شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5609
5301 - حدثنا حسين قال سمعت يزيد بن هارون قال أخبرنا سفيان الثوري عن سلمة فذكر بإسناده مثله إلا أنه لم يقل اشتروا له وقال اطلبوا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى إجازة استقراض الحيوان واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز استقراض الحيوان وقالوا يحتمل أن يكون هذا كان قبل تحريم الربا ثم حرم الربا بعد ذلك وحرم كل قرض جر منفعة وردت الأشياء المستقرضة إلى أمثالها فلم يجز القرض إلا فيما له مثل وقد كان أيضا قبل نسخ الربا يجوز بيع الحيوان بالحيوان نسيئة والدليل على ذلك
ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پر کسی آدمی کا قرض تھا اس نے تقاضا کیا اور سختی سے پیش آیا صحابہ کرام اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر دست درازی کا ارادہ کیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ۔ حق والا بات کر سکتا ہے اس کو ایک اونٹ خرید کر دے دو۔ کیونکہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں اچھا ہو۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5609
