شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5537
5234 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا يونس بن عبيد الله عن نافع عن بن عمر أنه كان يكره أن يشتري الرجل الأمة على أن لا يبيع ولا يهب فقد أبطل عمر رضي الله عنه بيع عبد الله وتابعه عبد الله على ذلك ولم يخالفه فيه وقد كان له خلافه أن لو كان يرى خلاف ذلك لأن ما كان من عمر لم يكن علي جهة الحكم وإنما كان على جهة الفتيا وتابعتهما زينب امرأة عبد الله على ذلك ولها من رسول الله صلى الله عليه و سلم صحبة وتابعهم على ذلك عبد الله بن عمر رضي الله عنهما وقد علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كان من قوله لعائشة رضي الله عنها في أمر بريرة على ما قد رويناه عنه في هذا الباب فدل ذلك أن معناه كان عنده على خلاف ما حمله عليه الذين احتجوا بحديثه ولم نعلم أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم غير من ذكرنا ذهب في ذلك إلى غير ما ذهب إليه عمر ومن تابعه على ذلك ممن ذكرنا في هذه الآثار فكان ينبغي أن يجعل هذا أصلا وإجماعا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم ولا يخالف فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا رأينا الأصل المجتمع عليه أن شروطا صحاحا قد تعقد في الشيء المبيع مثل الخيار إلى أن أجل معلوم للبائع وللمبتاع فيكون البيع على ذلك جائزا وكذلك الأثمان قد تعقد فيها الآجال يشترطها المبتاع فتكون لازمة إذا كانت معلومة ويكون البيع بها مضمنا ورأينا ذلك الأجل لو كان فاسدا فسد بفساده البيع ولم يثبت البيع وينتفي هو إذا كان معقودا فيه فلما جعل البيع مضمنا بهذه الشرائط المشروطة في ثمنه في صحتها وفسادها فجعل جائزا بجوازها وفاسدا بفسادها ثم كان البيع إذا وقع على المبيع وكان عبدا على أن يخدم البائع شهرا فقد ملك المشتري عبده على أن ملكه المشتري ألف درهم وخدمة العبد شهرا والمشتري حينئذ غير مالك للخدمة ولا للعبد لأن ملكه للعبد إنما يكون بعد تمام البيع فصار البيع واقعا بمال وبخدمة عبد لا يملكه المشتري في وقت إبتياعه بالمال وبخدمته وقد رايناه لو إبتاع عبدا لخدمة أمة لا يملكها كان البيع فاسدا فالنظر على ذلك أن يكون البيع أيضا كذلك إذا عقد لخدمة من لم يكن تقدم ملكه له قبل ذلك العقد لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن بيع ما ليس عندك ولما كانت الأثمان مضمنة بالآجال الصحيحة والفاسدة على ما قد ذكرنا كان كذلك الأشياء المثمونة أيضا المضمنة بالشرائط الفاسدة والصحيحة فثبت بذلك أن البيع لو وقع واشترط فيه شرط مجهول أن البيع يفسد بفساد ذلك الشرط على ما قد ذكرنا فقد انتفى قول من قال يجوز البيع ويبطل الشرط وقول من قال يجوز البيع ويثبت الشرط ولم يكن في هذا الباب قول غير هذين القولين وغير القول الآخر إن البيع يبطل إذا اشترط فيه ما ليس منه فلما انتفى القولان الأولان ثبت هذا القول الآخر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم أجمعين
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ آ دمی کوئی لونڈی اس شرط پر خریدے کہ وہ اس کو فروخت کرے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالله کی بیع کو باطل کردیا اور عبداللہ نے ان کی بات مان کر مخالفت نہیں کی اور وہ اس کی مخالفت کر سکتے تھے اگر ان کی رائے اس کے خلاف ہوتی کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بطور حکم نہیں فرمائی بلکہ بطور فتویٰ بات فرمائی اور پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے ان کی اتباع کی اور وہ بھی صحابیہ رسول اللہ ﷺ ہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی اتباع کی ہے حالانکہ وہ جناب رسول الله ﷺ کا ارشاد جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو حضرت بر یر رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں فرمایا تھا ان کو معلوم تھا اور انہی کی روایت سے ہم نے باب میں ذکر کیا ہے۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث کا وہ مفہوم نہیں جو اس حدیث سے استدلال کرنے والوں نے اپنایا ہے اور ان مذکورہ بالا صحابہ کرام کے علاوہ کوئی ایسا صحابی ہمارے علم میں نہیں ہے جس نے اس سلسلہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین جن کا ان روایات میں ذکر ہوا کہ انہوں نے ان کے خلاف مذہب اختیار کیا ہو۔ لہذا اس بات کو اصل اور صحابہ کرام کا اجماع قرار دیا جائے اور اس کی مخالفت نہ کی جائے۔ روایات کے طریقہ سے اس باب کا بیان یہی ہے۔ اس اصل پر سب کا اتفاق ہے کہ فروخت کی جانے والی اشیاء میں صحیح شرائط رکھی جاتی ہیں مثلا بائع یا مشتری کو ایک معلوم وقت تک خیار حاصل ہوتا ہے اس شرط پر بیع جائز ہوتی ہے اسی طرح قیمت کی ادائیگی کے لئے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے اور یہ خریدنے والے کی طرف سے شرط ہوتی ہے اور یہ لازم ہوجاتی ہے جبکہ معلوم ہو اور ان کے ساتھ بیع مشروط ہو جاتی ہے اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اگر یہ میعاد فاسد ہوتو اس سے بیع بھی فاسد ہو جاتی ہے اور وہ ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کی نفی ہوتی ہے جبکہ اس کو عقد میں ذکر کیا جائے ۔ تو جب سودے کی صحت وفساد قیمت میں رکھی جانے والی ان شرائط سے مشروط ہے تو ان کے جائز ہونے سے سودا جائز ہوگا اور ان کے فساد سے بیع بھی فاسد ہوگی پھر جب غلام کی بیع اس شرط پر کی جائے کہ وہ ایک ماہ فروخت کرنے والے کی خدمت کرے گا تو بلاشبہ ہائع نے خرید والے کو اپنے غلام کا اس طرح مالک بنایا کہ وہ اسے ہزار درہم اور ایک مہینہ تک غلام کے اس کی خدمت کرنے کا مالک بنائے اور خریدنے والا اس وقت خدمت کا مالک نہیں اور نہ ہی غلام کا مالک ہے۔ کیونکہ اسے بیع کے مکمل ہونے کے بعد ملکیت حاصل ہوگی تو (اس طرح) یہ سودا مال اور غلام کے خدمت کرنے پر واقع ہوا اور مشتری مال اور خدمت کے بدلے اسے خریدنے وقت اس غلام کا مالک ہی نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ غلام کو کسی ایسی لونڈی کی خدمت کے لئے خریدے۔ جس کا وہ مالک نہیں ہوا تو یہ بیع فاسد ہوتی ہے۔ تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جس کا وہ اس عقدے پہلے مالک نہیں ہوا اس کے خدمت کرنے کی شرط پر بیع کا حکم بھی یہی ہو کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس چیز کے سودے سے منع فرمایا۔ جوتمہارے پاس نہ ہو۔ تو جب قیمتیں صحیح اور فاسد میعاد کے ساتھ مشروط ہو جاتی ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے تو اس طرح وہ اشیاءجن کی وہ قیمتیں ہیں وہ بھی شرائط فاسد ہ اور صحیحہ کے ساتھ مشروط ہوں گی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر سودا اس طرح واقع ہو کہ اس میں مجہول شرط رکھی جائے اس کے فسادسے بیع فاسد ہوگی جیسا کہ ہم نے ذکر کیا تو اس طرح ان لوگوں کے قول کی نفی ہوگئی جو کہتے ہیں کہ بیع جائز اور شرط باطل ہو جائے گی اور جو کہتے ہیں کہ بیع جائز اور شرط ثابت ہوگی اس باب میں ان دو قولوں اور اس قول کے سوا کوئی اور قول نہیں کہ جب بیع میں ایسی شرط لگائی جائے جو اس سے نہیں تو وہ بیع باطل ہو جاتی ہے۔ پس دوقول باطل ہو گئے تو یہ تیسرا قول ثابت ہو گیا امام ابوحنیفہ امام ابو یوسف امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔
بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن النعمان
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5537
