شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5381
5091 - وحدثنا ربيع الجيزي قال ثنا حسان بن غالب قال ثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر أنهم كانوا يشترون الطعام من الركبان على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فيبعث عليهم من يمنعهم أن يبيعوه حيث اشتروه حتى يبلغوه إلى حيث يبيعون الطعام ففي هذه الآثار إباحة التلقي لما في ذلك من الضرر على غير المتلقين والمقيمين في الأسواق ويكون ما أبيح من التلقي هو الذي لا ضرر فيه على المقيمين في الأسواق فهذا وجه هذه الآثار عندنا والله أعلم واحتجوا في إجازة الشراء مع التلقي المنهي عنه بما
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ہم زمانہ نبوت میں قافلوں سے غلہ خرید کر لیتے تھے آپ ان پر ایک آدمی مقرر فرمادیتے جو خریداری کے مقامات سے نقل کرنے کے بغیر فروخت سے روک دیتا یہاں تک کہ خریدار اس مقام پر نہ پہنچاتے جہاں انہوں نے غلہ فروخت کرنا ہوتا۔ (منڈی میں ) مندرجہ بالا آثار تلقی یا بیع کو درست قرار دے رہی ہیں جبکہ اس سے پہلی روایات ممانعت کی طرف مشیر ہیں پس ہمارے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ ان کے تضاد و اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔ پس جس سودے کو آگے جا کر کرنے کی ممانعت ہے جس سے بازار والوں اور آگے جا کر سودا نہ کرنے والوں کو نقصان (معتدبہ) پہنچے اور جو مباح کی گئی ہے اس سے مراد وہ ہے جس سے بازار میں ٹھہرنے والوں پر کوئی معتدبہ ضرر لازم نہ آتا ہو۔ ہم نے ان آثار کی باہمی تطبیق کر دی۔ واللہ اعلم ۔ پہلے ملاقات کر کے خریداری پر ممانعت کے باوجودیبع کے جواز کی دلیل کی روایات ہیں۔
نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ، ← ربيع الجيزي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5381
