Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5381

5091 - وحدثنا ربيع الجيزي قال ثنا حسان بن غالب قال ثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر أنهم كانوا يشترون الطعام من الركبان على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فيبعث عليهم من يمنعهم أن يبيعوه حيث اشتروه حتى يبلغوه إلى حيث يبيعون الطعام ففي هذه الآثار إباحة التلقي لما في ذلك من الضرر على غير المتلقين والمقيمين في الأسواق ويكون ما أبيح من التلقي هو الذي لا ضرر فيه على المقيمين في الأسواق فهذا وجه هذه الآثار عندنا والله أعلم واحتجوا في إجازة الشراء مع التلقي المنهي عنه بما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ہم زمانہ نبوت میں قافلوں سے غلہ خرید کر لیتے تھے آپ ان پر ایک آدمی مقرر فرمادیتے جو خریداری کے مقامات سے نقل کرنے کے بغیر فروخت سے روک دیتا یہاں تک کہ خریدار اس مقام پر نہ پہنچاتے جہاں انہوں نے غلہ فروخت کرنا ہوتا۔ (منڈی میں ) مندرجہ بالا آثار تلقی یا بیع کو درست قرار دے رہی ہیں جبکہ اس سے پہلی روایات ممانعت کی طرف مشیر ہیں پس ہمارے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ ان کے تضاد و اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔ پس جس سودے کو آگے جا کر کرنے کی ممانعت ہے جس سے بازار والوں اور آگے جا کر سودا نہ کرنے والوں کو نقصان (معتدبہ) پہنچے اور جو مباح کی گئی ہے اس سے مراد وہ ہے جس سے بازار میں ٹھہرنے والوں پر کوئی معتدبہ ضرر لازم نہ آتا ہو۔ ہم نے ان آثار کی باہمی تطبیق کر دی۔ واللہ اعلم ۔ پہلے ملاقات کر کے خریداری پر ممانعت کے باوجودیبع کے جواز کی دلیل کی روایات ہیں۔

نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5381

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5382

5092 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن بكر السهمي قال ثنا هشام عن محمد عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تلقوا الجلب فمن تلقاه فاشتراه منه شيئا فهو بالخيار إذا أتى بالسوق

محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول ﷺ فرمایا ہر تاجروں سے ملاقات مت کرو جس نے ملاقات کر کے اس سے سودا لے لیا اسے بازار میں آنے پر اختیار ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5382

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5383

5093 - حدثنا بن أبي داود قال حدثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبيد الله بن عمرو عن أيوب عن بن سيرين عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تستقبلوا الجلب ولا يبيع حاضر لباد والبائع بالخيار إذا دخل السوق ففي هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن تلقي الجلب ثم جعل للبائع في ذلك الخيار إذا دخل السوق والخيار لا يكون إلا في بيع صحيح لأنه لو كان فاسدا لأجبر بائعه ومشتريه على فسخه ولم يكن لكل واحد منهما الإباء عن ذلك فلما جعل النبي صلى الله عليه و سلم الخيار في ذلك للبيع ثبت بذلك صحته وإن كان معه تلق منهي عنه فإن قال قائل فأنتم لا تجعلون الخيار للبائع المتلقي كما جعله له النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث فجوابنا له في ذلك وبالله التوفيق أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ثبت عنه أنه قال البيعان بالخيار ما لم يتفرقا وتواترت عنه الآثار بذلك وسنذكرها في موضعها من هذا الكتاب إن شاء الله تعالى فعلمنا بذلك أنهما إذا تفرقا فلا خيار لهما فإن قال قائل فأنت قد جعلت لمن اشترى ما لم ير خيار الرؤية حتى يراه فيرضاه فيما أنكرت أن يكون خيار التلقي كذلك أيضا قيل له إن خيار الرؤية لم نوجبه قياسا وإنما وجدنا أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أثبتوه وحكموا به وأجمعوا عليه ولم يختلفوا فيه وإنما جاء الاختلاف في ذلك ممن بعدهم فجعلنا ذلك خارجا من قول النبي صلى الله عليه و سلم البيعان بالخيار حتى يتفرقا وعلمنا أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يعن ذلك لإجماعهم على خروجه منه كما علمنا بإجماعهم على تجويز السلم أنه خارج من نهي النبي صلى الله عليه و سلم عن بيع ما ليس عندك فإن قال قائل وهل رويتم عن أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم في خيار الرؤية شيئا قيل له نعم

ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا باہر جا کر تاجروں سے ملاقات مت کرو اور کوئی شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے جب بازار میں داخل ہو تو بائع کو اختیار حاصل ہوگا کہ (فسخ کرے یا باقی رکھے ) اس روایت میں آگے جا کر تاجروں سے سامان خریدنے کی ممانعت ہے پھر فروخت کرنے والے کو اختیار دیا جبکہ وہ منڈی میں پہنچ جائے اور خیار تو درست خرید وفروخت میں ہوتا ہے اگر بیع فاسد ہوتی تو خریدار اور بائع کو فسخ پر مجبور کیا جاتا اور کسی کو انکار کا اختیار نہ تھا۔ یہاں جب بائع کو خیار دے دیا تو اس سے اس کی درستی ثابت ہوگئی اگر چہ اس نے ممنوع ملاقات کی۔ اگر کوئی معترض کہے کہ تم ملاقات کئے جانے والے بائع کو اس طرح اختیارنہیں دیتے جیسے جناب نبی اکرمﷺ نے دیا۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ جواب دیں گے اس حال میں کی توفیق الہی ہمارے شامل حال ہے کہ جناب رسول ﷺ سے ثابت ہے البیعان بالخیار کہ بائع و مشتری ہر دوکو اختیار ہے جب تک کہ وہ مجلس بیع سے جدا نہ ہوں اور متواتر روایت ہے جس کو اسناد کے ساتھ آئندہ ذکر کریں گے۔ پس اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ وہ جب مجلس بیع سے جدا ہو جائیں گے تو اختیار باقی نہ رہے گا۔ تمہارے ہاں تو مشتری کو مال دیکھنے تک خیار رویت حاصل ہوتا ہے جب دیکھ کر پسند آئے تو تب خیار ختم ہوتا ہے خیار تلقی والے کو بدرجہ اولی حاصل ہونا چاہے تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ خیار رویت قیاس سے ثابت نہیں بلکہ اصحاب رسول ﷺکے اجماع اور ان کے آثار وعمل سے ثابت ہے ان میں سے کسی سے اختلاف منقول ہیں ۔ اس میں اختلاف بعد والوں سے منقول ہے اور ہم نے البيعان بالخيار حتى يتفرقا ارشاد نبویﷺ کے ذریعہ سے خارج کر دیا۔ ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ جناب رسول ﷺ نے یہ اختیار مراد نہیں لیا۔ کیونکہ آپ کے ارشاد سے اس کے خارج ہونے پر اتفاق ہے جس طرح کہ ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرام کا و سلم کے جواز پراجماع ہے اور وہ آپﷺ کے ارشاد کہ جوتمہارے پاس موجود نہ ہو اس کو مت فروخت کرو۔ اس نہی سے بیع سلم خارج ہے۔ خیار رویت پر صحابہ کرام کے آثار اگر موجود ہیں تو ان کو پیش کرو۔ تو اس کے جواب میں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے آثار بطور نمونہ ذکررہے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5383

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5384

5094 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة ومحمد بن شاذان قالا ثنا هلال بن يحيى بن مسلم قال ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن رباح بن أبي معروف المكي عن بن أبي مليكة عن علقمة بن وقاص الليثي قال اشترى طلحة بن عبيد الله من عثمان بن عفان مالا فقيل لعثمان إنك قد غبنت وكان المال بالكوفة وهو مال آل طلحة الآن بها فقال عثمان لي الخيار لأني بعت ما لم أر فقال طلحة إلي الخيار لأني اشتريت ما لم أر فحكما بينهما جبير بن مطعم فقضى أن الخيار لطلحة ولا خيار لعثمان والآثار في ذلك قد جاءت متواترة وإن كان أكثرها منقطعا فإنه منقطع لم يضاده متصل وفي هذا أيضا حجة أخرى وهي أن النبي صلى الله عليه و سلم جعل في حديث أبي هريرة للمتلقي البائع الخيار فيما باع إذا دخل الأسواق وعلم بالأسعار فأردنا أن ننظر هل ضاد ذلك شيء أم لا فاعتبرنا ذلك

علقمہ بن وقاص بھی بیان کرتے ہیں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کوئی چیز خریدی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کسی نے کہا تمہیں سودے میں نقصان ہے۔ اس وقت مال کوفہ میں تھا۔ وہ مال آل طلحہ کا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے اختیار ہے کیونکہ میں وہ چیز بیچ رہا ہوں جس کو میں نے نہیں دیکھا۔ اس سلسلہ میں متواتر آثار وارد ہیں اگر چہ اکثر منقطع ہیں مگر اس کے متضاد کوئی متصل روایت موجود نہیں (پس وہ آثار قياس سے اعلیٰ و اولیٰ ہیں) اس میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں جناب رسول ﷺنے اس بائع کو اختیار دیا ہے جس سے باہر جا کر ملاقات کی گئی ہے کہ جب وہ منڈی میں آئے اور اسے گرانی کا علم ہو جائے (تو وہ سودا توڑسکتا ہے) اب فیصلہ پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بالمقابل کوئی واضح روایت مل جائے۔ روایت انس رضی اللہ عنہ بھی ملاحظہ ہو۔ حضرت طلحہ نے فرمایا مجھے بھی اختیار ہے کیونکہ میں نے ایسی چیز خریدی ہے جس کو میں نے نہیں دیکھا۔ دونوں نے حضرت جبیربن مطعم کو فیصل بنایا۔ تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو اختیار ہے مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جی کو اختیار نہیں۔

عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← بن أبي مليكة ← رَبَاح بن أبي مَعْرُوف الْمَكِّيّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هلال بن يحيى بن مسلم ← أبو بكرة بكار بن قتيبة ومحمد بن شاذان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5384

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5385

5095 - فإذا أبو بكرة قد حدثنا قال ثنا حسين بن حفص الأصبهاني قال ثنا سفيان عن يونس بن عبيد عن بن سيرين عن أنس قال نهينا أن يبيع حاضر لباد وإن كان أباه أو أخاه

ابن سیرین نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری دیہاتی کے ساتھ بیع نہ کر ےاگر چہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہو۔

نهينا أن يبيع حاضر لباد وإن كان أباه أو أخاه ← أَنَسٍ، ← بن سِيرِينَ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← حسين بن حفص الأصبهاني ← فإذا أبو بكرة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5385

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5386

5096 - حدثنا أبو أمية قال ثنا عبد الله بن حمران عن بن عون عن محمد عن أنس قال نهينا أن يبيع حاضر لباد

محمدنے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں اس بات سے روک دیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی سے سودا کرے۔

نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ← أَنَسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← بن عون ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5386

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5387

5097 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا أسد قال ثنا بن أبي ذئب عن مسلم الخياط عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يبيع حاضر لباد

مسلم خیاط نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے۔

بن عُمَرَ ← مُسْلِمٍ الْخَيَّاطِ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أسد ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5387

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5388

5098 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا علي بن الجعد قال أخبرنا صخر بن جويرية عن نافع عن بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5388

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5389

5099 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا موسى بن أعين عن ليث بن أبي سليم عن مجاهد عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد ولا يشتري له

مجاہد نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرمﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے ولا يشترى له اور نہ خریداری کرے

النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد ولا يشتري له ← بن عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5389

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5390

5100 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا الدراوردي عن داود بن صالح بن دينار عن أبيه عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يبيع حاضر لباد

داود بن صالح بن دینار نے اپنے والد سے انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ چینی سے انہوں نے جناب رسول ﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی سے سودانہ کرے۔

لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← داود بن صالح بن دينار ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5390

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5391

5101 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب ح

ابن مرزوق نے وہب نقل کیا ہے۔

وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5391

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5392

وحدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرمﷺنے اس طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5392

chevron_left Previous
1234…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter