Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5597

5289 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن يزيد بن خصيفة قال أخبرني السائب بن يزيد أن سفيان بن أبي زهير الشنائي أخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من اقتنى كلبا لا يغنى عنه في ضرع ولا زرع نقص من عمله كل يوم قيراط قال فقال السائب لسفيان أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إي ورب القبلة

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جس نے کتا پالا اس کو دودھ والا جانور اور کھیتی کام نہ دے گی اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا ہے ۔ سائب نے سفیان سے پوچھا کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا تو انہوں نے فرمایا جی ہاں مجھے رب کعبہ کی قسم میں نے سنا ہے ۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← محمد بن النعمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5597

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5598

5290 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله

مالک نے یزید بن خصیفہ سے روایت کی ، پھر انہوں نے اپنے اسناد سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5598

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5599

5291 - حدثنا بن أبي مريم قال أخبرنا محمد بن حبق قال ثنا يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر قول السائب لسفيان أسمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فلما ثبتت الإباحة بعد النهي وأباح الله عز و جل في كتابه ما أباح بقوله وما علمتم من الجوارح مكلبين اعتبرنا حكم ما ينتفع به هل يجوز بيعه ويحل ثمنه أم لا فرأينا الحمار الأهلي قد نهى عن أكله وأبيح كسبه والانتفاع به فكان بيعه إذ كان هذا حكمه حلالا وثمنه حلال وكان يجئ في النظر أيضا أن يكون كذلك الكلاب لما أبيح الانتفاع بها حل بيعها وأكل ثمنها ويكون ما روى في حرمة أثمانها كان وقت حرمة الانتفاع بها وما روى في إباحة الانتفاع بها دليل على حل أثمانها وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد

مالک نے یزید بن خصیفہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ سائب کا یہ قول مذکور نہیں۔ اسمعت ھذا من رسول اللہ ﷺ طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ممانعت کے بعد جب اباحت کا ثبوت ان آثار سے مل گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اباحت اتار دی : وما علمتم من الجوارح مکلین : ( المائدہ : 4) اب جس سے نفع اٹھایا جاسکے اس کے حکم کا اعتبار کیا ۔ اب اس کے فروخت کا جواز اور اجرت کا حلال مانیں گے یا نہیں ۔ اس کی فروخت کے جواز اور ثمن کے درست ہونے کے سلسلے میں دیکھنا ہے چنانچہ پالتو گدھے کو دیکھیں کہ اس کے گوشت کا کھانا ممنوع ہے البتہ اس سے فائدہ اٹھانا اور کمائی میں معاونت لینا درست ہے پھر اس کی بیع کا حکم بھی یہی پایا جاتا ہے کہ وہ بھی حلال ہے اور اس کی اجرت بھی حلال ہے ۔ تقاضا نظر یہی ہے کہ کتے کا بھی یہی حکم ہو کیونکہ اس سے انتفاع درست ہے اور اس کی فروخت اور قیمت کا کھانا جائز ہے اور وہ روایات جو اس کی ثمن کے حرام ہونے کے سلسلہ میں وارد ہیں وہ اس وقت سے متعلق ہیں جب انتفاع تھا اور جو انتفاع کے مباح ہونے کی روایت ہیں وہ اس کی ثمن کے حلال ہونے کا ثبوت ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ (ہم گزشتہ سطور میں روایات ذکر کر آئے مگر ان روایات میں اضافہ ہے اس لئے ان کو بھی ذکر کیا جا رہا ہے ۔ )

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5599

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5600

5292 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال ثنا سفيان عن موسى بن عبيدة عن القعقاع بن حكيم عن سلمى أم رافع عن أبي رافع قالت جاء جبريل عليه السلام إلى النبي صلى الله عليه و سلم فاستأذن عليه فأذن له فأبطأ فأخذ رداءه فخرج فقال قد أذنا لك قال أجل يا رسول الله ولكنا لا ندخل بيتا فيه صورة ولا كلب فنظروا فإذا في بعض بيوتهم جرو فأمر أبا رافع أن لا يدع كلبا بالمدينة إلا قتله فإذا بامرأة في ناحية المدينة لها كلب يحرس غنمها قال فرحمتها فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأمرني فقتلته فأتاه ناس من الناس فقالوا يا رسول الله ماذا يحل لنا من هذه الأمة التي أمرتنا بقتلها قال فنزلت يسألونك ماذا أحل لهم قل أحل لكم الطيبات وما علمتم من الجوارح مكلبين

سلمیٰ رضی اللہ عنہ رافع نے ابو رافع سے روایت کی ہے ۔ کہ جبرائیل علیہ السلام جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور اجازت طلب کی جو دے دی گئی مگر انہوں نے اندر آنے میں دیر کی تو جناب رسول اللہ ﷺ چادر مبارک لئے باہر تشریف لائے اور فرمایا ہم نے تمہیں اجازت دے دی جبرائیل بولے یا رسول اللہ ﷺ جی ہاں ۔ لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر اور کتا ہو۔ پس گھر والے لوگوں نے دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں کتے کا بچہ ہے پس آپ نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا مدینہ منورہ میں جس کتے کو پائیں قتل کر دیں اچانک وہ مدینہ کی ایک جانب میں پہنچے جہاں ایک عورت کے پاس ایک کتا پایا جو اس کی بکریوں کی حفاظت کرتا تھا۔ ابو رافع کہتے ہیں مجھے اس پر رحم آیا تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور صورت حال ذکر کر دی تو آپ نے اس کو بھی مار ڈالنے کا حکم فرمایا ۔ پھر آپ کی خدمت میں کچھ لوگ آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ جس مخلوق کے قتل کا حکم ملا ہے اس میں سے ہمارے لئے کیا جائز ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیات وما علمتم من الجوارح مکلین ، ( المائدہ : 4)

أَبِي رَافِعٍ ← سَلْمَى أُمِّ رَافِعٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← موسى بن عبيدة ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5600

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5601

5293 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن سليمان الجعفي قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال حدثني موسى بن عبيدة قال حدثني أبان بن صالح عن القعقاع بن حكيم عن سلمى أم رافع عن أبي رافع قال لما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الكلاب أتاه ناس فقالوا يا رسول الله ما يحل لنا من هذه الأمة التي أمرت بقتلها فنزلت يسألونك ماذا أحل لهم قل أحل لكم الطيبات وما علمتم من الجوارح مكلبين ففي هذا الحديث أيضا مثل ما قبله مما إباحه رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد أن أمر بقتلها وإن كان لم يذكر في هذا الحديث غير ما يضاد به منها وفيه زيادة على ما قبله من الأحاديث في الإباحة التي ذكرنا لأن فيه نزول هذه الآية بعد تحريم الكلاب وأن هذه الآية أعادت الجوارح المكلبين إلى أن صيرتها حلالا وإذا صارت كذلك كانت في سائر الأشياء التي هي حلال في حل إمساكها وإباحة أثمانها وضمان متلفيها ما أتلفوا منها كغيرها وقد روي في ذلك عمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم

سلمیٰ ام رافع نے ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے قتل کا حکم فرمایا تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس مخلوق میں سے جس کے قتل کا حکم ہوا ہے ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ تو یہ آیت اتری ۔ یسئلونک ماذا احل لھم الایہ ( المائدہ ۔ 4) اس روایت میں بھی ما قبل کی طرح اس چیز کی اباحت ہے جس کے قتل کا پہلے حکم فرمایا ۔ اگرچہ اس روایت میں شکاری کتے کے علاوہ دوسرے کتوں کا تذکرہ موجود نہیں ہے اور اس روایت میں پہلی روایت اباحت سے کچھ اضافہ ہے کیونکہ ان میں آیت کا شان نزول ذکر کیا گیا اس کے بعد کے ان کا رکھنا حرام کیا گیا تھا۔ اس آیت میں شکاری کتوں کے رکھنے کو جائز قرار دیا دوبارہ ذکر کیا یہاں تک کہ ان کا رکھنا حلال قرار دیا جب یہ صورت حال ہے تو کتوں کو رکھنے اور ان کی قیمت کے حلال ہونے اور ان کو ضائع کرنے والے پر تاوان واجب ہونے کے سلسلہ میں ان کا حکم دوسری اشیاء کی طرح ہو گیا۔

أَبِي رَافِعٍ ← سَلْمَى أُمِّ رَافِعٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← موسى بن عبيدة ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5601

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5602

5294 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو أنه قضى في كلب صيد قتله رجل بأربعين درهما وقضى في كلب ماشية بكبش

عمرو بن شعیب نے عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ایک شکاری کتے کے متعلق چالیس درہم قیمت کے ضمان کا فیصلہ فرمایا جس کو ایک آدمی نے قتل کر دیا تھا اور چوپایوں کی حفاظت کرنے والے کتے کے لئے ایک دنبے کا فیصلہ فرمایا۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5602

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5603

5295 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر أنه نهى عن ثمن الكلب والسنور إلا كلب صيد وقد روينا عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الباب أنه نهى عن ثمن الكلب ولم يفسر أي كلب هو فلم يحل ذلك من أحد وجهين إما أن يكون أراد خلاف كلاب المنافع أو يكون أراد كل الكلاب ثم ثبت عنده نسخ كلب الصيد منها فاستثناه في هذا الحديث

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کتے کی قیمت اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا مگر شکاری کتے کے سلسلے میں اجازت دی ہم پہلے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے جناب نبی اکرم ﷺ کا قول اس باب میں ذکر کر آئے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت کی ممانعت فرمائی مگر اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کون سا کتا ہے ؟ تو اس طرح دونوں صورتوں میں سے ایک سے خالی نہیں۔ یا تو فائدہ دینے والے کتوں کا ارادہ فرمایا یا تمام کتے مراد ہیں ۔ پھر جب ان کے ہاں شکاری کتے کے حکم کا منسوخ ہونا ثابت ہو گیا تو انہوں نے اس روایت میں اس کو مستثنیٰ کر دیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الباب أنه نهى ← ثمن الكلب والسنور إلا كلب صيد وقد روينا عنه ← جابر أنه نهى ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5603

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5604

5296 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا إسرائيل عن جابر عن عطاء قال لا بأس بثمن الكلب السلوقي فهذا عطاء يقول هذا وقد روى عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أن ثمن الكلب من السحت فدل ذلك على المعنى الذي ذكرنا في حديث جابر رضي الله عنه حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب أنه قال إذا قتل الكلب المعلم فإنه يقوم قيمته فيغرمه الذي قتله فهذا الزهري يقول هذا وقد روى عن أبي بكر بن عبد الرحمن عن النبي صلى الله عليه و سلم أن ثمن الكلب سحت فالكلام في هذا مثل الكلام في حديث جابر

اسرائیل نے جابر رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عطاء رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں سلوتی ( یمن کا ایک گاؤں ) کتوں کی قیمت میں کوئی حرج نہیں ۔ یہ حضرت عطاء یہاں اباحت ثمن کا فتویٰ دے رہے ہیں حالانکہ ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کر چکے ہیں کہ کتے کی قیمت حرام ہے اسے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور معنی پر مزید دلالت مل گئی ۔

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هذا وقد روي ← إذا قتل الكلب المعلم فإنه يقوم قيمته فيغرمه الذي قتله فهذا الزهري ← بن شهاب أنه ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هذا وقد روي ← لا بأس بثمن الكلب السلوقي فهذا عطاء ← عَطَاءٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5604

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5605

5297 - حدثنا بحر قال ثنا بن وهب قال أخبرني سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان الأنصاري قال كان يقال يجعل في الكلب الضاري إذا قتل أربعون درهما

عقیل کہتے ہیں کہ ابن شہاب سے مروی ہے کہ جس شکاری کتے کو ہلاک کیا جائے تو اس کی قیمت لگا کر مارنے والے سے تاوان لیا جائے گا۔ زہری کا یہ فتویٰ ہے حالانکہ انہوں نے پہلے ابو بکر بن عبدالرحمن کے واسطہ سے جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ کتے کی قیمت حرام ہے تو اس روایت پر بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ والی روایت کی طرح کلام ہوگا۔

كان يقال يجعل في الكلب الضاري إذا قتل أربعون درهما ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← بن وَهْبٍ ← بَحْرٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5605

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5606

5298 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أخبرنا شريك ومحمد بن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال لا بأس بثمن كلب الصيد

یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ انصاری سے روایت نقل کی ہے کہ یہ کہا جاتا تھا کہ شکاری کتے کے قتل میں چالیس درہم مقرر کئے جائیں گے۔

لاَ بَأْسَ بِثَمَنِ كَلْبِ الصَّيْدِ. ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شريك ومحمد بن فضيل ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5606

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5607

5299 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم استسلف من رجل بكرا فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكرة فرجع إليه أبو رافع فقال لم أجد فيها إلا جملا خيارا رباعيا فقال أعطه إياه إن خيار الناس أحسنهم قضاء

مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ شکاری کتے کی قیمت میں کوئی حرج نہیں۔

أَبِي رَافِعٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5607

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 13 باب استقراض الحيوان ) · حديث 5608

5300 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا شبابة بن سوار قال أخبرنا شعبة عن سلمة بن كهيل قال سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن يحدث عن أبي هريرة قال كان لرجل على النبي صلى الله عليه و سلم دين فتقاضاه فأغلظ عليه فأقبل عليه أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وهموا به فقال النبي صلى الله عليه و سلم ذروه فإن لصاحب الحق مقالا اشتروا له سنا فأعطوه إياه فإن خيركم أو من خيركم أحسنكم قضاء

عطاء بن یسار نے ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے نو عمر اونٹ بطور قرض لیا جب آپ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو حضرت ابو رافع کو حکم دیا کہ اس آدمی کو نو عمر اونٹ واپس کر دو۔ ابو رافع دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان میں سے بہتر سات سالہ اونٹ ہی پاتا ہوں آپ نے فرمایا وہی دے دو۔ بہترین لوگ وہ ہیں جو احسن طریقے پر قرض ادا کرتے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5608

chevron_left Previous
1…20212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter