شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5671
5361 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني قرة بن عبد الرحمن وعمرو بن الحارث أن عامر بن يحيى المعافري أخبرهما عن حنش أنه قال كنا مع فضالة بن عبيد في غزوة فصارت لي ولأصحابي قلادة فيها ذهب وورق وجوهر فأردت أن أشتريها فسألت فضالة فقال انزع ذهبها وأجعله في الكفة واجعل ذهبا في الكفة الأخرى ثم لا تأخذن إلا مثلا بمثل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يأخذن إلا مثلا بمثل فهذا خلاف لما تقدمه من الأحاديث لأن فيه أمر فضالة بنزع الذهب وبيعه وحده ولم يذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم والذي ذكره عن النبي صلى الله عليه و سلم هو نهيه عن بيع الذهب بالذهب إلا وزنا بوزن فهذا مالا اختلاف فيه والأمر بالتفصيل من قول فضالة رضي الله عنه فقد يجوز أن يكون أمر بذلك على أنه لا يجوز عنده البيع فيها في الذهب حتى تفصل وقد يجوز أن يكون أمر بذلك لإحاطة علمه أن تلك قلادة لا يوصل إلى علم ما فيها من الذهب ولا إلى مقداره إلا بعد أن يفصل منها فقد اضطرب هذا الحديث فلم يوقف على ما أريد منه فليس لأحد أن يحتج بمعنى من المعاني التي روي عليها إلا احتج مخالفه عليه بالمعنى الآخر وقد قدمنا في هذا الباب كيف وجه النظر في ذلك وأنه على ما ذهب إليه الذين جعلوا حكم الذهب المبيع مع غيره بالذهب لا على قسم الثمن على القيم ولكن على أن الذهب مبيع بوزنه من الذهب الثمن وما بقي مبيع بما بقي من الثمن وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
حضرت حنش سے مروی ہے کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے تو مجھے اور میرے ساتھیوں کو ایک ہار ملا جس میں سونا اور جواہرات تھے میں نے اس کو خریدنا چاہا تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا انہوں نے فرمایا اس کا سونا الگ کردو اور اسے ترازو کے ایک پلڑے مین رکھو اور دوسرے پلڑے میں بھی سونا رکھو پھر برابر برابر کر کے لو ۔ اس کے علاوہ نہ لو کیونکہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ سونے کو سونے کے بدلے برابر کے علاوہ ہر گز نہ لے ۔ یہ روایت پہلی روایات کے خلاف ہے کیونکہ اس میں موجود ہے کہ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے سونا اترانے اور اس کو الگ فروخت کرنے کا حکم فرمایا اور یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل نہیں کی جو کچھ جناب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا ہے اس میں سونے کے بدلے سونے کے برابر برابر کے علاوہ فروخت کی ممانعت ہے اس میں تو کسی کو کلام نہیں ۔ البتہ سونے کو الگ کرنے کا حکم حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے ثابت ہے ۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اس بات کا حکم اس لئے دیا ہو کہ ان کے ہاں ہار میں جڑے ہوئے سونے کا الگ کئے بغیر فروخت کر ان درست نہ ہو یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اس کا حکم اس لئے دیا کہ وہ جانتے تھے کہ اس ہار میں جڑے ہوئے سونے کی مقدار کا عمل اس وقت تک حا صل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو الگ نہ کیا جائے ۔ اس روایت میں اضطراب ہوا اور یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس کا مطلب کیا ہے پس جو شخص ان معافی میں سے کسی ایک کو دلیل بنائے گا مخالف دوسرے معنی والی روایت ست استدلال کرے گا ۔ ہم نے اس باب میں قیاس کا طریقہ پہلے ذکر کر دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مسلک کے مطابق ہے جنہوں نے فروخت شدہ سونے کو دوسرے سونے کے مقابلے میں قرار دیا ہو ۔ نہ یہ کہ قیمت کو ان دونوں چیزوں کی قیمت پر تقسیم کرنا بلکہ سونا قیمت میں سے ہم وزن سونے کےئ مقابل ہو گا اور جو باقی رہے گا وہ اس چیز کی قیمت ہو گی جو سونے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔
عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5671
