شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 3 باب العمرى ) · حديث 5720
5408 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري قال ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال المسلمون عند شروطهم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى إجازة العمرى وجعلوها راجعة إلى المعمر بعد موت المعمر له واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إنما وقع قول رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا على الشروط التي قد أباح الكتاب اشتراطها وجاءت به السنة وأجمع عليه المسلمون فأما ما نهى عنه الكتاب أو نهت عنه السنة فهو غير داخل في ذلك ألا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في حديث بريرة كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط وما في كتاب الله عز و جل هو ما كان منصوصا فيه أو ما قاله رسول الله صلى الله عليه و سلم لأنه إنما وجب قبوله لكتاب الله عز و جل إذ يقول فيه وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا وليس كل شرط يشترطه المسلمون يدخل في قول النبي صلى الله عليه و سلم المسلمون عند شروطهم لأنه لو كان ذلك كذلك لجاز الشرطان في البيع اللذان قد نهى عنهما النبي صلى الله عليه و سلم ولكان هذا الحديث معارضا لذلك ولقوله كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط فلما لم يجعل ذلك على هذا المعنى وإنما جعل على خاص من الشروط وقد وقفنا عليها وعرفناها فأعلمنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوله المسلمون عند شروطهم أنهم عند تلك الشروط التي قد أجاز لهم اشتراطها حتى لا يجب لمن هو لهم عليه نقضها وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد دل على ذلك أيضا
۵۷۲۰- ولید بن رباح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں ۔ ابن ابی داؤد نے اپنے اسناد کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنی شروط پر پورے اترنے والے ہیں (بخاری فی الاجارہ باب 2، ابو داؤد فی الاقضیہ باب 12) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،فقہا کی ایک جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ عمریٰ جائز ہے اور جس کے لیے وہ چیز عمر بھر کے لیے دی جائے گی وہ اس کی موت کے بعد اس کی طرف لوٹ آئے گی انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے وہ شرائط مراد ہیں جن کو قرآن مجید اور سنت جائز قرقرار دے اس پر سب کا اتفاق ہے جن شرائط کی ممانعت کتاب و سنت سے ثابت ہو وہ اس میں داخل و شامل نہیں کیا فریق اول والے احباب کو یہ نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بریرہ میں یہ بات فرمائی کہ جو شرائط ہیں جن کے متعلق نصوص وارد ہیں یا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائی ہیں اس لیے کہ ان کو قبول کرنا بھی کتاب اللہ کی وجہ سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے " وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھو " (الحشر 7) یہ بات نہیں کہ جو شرط بھی مسلمان لگالیں وہ اس قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر اس طرح ہوتا تو سودے میں وہ شرائط جائز ہوتیں جن سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور یہ حدیث اس کے معارض بنتی اور اس صورت میں آپ کے اس قول کے بھی خلاف ہوتی " کل شرط " الحدیث جو جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرائط ہوں جب آپ نے اس کا یہ معنی نہیں لیا بلکہ اس سے خاص شرائط مراد لی ہیں جن سے ہم واقف و مطلع ہو چکے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے ہمیں بتلادیا " المسلمون عند شروطھم " یعنی مسلمان انہی شرائط پر رہیں گے جن کو ان کو اجازت دی گئی ہے وہ ایسی شرائط نہ لگائیں جن کا توڑنا لازم ہو جائے خود ارشاد نبوت اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← بن أبي داود
Hadith 5720
