Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5732

5420 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أمسكوا عليكم أموالكم لا تعمروها فمن أعمر أحدا شيئا فهو له

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اموال اپنےپاس روک کر رکھو ان کو عمریٰ مت بناؤ جس نے کوئی چیز عمریٰ بنائی وہ اسی معمر کی ہو گی ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 5732

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5733

5421 - حدثنا فهد قال أخبرنا علي بن معبد قال أخبرنا إسماعيل بن أبي كثير عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا عمرى فمن أعمر شيئا فهو له فقال أهل المقالة الأولى فنحن لا ننكر أن يكون العمرى لمن أعمرها وإنما قلنا إنها ترجع إلى المعمر بعد موت المعمر فكان من حجتنا عليهم في ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى فيما ذكرنا من الآثار عن العمرى فاستحال أن يكون نهى عنها وهي تجري كما عقدت ولكنه نهى عنها لأنها تجري على خلاف ذلك قال فمن أعمر شيئا فهو له فأرسل ذلك ولم يقل فهو له ما دام حيا فدل ذلك على أنها له كسائر ماله في حياته وبعد مماته فهذا معنى ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه جعلها جائزة أي جائزة للمعمر فيها بعد ذلك أبدا ومما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه جعلها جائزة ما

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمریٰ درست نہیں جس نے کر دیا وہ شئی معمر کی ہو جائے گی قائلین مسلک اول سے کہتا ہے ہمیں اس سے انکار نہیں کہ عمریٰ معمر کا ہوتا بس ہم تو اتنی بات کہتے ہیں کہ وہ معمر کی طرف معمر کی موت کے بعد لوٹ جائے گا۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آثار میں عمریٰ سے منع فرمایا یہ بات ناممکن ہے کہ منع بھی فرمایا جائے اور اس کو برقرار بھی رکھا جائے ۔ کیونکہ وہ تو اس کے مخالف ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " من اعمر شیئا فھولہ " کو مطلق طور پر فرمایا مادام حیا کی قید نہ لگائی اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ اس کے لیے دیگر تمام اموال کی طرح ہو گی زندگی میں اور موت کے بعد بھی عمر یٰ ایک انعام ہے عمریٰ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز (انعام ) قرار دیا روایت یہ ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← فهد

Hadith 5733

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5734

5422 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال أخبرنا عفان قال ثنا همام قال ثنا قتادة عن الحسن عن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم العمرى جائزة والدليل على ذلك أيضا أن بن أبي داود وأحمد بن داود قد حدثانا قالا

حسن نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمریٰ انعام ہے ۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 5734

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5735

ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا همام قال ثنا قتادة قال قال سليمان بن هشام ما تقول في العمرى فقلت له حدثني النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال العمرى جائزة قال الزهري إنها لا تكون عمرى حتى تجعل له ولعقبه فقال لعطاء بن أبي رباح ما تقول فقال حدثني جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال العمرى ميراث فهذا عطاء وقتادة جميعا قد جعلاها جائزة للمعمر موروثة عنه ولم ينكر ذلك عليهما الزهري وإنما قال لا يكون عمرى يكون هذا حكمها حتى تجعل للمعمر ولعقبه فتكون كماله وتكون موروثة عنه كما يورث سائر أمواله عنه وإن كان من يرثها عنه فيهم خلاف عقبه على ما حدثه أبو سلمة وسنذكر ذلك في موضعه من هذا الباب إن شاء الله تعالى ومما يدل أيضا على صحة ما ذكرنا

قتادہ کہنے لگے مجھ سے سلیمان بن ہشام نے دریافت کیا کہ عمریٰ کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا بشیر بن نہیک نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ عمریٰ انعام ہے ۔ زہری کہتے ہیں یہ عمریٰ بنتا ہی اس وقت ہے جبکہ اس کو اس کے اور اس کے پیچھے والے لوگوں کے لیے مقرر کر دیا جائے انہوں نےعطاء بن ابی رباح سے کہا عمریٰ کے متعلق تم کیا کہتے ہو ؟ ؟ تو انہوں نے فرمایا مجھے جابر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ عمریٰ میراث ہے یہ عطاء اور قتادہ ہیں ان دونوں نے اس کو انعام اور میراث قرار دیا قاور زہری نے ذراانکار نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ کہا عمریٰ جس کا یہ حکم ہے وہ منعقد ہی تب ہو گا جبکہ وہ ورثاء غیر اولاد ہوں جیا کہ ابو سلمہ نےبیان کیا ہم عنقریب یہ بات اسی باب میں اپنے مقام پر درج کریں گے ان شاء اللہ

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← سليمان بن هشام ما تقول في العمرى فقلت له ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ،

Hadith 5735

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5736

5423 - أن يونس قد حدثنا قال ثنا سفيان عن بن جريج عن عطاء عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تعمروا ولا ترقبوا فمن أعمر شيئا أو أرقبه فهو للوارث إذا مات

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے نہ عمریٰ بناؤ اور نہ مراقبہ رقبیٰ کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں اپنا گھر دے دیا اگر تو مجھ سے پہلے مر گیا تو یہ میری طرف لوٹ آئے گا اور اگر میں مر گیا تو تیرا ہوگا جس نے کوئی چیز بطور عمریٰ دی وہ معمر کے مر جانے پر اس کے ورثاء کو ملے گی ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← سُفْيَانَ، ← أن يونس قد

Hadith 5736

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5737

5424 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أمسكوا عليكم أموالكم لا تفسدوها فإنه من أعمر عمرى فهي له حيا وميتا ولعقبه

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ اپنے اموال اپنے لیے روک کر رکھو ان کو مت بگاڑو۔ جس نے عمریٰ کیا وہ زندگی اور موت کے بعد اسی کا ہے اور اس کے بعد اس کے ورثاء کلو ملے گا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 5737

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5738

5425 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا هشام عن أبي الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أعمر عمرى حياته فهي له في حياته ولورثته بعد موته

ابو الزبیر سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جس نے زندگی کےلیے عمریٰ کیا وہ زندگی میں معمر کا ہے اور موت کے بعد اس کے ورثاء کا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 5738

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5739

5426 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا يحيى بن أبي زائدة عن أبيه عن حبيب بن أبي ثابت عن حميد عن جابر قال نحل رجل منا أمه نحلى له حياته فلم ماتت فقال أنا أحق بنحلي فقضي النبي صلى الله عليه و سلم أنها ميراث قال بن أبي شيبة حميد هذا رجل من كندة قال أبو جعفر فقد كشفت لنا هذه الآثار مراد رسول الله صلى الله عليه و سلم في الآثار التي قبلها وأنها على ما وصفنا من التأويل الذي ذكرنا وقد رويت في العمرى أيضا آثار بغير هذا اللفظ فمنها ما قد

حمید نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی والدہ کو عطیہ دیا اور اس کی زندگی تک دیا جب وہ فوت ہو گئیں تو کہنے لگا میں اپنے عطیے کا زیادہ حقدار ہوں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی خدمت میں فیصلہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس کو میراث قرار دیا ابن ابی شیبہ کہتے ہیں یہ حمید کندہ میں سے ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ان روایات نے شروع باب میں مندرج روایت کا مفہوم کھو ل دیا اور یہ روایت ہماری تاویل کے بالکل مطابق ہیں عمریٰ کے متعلق دیگر الفاظ سے بھی روایات وارد ہیں ملاحظہ ہوں ۔

بن أبي شيبة حميد هذا رجل من كندة ← أحق بنحلي فقضي النبي صلى الله عليه و سلم أنها ميراث ← نحل رجل منا أمه نحلى له حياته فلم ماتت ← جَابِرٍ ← حُمَيْدٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Hadith 5739

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5740

5427 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن بن شهاب عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما رجل أعمر عمرى له ولعقبه فإنها للذي يعطاها لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث

ابو سلمہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عمریٰ بنایا یا وہ معمر اور اس کے ورثاء کے لیے ہے وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا کیونکہ اس نے یہ ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث جاری ہوتی ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 5740

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5741

5428 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا ليث عن بن شهاب ح

لیث نے ابن شہاب سے روایت کی ہے ۔

بن شِهَابٍ ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← بن مرزوق

Hadith 5741

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5742

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا ليث عن بن شهاب عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من أعمر رجلا عمرى له ولعقبه فقد قطع قوله حقه فيها وهي لمن أعمرها ولعقبه

ابو سلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے عمریٰ بنایا تو وہ عمریٰ اس معمر اور اس کے ورثاء کا ہے ۔ معمر کے قول نے اس کے حق کو اس میں منقطع کر دیا وہ اسی کا ہےجس کو عمریٰ کیا گیا اور اس کے ورثاء کو ملے گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن شِهَابٍ ← لَيْثٌ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 5742

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5743

5429 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال أخبرنا بن أبي ذئب عن الزهري عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله قال قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم من أعمر عمرى فهي له ولعقبه بته لا يجوز للمعطي فيها شرط ولا ثنيا قال أبو جعفر ففي هذه الآثار من أعمر عمرى له ولعقبه فهي للذي عمرها لا ترجع إلى المعطى بشرط ولا ثنيا لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث فقال الذين أجازوا الشرط في العمرى بهذا نقول إذا وقعت العمرى على هذا لم ترجع إلى المعطى أبدا وإذا لم يكن فيها ذكر العقب فهي راجعة إلى المعطى بعد زوال المعمر قالوا وهذا أولى مما روى عطاء وأبو الزبير عن جابر بن عبد الله لأن أبا سلمة زاد عليهما قوله ولعقبه وليس هو بدونهما والزيادة أولى فكان من حجتنا للآخرين في ذلك أنه لم يكن روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في العمرى حديث غير حديث أبي سلمة هذا لكان فيه أكثر الحجة للذين يقولون إن العمرى لا ترجع إلى المعمر أبدا ولا يجوز شرطه وذلك أن العمرى لا تخلوا من أحد وجهين إما أن تكون داخلة في قول النبي صلى الله عليه و سلم المسلمون عند شروطهم فينفذ للمعمر فيها الشرط على ما شرطه لا يبطل من ذلك شيء كما ينفذ الشروط من الموقف فيما وقف أو تكون خارجة من ملك المعمر داخلة في ملك المعمر فيصير بذلك في سائر ماله ويبطل ما شرط عليه فيها فنظرنا في ذلك فإذا العمرى إذا أوقعت على أنها للمعمر ولعقبه فمات وله عقب وزوجة أو أوصى بوصايا أو كان عليه دين أن تلك الأشياء تنفذ فيها كما تنفذ في ماله ولا يمنعها الشرط الذي كان من المعمر في جعله إياها له ولعقبه وزوجته ليست من عقبه ولا غرماؤه ولا أهل وصاياه وكذلك لو مات المعمر ولا عقب له لم يرجع شيء من ذلك إلى المعمر فلما كان ما وصفنا كذلك كانت كذلك أبدا يجوز على ما جعلها عليه المعمر ويبطل شرطه الذي أشترط فيها ولا ينفذ منه قليل ولا كثير ويخرج من قول النبي صلى الله عليه و سلم المسلمون عند شروطهم فيكون شروطها ليست من الشروط التي عناها النبي صلى الله عليه و سلم بذلك وهذا القول الذي صححناه قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وقد روى أيضا عن بن عمر رضي الله عنهما مثل ذلك

زہری نے ابو سلمہ سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جس نے عمریٰ بنایا وہ معمر اور اس کے ورثاء کے لیے ہے معطی کی کسی شرط کا اس میں اعتبار نہیں اور نہ استثناء ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان آثار میں یہ بات بالکل واضح آ گئی کہ عمریٰ ایک ایسا عطیہ ہے جو معمر کا حق بن گیا اب وہ دینے والے کی شرط کے مطابق اس کی طرف نہ لوٹے گا اور نہ اس میں استثناء چلے گا وہ ایسا عطیہ ہے جس میں میراث جاری ہو گی ۔ جب عمریٰ اسی شرط سے ہوتو ہم بھی کہتے ہیں کہ معطی کی طرف لوٹا یا نہ جائے گا اور جب اس میں ورثاء کا تذکرہ نہ ہوتو معمر کے مرنے کے بعد وہ معطی کی طرف لوٹ آئے گا اور یہ روایت عطاء ابو الزبیر کی ان روایات اولیٰ ہے جو انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں کیونکہ ابو سلمہ کی روایت میں " ولعقبہ" کا اضافہ ہے اور دیگر روایات میں نہیں اضافہ والی روایت اولیٰ ہے وہ ہمارے معاون بن رہی ہے اس کے جواب میں اگر وہ کہیں کہ عمریٰ کے متعلق ابو سلمہ کی روایت کے علاوہ اور کوئی روایت اس طرح مروی نہیں گویا منفرد ہے مگر ہم عرض کریں گے یہ ہماری دلیل زیادہ ہے کہ عمریٰ معمر کی طرف نہ لوٹا یا جائے گا اور اس کی شرط بھی جائز نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عمریٰ کی دو صورتیں ہیں نمبر1 یا تو یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں داخل ہے ۔ " المسلمون عند شروطھم " اس میں معمر کے لیے اس کی شرط نافذ ہو جائے گی اور اس میں کوئی چیز باطل نہ ہو گی جیسا کہ وقف کرنے والے کی شرط موقوف میں نافذ ہوتی ہے ۔ نمبر 2 اور عمریٰ معطی کی ملک سے خارج ہو کر معمر کی ملک میں داخل ہو گا تو اس طرح وہ اس کے باقی مال کے ساتھ مل جائے گا اور جو شرط رکھی ہے وہ باطل ہو جائے گی ۔ ہم نے اس سلسلہ میں غور کیا تو دیکھا کہ جب عمریٰ معمر اور اس کی اولاد کے لیے واقع ہوتا ہے پھر وہ مر جاتا ہے اس کی اولاد اور بیوی موجود ہوتے ہیں یا وہ کچھ وصیت کر جاتا ہے یا اس پر کچھ قرض ہوتا تو یہ تمام باتیں اسی طرح نافذ ہوتی ہیں ۔ جیسے اس کے اپنے مال میں نافذ ہوتی ہیں ۔ معمر کی طرف سے کوئی شرط اس میں رکاوٹ نہیں بنتی کہ وہ مال اس کے لیے یا اس کی اولاد کے لیے ہو ۔ اس کی بیوی جن کے لیے وصیت کی اور قرض دار اس کے عقب نہیں ہیں اور اس طرح اگر وہ معمر مر جائے اور اس کا کوئی عقب نہ ہوتو معمر کی طرف کوئی چیز نہیں لوٹتی ۔ جب بات اس طرح ہے جیسے ہم نے بیان کی تو ہمیشہ اسی طرح ہونا چاہیے کہ معمر کا عمریٰ درست ہو اور اس نے جو شرط رکھی ہے وہ باطل ہو خواہ کوئی شرط بڑی ہو یا چھوٹی نافذ نہ ہو اور وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے نکل جائے گا کہ مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں اس کی شرط ان شرائط میں سے نہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے یہ قول جس کے تصحیح ہم نے بیان کی ہے ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 5743

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter