أهل فقه وصلاح وفضل فذكر جميع ما جمع من أقاويلهم في كتابه على هذه الصفة أنهم قالوا الرهن بما فيه إذا هلك وعميت قيمته ويرفع ذلك منهم الثقة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فهؤلاء أئمة المدينة وفقهاؤها يقولون إن الرهن يهلك بما فيه ويرفعه الثقة منهم إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأيهم ما حكاه فهو حجة لأنه فقيه إمام ثم قولهم جميعا بذلك وإجماعهم عليه فقد ثبت به صحة ذلك أيضا عن سعيد بن المسيب وهو المأخوذ عنه قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن وقد زعم هذا المخالف لنا أن من روى حديثا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فهو أعلم بتأويله حتى قال في حديث بن عباس رضي الله عنهما الذي رواه سيف لنا عن قيس بن سعد عن عمرو بن دينار عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضي باليمين مع الشاهد قال عمرو في الأموال فجعل هو قول عمرو في هذا حجة ودليلا له أن ذلك الحكم في الأموال دون سائر الأشياء فلئن كان قول عمرو بن دينار هذا تأويله يجب به حجة فإن قول سعيد بن المسيب الذي ذكرنا وتأويله فيما روى أحرى أن يكون حجة وهذا المخالف لنا قد زعم أنه يقول بالاتباع فعمن أخذ قوله هذا ومن إمامه فيه وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم خلافه وعن تابعي أصحابه خلافه أيضا وقد روى عن أيمة أصحابه خلاف ذلك أيضا

ابو الزناد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جن فقہاء کو میں نے پایا کہ ان کے قول پر بات ختم ہوتی ہے ان میں سعید بن مسیب عروہ بن زبیر ، قاسم بن محمد ، ابو بکر بن عبدالرحمن ، خارجہ بن زید اور عبید اللہ بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہم یہ اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں بڑے ہیں یہ اہل فقہ ، اہل صلاح و فضل ہیں ۔ پھر انہوں نے ان تمام کے اقوال اپنی کتاب میں اس طرح جمع کیے کہ وہ کہتے ہیں جب مرہونہ شئی ہلاک ہو جائے اور اس کی قیمت نا معلوم ہو تو وہ رہن کے مقابلے میں ہے جس کے بدلے رکھی گئی ان حضرات میں ثقہ لوگ اس روایت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرتے ہیں ۔ یہ مدینہ منورہ کے ائمہ و فقہاء کہہ رہے ہیں رہن اس کے بدلے میں سمجھ جائے گا جب وہ ہلاک ہو جائے اور ان میں سے ثقہ علماء اسکو مرفوعاً نقل کرتے ہیں تو ان میں سے جو بھی نقل کرے وہ حجت ہے کیونکہ وہ فقیہ و امام ہے پھر تمام کا قول اور ان کا اجماع تو (بدرجہ اولیٰ حجت ہو گا) اور خود سعید بن مسیب جنہوں نے " لایغلق لاھن" والا ارشاد گرامی نقل کیا اس کی صحت ان سے بھی ثابت ہو گئی۔ ہمارے مخالف نے یہ خیال کر لیا کہ جو شخص کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روایت کرے وہ اس کے مفہوم کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو وہ روایت جو ہم نے سیف سے انہوں نے قیس بن سعید سے انہوں نے عمرو بن دینا سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گاہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا عمروبن دینارکہتے ہیں کہ اموال کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا ۔ ہمارے اس مخالف نے عمرو بن دینار کے قول کو حجت قرا دیا اور اس بات کی دلیل بنایا کہ یہ حکم صرف اموال میں ہے دیگر اشیا ء میں یہ حکم نہیں ہے اگرعمرو بن دینار کا یہ قول اس حدیث کے معنی میں ضروری حجت ہے تو پھر سعد بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان کردہ مفہوم جس کا ہم نے تذکرہ کیا وہ حجت بننے کے زیادہ لائق ہے ہمارے مخلاف کا زعم یہ ہے کہ وہ اتباع کر رہا ہے ۔ تو ( ہم پوچھتے ہیں کہ ) اس نے یہ قول کہاں سے اور کس سے لیا اور اس سلسلے میں اس کا امام کون ہے ؟ حالانکہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف روایت ذکر کی ہے اسی طرح تابعین کرام سے اس کے خلاف قول موجود ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار اصحاب رضی اللہ عنہم سے بھی اس کے خلاف قول مروی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ، ← أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5764

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter