شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5647
5337 - حدثنا بن مرزوق قال أخبرنا عثمان بن عمر قال أخبرني إسرائيل عن أبي إسحاق عن مسروق عن بلال قال كان عندي من تمر للنبي صلى الله عليه و سلم فوجدت أطيب منه صاعا بصاعين فاشتريته فأتيت به إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال من أين لك هذا يا بلال فقلت اشتريته صاعا بصاعين فقال رده ورد علينا تمرنا
مسروق نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے پاس کچھ کھجوریں جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے رکھی تھیں میں نے اس سے عمدہ پائیں جو ایک صاع دو صاع کے بدلے ملتی تھیں میں نے وہ خرید لیں اور ان کو آپ کی خدمت میں لایا تو آپ نے پوچھا اے بلال یہ کہاں سے لائے ہو؟ میں نے کہا میں نے خریدی ہیں دو صاع دے کر ایک صاع لیا آپ نے فرمایا انہیں واپس کر دو اور ہماری کھجوریں ہمیں لوٹا دو۔
بِلَالٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5647
