Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5623

5314 - حدثنا فهد بن سليمان بن يحيى قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرنا سفيان عن عبيد الله بن أبي يزيد عن بن عباس عن أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنما الربا في النسيئة

عبید اللہ بن ابی یزید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود ادھار میں ہے ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد بن سليمان بن يحيى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5623

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5624

5315 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا حماد عن عمرو بن دينار عن بن عباس عن أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عمرو بن دینا نے ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ہے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادٌ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5624

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5625

5316 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا خالد هو بن عبد الله الواسطي عن خالد هو الحذاء عن عكرمة عن بن عباس عن أسامة بن زيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا ربا إلا في النسيئة

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرض میں سود ہے ۔

«لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٍ هُوَ الْحَذَّاءُ، ← خالد هو بن عبد الله الواسطي ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5625

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5626

5317 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد عن الأوزاعي عن عطاء أن أبا سعيد الخدري لقي بن عباس فقال أرأيت أي أخبرني قولك في الصرف يعني الذهب بالذهب وبينهما فضل أشئ سمعته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أو شيء وجدته في كتاب الله عز و جل فقال بن عباس أما كتاب الله عز و جل فلا أعلمه وأما رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنتم أعلم به مني ولكن حدثني أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إنما الربا في النسيئة

عطاء کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا بیع صرف میں تم کیا کہ کہتے ہو۔ جبکہ درمیان میں اضافہ لیا جائے کیا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنی یا کتاب اللہ میں کوئی چیز پائی ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کتاب اللہ میں میں اس کے متعلق میں کوئی چیز نہیں جانتا البتہ جناب رسول اللہ ﷺ سے تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ لیکن میں نے اسامہ بن زید سے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک سود قرض میں ہے ۔

عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5626

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5627

5318 - حدثنا يونس قال أخبرنا عبيد الله بن نافع عن داود بن قيس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد قال قلت لابن عباس أرأيت الذي تقول الدينارين بالدينار والدرهمين بالدرهم أشهد أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الدينار بالدينار والدرهم بالدرهم لا فضل بينهما فقال بن عباس أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت نعم فقال فإني لم أسمع هذا إنما أخبرنيه أسامة بن زيد قال أبو سعيد ونزع عنها بن عباس

عطا بن یسار نے ابو سعید خدری سے نقل کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا دو دینار کی بیع ایک دینار کے بدلے دو درہم کی بیع ایک درہم کے بدلے کیا درست خیال کرتے ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم بلا تفاضل ( اضافہ ) درست ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا تم نے یہ جناب رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے میں نے کہا ۔ جی ہاں۔ وہ کہنے لگے میں نے یہ نہیں سنا۔ مجھے تو اسامہ نے وہ بات بتلائی ۔ ابو سعید کہتے ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بات سے رجوع کر لیا ۔

أبو سعيد ونزع عنها بن عباس ← فإني لم أسمع هذا إنما أخبرنيه أسامة بن زيد ← هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت نعم ← بن عباس أنت ← الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا. ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قلت لابن عباس أرأيت الذي تقول الدينارين بالدينار والدرهمين بالدرهم أشهد أني ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عُبَيْدِ الله بن نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5627

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5628

5319 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا قيس وهو بن الربيع عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح السمان قال قلت لأبي سعيد أنت تنهى عن الصرف وابن عباس يأمر به فقال قد لقيت بن عباس فقلت ما هذا الذي تفتي به في الصرف أشئ وجدته في كتاب الله أو شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أنتم أقدم صحبة لرسول الله صلى الله عليه و سلم مني وما أقرأ من القرآن إلا ما تقرؤن ولكن أسامة بن زيد 5320 - حدثني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا ربا إلا في الدين [ ص 65 ] قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن بيع الفضة بالفضة والذهب بالذهب مثلين بمثل جائز إذا كان يدا بيد واحتجوا في ذلك بما رويناه عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه و سلم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز بيع الفضة بالفضة ولا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد وكانت الحجة لهم في تأويل حديث بن عباس رضي الله عنهما عن أسامة رضي الله عنه الذي ذكرنا في الفصل الأول أن ذلك الربا إنما عني به ربا القرآن الذي كان أصله في النسيئة وذلك أن الرجل كان يكون له على صاحبه الدين فيقول له أجلني منه إلى كذا وكذا بكذا وكذا درهما أزيدكها في دينك فيكون مشتريا لأجل بمال فنهاهم الله عز و جل عن ذلك بقوله يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين ثم جاءت السنة بعد ذلك بتحريم الربا في التفاضل في الذهب بالذهب والفضة بالفضة وسائر الأشياء المكيلات والموزونات على ما ذكره عبادة بن الصامت رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما رويناه عنه فيما تقدم من كتابنا هذا في باب بيع الحنطة بالشعير فكان ذلك ربا حرم بالسنة وتواترت به الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى قامت بها الحجة والدليل على أن ذلك الربا المحرم في هذه الآثار هو غير الربا والذي رواه بن عباس عن أسامة رضي الله عنهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجوع بن عباس رضي الله عنهما إلى ما حدثه به أبو سعيد رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما قد ذكرناه في هذا الباب فلو كان ما حدثه به أبو سعيد رضي الله عنه من ذلك في المعنى الذي كان أسامة رضي الله عنه حدثه به إذا لما كان حديث أبي سعيد عنده بأولى من حديث أسامة رضي الله عنه ولكنه لم يكن علم بتحريم رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا الربا حتى حدثه به أبو سعيد رضي الله عنه فعلم أن ما كان حدثه به أسامة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في ربا غير ذلك الربا فمما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في نحو ما ذكره أبو سعيد رضي الله عنه

ابو صالح سمان کہتے ہیں کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا تم بیع صرف میں تفاضل کو روکتے ہو اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت دیتے ہیں۔ تو ابوسعید کہنے لگے میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے پوچھاتم بیع صرف میں تفاضل کا جو فتویٰ دیتے ہو اس کی کیا حقیقت ہے؟ کیا تم نے کتاب اللہ میں کوئی چیز پائی جناب رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ تو وہ کہنے لگے تمہیں جناب رسول اللہ ﷺ کی مجھ سے زیادہ صحبت حاصل ہے میں قرآن مجید میں تو وہی پڑھتا ہوں جو تم پڑھتے ہو لیکن اسامہ بن زید نے مجھے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ر با صرف قرض میں ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے دو مثل ایک مثل کے بدلے لے سکتے ہیں جبکہ نقد ہو۔ انہوں نے اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔ چاندی چاندی کے بدلے اور سونا سونے کے بدلے برابر برابر اور دست بدست لے دے سکتے ہیں۔ فریق اول کے موقف کا جواب یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت جس کو اسامہ بان زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا اس سے قرآن مجید میں مذکور ربا مراد ہے جس کی اصل ادهار پر تھی اور اس کی مثال اس طرح ہے کہ کسی آدی کا اپنے ساتھی پرقرض ہوتا وہ اسے کہتا تم مجھے قرض کے سلسلہ میں اتنی اتنی مہلت اتنے درا ہم کے بدلے میں دے دو جوتمہارے قرض میں شامل کردیئے جائیں گے۔ تو گویا وہ وقت مال کے بدلے خریدتا۔ پس جناب باری تعالی نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا "یا ایها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنين»(البقرہ۔ ۲۷۸) پھرسنت نے اس کے بعد تفاضل میں ربا کو حرام قرار دیا۔ سونا بدلے سونے کے اور چاندی کے بدلے چاندی اور تمام مکیلی اور موزونی اشیاء میں تفاضل کو حرام قرار دیا گیا جیسا کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے جو کہ باب " بيع الحنطة بالشعير“میں گزری یہ وہ ربا ہے جس کو سنت سے حرام کیا اور اس سلسلہ میں متواتر روایات جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہوئیں جن سے حجت قائم ہوگئی۔ اب رہی یہ بات کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ان روایات میں جس ربا ء کی حرمت کا تذکرہ ہے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ عن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول روایت والے ربا سے الگ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ابوسعید کی بات سن کر رجوع کرنا۔ اگر وہ روایات جو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت کا ایک مفہوم ہوتا تو وہ ان کے ہاں اسامہ بن زید کی روایت سے مقدم نہ ہوتی مگر ان کو اس ربا کی حرمت کا اس وقت تک علم نہ تھا یہاں تک کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ان کو روایت بیان کی ۔ پس انہوں نے معلوم کر لیا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور با اس سے مختلف ہے جو ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد ہے جو کہ جناب نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔

أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← قيس وهو بن الربيع ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5628

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5629

ما حدثنا بن أبي داود قال ثنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال ثنا عبد العزيز بن أبي حازم قال ثنا مالك بن أنس عن مولى لهم عن مالك بن أبي عامر عن عثمان بن عفان أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تبيعوا الدينار بالدينارين ولا الدرهم بالدرهمين

مالک بن ابی عامر نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک دینار کو دو دینار کے بدلے ایک درہم کو دو درہم کے بدلے مت فروخت کرو۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← مَالِکَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ ← مَوْلًى لَهُمْ ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← بن أبي داود ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5629

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5630

5321 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك أن حميد بن قيس حدثه عن مجاهد المكي أن صائغا هو عامل الحلي سأل عبد الله بن عمر إني أصوغ ثم أبيع الشيء من ذلك بأكثر من وزنه واستفضل من ذلك قدر عملي فنهاه عبد الله بن عمر عن ذلك فجعل الصائغ يردد عليه المسألة ويأباه عليه عبد الله بن عمر حتى انتهى إلى دابته أو إلى باب المسجد فقال له عبد الله الدينار بالدينار والدرهم بالدرهم لا فضل بينهما هذا عهد نبينا إلينا وعهدنا إليكم

مجاہد مکی کہتے ہیں کہ ایک زرگر نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں ( سونا چاندی ) پگھلاتا ہوں پھر اس میں سے کچھ زیادہ وزن کے بدلے میں فروخت کرتا ہوں اور اپنے کام و محنت کی مقدار سے زائد لیتا ہوں جناب عبداللہ نے اس کو منع کیا۔ زرگر سوال دھراتا رہا اور آپ انکار فرماتے رہے ۔ یہاں تک کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے یا اپنے سواری کے جانور تک پہنچ گئے عبداللہ نے اسے فرمایا ۔ دینار کے بدلے دینار ۔ درہم بدلے درہم کے ان میں تفاضل جائز نہیں ۔ یہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عہد لیا اور ہم تم سے عہد کر رہے ہیں۔

مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5630

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5631

5322 - وحدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عفان قال ثنا همام قال ثنا قتادة عن أبي الخليل عن مسلم المكي عن أبي الأشعث الصنعاني أنه شهد خطبة عبادة أنه حدث عن النبي صلى الله عليه و سلم قال الذهب بالذهب وزنا بوزن والفضة بالفضة وزنا بوزن والبر بالبر كيلا بكيل والشعير بالشعير ولا بأس ببيع الشعير بالتمر والتمر أكثرهما يدا بيد والتمر بالتمر والملح بالملح من زاد أو استزاد فقد أربى

مسلم مکی نے ابو الاشعث صنعانی سے روایت کی ہے کہ وہ عبادہ کے اس خطبہ میں موجود تھے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے برابر واز سے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن سے اور گندم کا ماپ گندم کے برابر ناپ کر اور جو جو کے بدلے برابر ماپ سے اور جو کھجور کے بدلے اور کھجور زیادہ ہو جبکہ دست بدست ہو اور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن سے دیا جائے جس نے زیادہ لیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود کا کام کیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ, أَنَّهُ حَدَّثَ ← مُسْلِمٍ الْمَکِّيِّ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5631

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5632

5323 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن حفص الأصبهاني قال ثنا سفيان عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن عبادة بن الصامت قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الذهب بالذهب وزنا بوزن والفضة بالفضة وزنا بوزن والبر بالبر مثلا بمثل والشعير بالشعير مثلا بمثل والتمر بالتمر مثلا بمثل والملح بالملح مثلا بمثل فمن زاد أو أزداد فقد أربى

ابو الاشعث نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا سونا سونے کے بدلے برابر وزن سے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن سے اور گندم گندم کے بدلے برابر سرابر اور جو جو کے بدلے برابر مقدار سے اور کھجور کھجور کے بدلے برابر اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر لیا جائے جس نے اضافہ کیا یا بڑھایا اس نے سود کا کیا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← حسين بن حفص الأصبهاني ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5632

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5633

5324 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا الفضل بن حبيب السراج قال ثنا حيان أبو زهير عن بن بريدة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم اشتهى تمرا فأرسل بعض أزواجه ولا أراها إلا أم سلمة بصاعين من تمر فأتوا بصاع من عجوة فلما رآه النبي صلى الله عليه و سلم أنكره فقال من أين لكم هذا قالوا بعثنا بصاعين فأتينا بصاع فقال ردوه فلا حاجة لي فيه

ابن بریدہ نے اپنے والد سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ کو کھجوروں کی طلب ہوئی تو بعض ازواج نے کھجوریں بھیجیں میرے خیال میں وہ ام المومنین ام سلمیٰ ہیں انہوں نے دو صاع کھجو بھیج کر ایک صاع عجوہ منگوائی ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو اس کو عجیب خیال کر کے فرمایا تمہارے ہاں یہ کہاں سے آئیں؟ انہوں نے کہا ہم نے دو صاع کھجور بھیج کر ایک صاع منگوائی ہے آپ نے فرمایا اس کو واپس کر دو ۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ ( استعمال نہیں فرمائی )

أَبِيهِ ← بن بريدة ← حيان أبو زهير ← الفضل بن حبيب السراج ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5633

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5634

5325 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عمر بن يونس قال ثنا عاصم بن محمد قال حدثني زيد بن محمد قال حدثني نافع قال مشى عبد الله بن عمر إلى رافع بن خديج في حديث بلغه عنه في شأن الصرف فأتاه فدخل عليه فسأله عنه فقال رافع سمعته أذناي وأبصرته عيناي رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا تشفوا الدينار على الدينار ولا الدرهم على الدرهم ولا تبيعوا غائبا منها بناجز وإن استنظرك حتى يدخل عتبة بابه

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے تاکہ ان سے بیع صرف کے سلسلے میں پہنچنے والی روایت کے متعلق دریافت کریں رافع کے ہاں پہنچ کر پوچھا تو رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے ان دونوں کانوں نے یہ بات سنی ہے اور میری آنکھوں نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ایک دینار کو دوسرے دینار پر ایک درہم کو دوسرے درہم پر وزن کے اعتبار سے فضیلت مت دو اور سونے چاندی غیر موجود کو نقد کے بدلے مت فروخت کرو ۔ خواہ خریدار تم سے دروازے کے اندر گھسنے کی مہلت مانگے ۔

نَافِعٍ ← زَيْدِ بْنِ محمد ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5634

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter