Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5705

5394 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان قال ثنا الزهري عن محمد بن النعمان وحميد بن عبد الرحمن أخبراه أنهما سمعا النعمان بن بشير يقول نحلني أبي غلاما فأمرتني أمي أن أذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لأشهده على ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ولدك أعطيته فقال لا قال فاردده

محمد بن نعمان اور حمید بن عبد الرحمٰن دونوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا میرے والد نے مجھے ایک غلام عنایت فرمایا میری والدہ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤں تاکہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا لوں اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے ہربیٹے کو دیا ہے؟میرے والد نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اس کو واپس لوٹا لو۔

نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا فَأَمَرَتْنِي أُمِّي ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ← محمد بن النعمان ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5705

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5706

5395 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف وعن محمد بن النعمان بن بشير حدثاه عن النعمان بن بشير قال إن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرجعه قال أبو جعفر فذهب قوم إلي أن الرجل إذا نحل بعض بنيه دون بعض أن ذلك باطل واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا قد كان النعمان في وقت ما نحله أبوه صغيرا فكان أبوه قابضا له لصغره عن القبض لنفسه فلما قال النبي صلى الله عليه و سلم أردده بعد ما كان في حكم ما قبض دل هذا أن النحلى من الوالد لبعض ولده دون بعض لا يملكه المنحول ولا ينعقد له عليه هبة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في العطية ليستووا في البر ولا يفضل بعضهم على بعض فيوقع ذلك له الوحشة في قلوب المفضولين منهم فإن نحل بعضهم شيئا دون بعض وقبضته المنحول لنفسه إن كان كبيرا أو قبضه له أبوه من نفسه إن كان صغيرا بإعلامه إياه والإشهاد به فهو جائز وكان من الحجة لهم في ذلك أن حديث النعمان الذي ذكرنا قد روى عنه على ما ذكروا وليس فيه دليل أنه كان حينئذ صغيرا ولعله وقد كان كبيرا ولم يكن قبضه وقد روى أيضا على غير هذا المعنى الذي في الحديث الأول

محمد بن نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطیہ دیا ہے جو غلام کہ میرا تھا۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس جیسا غلام اپنے ہر لڑکے کو دیا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے واپس لوٹا لو۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علماء کے ایک فریق کا خیال یہ ہے کہ اگر ایک لڑکے کو دوسروں کو چھوڑ کر عطیہ دیا تو یہ عطیہ باطل ہے۔ مندرجہ بالا روایت دلیل ہے ۔ جب نعمان کو ان کے والد نے یہ عطیہ دیا اس وقت وہ بہت چھوٹے بچے تھے ان کا والد اس غلام پر قابض تھا اور وہ اپنی نو عمری سے اس پر قبضہ نہ کر سکتے تھے جب آپ ﷺ نے فرمایا : "ارددہ" کہ اس کو واپس کر دو۔ جب حکماء ان کا قبضہ ہو گیا تو آپ نے لوٹانے کا حکم دیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ عطیہ والد نے اپنے ایک لڑکے کو دیا تھا اور جس کو دیا گیا وہ اس کا مالک نہ تھا اور نہ اس کا ہبہ منعقد ہوا۔ دوسروں نے کہا والد کو چاہئے کہ اپنی اولاد کے عطیات میں برابری برتے تاکہ وہ احسان میں برابر ہوں ان میں کوئی ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ ہو۔ اس نے جن کو کم دیا گیا ان کے دلوں میں دوری پیدا ہو گی اگر اس نے کچھ چیزیں ایک کو دیں اور اس نے قبضہ کر لیا یہ سمجھ کر کہ یہ میری ہے اگر وہ بڑایا والدنے ا س کی طرف سے قبضہ کر لیا جبکہ وہ چھوٹا تھا تاکہ اس کو بتلا دیا جائے کہ یہ اس کی چیز ہے اور اس پر گواہ بھی بنائے تو یہ درست ہے ۔ روایت نعمان کا چھوٹا بچہ ہونا ثابت نہیں ہو تا شاید وہ بڑے تھے مگر انہوں نے غلامپر قبضہ نہ کیا تھا ۔ یہ روایت دوسری سند سے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5706

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5707

5396 - فحدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا وهيب عن داود بن أبي هند عن عامر الشعبي عن النعمان بن بشير قال انطلق بي أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم ونحلني نحلي ليشهده على ذلك فقال أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا قال أيسرك أن يكونوا إليك في البر كلهم سواء قال بلى قال فأشهد علي هذا غيري فكان والذي في هذا الحديث من قول النبي صلى الله عليه و سلم لبشير فيما كان نحله النعمان أشهد على هذا غيري فهذا دليل أن الملك ثابت لأنه لو لم يثبت لا يصح قوله فهذا خلاف ما في الحديث الأول لأن هذا القول لا يدل على فساد العقد الذي كان عقده النعمان لأن النبي صلى الله عليه و سلم قد يتوفى الشهادة على ماله أن يشهد عليه وعلى الأمور التي قد كانت وكذلك لمن بعده لأن الشهادة إنما هي أمر يتضمنه الشاهد للمشهود له فله أن لا يتضمن ذلك وقد يحتمل غير هذا أيضا فيكون قوله أشهد علي هذا غيري أي إني أنا الإمام والإمام ليس من شأنه أن يشهد وإنما من شأنه أن يحكم وفي قوله أشهد على هذا غيري دليل على صحة العقد وقد

عامر شعبی نے نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا تھا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنانا چاہتے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اس قسم کا عطیہ دیا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کیا تم کو یہ پسند ہے کہ وہ بھلائی میں سب تمہارے ہاں برابر ہوں انہوں نے کہا جی ہاں کیوں نہیں آپنے فرمایا پھرتم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بن الو اس روایتمین حضرت نعمان کو عطیہ دینے پر حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کو جناب نبی اکرم ﷺ نے کسی اور کو گواہ بنانے کا حکم فرمایا پس اس سے ثابت ہوا کہ نعمان کے لئے ملک ثابت تھی کیونکہ اگر ان کی ملک ثابت نہ ہوتی تو آپ اس پر کسی دوسرے کو گواہ بنانے کا حکم نہ فرماتے ۔ اس روایت کا مضمون پہلی روایت کے خلاف ہت کیونکہ جناب رسول اللہﷺ بعض اوقات ان معاملات پر گواہ بننے سے احتراز فرماتے تھے جن پر آپ کو گواہ بننا جائز ہوتا اس طرح ا وہ امور جو ہو چکے ہوتے نیز آپ کے بعد والے حضرات کے لئے بھی ایسا کرنا جائز تھا کیونکہ شہادت ایک ایسا معاملہ ہے جس مین شاید مشہود کے لئے ضامن بنتا ہے اور آپ کو حق تھا کہ ضامن نہ بنتے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ نے اور کو گواہ بنانے کا فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں حاکم ہوں اور گواہ بننا امام و حاکم کی شان نہیں بلکہ وہ تقو امور کا فیصل ہے آپ کا یہ فرما دینا میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ صحت عقد کی دلیل ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5707

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5708

5397 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا آدم قال ثنا ورقاء عن المغيرة عن الشعبي قال سمعت النعمان على منبرنا هذا يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم سووا بين أولادكم في العطية كما تحبون أن يسووا بينكم في البر قال أبو جعفر فكان المقصود إليه في هذا الحديث الأمر بالتسوية بينهم في العطية ليستووا جميعا في البر وليس فيه شيء من ذكر فساد العقد المعقود على التفضيل

شعبی کہتےہیں کہ میں نے نعمان رضی اللہ عنہ کو ہمارے اس منبر پر فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنی اولاد کے درمیان عطیات میں برابری کرو جیسا کہتم یہ پسند کرتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ بھائی و احسان میں برابر ہوں ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس ارشاد سے مقصود مبارک یہ تھا کہ عطیات مین اولاد کے درمیان برابری ہونی چاہئے تا کہ وہ احسان میں وہ برابری کرنے والے ہوں اس میں عقد کے فساد کی کوئی دلیل نہیں جو بعض کی فضیلت کی وجہ سے قائم ہوا ۔

النعمان على منبرنا هذا ← الشَّعْبِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5708

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5709

5398 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا عباد بن العوام عن حصين عن الشعبي قال سمعت النعمان بن بشير يقول أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة لا أرضى حتى تشهد من الأشهاد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني قد أعطيت ابني من عمرة عطية وإني أشهدك قال أكل ولدك أعطيت مثل هذا قال لا قال فأتقوا الله وأعدلوا بين أولادكم فليس في هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم أمره برد الشيء وإنما فيه الأمر بالتسوية

شعبی کہتے ہیں کہ میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا میرے والد نے مجھے عطیہ عنایت فرمایا میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا میں تو اس کو اس وقت پسند کروں گی جب کہ تم جناب رسول اللہﷺ کو اس پر گواہ بناؤ ۔ وہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا مین نے اپنی بیوی عمرہ کے بیٹے کو عطیہ دیا ہے اور میں اس پر آپ کو گواہ بناتا ہوں آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو اس طرح کا عطیہ دیا میں نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے مابین برابری کرو ۔ اس روایت میں بھی یہ موجود نہیں کہ جناب رسول اللہﷺ نے اس عطیہ کو واپس لینے کا حکم فرمایا ہو بلکہ اس میں صرف برابری کا حکم فرمایا ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5709

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5710

5399 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا مرجى قال ثنا داود عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال انطلق بي أبي يحملني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إشهد أني قد نحلت النعمان من مالي كذا وكذا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم أكل ولدك نحلته قال لا قال أما يسرك أن يكونوا لك في البر سواء قال بلى قال فلا إذا فقد اختلف لفظ حديث داود هذا فيما روى عنه مرجى ههنا وفيما روى عنه وهيب فيما قد تقدم في هذا الباب وهكذا رواه الشعبي عن النعمان وقد رواه أبو الضحى عن النعمان أيضا

شعبی نےنعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے اٹھا کر جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ۔ تو جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو عطیہ دیا ہے انہوں نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بات تمہیں پسند ہے کہ وہ تیرے ساتھ احسان میں برابر ہوں ۔ اس نے کہا کیوں نہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ پھر ایسا مت کرو ۔ داؤد کی اس روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں جو اس سے مرجی سے یہاں روایت کی ہے اور جو اس نے ویب سے روایت کی جو گزر ی اسی طرح شعبی نے نعمان سے روایت کی ہے اور ابو الضحی نے نعمان سے بھی روایت کی ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← مرجى ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5710

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5711

5400 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن فطر ح

مسدد نے یحیی سے انہوں نے فطر سے روایت کی ہے ۔

فِطْرٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5711

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5712

وحدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا فطر قال ثنا أبو الضحى قال سمعت النعمان بن بشير يقول ذهب بي أبي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ليشهده على شيء أعطانيه فقال ألك ولد غيره قال نعم فقال بيده ألا سويت بينهم فلم يخبر في هذا الحديث أنه أمره برده وإنما قال ألا سويت بينهم على طريق المشورة وأن ذلك لو فعله كان أفضل وقد روى عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم في قصة النعمان هذا خلاف كل ما روينا عن النعمان

ابو الضحی کہتےہیں کہ میں نے نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ کو فرمات سنا کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے تا کہ وہ اس چیز پر آپ کو گواہ بنائیں جو انہوں نے نجھے دی تھی تو وہ کہنے لگے کیا تمہارا اور بھی لڑکا ہے اس نے کہا جی ہاں ۔ تو آپ نے اپنےدست اقدس سے فرمایا تم ان کے مابین برابری کیوں نہیں کرتے ۔ پس اس روایت میں س بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ آپ نے ان کو واپس کرنے کاحکم فرمایا بس اتنی بات فرمائی کہ تم ان کے مابین برابری کیوں نہیں کرتے یہ بطور مشورہ فرمایا ۔ کیوں کہ ایسا کرنا زیادہ بہتر و افضل تھا ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبُو الضُّحَی ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5712

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5713

5401 - حدثنا فهد قال ثنا النفيل قال ثنا زهير قال ثنا أبو زبير عن جابر قال قالت امرأة بشير لبشير أنحلي ابني غلامك وأشهدي لي رسول الله صلى الله عليه و سلم عليه قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إن بنت فلان سألتني أن أنحل ابنها غلامي وقالت أشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أله إخوة قال نعم قال أفكلهم أعطيته قال لا قال فإن هذا لا يصلح وإني لا أشهد إلا على حق ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما كان أمره لبشير بالرد قبل إنفاذ بشير الصدقة فأشار النبي صلى الله عليه و سلم عليه بما ذكرنا وهذا خلاف جميع ما روى عن النعمان لأن في تلك الأحاديث أنه نحله قبل أن يجئ به إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنه قال للنبي صلى الله عليه و سلم إني نحلت ابني هذا كذا فأخبر أنه قد كان فعل وفي حديث جابر هذا إخباره للنبي صلى الله عليه و سلم بسؤال امرأته إياه فكان كلام النبي صلى الله عليه و سلم إياه بما كلمه به على طريق المشورة وعلى ما ينبغي أن يفعل عليه الشيء إن آثر أن يفعله وقد روى شعيب بن أبي حمزة هذا الحديث عن الزهري موافقا لهذا المعنى

ابو الزبیر نے جابر سے روایت کی ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی نے کہا میرے بیٹے کو اپنا غلامبطور عطیہ دے دو اور اس پر جناب رسول اللہﷺ کو گواہ بنا لو ۔ جاب ررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہﷺ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام دے دوں ااور وہ کہتی ہے کہ اس پر آپ کی گواہی ڈالواؤں ۔ آپ نے فرمایا کیا س کے اور بھائی ہیں اس کہا جی ہاں آپ نے فرمایا کیا تم نے سب کو عطیہ دیا ہے انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا یہ مناسب نہیں ۔ میں تو خالص حق بات پر گواہ بنتا ہوں ۔ یہ روایت بتلاتی ہے جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بشیر کو فرمائی کہ ایسا مت کرو یہ بشیر کے عطیہ دینے سے پہلے کی بات ہے آپ نے اس میں اعلی کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ روایت نعمان سے مروی تمام روایات کے خلاف ہے کیونکہ ان روایات میں یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں آنے سے پہلے عطیہ کر دیا تھا اور ان کے الفاظ یہ تھے " انی نحلت " جس نے فعل عطیہ کا ثبوت ملتا ہے اور روایت جابر رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کے سوال کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشورہ طلب کیا تو آپ نے بطریق مشورہ فرمایا اور جو کرنا مناسب تھا وہ بتلایا اگر وہ ترجیح دینا چاہتا ہو۔

جَابِرٍ ← أبو زبير ← زُهَيْرٍ ← النفيل ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5713

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5714

5402 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب عن الزهري قال حدثني حميد بن عبد الرحمن ومحمد بن النعمان أنهما سمعا النعمان بن بشير يقول نحلني أبي غلاما ثم مشى بي حتى أدخلني على النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني نحلت ابني غلاما فإن أذنت أن أجيزه له أجزته ثم ذكر الحديث فدل ما ذكرنا على أنه لم يكن النحلي كملت فيه من حين نحله إياه إلى أن أمره النبي صلى الله عليه و سلم برده وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قسم شيئا بين أهله سوى بينهم جميعا فأعطى المملوك منهم كما يعطى الحر

زہری نے حمید اور محمدبن نعمان دونوں سے انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے ایک غلام دینا چاہا پھر وہ مجھے لے کر جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے بیٹے کو ایک غلام دینا ہپے اگر آپ کی اجازت ہو گی تو میں اس کو عنایت کر دوں گا پھر روایت اسی طرح ذکر کی ۔ اس روایت سے بھی دلالت مل گئی کہ آپ نے عطیہ نہ کیا تھااس کی تکمیل کا دارومدار آ پ کی اجازت مبارکہ تھی اور آپ ﷺ کا معمول مبارک اپنے اہل کے درمیان تمام چیزوں میں برابری تھا مملوک و حر میں برابری فرماتے ۔

حميد بن عبد الرحمن ومحمد بن النعمان أنهما سمعا النعمان بن بشير ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5714

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5715

5403 - حدثنا بذلك يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي ذئب عن القاسم بن عباس عن عبد الله بن دينار عن عروة عن عائشة قالت أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بطيبة خرز فقسمها بين الحرة والأمة قالت عائشة وكذلك كان أبي يقسم للحر والعبد فكان هذا مما كان النبي صلى الله عليه و سلم يفعله يعم بعطاياه جميع أهله حرهم وعبدهم ليس على أن ذلك واجب ولكنه أحسن من غيره فكذلك كانت مشورته في الولد أن يسوي بينهم في العطية ليس على أنه واجب ولا على أن غيره إن فعل لم يثبت وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد فضل بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم بعض أولادهم على بعض في العطايا

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس شفاف موتی آئے تو آپ نے آزاد و حر کی تفریق کے بغیر ان کو تقسیم فرما دیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد صاحب بھی اسی طرح تقسیم فرماتے ۔ آپ ﷺ کا یہ طرز عمل اس لئے تھاتا کہ تمام اہل کو آپ کے عطیات عام ہوں خواہ وہ غلام ہو یا آزاد ۔ یہ تقسیم واجب تو نہ تھی مگر اعلی ضرور تھی پس اسی طرح آپ کا مشورہ مبارک اولاد کے سلسلہ میں عطیات میں تسویہ و برابری اس طور پر نہ تھا کہ یہ فرض واجب ہے اور نہ اس طور پر تھا کہ اگر اس کے علاوہ کیا جائے تو وہ نافذ نہ ہو گا ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عبد الله بن دينار ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن وَهْبٍ ← بذلك يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5715

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 2 باب الرجل ينحل بعض بينه دون بعض ) · حديث 5716

5404 - فحدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة عن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم أنها قالت إن أبا بكر الصديق نحلها جداد عشرين وسقا من ماله بالغابة فلما حضرته الوفاة قال والله يا بنية ما من أحد من الناس أحب إلي غني منك ولا أعز الناس علي فقرا من بعدي منك وإني كنت نحلتك جداد عشرين وسقا فلو كنت جددتيه وأحرزتيه كان لك وإنما هو اليوم مال وارث وإنما هما أخوك وأختاك فاقتسموه على كتاب الله تعالى فقالت عائشة والله يا أبت لو كان كذا وكذا لتركته إنما هي أسماء فمن الأخرى قال ذو بطن بنت خارجة أراها جارية

زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مقام غابہ کے مال سے بیس وسق کھجوریں اتاری ہوئیں عنایت کیں اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو فرمایا بیٹی ! اللہ کی قسم ! مالداری کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر مجھے کوئی پسند نہیں اور تیری محتاجی سے بڑھ کر میرے لئے کسی کی محتاجی زیادہ پریشان کن نہیں میں نے تمہیں بیس وسق اتاری ہوئی کھجوریں دی تھیں اگر تم ان کو الگ کر کے قبضہ کر چکی ہوتیں تو وہ تمہاری ہوتیں لیکن آج جو کچھ ہے وہ وارثوں کا ہے اور وہ تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں انہیں قرآن مجید کے حکم کے مطابق تقسیم کر لینا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ابا جان ! اللہ کی قسم ! اگر مال اس قدر بھی ہوتا تو میں چھوڑ دیتی میری تو ایک بہن اسماء ہیں دوسری کون سی ہے انہوں نے کہا کہ خارجہ کی بیٹی ( زوجہ صدیق رضی اللہ عنہا ) کے پیٹ میں جو کچھ ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہو گی ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5716

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter