Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5429

5131 - حدثنا الربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا المسعودي عن جابر الجعفي عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله قال أشهد على الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم أنه قال إن بيع المحفلات خلابة ولا يحل خلابة مسلم فكان من فعل ذلك وباع ما قد جعل يبيعه إياه مخالفا لما أمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم وداخلا فيما نهى عنه فكانت عقوبته في ذلك أن يجعل اللبن المحلوب في الأيام الثلاثة للمشتري بصاع من تمر ولعله يساوي آصعا كثيرة ثم نسخت العقوبات في الأموال بالمعاصي وردت الأشياء إلى ما ذكرنا فلما كان ذلك كذلك ووجب رد المصراة بعينها وقد زايلها اللبن علمنا أن ذلك اللبن الذي أخذه المشتري منها قد كان بعضه في ضرعها في وقت وقوع البيع عليها فهو في حكم المبيع وبعضه حدث في ضرعها في ملك المشتري بعد وقوع البيع عليها فذلك للمشتري فلما لم يكن رد اللبن بكماله على البائع إذا كان بعضه بما لم يملك بيعه ولم يمكن أن يجعل اللبن كله للمشتري إن كان ملك بعضه من قبل البائع ببيعه إياه الشاة التي قد ردها عليه بالعيب وكان ملكه له إياه بجزء من الثمن الذي كان وقع به البيع فلا يجوز أن يرد الشاة بجميع الثمن ويكون ذلك اللبن سالما له بغير ثمن فلما كان ذلك كذلك منع المشتري من ردها ورجع على بائعه بنقصان عيبها قال عيسى فهذا وجه حكم بيع المصراة قال أبو جعفر والذي قال عيسى من هذا يحتمل غير ما قال إني رأيت في ذلك وجها هو أشبه عندي بنسخ هذا الحديث من ذلك الوجه الذي ذهب إليه عيسى وذلك أن لبن المصراة الذي احتلبه المشتري منها في الثلاثة الأيام التي احتلبها فيها قد كان بعضه في ملك البائع قبل الشراء وحدث بعضه في ملك المشتري بعد الشراء إلا أنه قد احتلبها مرة بعد مرة فكان ما كان في يد البائع من ذلك مبيعا إذا أوجب نقض البيع في الشاة وجب نقض البيع فيه وما حدث في يد المشتري من ذلك فإنما كان ملكه بسبب البيع أيضا وحكمه حكم الشاة لأنه من بدنها هذا على مذهبنا وكان النبي صلى الله عليه و سلم قد جعل لمشتري المصراة بعد ردها جميع لبنها الذي كان حلبه منها بالصاع من التمر الذي أوجب عليه رده مع الشاة وذلك اللبن حينئذ قد تلف أو تلف بعضه فكان المشتري قد ملك لبنا دينا بصاع تمر دين فدخل ذلك في بيع الدين بالدين ثم نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم من بعد عن بيع الدين بالدين

مسروق نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے تھے میں گواہی دیتا ہوں کہ ابوالقاسم الصادق المصدوق حضرت محمد ﷺنے فرمایا۔ تھنوں میں دودھ روکے ہوئے جانوروں کی فروخت دھوکا ہے کسی مسلمان سے دھوکا کرنا جائز نہیں ۔ تو جو شخص یہ حرکت کرنے والا ہے وہ جناب رسول اللہﷺ کے حکم سے منہ موڑنے والا ہے یہ اس چیز میں داخل ہے جس سے آپ ﷺنے روکا ہے اب ایسی حرکت کرنے والے کی سزا یہ ہے کہ تین دن میں جو دودھ اس سے حاصل کیا ہے وہ خریدار کو صرف ایک صاع کے بدلے میں حاصل ہوجائے گا عین ممکن ہے کہ وہ کئی صاع کے برابر ہو۔ اس کے بعد مالی جرمانے سے سزا کا حکم منسوخ ہوگیا اور اشیاء کو امثال کی طرف لوٹادیا گیا (یعنی مثل صوری یا معنوی) جیسا ہم نے ذکر کیا جب بات کی اصل یہ ہے اور مصرا تہ کو بعینہ واپس لوٹانا ضروری ہے اور دودھ اس سے زائل ہو چکا (جوجمع کیا گیا تھا) اس سے معلوم ہوا کہ جو دودھ خریدار کو حاصل ہوا ہے اس میں سےکچھ مقدار سودا کرتے وقت تھنوں میں ضرور موجودتھی وہ بیع کےحکم میں ہوگا اور کچھ دودھ خریدنے کے بعد مشتری کی ملکیت میں پہنچ کر پیدا ہو وہ مشتری کا ہی ہے جبکہ تمام دودھ کو بائع کی طرف لوٹایا نہیں جاتا اس لئے کہ وہ بعض دودھ کی بیع کا مالک نہیں اورتمام دودھ کے متعلق یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مشتری اس کامالک ہے کیونکہ وہ اس مقدار دودھ کا مالک ہے جو جانور فروخت کرتے وقت اس کے تھنوں میں تھا جس جانورکے عیب کی وجہ سے واپس کر دیا گیا اور مالک نے اس کو اتنی رقم کے ساتھ اس شئی کا مالک بنایا تھا جس پران کا سودا ہوا تھا۔ پس یہی درست نہ ہوا کہ بکری کو پوری قیمت کے بدلے لوٹایا جائے اور یہ دودھ مکمل طور پر بلا قیمت اس خریدار کا ہو جائے۔ جب معاملہ اس طرح ہے تو خریدار کو واپس لوٹانے سے منع کیا جائے گا اور وہ عیب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے سلسلہ میں بائع کی طرف رجوع کرے گا عیسیٰ بن ابان کہتے ہیں کہ مسئلہ مصراۃ کا حکم یہی ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو بات ابن ابان رضی اللہ عنہ نے کہی اس میں اس کے علادہ کی گنجائش ہے اور وہ اس روایت کی تنسیخ کے لئے اس سے بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ مصراۃ کا وہ دودھ جو تین روز تک خریدارنے استعمال کیا اس میں سے کچھ دودھ تو سودے سے پہلے خریدار کی ملک تھا اور کچھ دودھ خریدنے کے بعد مشتری کی ملکیت میں پیدا ہوا البتہ اس نے بار بار دوهاتو جوکچھ خریدار کے قبضہ میں تھا وہ سودے میں شامل ہو گیا۔ جب اس جانور کی بیع کو توڑنا ضروری ہو گیا تو اس دودھ میں بھی بیع کا توڑنا ضروری ہوگیا اور جو دودھ خریدار کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے پیدا ہوا تو اس کی ملکیت بھی توبیع کے سبب سے ہے اور اس کا حکم بھی بکری وغیرہ والا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ دودھ اس کے بدن سے نکلا ہے اور یہ بات ہمارے مذہب کے بالکل مطابق ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے مصراۃ کے خریدار کے لئے اس جانورکولوٹانے کے بعداس کے تمام دودھ کو جو اس نے اس دوران دوہا ہے ایک صاع کھجور کے بدلے قرار دیا جو صاع کھجوریں کہ وہ بکری وغیرہ کے ساتھ وہ بائع کودیتا ہے اور اس وقت تک تودہ دودھ تمام یا کم از کم اس کا بعض حصہ تلف ہو چکا ہوتا ہےپس خریدار اس دودھ کا کھجور کے قرض صاع کے بدلے مالک ہو چکا پس اس طرح وہ دودھ اس بیع القرض بالقرض میں داخل ہوا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض کی بیع قرض کے بدلے منع فرمائی ہے (پس یہ اس اعتبار سے منسوخ ہوا) قرض کے بدلے قرض کی بیع ممنوع ہے۔

أشهد على الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أسد ← الربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5429

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5430

5132 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم قال أبو بكرة في حديثه أخبرنا موسى بن عبيدة وقال بن مرزوق في حديثه عن موسى بن عبيدة الزيدي عن عبد الله بن دينار عن بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ يعني الدين بالدين فنسخ ذلك ما كان تقدم منه مما روى عنه في المصراة مما حكمه حكم الدين ويقال للذي ذهب إلى العمل بما روى في المصراة مما قد ذكرناه في أول هذا الباب قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال الخراج بالضمان وعملت بذلك العلماء

عبدالله بن و یار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قرض کی قرض کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے۔ اس حکم کی بناپرمصراۃ کا معاملہ جو کہ قرض کے بدلے قرض قرار پاتا ہے منسوخ ٹھہرا ۔ روایات مصراۃ کے عاملین سے گزارش یہ ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الخراج بالضمان اور اس پر بہت سے علماء کامل ہے۔ روایت بالسند ملاحظہ ہو۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← موسى بن عبيدة الزيدي ← موسى بن عبيدة وقال بن مرزوق في حديثه ← أبو بكرة في حديثه ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5430

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5431

5133 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن أبي ذئب ح

ابوعاصم نے ابن ابی الذئب سے روایت کی ہے۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5431

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5432

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا بن أبي ذئب عن مخلد بن خفاف عن عروة عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الخراج بالضمان

ابن ابی الذئب مخلد بن خفاف انہوں نے عروہ سے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ضمان کے سبب خراج کا حقدار ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← وحدثنا صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5432

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5433

5134 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا الزنجي بن خالد سمعته يقول زعم لنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت إن رجلا اشترى عبدا فاستغله ثم رأى به عيبا فخاصمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فرده بالعيب فقال يا رسول الله إنه قد استغله فقال له الغلة بالضمان

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے غلام خریدا پھر چند دن اس سے کام لیا پھر اس میں عیب پایا تو وہ اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کوعیب کے ساتھ مالک کو واپس لوٹا دیاما لک نے کہا یارسول اللہ ﷺ اس نے چند دن اس سے کام لیا ہے آپ نے فرمایا ضمان کے سبب وہ نفع کا حقدار بن گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← زعم لنا هشام بن عروة ← الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5433

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5434

5135 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا مطرف بن عبد الله قال ثنا الزنجي بن خالد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5434

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5435

5136 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال أخبرنا عبد الملك بن عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة الماجشون قال ثنا مسلم بن خالد فذكر بإسناده مثله فتلقى العلماء هذا الخبر بالقبول وزعمت أنت أن رجلا لو اشترى شاة فحلبها ثم أصاب بها عيبا غير التحفيل أنه يردها ويكون اللبن له وكذلك لو كان مكان اللبن ولد ولدته ردها على البائع وكان الولد له وكان ذلك عندك من الخراج الذي جعله النبي صلى الله عليه و سلم للمشتري بالضمان فليس يخلو الصاع الذي توجبه على مشتري المصراة إذا ردها على البائع بالتصرية أن يكون عوضا من جميع اللبن الذي احتلبه منها الذي كان بعضه في ضرعها في وقت وقوع البيع وحدث بعضه في ضرعها بعد البيع أو يكون عوضا من اللبن الذي كان في ضرعها في وقت وقوع البيع خاصة فإن كان عوضا منهما فقد نقضت بذلك أصلك الذي جعلت الولد واللبن للمشتري بعد الرد بالعيب لأنك جعلت حكمها حكم الخراج الذي جعلها النبي صلى الله عليه و سلم للمشتري بالضمان وإن كان ذلك الصاع عوضا مما كان في ضرعها في وقت وقوع البيع خاصة والباقي سالم للمشتري لأنه من الخراج فقد جعلت للبائع صاعا دينا بلبن دين وهذا غير جائز في قولك ولا في قول غيرك فعلى أي الوجهين كان هذا المعنى عليه عندك فأنت به تارك أصلا من أصولك وقد كنت أنت بالقول بنسخ هذا الحكم في المصراة أولى من غيرك لأنك أنت تجعل اللبن في حكم الخراج وغيرك لا يجعله كذلك

عبد الملک بن عبدالعزیز نے مسلم بن خالد سے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اس کی مثل روایت نقل کی ہے۔ علماء نے اس روایت کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور قبول کیا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تمہارا خیال یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی بکری خریدے پھر اس کا دودھ دو ہے اس کے بعد اس میں ایسا عیب پائے جو تھنوں میں دودھ کے جمع کرنے سے علادہ ہو تو وہ اس کو لوٹا دے اور وہ دودھ کا مالک ہو جائے گا اور اگر دودھ کی بجائے بچہ جنے تو وہ جانور بائع کی طرف لوٹا دیا جائے گا مگر بچ خریدار کا ہو گا اور تمہارے ہاں یہ وہ نفع ہے جس کو جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کے بدل مشتری کیلئے قرار دیا ہے پس ایک صاع کھجور جس کو تھنوں میں دودھ جمع کئے جانے والے جانور کو خریدنے والے پر لازم کرتے ہو کہ بائع کی طرف لوٹانے کی صورت میں پیاس تمام دودھ کا عوضانہ ہے جو اس نے خریداری کے ایام میں استعمال کیا ہے جس میں سے کچھ تو سودا کے وقت بکری کے تھنوں میں تھا اور کچھ دودھ سودا کر لینے کے بعدا سکے تھنوں میں پیدا ہوا یاوہ کھجوروں کا صاع اس دودھ عوض ہے جو سودا کرتے وقت اسکے تھنوں میں موجود تھا۔ اگر بقول تمہارے ان دونوں کے بدلے میں ہے تو اس سے تمہارا قاعدہ مقرر ٹوٹ گیا کہ تم نے عیب کی وجہ سے بیع کو رد کرنے کی صورت میں دودھ اور بچے دونوں کو مشتری کی ملک قرار دیا کیونکہ تمہارے ہاں اس کا حکم اس نفع کی طرح ہے جن کو جناب رسول الله ﷺ نے ضمان کی وجہ سے مشتری کے لئے قرار دیا اور اگر کھجوروں کا وہ صاع اس دودھ کا مرض ہے جو سودا کرتے وقت اس کے تھنوں میں پایا جاتا تھا اور باقی تمام کا تمام مشتری کیلئے ہو گا کیونکہ یہ نفع کا حصہ ہے تو تم نے قرض دودھ کے بدلے مالک کے لئے ایک صاع کھجور بطور قرض لازم کر دیں اور یہ بات تمہارے اور دوسروں کے ہاں بھی جائز نہیں ہے۔ بہرحال ان دونوں باتوں میں سے جو بات بھی تمہارے ہاں درست ہو اس سے کسی نہ کسی قاعدہ کا ترک لازم آئے گا اگر چہ تمہارا قول دوسروں کے قول سے بہتر ہے کہ مصراۃ کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔ کیونکہ تم اس دودھ کونفع کے حکم میں قرار دیتے ہو اور دوسروں کے ہاں اس طرح نہیں۔ .

مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عبد الملك بن عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة الماجشون ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5435

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5436

5137 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا أبو زرعة وهب الله بن راشد قال أخبرني يونس بن يزيد قال حدثني نافع بن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى عن بيع الثمر واشترائه حتى يبدو صلاحه

حضرت نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے پہلے ان کو بیچنے اور خریدنے سے منع فرماتے تھے۔

بيع الثمر واشترائه حتى يبدو صلاحه ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى ← نافع بن عبد الله بن عمر ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5436

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5437

5138 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو داود قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة ح

سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ اور وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اس وقت تک پھلوں کو نہ بیچو جب تک ان کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے ۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5437

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5438

وحدثنا يزيد قال ثنا أبو صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل قالا جميعا عن بن شهاب ح

لیثی اورعقیل نے ابن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

بن شِهَابٍ ← جَمِيعًا ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5438

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5439

وحدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه

سالم نے اپنے والد سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے پھلوں کی بیع ان میں صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت کرو۔

لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5439

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 6 باب بيع الثمار قبل أن تتناهى ) · حديث 5440

5139 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن عبد الله بن دينار عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ فرمایا پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اسے فروخت مت کرو۔

لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5440

chevron_left Previous
1…678…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter