Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5744

5430 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت قال سمعت بن عمر وسأله رجل عن رجل وهب له رجل ناقة حياته فنتجت أي ولدت فقال هي له وأولادها فسألته بعد ذلك فقال هي له حيا وميتا والله أعلم

حبیب بن ابی ثابت رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ سے ایک شخص نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جس نے زندگی بھر کے لیے کسی کو اونٹنی دی اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہو اتو انہوں نے فرمایا وہ اونٹنی اور اس کی اولاد اسی شخص کے لیے ہے میں نےبعد میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا وہ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی اسی کے لیے ہے ۔ بہرحال عمریٰ نہ چاہیے اگر کسی نے کر دیا تو وہ مال معطی کی طرف نہ لوٹ سکے گا خواہ معطی کی زندگی میں معمر کی موت واقع ہو یا بعد میں بلکہ وہ معمر اور اس کے ورثاء کا مل ہے وراثت کی طرح تقسیم ہو گا۔

هي له حيا وميتا والله أعلم ← هي له وأولادها فسألته بعد ذلك ← رجل وهب له رجل ناقة حياته فنتجت أي ولدت ← بن عمر وسأله رجل ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Hadith 5744

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5745

5431 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عاصم وسعيد بن سفيان الجحدري قالا ثنا بن عون قال أخبرني نافع عن بن عمر أن عمر أصاب أرضا بخيبر فأتى النبي صلى الله عليه و سلم يستأمره فقال إني أصبت أرضا لم أصب مالا قط أحسن منها فكيف تأمرني قال إن شئت حبست أصلها لا تباع ولا توهب قال أبو عاصم وأراه قال لا تورث قال فتصدق بها في الفقراء والقربى والرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضعيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها غير متمول قال فذكرت ذلك لمحمد فقال غير متأثل

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی وہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ لینے حاضر ہوئے تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک زمین خیبر میں پائی ہے اس سے بہتر مال میں نے کبھی نہیں پایا آپ اس کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں آپ نے فرمایا اگر پسند کرو تو اس کی اصل کو روک لو جو نہ فروخت کی جا سکے اور نہ ہبہ کی جا سکے ۔ ابو عاصم راوی کہتے ہیں کہ " لاتورث "کے لفظ فرمائے کہ نہ اس میں وراثت چلے چنانچہ انہوں نے اس کو فقراء اور قرابت دار اور غلاموں اور اللہ کی راہ میں مسافر اور ضعفاء کے لیے اس کو صدقہ کر دیا کہ جو اس کا متولی اور ان پر خرچ کرے اور اس میں سے خود کھا سکتا ہے مگر اس میں سے مال لے نہیں سکتا ۔ میں نے متمول کا لفظ ذکر کیا تو انہوں نے غیر متاثل فرمایا (مال کو جمع کرنے والا )۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن عون ← أبو عاصم وسعيد بن سفيان الجحدري ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 5745

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5746

5432 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب قال حدثني عمي قال حدثني إبراهيم بن سعد عن عبد العزيز بن المطلب عن يحيى بن سعيد عن نافع مولى بن عمر عن بن عمر أن عمر استشار رسول الله صلى الله عليه و سلم في أن يتصدق بماله بثمغ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تصدق به تقسم ثمره وتحبس أصله لا تباع ولا توهب قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أوقف داره على ولده وولد ولده ثم من بعدهم في سبيل الله أن ذلك جائز وأنها قد خرجت بذلك من ملكه إلى الله عز و جل ولا سبيل له بعد ذلك إلى بيعها واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن قال بذلك أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما وهو قول أهل المدينة وأهل البصرة وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو حنيفة وزفر بن الهذيل رحمة الله عليهما فقالوا هذا كله ميراث لا يخرج من ملك الذي أوقفه بهذا السبب وكان من الحجة لهم في ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما شاوره عمر رضي الله عنه في ذلك قال له حبس أصلها وسبل الثمرة فقد يجوز أن يكون ما أمره به من ذلك يخرج به من ملكه ويجوز أن يكون ذلك لا يخرجها من ملكه ولكنها تكون جارية على ما أجراها عليه من ذلك ما تركها ويكون له فسخ ذلك متى شاء كرجل جعل لله عليه أن يتصدق بثمرة نخله ما عاش فيقال له أنفذ ذلك ولا يجبر عليه ولا يؤخذ به إن شاء وإن أبى ولكن إن أنفذ ذلك فحسن وإن منعه لم يجبر عليه وكذلك ورثته من بعده إن أنفذوا ذلك على ما كان أبوهم أجراه عليه فحسن وإن منعوه كان ذلك لهم وليس في بقاء حبس عمر رضي الله عنه إلى غايتنا هذه ما يدل على أنه لم يكن لأحد من أهله نقضه وإنما الذي يدل على أنه ليس لهم نقضه لو كانوا خاصموا فيه بعد موته فمنعوا من ذلك ولو جاز ذلك لكان فيه العمرى ما يدل على أن الأوقاف لا تباع ولكن إنما جاءنا تركهم لوقف عمر رضي الله عنه يجرى على ما كان عمر رضي الله عنه أجراه عليه في حياته ولم يبلغنا أن أحدا منهم عرض فيه بشيء وقد روى عن عمر رضي الله عنه ما يدل على أنه قد كان له نقضه

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے صدقہ کرنے کے متعلق جو مقام ثمغ میں تھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو اس طرح صدقہ کردو کہ اس کا پھل تقسیم کیا جائے گا اور اصل اسی طرح برقرار رہے گا وہ نہ فرخت کیا جاسکے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کسی نے اپنی اولاد بیٹے ، پوتوں پر ایک گھر وقف کر دیا پھر ان کے بعد اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ۔ تو یہ درست ہے اب وہ ان کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی طرف منتقل ہو گیا اس کو فروخت کرنے کی کوئی سبیل نہیں جیسا کہ مندرجہ بالا آثار سے معلوم ہوتا ہے یہ امام ابو یوسف ، محمد ، اہل مدینہ ، اہل بصرہ رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ دوسروں نے کہا یہ سب میراث ہے اس سب سے وافقت کی ملک سے نہ نکلے گا اس کی دلیل یہ ہے کہ حضر ت عمر نے آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا اس کے اصل کو روک لو اور اس کے پھل کو وقف کر دو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی اس سے جہاں اس سے یہ مراد لینا جائز ہے کہ وہ اس کی ملک سے نکل جائے گی وہاں یہ بھی جائز ہے کہ ایسا کرنے سے یہ اس کی ملک سے خارج نہ ہو لیکن وہ اس طریقہ پر جاری ہوئی جس پر انہوں نے اسے جاری کیا اور جب وہ چاہیں اس کو نسخ کرنے کا ان کو حق حاصل ہے ۔ جس طرح وہ آدمی جس نے اپنی زندگی تک اپنے درخت کھجور کا پھل اللہ تعالیٰ کے وقف کیا ہے اسے کہا جائے گا اس کو نافز کرو ۔ مگر اس پر جبر نہ کیا جائے گا اور نہ اس پر کوئی مواخذہ کیا جائے گا خواہ دے یا انکار کر ے۔ لیکن اگر اس نے اس کو نافذ کیا تو بہت خوب کیا اور اگر روک لیا تو اس پر جبر نہیں اسی طرح اس کے ورثاء کا بھی یہی حکم ہے اگر وہ اس کو اپنے والد کے طریقہ پر جاری رکھیں تو خوب ہے ار اگر روک لیں تو اس کا ان کو اختیار ہے ۔ باقی حضرت عمررضی اللہ عنہ کے وقف کو توڑنے کا اختیار نہ ہونے کی دلیل تب ہوتی ہے جبکہ آپ کی وفات کے بعد وہ جھگڑا کرتے اور اس سے ان کو منع کیا جاتا اگر ایسا ہوتا تو یہ عمریٰ ہو جاتا جو اس بات پر دلالت کرتا کہ اوقاف کو فروخت نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر ہمارے سامنے جو روایات ہیں ان میں صرف یہ بات ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے وقف کو اسی حال پر چھوڑا گیا تا کہ اسی طرح جاری رہے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں اس کو جار کر گئے تھے ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان میں سے کسی نے بھی اعتراض کیا ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی وارد ہے کہ آپ کو اس کے توڑنے کا اختیار تھا ۔

بن عُمَرَ ← نافع مولى بن عمر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Hadith 5746

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5747

5433 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن زياد بن سعد عن بن شهاب أن عمر بن الخطاب قال لولا أني ذكرت صدقتي لرسول الله صلى الله عليه و سلم أو نحو هذا لرددتها فلما قال عمر رضي الله عنه هذا دل ذلك أن نفس الإيقاف للأرض لم يكن بمنعه من الرجوع فيها وأنه إنما منعه من الرجوع فيها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمره فيها بشيء وفارقه على الوفاء به فكره أن يرجع عن ذلك كما كره عبد الله بن عمرو أن يرجع بعد موت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الصوم الذي كان فارقه عليه أن يفعله وقد كان له أن لا يصوم ثم هذا شريح وهو قاضي عمر وعثمان وعلي الخلفاء الراشدين المهديين رضي الله عنهم أجمعين قد روى عنه في ذلك أيضا ما قد

ابن شہاب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اگر میں نے اپنے صدقہ کا تذکرہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کیا ہوتا یا اس قسم کی بات فرمائی تو میں اس کو واپس لوٹا لیتا ۔ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تو اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ زمین کو فقط وقف کر دینے سے اس کا حق رجوع ختم نہیں ہوتا آپ کو رجوع سے اس بات نے روکا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک بات کا حکم فرمایا اور آپ ان سے اس حالت میں جدا ہوئے کہ وہ اسے پورا کرنے والے تھے تو اس وجہ سے آپ نے اس کو واپس لینا نا پسند کیا جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان صیام سے رجوع پسند نہ کیا جنہیں وہ حضور علیہ السلام سے جدائی کے وقت رکھا کرتے تھے ۔حالانکہ آپ کو روزہ نہ رکھنے کا اختیار تھا ۔ پھر یہ قاضی شریح ہیں جو حضرت عمر ، عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ان کی طرف سے قاضی رہے ان کا ارشاد سنئے ۔

بن شهاب أن عمر بن الخطاب ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 5747

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5748

5434 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن أبي يوسف عن عطاء بن السائب قال سألت شريحا عن رجل جعل داره حبسا على الآخر فالآخر من ولده فقال إنما أقضى ولست أفتى قال فناشدته فقال لا حبس على فرائض الله وهذا لا يسع القضاة جهله ولا يسع الأئمة تقليد من يجهل مثله ثم لا ينكر ذلك عليه منكر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا من تابعيهم رحمة الله عليهم ثم قد روى عن بن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أيضا ما قد

عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے شریح رحمۃ اللہ علیہ سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے اپنا مکان دوسرے شخص کو وقف کر دیا اور و ہ دوسرا آدمی اسکی اولاد سے ہے تو انہوں نے فرمایا اس کے متعلق میں فیصلہ کرتا ہوں فتویٰ نہیں دیتا ۔ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے انکو قسم دی تو فرمانے لگے اللہ تعالیٰ کے فرائض ( احکام توریث ) اترنے کے بعد اولاد پر قف نہیں ہوتا اور اس بات سے قاضیوں کو جاہل رہنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ائمہ مقتدیٰ کے لیے گنجائش ہے کہ وہ ایسے جاہل شخص کی پیروی کریں پھر شریح رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم نے انکار نہیں کیا ۔ مزید برآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔

عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبِي يُوسُفَ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 5748

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5749

5435 - حدثنا الربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال حدثني أخي عيسى عن عكرمة عن بن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ما أنزلت سورة النساء وأنزل فيها الفرائض نهى عن الحبس

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوۃ نساء کے نزول کے بعد سنا کہ اس میں فرائض اتارے گئے ہیں اور (اولادپر) وقف سے منع کر دیا گیا ہے ۔

الحبس ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أخي عيسى ← بن لهيعة ← أسد ← الربيع المؤذن

Hadith 5749

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5750

5436 - حدثنا روح بن الفرج قال أخبرنا يحيى بن عبد الله بن بكير وعمرو بن خالد قالا ثنا عبد الله بن لهيعة فذكر بإسناده مثله

عمرہ بن خالد اور یحیٰ بن عبداللہ نے عبداللہ بن لہیعہ سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

عبد الله بن لهيعة فذكر بإسناده مثله ← يحيى بن عبد الله بن بكير وعمرو بن خالد ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 5750

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5751

5437 - حدثنا عبد الرحمن بن الجارود قال ثنا بن أبي مريم قال حدثني بن لهيعة فذكر بإسناده مثله

ابن ابی مریم نے ابن لہیعہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن لهيعة فذكر بإسناده مثله ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← عبد الرحمن بن الجارود

Hadith 5751

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 4 باب الصدقات الموقوفات ) · حديث 5752

5438 - حدثنا روح ومحمد بن خزيمة قالا قال لنا أحمد بن صالح هذا حديث صحيح وبه أقول قال روح قال لي أحمد بن صالح وقد حدثنيه الدمشقي يعني عبد الله بن يوسف عن بن لهيعة فأخبر بن عباس رضي الله عنهما أن الأحباس منهي عنها غير جائزة وأنها قد كانت قبل نزول الفرائض بخلاف ما صارت عليه بعد نزول الفرائض فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإن أبا حنيفة وأبا يوسف وزفر ومحمدا رحمة الله عليهم وجميع المخالفين لهم والموافقين قد أتفقوا على أن الرجل إذا وقف داره في مرضه على الفقراء والمساكين ثم توفى في مرضه ذلك جائز من ثلثه وأنها غير موروثة عنه فاعتبرنا ذلك هل يدل على أحد القولين فكان الرجل إذا جعل شيئا من ماله من دنانير أو دراهم صدقة فلم ينفذ ذلك حتى مات أنه ميراث وسواء جعل ذلك في مرضه أو في صحته إلا أن يجعل ذلك وصية بعد موته فينفذ ذلك بعد موت من ثلث ماله كما ينفذ الوصايا فأما إذا جعله في مرضه ولم ينفذه للمساكين بدفعه إياه إليهم فهو كما جعله في صحته وكان جميع ماله يفعله في صحته فينفذ من جميع ماله ولا يكون له عليه بعد ذلك ملك مثل العتاق والهبات والصدقات هو الذي ينفذ إذا فعله في مرضه من ثلث ماله وكان الواقف إذا وقف في مرضه داره أو أرضه وجعل آخرها في سبيل الله كان ذلك جائزا باتفاقهم من ثلث ماله بعد وفاته لا سبيل لوارثه عليه وليس ذلك بداخل في قول النبي صلى الله عليه و سلم لا حبس على فرائض الله فكان النظر على ذلك أن يكون كذلك سبيله إذا وقف في الصحة فيكون نافذا من جميع المال ولا يكون له عليه سبيل بعد ذلك قياسا ونظرا على ما ذكرنا فإلى هذا أذهب وبه أقول من طريق النظر لا من طريق الآثار لأن الآثار في ذلك قد تقدم وصفي لها وبيان معانيها وكشف وجوهها فإن قال قائل أفتخرج الأرض بالوقوف من ملك ربها بوقفه إياها لا إلى ملك مالك قيل له وما تنكر من هذا وقد أتفقت أنت وخصمك على الأرض يجعلها صاحبها مسجدا للمسلمين ويخلى بينهم وبينها أنها قد خرجت بذلك من ملكه لا إلي ملك مالك ولكن إلى الله عز و جل فالذي يلزم مخالفك فيما احتججت عليه بما وصفنا يلزمك في هذا مثله فإن قال قائل فما معنى نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحبس الذي رويته عنه في حديث بن عباس رضي الله عنهما قيل له قد قال الناس في ذلك قولين أحدهما القول الذي ذكرناه عند روايتنا إياه والآخر أن ذلك أريد به ما كان أهل الجاهلية يفعلونه من البحيرة والسائبة والوصيلة والحام فكانوا يحبسون ما يجعلونه كذلك كذلك فلا يورثونه أحدا فلما أنزلت سورة الفرائض وبين الله عز و جل فيها المواريث وقسم الأموال عليها قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا حبس ثم تكلم الذي أجازوا الصدقات الموقوفات فيها بعد تثبيتهم إياها على ما ذكرنا فقال بعضهم هي جائزة قبضت من المصدق بها أو لم تقبض وممن قال بذلك أبو يوسف رحمة الله عليه وقال بعضهم لا ينفذها حتى يخرجها من يده ويقبضها منه غيره وممن قال بهذا القول بن أبي ليلى ومالك بن أنس ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم فاحتجنا أن ننظر في ذلك لنستخرج من القولين قولا صحيحا فرأينا أشياء يفعلها العباد على ضروب فمنها العتاق ينفذ بالقول لأن العبد إنما يزول ملك مولاه عنه إلى الله عز و جل ومنها الهبات والصدقات لا تنفذ بالقول حتى يكون معه القبض من الذي ملكها له فأردنا أن ننظر حكم الأوقاف بأيها هي أشبه فنعطفه عليه فرأينا الرجل إذا وقف أرضه أو داره فإنما يملك الذي أوقفها عليه منافعها ولم يملك من رقبتها شيئا إنما أخرجها من ملك نفسه إلى الله عز و جل فثبت أن ذلك نظير ما أخرجه من ملكه إلى الله عز و جل فكما كان ذلك لا يحتاج فيه إلى قبض مع القول كان كذلك الوقوف لا يحتاج فيها إلى قبض مع القول وحجة أخرى أن القبض لو أوجبناه فإنما كان القابض يقبض ما لم يملك بالوقف فقبضه إياه وغير قبضه إياه سواء فثبت بما ذكرنا ما ذهب إليه أبو يوسف رحمة الله عليه

روح اور محمد بن خزیمہ دونوں نے کہا احمد بن صالح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور میں بھی یہی کہتا ہوں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نےبتلایا کہ احباس ممنوع ہے اور بدناجائز ہے اور ہبہ فرائض کے احکام اترنے سے پہلے کی بات ہے نزول فرائض کے بعد اس کا حکم تبدیل ہو گیا ۔ آثار کے پیش نظر اس باب کا حکم یہی ہے اب نظر سے ملاحظہ ہو کہ امام ابو حنیفہ ، ابویوسف ، زفر و محمد رحمہم اللہ اور تمام مخالف و موافق اس بات پر متفق ہیں کہ جب کسی آدمی نے اپنا گھر اپنے ایام مرض میں فقراء و مساکین کے لیے وقف کیا پھر وہ اپنی اسی بیماری میں مر گیا تو اس کا یہ وقف اس کے ثلث مال میں جائز قرار دیا جائے گا اور یہ ثلث اس کی طرف سے وارثت نہ بنے گا اب ہم نے دیکھا کہ آیا یہ بات کسی ایک قول کی دلیل بنتی ہے تو غور وفکر سے یہ معلوم ہوا کہ کوئی شخص جب اپنا مال جو دراہم و دنانیر کی صورت میں ہے اس میں سے کچھ صدقہ کرتا ہے مگر اس کے اجراء سے پہلے وہ مر جاتا ہے تو اسکا یہ تمام مال وراثت ہو گا خواہ اس کو اس نے بیماری کی حالت میں صدقہ کیا تھا یا صحت کی حالت میں ۔ البتہ اگر اس بات کو اس کی موت کے بعد والی وصیت قرار دیا جائے تو وہ تہائی مال میں سے نافذ ہو جائے گی جس طرح کہ باقی وصایا نافذ ہوتی ہیں اگر وہ بیماری میں ایسا کرے لیکن ابھی مساکین کو نہ دیا ہو تو اس کا حکم وہی ہے جو حالت صحت میں ایسا کرنے کا ہوتا ہے اور حالت صحت میں جو کچھ کرے گا وہ تمام مال میں سے نافذ ہو گا اور وہ اس کے بعد اس کا مالک نہ رہے گا جس طرح کہ آزاد کرنا ، ہبہ کرنا ، صدقہ دیناوغیرہ اور جب ان کو بیماری کی حالت میں کرے گا تو مال کے تہائی حصے سے نافذ ہوں گی اور مرض کی حالت میں اپنا مکان یا زمین وقف کرے اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کرے تو اس کی موت کے بعد تہائی مال سے یہ جائز ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے اس پر ورثاء کا کوئی حق نہ ہو گا اور یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں داخل نہ ہو گا کہ " لا حبس علی فرائض اللہ " کہ فرائض اللہ میں وقف نہیں یعنی ورثاء کے لیے وقف نہیں ۔ پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ صحت کی حالت میں وقف کرنے کا بھی یہی حکم ہو وہ تمام مال سے نافذ ہو گا۔ اور اس کے بعد اس کا کوئی اختیار نہ ہو گا یہ تقاضا نظر ہے ۔ " والی ھذا ذھب وبہ اقول من طریق النظر من طریق الآثار " میرا رجحان اور قول بھی بطری ققیاس یہ ہے البتہ بطریق آثار ان کے معانی کی وضاحت میں اور بیان وجوہ میں اپنا رجحان ذکر کر دیا گیا ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ تم وقف کی وجہ سے زمین کو اس کے مالک کی ملکیت سے نکالتے ہو لیکن کسی کی ملکیت میں دینے کوتیار نہیں ۔ ان کو جواب میں کہے کہ تم اس بات کا کیوں انکار کر سکتے ہو جبکہ تم اور تمہارے مخالفین سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین کو مسجد بناتا ہے اور جو مسلمان اور زمین کے درمیان سے ہٹ جاتا ہے تو اس سے وہ زمین اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے مگر کسی دوسرے کی ملکیت میں بھی داخل نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی ملک میں آجاتی ہے تو تمہاری اس دلیل سے جو الزام تمہارے مخالفین پر ہوتا ہے وہی تم پر بھی لازم ہوتا ہے ۔ (فما ہو جوا بنا) اگر کوئی معترض کہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ممانعت حبس کا کیا معنی ہے ان کو جواب میں کہے کہ محدثین کے اس سلسلہ میں دو قول ہیں ۔نمبر1 اس روایت کے تذکرہ میں ہم نے ذکر کیا ہے روایت 8749نمبر اس جاہلیت کا عمل مراد ہے یعنی بحیرہ سائبہ ، ووصیلہ حام و غیرہ مراد ہیں وہ اپنے اعمال کو وقف خیال کرتے تھے اور کسی کو اس کا وارث قرارنہ دیتے تھے جب احکام وراثت والی سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے وارثت واموال کے احکام بیان فرمائے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وقف نہیں ۔ جنہوں نے صدقات موقوفہ کی اس ہمارے بیان کردہ طریقے کے مطابق اجازت دی انہوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا نمبر 2 امام مالک ابن ابی لیلیٰ محمد بن حسن رحمہم اللہ نے فرمایا جب تک وہ چیز اس کے قبضہ سے فارغ نہ ہو اور دوسرا آدمی اس پر قبضہ نہ کرے یہ جائز نہیں ہے ۔ا مام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ہم نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ ان اقوال میں غور کر کے صحیح قول کو نکالا جائے میں نے غور کیا کہ بندوں کے تصرفات کئی قسم کے ہیں ۔ آزاد کرنا اور یہ صرف کہنے سے نافذ ہو جاتا ہے اور مالک کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملک میں داخل ہوجاتا ہے ہبہ اور صدقہ کرنا وہ صرف قول سے نافذ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے ساتھ اس آدمی کی طرف سے قبضہ کروانا ثابت نہ ہوجائے جس نے اس کو ہبہ کیا ہے معطی موہوب لہ کو اس کا مالک بنا دے ۔ اب قابل غور یہ ہے کہ وقف کا حکم کس سے مشابہت رکھتا ہے تاکہ اس کی طرف مائل کر دیا جائے تو ہم نے دیکھا اس مال کی ذات کا مالک نہیں بنتا کیونکہ وہ واقف اس چیز کو اپنی ذاتی ملک سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی ملک میں دیتا ہے پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ اس چیز کی مثل ہے جس کو اپنی ملکیت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی ملک میں دے دیا ۔ تو جس طرح کہ عتاق کا تعلق صرف قول سے ہے قبضہ کا محتاج نہیں بالکل اسی طرح وقف میں بھی قول کے سا تھ قبضہ کی چنداں ضرورت نہیں کہ اگر ہم قبضہ کو لازم قرار دیں تو قبضہ کرنے والا اس چیز پر قبضہ کرے گا جس کا وقف کی وجہ سے وہ مالک نہیں ہو ا۔ فلہذا اس کا قبضہ کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہوئے پس ان دونوں دلیلوں سے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ثابت ہو گیا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی مرتبہ " الی ھذا ذھب وبہ اقول من طریق النظر لا طریق الاثارہ " فرمایا اور نہ اب تک اپنا رجحان اس انداز سے کہیں ظاہر نہیں فرمایا ۔ بطریق اثر تو اس کو ترجیح دی کہ صاحب میراث کے لیے یہ وقف جائز نہیں دوسری میراث کی طرح تقسیم ہو گا البتہ بطریق نظر دوست ہے یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے (مترجم)

بن لهيعة فأخبر بن عباس ← الدمشقي يعني عبد الله بن يوسف ← لي أحمد بن صالح وقد ← رَوْحٌ، ← لنا أحمد بن صالح هذا حديث صحيح وبه أقول ← روح ومحمد بن خزيمة

Hadith 5752

chevron_left Previous
123
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter