شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5681
5371 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة وهشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال العائد في هبته كالعائد في قيئه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الواهب ليس له أن يرجع فيما وهب واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جعل الرجوع في الهبة كالرجوع في القيئ وكان رجوع الرجل في قيئه حراما عليه كان كذلك رجوعه في هبته وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا للواهب أن يرجع في هبته إذا كانت قائمة على حالها لم تستهلك ولم يزد في بدنها بعد أن يكون الموهوب له ليس بذي رحم محرم من الواهب وبعد أن يكون لم يثبته أي لم يعطه منها ثوابا فإن كان أثابه منها ثوابا وقبل ذلك الثواب منه أو كان الموهوب له ذا رحم محرم من الواهب فليس للواهب أن يرجع فيها فإن لم يكن الواهب ذا رحم محرم للموهوب له ولكنها امرأة وهبت لزوجها أو زوج وهب لأمرأته فهما في ذلك كذي الرحم المحرم وليس لواحد منهما أن يرجع فيما وهب لصاحبه وكان من الحجة لهم في ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل العائد في هبته ولم يبين لنا من العائد في قيئه فقد يجوز أن يكون أراد الرجل العائد في قيئه فيكون قد جعل العائد في هبته كالعائذ فيما هو حرام عليه فثبت بذلك ما قال أهل المقالة الأولى وقد يجوز أن يكون أراد الكلب العائد في قيئه والكلب غير متعبد بتحريم ولا تحليل فيكون العائد في قيئه عائدا في قذر كالقذر الذي يعود فيه الكلب فلا يثبت بذلك منع الواهب من الرجوع في الهبة فنظرنا في ذلك هل نجد في الآثار ما يدلنا على مراد رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحديث الأول ما هو
حضرت سعید ابن مسیب رحمۃاللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے والا قے کر کے لوٹانے والے کی طرح ہے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے ہبہ والا دی ہوئی چیز کو واپس نہیں کر سکتا انہوں نے اس سلسلہ میں مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔جناب رسول اللہ ﷺ نے ہبہ سے رجوع کرنے والے کو قے کر کے واپس لوٹانے والے کی طرح قرار دیا اور قے کر کے واپس کرنا حرام ہے تو ہبہ میں رجوع کا بھی یہی حکم ہے ۔ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کو واپس لے سکتا ہے جب تک کہ وہ اپنی چیز اسی حالت پر قائم ہوا اور ہلاک نہ ہوئی اور نہ اس کے بدن میں کوئی اضافہ ہوا ۔ جس کو ہبہ کیا گیا وہ اس کو ارشتہ دار نہ ہو اس کی طرف سے اسے کوئی بدلہ بھی نہ نلا ہو ۔ اگر اس نے اس کے بدلے کچھ دے دیا اور اس نے قبول بھی کر لیا یا ہبہ کیا ہوا شخص اس کا قریبی رشتہ دار ہو تو ہھر ہبہ کرنے والا واپس نہیں کر سکتا اگر ہبہ کیا ہوا شخص اس کا رشتہ دار نہ ہو بلکہ اس کی بیوی نے اقپنے خاوند کو یا خاوند نے اپنی بیوی کو ہبہ کیا ہو تو یہ دونوں اس معاملے میں قریبی رشتی دار کی طرح ہیں ان میں سے ایک بھی دوسرے کو دی ہوئی چیز واپس نہیں کر سکتا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہبہ کر کے واپس کرنے والے کو قے کر کے واپس لوٹانے والے سے تشبیہ دی ۔ البتہ قے کر کے اسے واپس لوٹانے والے کے بارے میں یہ نہیں بتلایا کہ اس سے کون مراد ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہو جو قےکر کے اسے واپس لوٹا تا ہے تو آپ نے ہبہ کر کے لوٹانے والے کو قے کر کے اسے چاٹنے والے کی طرح قرار دیا اور یہ حرام ہے اس سے پہلے قول والوں کی بات ثابت ہو جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس مراد وہ کتا ہو جو قے کرکے چاٹتا ہو اور کتا حرام و حلال کا مکلف نہیں فلہذا ہبہ کو لوٹانے والا گویا گندگی جو لوٹانے والا ہے جو اس گندگی کی طرح ہے جس کوکتا لوٹاتا ہے ۔ اس صورت میں اس سے یہ بات ثابت نہ ہو گی کہ واہب کو ہبہ سے رجوع کرنا منع ہے ۔ اب ہم دیکھتےہیں کہ آیا روایات میں کو ئی ایسی روایت موجود ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ کی اس مراد پر دلالت کرنے والی ہے جو پہلی روایت سے ظاہر ہو رہی ہے ۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَۃُ، وَھِشَامٌ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5681
