Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5453

5152 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان بن عيينة عن حميد الأعرج عن سليمان بن عتيق عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع السنين قال يونس قال لنا سفيان وهو بيع الثمار قبل أن يبدو صلاحها

سلیمان بن عتیق نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے درختوں کی کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے یونس کہتے ہیں کہ ہمیں سفیان نے بتلایا کہ یہ پھلوں کی بیع صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے کرنے کو کہتے ہیں (اس کا نام بیع معاومہ)۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5453

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5454

5153 - حدثنا ربيع الجيزي وإبراهيم بن أبي داود قالا ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال ثنا كهمس بن المنهال عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع السنين

حسن نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کئی سالوں کی اکٹھی بیع سے منع فرمایا ہے۔

بَيْعِ السِّنِينَ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← كهمس بن المنهال ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← ربيع الجيزي وإبراهيم بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5454

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5455

5154 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا بن عفير قال ثنا يحيى بن أيوب عن بن جريج عن عطاء وأبي الزبير عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الثمر حتى يطعم

ابوالز بیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے پھل کی اس وقت بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ کھانے کے قابل ہو۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن عفير ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5455

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5456

5155 - حدثنا محمد خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام بن أبي عبد الله قال ثنا أبو الزبير عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابواز بیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← محمد خزيمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5456

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5457

5156 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب وأبو الوليد قالا ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال سألت بن عباس عن بيع النخل حتى نأكل منه أو حتى يؤكل منه

ابوالبختری کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے متعلق دریافت کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے کھانے کے قابل ہونے سے پہلے کھجور کی بیع سے منع فرمایاحتی تاكل منه يا يؤكل منه“ کے الفاظ فرمائے۔

بيع النخل حتى نأكل منه أو حتى يؤكل منه ← سألت بن عباس ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وهب وأبو الوليد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5457

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5458

5157 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أخبرنا شعبة عن عمرو بن مرة قال سمعت أبا البختري الطائي يقول سألت بن عباس عن السلم فقلت إنا ندع أشياء لا نجد لها في كتاب الله عز و جل تحريما قال إنا نفعل ذلك نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع النخل حتى يؤكل منه

ابو البختری طائی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع سلم کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا ہم بعض اشیاء چھوڑتے ہیں حالانکہ ان کی حرمت کتاب اللہ میں نہیں پاتے کہنے لگے ہم ہی اس لئے کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے ہمیں کھجور کی بیع سے منع فرمایا۔

بيع النخل حتى يؤكل منه ← نفعل ذلك نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ندع أشياء لا نجد لها في كتاب الله عز و جل تحريما ← السلم فقلت ← سألت بن عباس ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5458

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5459

5158 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني المفضل بن فضالة عن خالد أنه سمع عطاء بن أبي رباح يسأل عن الرجل يبيع ثمرة أرضه رطبا كان أو عنبا يسلف فيها قبل أن تطيب فقال لا يصلح إن بن الزبير باع ثمرة أرض له ثلاث سنين فسمع بذلك جابر بن عبد الله الأنصاري فخرج إلى المسجد فقال في الناس منعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نبيع الثمرة حتى تطيب

خالد نے عطاء سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ جو آدی اپنی زمین کا پھل تر یا خشک کھجور کی صورت میں عمده ہونے سے پہلے بیچتا ہے تو انہوں نے فرمایا ہے اس کے لائق نہیں ۔ ابن الزبیر نے اپنی ایک زمین کا پھل تین سال کے لئے فروخت کردیا جب یہ بات جابر بن عبد الله انصاری رضی اللہ عنہ نے سنی تو مسجد کی طرف نکل کر گئے اور لوگوں میں اعلان کر دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پھلوں کو عمدہ بن جانے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔

خَالِدٌ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5459

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5460

5159 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال سألت بن عمر عن السلف في الثمر فقال نهى عمر عن بيع الثمر حتى يصلح فدلت هذه الآثار التي ذكرنا على أن الثمار المنهي عن بيعها قبل بدو صلاحها ما هي فإنها المبيعة قبل كونها المسلف عليها فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك حتى يكون ويؤمن عليها العاهة فحينئذ يجوز السلم فيها أفلا ترى أن بن عمر رضي الله عنهما لما سأله أبو البختري عن السلم في النخل كان جوابه في ذلك ما ذكر في حديثه عن النهي عن بيع الثمار حتى تطعم فدل ذلك على أن النهي إنما وقع في الآثار التي قدمنا ذكرها في هذا الباب على بيع الثمار قبل أن تكون ثمارا ألا ترى إلى قول النبي صلى الله عليه و سلم أرأيت إن منع الله الثمرة بم يأخذ أحدكم مال أخيه فلا يكون ذلك إلا على المنع من ثمرة لم يكن له أن تكون وإنما الذي في هذه الآثار هو النهي عن السلم في الثمار في غير حينها فهذه الآثار تدل على النهي عن ذلك فأما بيع الثمار في أشجارها بعد ما ظهرت فإن ذلك عندنا جائز صحيح والدليل على ذلك ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

ابو البختری سے مروی ہے کہ میں نے ابن عمر جان رضی اللہ عنہ پھلوں میں بیع سلم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بر وصلاح سے قبل پھلوں کی بیع سے منع کیا ہے۔ حاصل آثار سے معلوم ہوتا ہے جن پھلوں کی فروخت سے منافعت کی گئی ہے وہ وہی ہیں جن میں صلاحیت ظاہر نہیں ہوئی اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تو یہ وہ بیع ہے جو ان کے وجود میں آنے سے پہلے کی جائے ۔ اس سے اس وقت تک کے لئے منع فرمایا یہاں تک کہ آفت سے محفوظ ہو جائیں جب محفوظ ہو جائیں تو ان میں بیع سلم جائز ہے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ جب ابو البختری ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا کھجور میں بیع سلم درست ہے تو ان کا جواب یہ تھا کہ پھلوں کی بیع اس وقت درست ہے جب وہ کھائے جانے کے قابل ہو جائیں ۔ آثار میں جس ممانعت کا تذکرہ ہے وہ پھلوں کی بیع پھل بننے سے پہلے کی ہے جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ملاحظہ ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے تو تم میں سے کون ہے پھر جو اپنے بھائی کا مال لے سکے گا۔ تو اب اس سے مردان پھلوں کی بیع سے ممانعت ہے جو ابھی تک پھل نہیں بنے ۔ نیز ان آثار میں جس بیع سلم سے روکا گیا ہے وہ پھلوں کی بے وقت بیع سلم ہے ۔ باقی درختوں پر ان پھلوں کی بیع جو ظاہر ہو چکے ہوں ہمارے ہاں جائز ہے ۔ اس کی دلیل یہ روایات ہیں ۔

بيع الثمر حتى يصلح فدلت هذه الآثار التي ذكرنا على ← نَهَى عُمَرَ ← السلف في الثمر ← سألت بن عمر ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5460

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5461

5160 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن شهاب عن سالم بن عبد الله بن عمر عن بن عمر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من باع نخلا بعد أن يؤبر فثمرتها للذي باعها إلا أن يشترط المبتاع ومن باع عبدا فماله للذي باعه إلا أن يشترط المبتاع

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا جس شخص نے تابیر کے بعد کھجور کوفروخت کیا اس کا پھل بائع ا ہو گا مگر یہ کہ خریدار شرط لگا لے اور جس نے غلام فروخت کیا تو اس کا مال فروخت کرنے والے کا ہوگا مگر یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔ (مال سے یہاں مراد غلام کے پاس جو کچھ کپڑے اور اشیاء ہوں)

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5461

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5462

5161 - حدثنا يزيد قال حدثني القعنبي قال حدثني بن أبي ذئب عن بن شهاب عن سالم عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من اشترى عبدا ولم يشترط ماله فلا شيء له ومن اشترط نخلا بعد تأبيرها ولم يشترط الثمر فلا شيء له

سالم نے اپنے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ جس آدی نے غلام خریدا اور اس کے مال کی شرط نہ لگائی تو اس کی کوئی چیز مشتری کو نہ ملے گی ۔ جس آدی نے تابیر کے بعد کھجور کا درخت خریدا اور اس نے پھل کی شرط نہیں لگائی تو اس کو کچھ نہ ملے گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← يَزِيدُ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5462

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5463

5162 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أخبرني حماد بن سلمة عن عكرمة بن خالد المخزومي عن بن عمر أن رجلا اشترى نخلا قد أبرها صاحبها فخاصمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم عليه أن الثمرة لصاحبها الذي أبرها إلا أن يشترط المشتري قال أبو جعفر فجعل النبي صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار ثمر النخل لبائعها إلا أن يشترطها مبتاعها فيكون له باشتراطه إياها ويكون بذلك مبتاعا لها وقد أباح النبي صلى الله عليه و سلم ههنا بيع ثمرة في رءوس النخل قبل بدو صلاحها [ ص 27 ] فدل ذلك أن المعنى المنهي عنه في الآثار الأول خلاف هذا المعنى فإن قال قائل إن ما أجيز هو بيع الثمر في هذه الآثار لأنه مبيع مع غيره وليس في جواز بيعه مع غيره ما يدل على أن بيعه وحده كذلك لأنا قد رأينا أشياء تدخل مع غيرها في البيعات ولا يجوز إفرادها بالبيع من ذلك الطرق والأفنية تدخل في بيع الدور ولا يجوز أن تفرد بالبيع فجوابنا في ذلك وبالله التوفيق أن الطرق والأفنية تدخل في البيع وإن لم يشترط ولا يدخل الثمر في بيع النخل إلا أن يشترط فالذي يدخل في بيع غيره لا باشتراط هو الذي لا يجوز أن يكون مبيعا وحده والذي لا يكون داخلا في بيع غيره إلا باشتراط هو الذي إذا اشترط كان مبيعا فلم يجز أن يكون مبيعا مع غيره إلا وبيعه وحده جائزا ألا يرى أن رجلا لو باع دارا وفيها متاع أن ذلك المتاع لا يدخل في البيع وأن مشتريها لو اشترطه في شراءه الدار صار له باشتراطه إياه ولو كان الذي في الدار خمرا أو خنزيرا فاشترطه في البيع فسد البيع فكان لا يدخل في شراءه الدار باشتراطه في ذلك إلا ما يجوز له شراءه ولو اشترى وحده وكان الثمر الذي ذكرنا يجوز له اشتراطه مع النخل فلم يكن ذلك إلا لأنه يجوز بيعه وحده أو لا يرى أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في هذا الحديث وقرنه مع ذكره النخل من باع عبدا له مال فماله للبائع إلا أن يشترطه المبتاع فجعل المال للبائع إذا لم يشترطه المبتاع وجعله للمبتاع باشتراطه إياه وكان ذلك المال لو كان خمرا أو خنزيرا فسد بيع العبد إذا اشترطه فيه وإنما يجوز أن يشترط مع العبد من ماله ما يجوز بيعه وحده فأما ما لا يجوز بيعه وحده فلا يجوز اشتراطه في بيعه لأنه يكون بذلك مبيعا وبيع ذلك الشيء لا يصلح فذلك أيضا دليل صحيح على ما ذكرنا في الثمرة الداخلة في بيع النخل بالاشتراط أنها الثمار التي يجوز بيعها على الانفراد دون بيع النخل فثبت بذلك ما ذكرنا وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمة الله عليهما وكان محمد بن الحسن يذهب إلى أن النهي الذي ذكرناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في أول هذا الباب هو بيع الثمر على أن يترك في رؤوس النخل حتى يبلغ ويتناهى وحتى يجد وقد وقع البيع عليه قبل التناهي فيكون المشتري قد إبتاع ثمرا ظاهرا وما ينميه نخل البائع بعد ذلك إلى أن يجد فذلك باطل قال فأما إذا وقع البيع بعد ما تناهى عظمه وانقطعت زيادته فلا بأس بابتايعه واشتراط تركه إلى حصاده وجداده قال فإنما وقع النهي عن ذلك لاشتراطه الترك لمكان الزيادة قال وفي ذلك دليل على أن لا بأس بذلك الاشتراط في إبتياعه بعد عدم الزيادة حدثني سليمان بن شعيب بهذا عن أبيه عن محمد وتأويل أبي حنيفة وأبي يوسف في هذا أحسن عندنا والله أعلم والنظر أيضا يشهد له لأنه إذا وقع البيع على الثمار بعد تناهيها على أن تترك إلى الحصاد فالنخل ههنا مستأجرة ليكون الثمار فيها إلى وقت جدادها عنها وذلك لو كان على الانفراد لم يجز فإذا كان مع غيره فهو أيضا كذلك وقد قال قوم إن النهي الذي كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها لم يكن منه على تحريم ذلك ولكنه كان على المشورة عليهم بذلك لكثرة ما كانوا يختصمون إليه فيه ورووا ذلك عن زيد بن ثابت رضي الله عنه

عکرمہ بن خالد مخزومی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے کھجور کاتا بیر شده درخت خریدا۔ تا بیر بائع نے کی تھی وہ اپنا جھگڑا جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گیا تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ پھل تابیر والے کا ہوگا مگر جبکہ خریدار شرط لگا لے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت میں جناب نبی اکرم ﷺ نےکھجور کا درخت خریدنے کی صورت میں پھل کا مالک تابیر والے کو قرار دیا مگر جب کہ مشتری شرط لگائے کہ پھل میرا . ہوگا اس سے وہ پھل کا فروخت کرنے والا بن جائے گا اور اس ارشاد میں کھجور کے درخت پر پھل کو صلاحیت کے ظہور سے پہلے قابل فروخت قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن آثار میں ممانعت پائی جاتی ہے وہ اس روایت کے خلاف ہیں۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ان روایات میں جس بیع کا جواز ہے وہ پھلوں کی بیع ہے کیونکہ وہ دوسری چیز سے مل کر فروخت کئے جارہے ہیں اور دوسری چیز سے ملا کر ان کی بیع اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ ان کی بیع الگ بھی جائز ہو۔ کیونکہ ہم بہت سی چیزوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ سودے میں دوسرے کے ساتھ شامل ہیں مگر تنہا ان کی بیع جائز نہیں ہوئی مثلا راستے اور صحن و غیر ہ جن کی بیع مکانات کی بیع میں شامل ہوتی ہے ان کو الگ فروخت کرنا جائز نہیں۔ تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ جناب راستے اور صحن تو بلا شرط بھی گھر کی بیع میں داخل ہوتے ہیں مگر درخت کی بیع میں پھل شرط کے بغیر داخل نہیں ہوتا جو کچھ دوسری چیز کے سوا میں کسی شرط کے بغیر داخل ہو اس کو تنہا فروخت کرنا جائز نہیں اور وہ چیز جو دوسری چیز کی بیع میں بلا شرط لگائے داخل نہ ہو تو وہ شرط کی صورت میں ہی مبیع بنے گی پس دوسری چیز کے ساتھ وہی چیز بھی مبیع بن سکتی ہے جس کو الگ فروخت کیا جا سکتا ہو۔ اس معترض کو دیکھنا چاہئے کہ اگر کوئی ثخص مکان فروخت کرے اور اس میں سامان ہوتو وہ سامان مکان کے سودے میں شامل نہیں ہوگا اور اگر خریدار سودے میں اس کی شرط رکھے تو اس شرط کی وجہ سے وہ سامان مشتری کا ہو جائے گا اور اگر گھر میں شراب یا خنزیر (جیسی ناجائز چیز ہو ) اور وہ سودے میں اس کی شرط رکھے تو بیع فاسد ہوگی ۔ فلهذا مکان کی خریداری کے وقت شرط رکھنے سے وہی چیز سودے میں داخل ہوگی جس کو خریدا جا سکتا ہے خواہ انفرادی طور پرخرید لے۔ یہ پھل جس کا تذکرہ کیا گیا ہے درخت کے ساتھ اس کی شرط رکھنا درست ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پھل الگ بھی فروخت ہوسکتا ہے۔ معترض کو بھی دیکھنا ہوگا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد میں اس کو درخت کے تذکرے کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے۔ جس نے اپنا ایساغلام فروخت کیا جس کے پاس مال تھا تو وہ ال بائع کا ہوگا البتہ یہ کہ خریدار یہ شرط لگا لے (تو پھر مال خریدار کا ہوگا ) آپ نے وہ مال شرط نہ رکھنے کی صورت میں مال بائع کا قرار دیا اور یہ شرط رکھنے کی وجہ کیا ہے اور بالفرض اگر یہ مال شراب یا خنزیر ہوتو شرط کی صورت میں بیع فاسد ہو جائے گیا۔ (رہا یہ مسئلہ کے غلام کے ساتھ یہ شرط کیوں کر جائز ہے) تو غلام کے ساتھ جواز کی وجہ اس کا الگ فروخت ہو سکتا ہے اور جس چیز کو الگ فروخت نہیں کر سکتے سودا کرتے وقت اس کی شرط رکھنا جائز نہیں کیونکہ اس وقت وہ مبیعہ بن جائے گی جبکہ اس میں مبیعہ بنے کی صلاحیت نہیں ہے اور یہ بھی اس بات کی واضح دلیل ہے جو کہ ہم نے بیان کی کہ درخت کے سودے میں پھل صرف شرط قرار دینے کی صورت میں داخل ہو گا کیونکہ پھل کا سودا درخت کے بغیر بھی درست ہے۔ اس سے ہماری مذکورہ بات ثابت ہو گئی اور یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔ باب کے شروع میں ممانعت کی روایات کا مطلب یہ ہے کہ پھلوں کو اس طرح فروخت کرنا کہ ان کو درخت کے اوپر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ انتہا کو پہنچ جائیں اور ان کو کاٹا جائے حالانکہ سودا تو ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ہوا تو اس طرح خریدار ظاہری پھل کو خریدتا ہے اس کے بعد توڑنے تک جو اس میں اضافہ ہوتا ہے وہ بائع کے درخت پر ہوتا ہے اور یہ باطل ہے۔ البتہ جب پھل کا بڑھنا بند ہو جائے اور اب اس میں اضافہ نہ ہو سکے تو اس صورت میں اگر خریدنے اور توڑنے اور چننے تک درخت پر رکھنے کی شرط لگائی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ درخت پر چھوڑنے کی شرط اس لئے منوع ہے کہ اس میں اضافہ ہورہا ہے اور اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ اب اضافہ نہ ہونے کی صورت میں خریدتے وقت (درخت کے اوپر ) شرط لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مجھے سلیمان بن شعیب نے اپنے والد کی وساطت سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات نقل کی ہے۔ اس سلسلے میں امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول زیادہ اچھا ہے۔ قیاس بھی شیخین کے قول کی تائید کرتا ہے کیونکہ اگر پھل کے مکمل ہو جانے کے بعد اس کا سودا اس شرط پر کیا جائے کہ وہ کاٹنے تک درخت پر رہیں گے۔ اس صورت میں درخت کرایہ پرحاصل ہوگا۔تاکہ کاٹنے تک پھل اسی پر قائم رہیں اور یہ بات درست نہیں تو دوسرے کے ساتھ مل کر بھی درست نہ ہوگی۔ پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کی ممانعت کی وجہ بعض نے یہ بتلائی ہے کہ یہ ممانعت حرمت کے لئے نہیں بلکہ بطور مشورہ ہے کیونکہ اس بناء پر لوگوں کا جھگڑا کثرت سے ہو جاتا ہے چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاقول اس کی شہادت ہے۔

عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5463

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5464

5164 - حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال أخبرنا أبو زرعة وهب الله عن يونس بن يزيد قال قال أبو الزناد كان عروة بن الزبير يحدث عن سهل بن أبي حثمة الأنصاري أنه أخبره أن زيد بن ثابت كان يقول كان الناس في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم يتبايعون الثمار فإذا جاء البائع وحضره للتقاضي قال المبتاع إنه أصاب الثمر العفن الرماد أصابه مراق أو أصابه فشام عاهات يحتجون بها والفشام شيء يصيبه حتى لا يرطب قال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما كثرت عنده الخصومة في ذلك لا تتبايعوا حتى يبدو صلاح الثمر كالمشورة يشير بها لكثرة خصومتهم فدل ما ذكرنا أن ما روينا في أول هذا الباب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من نهيه عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها إنما كان هذا على المعنى لا على ما سواه

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھےکہ لوگ جناب رسول اللہ قﷺ کے زمانہ مبارک میں پھلوں کی تجارت کرتے جب فروخت کرنے والا خر یدار سے رقم کا تقاضا کرتا تو وہ کہتا کہ پھل تو کسی آفت بیماری کی وجہ سے خراب ہو گیا ہے کھجورتر ی کی وجہ سے خراب ہوگئی کھجور کا رنگ خاکستری ہوگیا گرنے کی وجہ سے پھل خراب ہو گیا پھرسرخ پڑ کر رطوبت جاتی رہی۔ یہ تمام کھجور کو پہنچنے والی بیماریاں تھیں جن سے وہ لوگ حجت کرنے لگے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے جھگڑوں کی کثرت کے پیش نظر اس بات سے منع فرمایا کہ اس وقت تک بیع نہ کرو جب تک پھل کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔ اس باب کے شروع میں ممانعت والی روایات اس معنی کے اعتبار سے ہیں۔ ظاہر سے متبادر مفہوم مرادنہیں ہے۔

أن زيد بن ثابت كان ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري: أنه ← أبو الزناد، كان عروة بن الزبير ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أبو زرعة وهب الله ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5464

chevron_left Previous
1…8910…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter