Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5671

5361 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني قرة بن عبد الرحمن وعمرو بن الحارث أن عامر بن يحيى المعافري أخبرهما عن حنش أنه قال كنا مع فضالة بن عبيد في غزوة فصارت لي ولأصحابي قلادة فيها ذهب وورق وجوهر فأردت أن أشتريها فسألت فضالة فقال انزع ذهبها وأجعله في الكفة واجعل ذهبا في الكفة الأخرى ثم لا تأخذن إلا مثلا بمثل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يأخذن إلا مثلا بمثل فهذا خلاف لما تقدمه من الأحاديث لأن فيه أمر فضالة بنزع الذهب وبيعه وحده ولم يذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم والذي ذكره عن النبي صلى الله عليه و سلم هو نهيه عن بيع الذهب بالذهب إلا وزنا بوزن فهذا مالا اختلاف فيه والأمر بالتفصيل من قول فضالة رضي الله عنه فقد يجوز أن يكون أمر بذلك على أنه لا يجوز عنده البيع فيها في الذهب حتى تفصل وقد يجوز أن يكون أمر بذلك لإحاطة علمه أن تلك قلادة لا يوصل إلى علم ما فيها من الذهب ولا إلى مقداره إلا بعد أن يفصل منها فقد اضطرب هذا الحديث فلم يوقف على ما أريد منه فليس لأحد أن يحتج بمعنى من المعاني التي روي عليها إلا احتج مخالفه عليه بالمعنى الآخر وقد قدمنا في هذا الباب كيف وجه النظر في ذلك وأنه على ما ذهب إليه الذين جعلوا حكم الذهب المبيع مع غيره بالذهب لا على قسم الثمن على القيم ولكن على أن الذهب مبيع بوزنه من الذهب الثمن وما بقي مبيع بما بقي من الثمن وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

حضرت حنش سے مروی ہے کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے تو مجھے اور میرے ساتھیوں کو ایک ہار ملا جس میں سونا اور جواہرات تھے میں نے اس کو خریدنا چاہا تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا انہوں نے فرمایا اس کا سونا الگ کردو اور اسے ترازو کے ایک پلڑے مین رکھو اور دوسرے پلڑے میں بھی سونا رکھو پھر برابر برابر کر کے لو ۔ اس کے علاوہ نہ لو کیونکہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ سونے کو سونے کے بدلے برابر کے علاوہ ہر گز نہ لے ۔ یہ روایت پہلی روایات کے خلاف ہے کیونکہ اس میں موجود ہے کہ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے سونا اترانے اور اس کو الگ فروخت کرنے کا حکم فرمایا اور یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل نہیں کی جو کچھ جناب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا ہے اس میں سونے کے بدلے سونے کے برابر برابر کے علاوہ فروخت کی ممانعت ہے اس میں تو کسی کو کلام نہیں ۔ البتہ سونے کو الگ کرنے کا حکم حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے ثابت ہے ۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اس بات کا حکم اس لئے دیا ہو کہ ان کے ہاں ہار میں جڑے ہوئے سونے کا الگ کئے بغیر فروخت کر ان درست نہ ہو یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اس کا حکم اس لئے دیا کہ وہ جانتے تھے کہ اس ہار میں جڑے ہوئے سونے کی مقدار کا عمل اس وقت تک حا صل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو الگ نہ کیا جائے ۔ اس روایت میں اضطراب ہوا اور یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس کا مطلب کیا ہے پس جو شخص ان معافی میں سے کسی ایک کو دلیل بنائے گا مخالف دوسرے معنی والی روایت ست استدلال کرے گا ۔ ہم نے اس باب میں قیاس کا طریقہ پہلے ذکر کر دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مسلک کے مطابق ہے جنہوں نے فروخت شدہ سونے کو دوسرے سونے کے مقابلے میں قرار دیا ہو ۔ نہ یہ کہ قیمت کو ان دونوں چیزوں کی قیمت پر تقسیم کرنا بلکہ سونا قیمت میں سے ہم وزن سونے کےئ مقابل ہو گا اور جو باقی رہے گا وہ اس چیز کی قیمت ہو گی جو سونے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5671

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5672

5362 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن لهيعة عن عبد الله بن هبيرة السبائي عن أبي تميم الجيشاني قال اشترى معاوية بن أبي سفيان قلادة فيها تبر وزبرجد ولؤلؤ وياقوت بستمائة دينار فقام عبادة بن الصامت حين طلع معاوية المنير أو حين صلى الظهر فقال ألا إن معاوية اشترى الربا وأكله ألا إنه في النار إلى حلقه فقد يجوز أن يكون تلك القلادة كان فيها من الذهب أكثر مما اشتريت به فكان من عبادة ما كان لذلك ويجوز أن يكون بيعت بنسيئة فإنه قد روى عن معاوية أنه لم يكن يرى بذلك بأسا وقد روي في ذلك وفي السبب الذي من أجله عبادة رضي الله عنه أنكر على معاوية في ذلك ما أنكر ما

حضرت ابو تمیم جیشانی سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہار جس میں سونا ، زبر جد ، جواہرات اور یاقوت جڑا ہوا تھا چھ سو دینار کے بدلے خریدا حضرت معاویہ منبر پر بیٹھے یا انہوں نے نماز ظہر ادا کی تو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا سنو ! معاویہ نے سود کے طور پر سودا کیا اور اسے کھایا سنو ! وہ حلق تک جہنم میں ہو گا ۔ یہ ممکن ہے کہ اس ہار میں جڑا ہوا سونا اس چھ سو دینار سے زیادہ ہو جس کے بدلے اس کو خریدا گیا توحضرت عبادہ نے اسی وجہ سے یہ کلام فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے اسے ادھار کے طور پر خریدا گیا ہو اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے ۔

اشترى معاوية بن أبي سفيان قلادة فيها تبر ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5672

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5673

5363 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال أخبرنا عبد الوهاب بن عبد المجيد عن أيوب السختياني عن أبي قلابة عن أبي الأشعث قال كنا في غزاة علينا معاوية فأصبنا ذهبا وفضة فأمر معاوية رجلا أن يبيعها الناس في عطياتهم قال فتنازع الناس فيها فقام عبادة فنهاهم فردوها فأتى الرجل معاوية فشكا إليه فقام معاوية خطيبا فقال ما بال رجال يحدثون عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أحاديث يكذبون فيها عليه لم نسمعها فقام عبادة فقال والله لنحدثن عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وإن كره معاوية قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الفضة بالفضة ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء يدا بيد عينا بعين

ابو قلابہ نے ابو الاشعت سے نقل کیا کہ ہم ایک غزوہ میں شامل تھے جس میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے سپہ سالار تھے ، ہمیں سونا چاندی حاصل ہوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ لوگ اپنے عطیات کو فروخت کر لیں ۔ چنانچہ لوگوں نے اس سلسلے میں باہمی نزاع کیا تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ان کو اس سے منع فرمایا ۔ لوگوں نے وہ اشیاء لوٹا دیں ےتو وہ آدمی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس بات کی شکایت کی تو امیر معاویہ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ان لوگوں کا کیا حال ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ سے اسیسی احادیث بیا ن کرتے ہیں جن میں وہ آپ پر بہتان لگاتے ہیں ہم نے ہ نہیں سنی ہیں ۔ اس پر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی باتیں ضرور بیان کریں گے اگرچہ وہ معاویہ کو نا پسند ہوں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ سونے کو سونے کے بدلے اور نہ چاندی کو چاندی کے بدلے اور نہ گندم کو گندم کے بدلے اور نہ جو کو جو کے بدلے اور نہ کجھور کو کجھور کے بدلے اور نہ نمک کو نمک کے بدلے فروخت کرو مگر جب کہ وہ برابر ہوں اور دست بدست اور نقد بنقد ہوں

أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5673

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5674

5364 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا عبد الوهاب عن خالد عن أبي قلابة عن أبي الأشعث الصنعاني أنه قال قدم ناس في إمارة معاوية يبيعون آنية الذهب والفضة إلى العطاء فقام عبادة بن الصامت فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والتمر بالتمر والشعير بالشعير والملح بالملح إلا مثلا بمثل سواء بسواء فمن زاد أو أزداد فقد أربى قال أبو جعفر فدل ذلك أن ما كان من إنكار عبادة رضي الله عنه على معاوية وهو بيع الذهب بالذهب إلى أجل لا غير ذلك وأما القلادة التي فيها الذهب المبيعة بالذهب أو القلادة التي فيها الفضة المبيعة بالفضة فلا دلالة فيما روينا عنه على حكم ذلك إذا بيع بأكثر من وزن ذهبه أو فضته من الذهب أو الفضة وقد

ابو قلابہ نے ابو الاشعت صنعانی سے روایت کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کچھ لوگ آئے جو سونے اور چاندی کے برتن عطیات کے ملنے تک کے وعدے پر فروخت کرتے تھے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا بےشک جناب رسول اللہ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے اور گندم کو گندم کے بدلے اور کجھور کو کجھور کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا مگر جبکہ وہ دونوں برابر برابر ہوں جس نے زیادہ لیا دیا اس نے سود کھایا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض سونے کو ( ادھار ) میعاد تک فروخت کرنے کی وجہ سے تھا اور کسی وجہ سے نہ تھا ۔ جہاں تک اس ہار کا تعلق ہےجس میں جڑا ہوا سونا ، سونے کے بدلے فروخت کیا گیا یا وہ ہار جس میں جڑی ہوئی چاندی چاندی کے بدلے فروخت کی گئی ان روایات میں اس سے متعلق حکم پر دلالت موجود نہیں ہے کہ جب اس کو ہار اس سے زیادہ سونے یا س کی چاندی سے زیادہ چاندی کے بدلے فروخت کیا جائے ۔ اس مسئلہ میں تابعین کی رئے مختلف ہے ۔

أبي الأشعث الصنعاني أنه ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5674

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5675

5365 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال اشتر السيف المحلي بالفضة فهذا بن عباس رضي الله عنهما قد أجاز بيع السيف الذي حليته فضة بفضة وقد روى في مثل ذلك أيضا عن جماعة من التابعين اختلاف

حضرت سعید بن جبیر رحمۃاللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا چاندی سے مرصع تلوار کو چاندی کے بدلے خرید لو ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5675

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5676

5366 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني حيوة وابن لهيعة عن خالد بن أبي عمران أنه سأل القاسم بن محمد وسالم بن عبد الله عن اشتراء الثوب المنسوج بالذهب بالذهب فقالا لا يصلح اشتراؤه بالذهب

قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ سے سونے کے بدلے سونے سے بنا ہوا کپڑا خریدنے کے متعلق یہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کو سونے کے بدلے خریدنا درست نہیں ۔

لا يصلح اشتراؤه ← اشتراء الثوب المنسوج ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← خالد بن أبي عمران أنه سأل القاسم بن محمد ← حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5676

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5677

5367 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد أنه كان لا يرى بأسا أن يشتري ذهبا بذهب أو فضة بفضة وذهب

عثمان بن اسود نے حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ سے نقل کیا ان کے ہاں اس میں حرج نہیں تھا کہ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کے بدلے فروخت کیا جائے ۔

عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5677

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5678

5368 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن مبارك عن الحسن أنه كان لا يرى بأسا أن يباع السيف المفضض بالدراهم بأكثر مما فيه تكون الفضة بالفضة والسيف بالفضل

مبارک نے حسن رحمۃاللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ ان کے ہاں اس میں کوئی حرج نہیں کہ چاندی سے مرصع تلوار کو درہم کے بدلے فروخت کیا جائے اس سے زیادہ جتنا اس میں ہواور چاندی چاندی کے بدلے اور تلوار فضل کے بدلے ہے ۔

مُبَارَكٌ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5678

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5679

5369 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن سعيد بن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم أنه قال في بيع السيف المحلى إذا كانت الفضة التي فيه أقل من الثمن فلا بأس بذلك

ابو معشر نے ابراہیم سے روایت کی ہے انہوں نے چاندی سے مرصع تلوار کو چاندی کے بدلے فروخت میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ چاندی قیمت والی چاندی سے کم ہو ۔

إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5679

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5680

5370 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن محمد عن أبي يوسف عن حصين بن عبد الرحمن عن عامر الشعبي قال لا بأس ببيع السيف المحلى بالدراهم لأن فيه حمائله وجفنه ونصله

حضرت حصین نے حضرت عامر شعی رحمۃاللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں دراہم کے بدلے مرصع تلوار کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس میں اس کا پرتلہ ، میان اور پھل بھی ہے ۔

لا بأس ببيع السيف المحلى بالدراهم لأن فيه حمائله وجفنه ونصله ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5680

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter