شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5429
5131 - حدثنا الربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا المسعودي عن جابر الجعفي عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله قال أشهد على الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم أنه قال إن بيع المحفلات خلابة ولا يحل خلابة مسلم فكان من فعل ذلك وباع ما قد جعل يبيعه إياه مخالفا لما أمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم وداخلا فيما نهى عنه فكانت عقوبته في ذلك أن يجعل اللبن المحلوب في الأيام الثلاثة للمشتري بصاع من تمر ولعله يساوي آصعا كثيرة ثم نسخت العقوبات في الأموال بالمعاصي وردت الأشياء إلى ما ذكرنا فلما كان ذلك كذلك ووجب رد المصراة بعينها وقد زايلها اللبن علمنا أن ذلك اللبن الذي أخذه المشتري منها قد كان بعضه في ضرعها في وقت وقوع البيع عليها فهو في حكم المبيع وبعضه حدث في ضرعها في ملك المشتري بعد وقوع البيع عليها فذلك للمشتري فلما لم يكن رد اللبن بكماله على البائع إذا كان بعضه بما لم يملك بيعه ولم يمكن أن يجعل اللبن كله للمشتري إن كان ملك بعضه من قبل البائع ببيعه إياه الشاة التي قد ردها عليه بالعيب وكان ملكه له إياه بجزء من الثمن الذي كان وقع به البيع فلا يجوز أن يرد الشاة بجميع الثمن ويكون ذلك اللبن سالما له بغير ثمن فلما كان ذلك كذلك منع المشتري من ردها ورجع على بائعه بنقصان عيبها قال عيسى فهذا وجه حكم بيع المصراة قال أبو جعفر والذي قال عيسى من هذا يحتمل غير ما قال إني رأيت في ذلك وجها هو أشبه عندي بنسخ هذا الحديث من ذلك الوجه الذي ذهب إليه عيسى وذلك أن لبن المصراة الذي احتلبه المشتري منها في الثلاثة الأيام التي احتلبها فيها قد كان بعضه في ملك البائع قبل الشراء وحدث بعضه في ملك المشتري بعد الشراء إلا أنه قد احتلبها مرة بعد مرة فكان ما كان في يد البائع من ذلك مبيعا إذا أوجب نقض البيع في الشاة وجب نقض البيع فيه وما حدث في يد المشتري من ذلك فإنما كان ملكه بسبب البيع أيضا وحكمه حكم الشاة لأنه من بدنها هذا على مذهبنا وكان النبي صلى الله عليه و سلم قد جعل لمشتري المصراة بعد ردها جميع لبنها الذي كان حلبه منها بالصاع من التمر الذي أوجب عليه رده مع الشاة وذلك اللبن حينئذ قد تلف أو تلف بعضه فكان المشتري قد ملك لبنا دينا بصاع تمر دين فدخل ذلك في بيع الدين بالدين ثم نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم من بعد عن بيع الدين بالدين
مسروق نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے تھے میں گواہی دیتا ہوں کہ ابوالقاسم الصادق المصدوق حضرت محمد ﷺنے فرمایا۔ تھنوں میں دودھ روکے ہوئے جانوروں کی فروخت دھوکا ہے کسی مسلمان سے دھوکا کرنا جائز نہیں ۔ تو جو شخص یہ حرکت کرنے والا ہے وہ جناب رسول اللہﷺ کے حکم سے منہ موڑنے والا ہے یہ اس چیز میں داخل ہے جس سے آپ ﷺنے روکا ہے اب ایسی حرکت کرنے والے کی سزا یہ ہے کہ تین دن میں جو دودھ اس سے حاصل کیا ہے وہ خریدار کو صرف ایک صاع کے بدلے میں حاصل ہوجائے گا عین ممکن ہے کہ وہ کئی صاع کے برابر ہو۔ اس کے بعد مالی جرمانے سے سزا کا حکم منسوخ ہوگیا اور اشیاء کو امثال کی طرف لوٹادیا گیا (یعنی مثل صوری یا معنوی) جیسا ہم نے ذکر کیا جب بات کی اصل یہ ہے اور مصرا تہ کو بعینہ واپس لوٹانا ضروری ہے اور دودھ اس سے زائل ہو چکا (جوجمع کیا گیا تھا) اس سے معلوم ہوا کہ جو دودھ خریدار کو حاصل ہوا ہے اس میں سےکچھ مقدار سودا کرتے وقت تھنوں میں ضرور موجودتھی وہ بیع کےحکم میں ہوگا اور کچھ دودھ خریدنے کے بعد مشتری کی ملکیت میں پہنچ کر پیدا ہو وہ مشتری کا ہی ہے جبکہ تمام دودھ کو بائع کی طرف لوٹایا نہیں جاتا اس لئے کہ وہ بعض دودھ کی بیع کا مالک نہیں اورتمام دودھ کے متعلق یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مشتری اس کامالک ہے کیونکہ وہ اس مقدار دودھ کا مالک ہے جو جانور فروخت کرتے وقت اس کے تھنوں میں تھا جس جانورکے عیب کی وجہ سے واپس کر دیا گیا اور مالک نے اس کو اتنی رقم کے ساتھ اس شئی کا مالک بنایا تھا جس پران کا سودا ہوا تھا۔ پس یہی درست نہ ہوا کہ بکری کو پوری قیمت کے بدلے لوٹایا جائے اور یہ دودھ مکمل طور پر بلا قیمت اس خریدار کا ہو جائے۔ جب معاملہ اس طرح ہے تو خریدار کو واپس لوٹانے سے منع کیا جائے گا اور وہ عیب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے سلسلہ میں بائع کی طرف رجوع کرے گا عیسیٰ بن ابان کہتے ہیں کہ مسئلہ مصراۃ کا حکم یہی ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو بات ابن ابان رضی اللہ عنہ نے کہی اس میں اس کے علادہ کی گنجائش ہے اور وہ اس روایت کی تنسیخ کے لئے اس سے بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ مصراۃ کا وہ دودھ جو تین روز تک خریدارنے استعمال کیا اس میں سے کچھ دودھ تو سودے سے پہلے خریدار کی ملک تھا اور کچھ دودھ خریدنے کے بعد مشتری کی ملکیت میں پیدا ہوا البتہ اس نے بار بار دوهاتو جوکچھ خریدار کے قبضہ میں تھا وہ سودے میں شامل ہو گیا۔ جب اس جانور کی بیع کو توڑنا ضروری ہو گیا تو اس دودھ میں بھی بیع کا توڑنا ضروری ہوگیا اور جو دودھ خریدار کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے پیدا ہوا تو اس کی ملکیت بھی توبیع کے سبب سے ہے اور اس کا حکم بھی بکری وغیرہ والا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ دودھ اس کے بدن سے نکلا ہے اور یہ بات ہمارے مذہب کے بالکل مطابق ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے مصراۃ کے خریدار کے لئے اس جانورکولوٹانے کے بعداس کے تمام دودھ کو جو اس نے اس دوران دوہا ہے ایک صاع کھجور کے بدلے قرار دیا جو صاع کھجوریں کہ وہ بکری وغیرہ کے ساتھ وہ بائع کودیتا ہے اور اس وقت تک تودہ دودھ تمام یا کم از کم اس کا بعض حصہ تلف ہو چکا ہوتا ہےپس خریدار اس دودھ کا کھجور کے قرض صاع کے بدلے مالک ہو چکا پس اس طرح وہ دودھ اس بیع القرض بالقرض میں داخل ہوا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض کی بیع قرض کے بدلے منع فرمائی ہے (پس یہ اس اعتبار سے منسوخ ہوا) قرض کے بدلے قرض کی بیع ممنوع ہے۔
أشهد على الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أسد ← الربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5429
