Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5681

5371 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة وهشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال العائد في هبته كالعائد في قيئه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الواهب ليس له أن يرجع فيما وهب واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جعل الرجوع في الهبة كالرجوع في القيئ وكان رجوع الرجل في قيئه حراما عليه كان كذلك رجوعه في هبته وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا للواهب أن يرجع في هبته إذا كانت قائمة على حالها لم تستهلك ولم يزد في بدنها بعد أن يكون الموهوب له ليس بذي رحم محرم من الواهب وبعد أن يكون لم يثبته أي لم يعطه منها ثوابا فإن كان أثابه منها ثوابا وقبل ذلك الثواب منه أو كان الموهوب له ذا رحم محرم من الواهب فليس للواهب أن يرجع فيها فإن لم يكن الواهب ذا رحم محرم للموهوب له ولكنها امرأة وهبت لزوجها أو زوج وهب لأمرأته فهما في ذلك كذي الرحم المحرم وليس لواحد منهما أن يرجع فيما وهب لصاحبه وكان من الحجة لهم في ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل العائد في هبته ولم يبين لنا من العائد في قيئه فقد يجوز أن يكون أراد الرجل العائد في قيئه فيكون قد جعل العائد في هبته كالعائذ فيما هو حرام عليه فثبت بذلك ما قال أهل المقالة الأولى وقد يجوز أن يكون أراد الكلب العائد في قيئه والكلب غير متعبد بتحريم ولا تحليل فيكون العائد في قيئه عائدا في قذر كالقذر الذي يعود فيه الكلب فلا يثبت بذلك منع الواهب من الرجوع في الهبة فنظرنا في ذلك هل نجد في الآثار ما يدلنا على مراد رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحديث الأول ما هو

حضرت سعید ابن مسیب رحمۃاللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے والا قے کر کے لوٹانے والے کی طرح ہے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے ہبہ والا دی ہوئی چیز کو واپس نہیں کر سکتا انہوں نے اس سلسلہ میں مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔جناب رسول اللہ ﷺ نے ہبہ سے رجوع کرنے والے کو قے کر کے واپس لوٹانے والے کی طرح قرار دیا اور قے کر کے واپس کرنا حرام ہے تو ہبہ میں رجوع کا بھی یہی حکم ہے ۔ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کو واپس لے سکتا ہے جب تک کہ وہ اپنی چیز اسی حالت پر قائم ہوا اور ہلاک نہ ہوئی اور نہ اس کے بدن میں کوئی اضافہ ہوا ۔ جس کو ہبہ کیا گیا وہ اس کو ارشتہ دار نہ ہو اس کی طرف سے اسے کوئی بدلہ بھی نہ نلا ہو ۔ اگر اس نے اس کے بدلے کچھ دے دیا اور اس نے قبول بھی کر لیا یا ہبہ کیا ہوا شخص اس کا قریبی رشتہ دار ہو تو ہھر ہبہ کرنے والا واپس نہیں کر سکتا اگر ہبہ کیا ہوا شخص اس کا رشتہ دار نہ ہو بلکہ اس کی بیوی نے اقپنے خاوند کو یا خاوند نے اپنی بیوی کو ہبہ کیا ہو تو یہ دونوں اس معاملے میں قریبی رشتی دار کی طرح ہیں ان میں سے ایک بھی دوسرے کو دی ہوئی چیز واپس نہیں کر سکتا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہبہ کر کے واپس کرنے والے کو قے کر کے واپس لوٹانے والے سے تشبیہ دی ۔ البتہ قے کر کے اسے واپس لوٹانے والے کے بارے میں یہ نہیں بتلایا کہ اس سے کون مراد ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہو جو قےکر کے اسے واپس لوٹا تا ہے تو آپ نے ہبہ کر کے لوٹانے والے کو قے کر کے اسے چاٹنے والے کی طرح قرار دیا اور یہ حرام ہے اس سے پہلے قول والوں کی بات ثابت ہو جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس مراد وہ کتا ہو جو قے کرکے چاٹتا ہو اور کتا حرام و حلال کا مکلف نہیں فلہذا ہبہ کو لوٹانے والا گویا گندگی جو لوٹانے والا ہے جو اس گندگی کی طرح ہے جس کوکتا لوٹاتا ہے ۔ اس صورت میں اس سے یہ بات ثابت نہ ہو گی کہ واہب کو ہبہ سے رجوع کرنا منع ہے ۔ اب ہم دیکھتےہیں کہ آیا روایات میں کو ئی ایسی روایت موجود ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ کی اس مراد پر دلالت کرنے والی ہے جو پہلی روایت سے ظاہر ہو رہی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَۃُ، وَھِشَامٌ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5681

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5682

5372 - فإذا فهد بن سليمان قد حدثنا قال ثنا يحيى بن عبد الحميد قال ثنا عبد الله بن المبارك عن خالد الحذاء عن عكرمة عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ليس لنا مثل السوء الراجع في هبته كالكلب يعود في قيئه

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ہمارے سامنے بری حالت کی مثال بیان فرمائی کہ ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو چاٹتا ہے ۔

ليس لنا مثل السوء الراجع في هبته كالكلب يعود في قيئه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يحيى بن عبد الحميد ← فإذا فهد بن سليمان قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5682

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5683

5373 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا معلي بن أسد قال ثنا وهيب عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال العائد في هبته كالكلب يقئ ثم يعود في قيئه فدل هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أراد بما قد ذكرنا في الحديث الأول تنزيه أمته عن أمثال الكلاب لا أنه أبطل أن يكون لهم الرجوع في هباتهم وقد روي هذا الكلام أيضا الذي رويناه عن بن عباس عن أبي هريرة رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه و سلم

عبداللہ بن طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ ہبہ کو واپس کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کر پھر اپنی قے کو دوبارہ لوٹا لیتا ہے ۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس پہلی روایت میں جو ہم نے ذکر کی ہے آپ نے اپنی قمت کو کتوں کے اوصاف اپنانے سے بچانے کا ارادہ فرمایا ہے یہ بات نہیں کہ ہبہ کی ہوئی اشیاء کو واپس کرے کو آپ نے باطل قرار دیا ۔

العائد في هبته كالكلب يقئ ثم يعود في قيئه فدل هذا الحديث ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5683

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5684

5374 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا عوف عن الحسن عن النبي صلى الله عليه و سلم ح

عوف نے حسن سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5684

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5685

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا عوف عن خلاس بن عمرو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال مثل الذي يعود في عطائه كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه فأكله وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثل هذا الكلام في معنى غير هذا المعنى

خلاس بن عمرو کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ آپ نے فرمایا جو شخص اپنے عطیہ کو لوٹاتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہتا ہے جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اسے چاٹ کر واپس کر لیتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَوْفٌ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5685

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5686

5375 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبي داود قالا ثنا أبو صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر كان يحدث أن عمر تصدق بفرس في سبيل الله فوجده يباع بعد ذلك فأراد أن يشتريه فأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأستأمره في ذلك فقال له رسول لله صلى الله عليه و سلم لا تعد في صدقتك فلذلك كان بن عمر لا يرى أن يبتاع مالا جعله صدقة

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ کیا اس کے بعد اسے فروخت ہوتا ہوا پایا تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا اپنے صدقہ کو واپس مت لو ۔ اسی بات کے پیش نظر ابن عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو جائز نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی جس مال کو صدقہ کرے اسی کو خریدے ۔

سالم بن عبد الله: أن عبد الله بن عمر كان ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5686

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5687

5376 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن أبيه قال سمعت عمر بن الخطاب يقول حملت على فرس في سبيل الله فأضاعه الذي كان عنده فأردت أن أبتاعه منه وظننت أنه بائعه برخص هو ضد الغلاء فسألت عن ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا تبتعه وإن أعطاكه بدرهم واحد ولا تعد في صدقتك فإن العائد في صدقته كالكلب يعود في قيئه

زید بن اسلم اپنے والد سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں ایک گھوڑا ایک شخص کو جہاد کے لئے دیا اس نے اس کو ضائع کر دیا میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا اور سوچا کہ وہ اسے کم قیمت میں فروخت کر دے گا ۔ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اسےمت خریدو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم کے بدلے دے اور اپنا صدقہ واپس نہ کرو کیونکہ صدقہ واپس کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹ لیتا ہے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5687

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5688

5377 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا سفيان عن زيد أسلم عن أبيه عن عمر أنه أبصر فرسا تباع في السوق وكان تصدق به فسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم أشتريه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تشتره ولا شيئا من نتاجه أي مما ينتجه من الولد فمنع رسول الله صلى الله عليه و سلم عمر رضي الله عنه أن يبتاع ما كان تصدق به أو شيئا من نتاجه وجعله إن فعل ذلك كالكلب يعود في قيئه فلم يكن ذلك بموجب حرمة إبتياع الصدقة على المتصدق بها ولكن ترك ذلك أفضل له فكذلك ما ذكرنا قبل هذا لما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الرجوع في الهبة ليس على تحريم ذلك سواء ولكنه لأن تركه أفضل وقد

زید بن اسلم نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے بازار میں ایک گھوڑا فراخت ہوتے دیکھا اور وہ وہی گھوڑا تھا جو صدقہ میں دیا جا چکا تھا چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں اس کو خرید لوں تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسے مت خریدو اور نہ اس کے بچوں میں سے کسی کو خریدو ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کے خریدنے سے روک دیا جس کو انہوں نے صدقہ کیا تھا ۔ اس طرض اس کی اولاد کی خریداری سے روک دیا اور اس فعل کو اس کتے کے فعل کی طرح قرار دیا جو قے کر کے لوٹاتا ہے اس سے یہ بات لازم نہی آتی کہ صدقہ کرنے والے کے لئے صدقہ کے مال کو خریدنا حرام ہے بلکہ اس کو چھوڑنا ( نہ خریدنا ) افضل ہے ۔ اوی طرح جو پہلے ذکر ہوا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ہبہ کو واپس لینے کے سلسلے میں جو کچھ فرمایا اس سے اس کی حرمت مراد نہیں بلکہ ( اس سے کراہت دلا کر ) اس کے چھوڑنے کا افضل ہونا ظاہر فرمایا ۔

أَبِيهِ ← زيد أسلم ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5688

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5689

5378 - حدثنا بن أبي عمران قال ثنا عبيد الله بن عمر القواريري قال ثنا يزيد بن ذريع عن حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن طاوس عن بن عمر وابن عباس رضي الله عنهم قالا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يحل لواهب أن يرجع في هبته إلا الوالد لولده فقال قائل فقد دل هذا الحديث على تحريم الرجوع في الهبة من الرجل لغير ولده قيل له ما دل ذلك على شيء مما ذكرت فقد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم وصف ذلك الرجوع بأنه لا يحل لتغليظه إياه لكراهية أن يكون لأحد من أمته مثل السوء وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تحل الصدقة لذي مرة سوي فلم يكن ذلك على معنى أنها تحرم على الأغنياء ولكنها على معنى لا تحل له من حيث تحل لغيره من ذوي الحاجة والزمانة فكذلك ما ذكرنا من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا لا يحل لواهب أن يرجع في هبته إنما هو علي أنه لا يحل له ذلك كما تحل له الأشياء التي قد أحلها الله عز و جل لعباده ولم يجعل لمن فعلها مثلا كالمثل الذي جعله رسول الله صلى الله عليه و سلم للعائد في هبته وقد دخل في ذلك العود فيها بالرجوع والابتياع وغيره ثم استثنى منذلك ما وهب الوالد لولده فذلك عندنا والله أعلم على إباحته للوالد أن يأخذ ما وهب لابنه في وقت حاجته إلى ذلك وفقره إليه لأن ما يجب للولد من ذلك ليس بفعل يفعله فيكون ذلك رجوعا منه يكون مثله فيه كمثل الكلب المتراجع في قيئه ولكنه شيء أوجبه الله عز و جل له لفقره فلم يضيق ذلك عليه كما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا في غير هذا الحديث

طاوس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے رویات کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ہبہ کرنے والے کو جائز نہیں کہ وہ ہبہ کی ہو ئی چیز کو واپس کرے الجناب رسول اللہ ﷺالبتہ باپ اپنے بیٹے سے ہبہ واپس لے سکتا ہے ۔ اس روایت سے ثابت ہو وہا ہے کہ کسی آدمی کو ہبہ واپس کرنا حرام ہے البتہ اپنے لڑکے سے ہبہ لوٹا سکتا ہے ۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ روایت میں تو آپ کی بات پر دلالت موجود نہیں ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات لایحل بطور تغلیظ فرماےئی ہو کیونکہ آپ اپنے کسی امت میں بھی بری مثال کا انطباق پسند نہ فرماتے تھے ۔ جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی تندرست ٹھیک ٹھاک آدمی کے لئے صدقہ حلال نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس پر حرام ہے جس طرح کہ مالدار لوگوں پر حرام ہے بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح دیگر حاجتمندوں اور اپاہجوں کے لئے حالال ہے اسی طرح اس کے لئے حلال نہیں ۔ پس اسی طرح جو ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کیا کہ ہبہ کرنے والے کو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینا حلال نہیں کا مطلب ہے کہ اس کے لئے یہ اس طرح حلال نہیں جس طرح دیگر اشیاء ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے حلال قرار دیا ہے اور ان کو لینے والوں کے لئے ایس مثال بیان نہیں فرمائی ۔ جیسی کچھ ہبہ کر کے واپس کرنے والے کے لئے بیان فرمائیں اور اس رجوع کرنے کے ماتحت ہبہ شدعہ چیز کو واپس لینا اس کو خریدنا اور دیگر صورتیں شامل ہیں ۔ پھر اس سے والد کا بیٹے کو دیا ہوا مال مستثنی کیا ۔ واللہ اعلم ۔ مگر احناف کے ہاں یہ بھی جائز ہے جبکہ باپ کو حاجت ہو اور احتیاج ہو کیونکہ اس سلسلہ میں جو کچھ والد کے لئے واجب ہے وہ ایسا فعل نہیں ہے جس کے کرنے سے وہ واپسی کرنے میں کتے کے اپنی قے کے چاٹنے کے متاردف ہو بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالی نے اس (والد ) کے فقر کی حالت میں بیٹے کے لئے واجب کیا ہے اور اس سلسلہ میں سے کسی تنگی میں نہیں ڈالا جیسا کہ دیگر احادیث میں جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے ۔

بن عمر وابن عباس ← طَاوْسٍ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يزيد بن ذريع ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5689

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5690

5379 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن عمرو عن عبد الكريم بن مالك عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني أعطيت أمي حديقة وإنها ماتت ولم تترك وارثا غيري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم وجبت صدقتك ورجعت إليك حديقتك قال أبو جعفر أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أباح للمتصدق صدقته لما رجعت إليه بالميراث ومنع عمر بن الخطاب رضي الله عنه من إبتياع صدقته فثبت بهذين الحديثين إباحة الصدقة الراجعة إلى المتصدق بفعل الله كراهة الصدقة الراجعة إليه بفعل نفسه فكذلك وجوب النفقة للأب من مال الابن لحاجته وفقره وجبت له بإيجاب الله تعالى إياها له فأباح له النبي صلى الله عليه و سلم بذلك ارتجاع هبته وإنفاقها على نفسه وجعل ذلك كما رجع إليه بالميراث لا كما رجع إليه بالابتياع والارتجاع فإن قال قائل فقد خص النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث الوالد الواهب دون سائر الواهبين أفيكون حكم الولد فيما وهب لأبيه خلاف حكم الوالد فيما وهب لولده قيل له بل حكمهما في هذا سواء فذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم أحدهما على المعنى الذي ذكرنا يجزئ من ذكره إياهما ومن ذكر غيرهما ممن حكمه في هذا مثل حكمهما وقد قال الله عز و جل حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم وأخواتكم وعماتكم وخالاتكم وبنات الأخ وبنات الأخت فحرم هؤلاء جميعا بالأنساب ثم قال وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم وأخواتكم من الرضاعة ولم يذكر في التحريم بالرضاعة غير هاتين فكان ذكره ذلك دليلا على أن سائر من حرم بالنسب في حكم الرضاع سواء وأغناه ذكر هاتين بالتحريم بالرضاع عن ذكر من سواهما في ذلك إذ كان قد جمع بينهن جميعا في التحريم بالأنساب فجعل حكمهن حكما واحدا فدل تحريمه بعضهن أيضا بالرضاع أن حكمهن في ذلك حكم واحد فكذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قال لا يحل لأحد أن يرجع في هبته فعم بذلك الناس جميعا ثم قال إلا الوالد لولده على المعنى الذي ذكرنا دل ذلك على أن من سوى الوالد من الواهبين في رجوع الهبات إليهم يرد الله عز و جل إياها كذلك وأغناه ذكر بعضهم عن ذكر سائرهم فلم يكن في شيء من هذه الآثار ما يدلنا على أن للواهب أن يرجع في هبته بنقضه إياها حتى يأخذها من الموهوب له ويردها إلى ملكه المتقدم الذي أخرجها منه بالهبة فنظرنا هل نجد فيما روى عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك شيئا

عمر و بن شعیب نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ میں نے اپنی والدہ کو ایک باغ کا عطیہ دیا ہے اب اس کا انتقال ہو گیا اور اس نے میرے علاوہ کوئی وارث نہیں چھوڑا ۔ آپ نے فرمایا تمہارا صدقہ واجب ہو گیا ( ادا ہو چکا ) اورتیرا باغ تیری طرف واپس لوٹ آیا اگر کوئی معترض کہے کہ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ہبہ کرنے والے والد کو خاص کیا ہے باقی ہبہ کرنے والے کے لئے یہ حکم کیسے ہو سکتا ہے اگر بیٹا باپ کو کوئی چیز ہبہ کرے تو اس کا حکم باپ کے بیٹے کو ہبہ کرنے کے خلاف ہے ۔ تو اس کے جواب میں کہے اس سلسلے میں دونوں کا حکم یکساں ہے تو جناب نبی اکرم ﷺ کا اس سبب سے جس کو کہ ہم نے ذکر کیا ایک کا تذکرہ دونوں کے ذکر کو کفایت کرنے والا ہے بلکہ ان دونوں کے علاوہ کے لئے بھی کافی ہے جن کا یہی حکم ہو ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ تم پر تمہاری مائیں تمہاری بیٹیاں ، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ، تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں حرام کی گئی ہیں یہ نسبی رشتہ کے اعتبار سے ہیں پھر فرمایا تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی حرام ہیں دودھ کے رشتہ میں صرف ان دو کے ذکر پر اکتفا کیا ان دو کا ذکر کر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ جو عورتیں نسب کے لحاظ سے حرام ہیں ۔ دودھ کی وجہ سے بھی ان تمام کا حکم وہی ہے دودھ کی وجہ سے ان دو کے حرام ہونے کے تذکرے نے باقی کے تذکرے سے بے نیاز کر دیا کیونکہ نسب کی وجہ سے حرام ہونے میں تمام کا ذکر کر دیا اور ان تمام کے لئے ایک ہی حکم قرار دیا ( یعنی حرمت ) تو اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ رضاعت کی وجہ سے بعض کے حرام ہونے سے دوسری رضاعی رشتہ دار عورتیں کا حکم بھی یہی ہے ۔ اسی طرح جناب رسول اللہ ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ کسی شخص کو ہبہ میں رجوع درست نہیں تو یہ حکم تمام لوگوں کو شامل ہے پھر فرمایا سوائے باپ کے جو کہ اپنے بیٹے کو ہبہ کرے یہ بات جو کہ ہم نے کہی ہے اس کی بنا پر یہ اس بات پر دلالت ہے کہ والد کے علاوہ ہبہ کرنے والے اللہ تعالی کے حکم سے رجوع کریں تو یہی حکم ہو گا ۔ تو والد کے تذکرے نے دوسروں کے تذکرہ سے بے نیاز کر دیا ۔ فلہذا ان روایات میں ایسی کوئی بات نمہیں پائی جاتی جو اس بات پر دلالت کرنے والی ہو کہ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کو توڑ کر موہوب لہ سے واپس لے اور اسے اپنی سابقہ ملکیت میں لائے ۔ جس کی ملکیت سے اس نے ہبہ کر کے اس شئی کو نکالا تھا ۔ اب ہم دیکھنا چاہتے کہ آیا آثار صحابہ کرام میں ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے جس سے کوئی دلالت میسر آ جائے ۔

جده أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عبد الكريم بن مالك ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5690

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5691

5380 - فإذا إبراهيم بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا حنظلة عن سالم قال سمعت بن عمر يقول سمعت عمر بن الخطاب يقول من وهب هبة فهو أحق بها حتى يثاب منها بما يرضى

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے جس نے کسی کو کوئی چیز ہبہ کی وہ اس کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اس کا اپنی مرضی کے مطابق بدلہ پائے ۔

من وهب هبة فهو أحق بها حتى يثاب منها بما يرضى ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← حَنْظَلَةُ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← فإذا إبراهيم بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5691

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 15 كتاب الهبة والصدقة ) ‹ ( 1 باب الرجوع في الهبة ) · حديث 5692

5381 - وإذا يونس قد حدثنا قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن داود بن الحصين عن أبي غطفان بن طريف المري عن مروان بن الحكم أن عمر بن الخطاب قال من وهب هبة لصلة رحم أو على وجه صدقة فإنه لا يرجع فيها ومن وهب هبة يرى أنه إنما يراد به الثواب فهو على هبته يرجع فيها إن لم يرض منها فهذا عمر رضي الله عنه قد فرق بين الهبات والصدقات فجعل الصدقات لا يرجع فيها وجعل الهبات على ضربين فضرب منها صلة الأرحام فرد ذلك إلى حكم الصدقات ومنع الواهب من الرجوع فيها وضرب منها خلاف ذلك فجعل للواهب أن يرجع فيه ما لم يرض منه

مروان بن حکم نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے صلہ رحمی کے لئے کوئی ہبہ کیا یا بطور صدقہ ہبہ کیا وہ اس میں رجوع نہ کرے اور جس نے اس لئے ہبہ کیا کہ اس سے مقصود صرف حصول ثواب تھا ۔ تو وہ اپنے ہبہ کے بارے میں اختیار رکھتا ہے اگر وہ اس کو اس کے ہاں پسند نہ کرے تو لوٹالے ۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے ہبہ اور صدقہ میں تفریق کر دی ۔ صدقات کو نہ لوٹا نے والا قرار دیا اور عطیات کے متعلق دو قسمیں کر دیں ۔ نمبر 1 جو صرف صلہ رحمی کی خاطر ہو تو صدقات کے حکم میں رکھا جائے گا اور ہبہ کرنے والا ان کو لوٹا نہیں سکتا ۔ نمبر 2 اگر واہب اس کے استعمال پر خوش نہ ہو تو اس کو واپس کر سکتا ہے ۔

مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← أَبَي غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← بن وهب أن مالكا ← وإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5692

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter