شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5525
5222 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني رجال من أهل العلم منهم يونس بن يزيد والليث عن بن شهاب حدثهم عن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت جاءت بريرة إلي فقالت يا عائشة إني قد كاتبت أهلي على تسع أواق في كل عام أوقية فأعينيني ولم تكن قضت من كتابتها شيئا فقالت لها عائشة ارجعي إلى أهلك فإن أحبوا أن أعطيهم ذلك جميعا ويكون ولاؤك لي فعلت فذهبت إلى أهلها فعرضت ذلك عليهم فأبوا وقالوا إن شاءت أن تحتسب عليك فلتفعل ويكون ولاؤك لنا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك منها إبتاعي وأعتقي فإنما الولاء لمن أعتق [ ص 44 ] وقام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد فما بال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز و جل كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط قضاء الله أحق وشرط الله أوثق فإنما الولاء لمن أعتق قال أبو جعفر ففي هذا الحديث غير ما في الأحاديث الأول وذلك أن في الأحاديث الأول أن أهل بريرة أرادوا أن يبيعوها على أن تعتقها عائشة رضي الله عنها ويكون ولاؤها لهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم لا يمنعك ذلك اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان في هذا الحديث إباحة البيع على أن يعتق المشتري وعلى أن يكون ولاء المعتق للبائع فإذا وقع ذلك ثبت البيع وبطل الشرط وكان الولاء للمعتق وفي حديث عروة عن عائشة رضي الله عنها أن عائشة رضي الله عنها قالت لها إن أحب أهلك أن أعطيهم ذلك تريد الكتابة صبة واحدة فعلت ويكون ولاؤك لي فلما عرضت عليهم بريرة ذلك قالوا إن شاءت أن تحتسب عليك فلتفعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها لا يمنعك ذلك منها اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان الذي في هذا الحديث مما كان من أهل بريرة من اشتراط الولاء ليس في بيع ولكن في أداء عائشة رضي الله عنها إليهم الكتابة عن بريرة وهم تولوا عقد تلك الكتابة ولم يكن تقدم ذلك الأداء من عائشة رضي الله عنها ملك فذكرت ذلك عائشة رضي الله عنها للنبي صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك منها أي لا ترجعين لهذا المعنى عما كنت نويت في عتاقها من الثواب اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان ذكر ذلك الشراء ههنا ابتداء من النبي صلى الله عليه و سلم ليس مما كان قبل ذلك بين عائشة رضي الله عنها وبين أهل بريرة في شيء ثم كان قام النبي صلى الله عليه و سلم فخطب فقال ما بال أقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز و جل كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط إنكارا منه على عائشة رضي الله عنها في طلبها ولاء من تولى غيرها كتابتها بحق ملكه عليها ثم نبهها وعلمها بقوله فإنما الولاء لمن أعتق أي إن المكاتب إذا أعتق بأداء الكتابة فمكاتبه هو الذي أعتقه فولاؤه له فهذا حديث فيه ضد ما في غيره من الأحاديث الأول وليس فيه دليل على اشتراط الولاء في البيع كيف حكمه هل يجب به فساد البيع أم لا فإن قال قائل فإن هشام بن عروة قد رواه عن أبيه فزاد فيه شيئا قلنا له صدقت
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ آئیں اور کہنے لگیں۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہ ! میں نے 9اوقیہ چاندی پر اپنے مالکوں سے مکاتبت کی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینے کا وعدہ کیا ہے تم میری بدل کتابت میں معاونت کرو۔ اس وقت تک بدل کتابت میں سے کچھ بھی ادائیگی نہ کی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بریرہ کو کہا اپنے مالکوں کو کہو اگر ان کو پسند ہو تو تمام بدل کتابت دے دوں اور تیری ولاء میرے لئے ہوگی۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہ بات پیش کی تو انہوں نے کہا اگر وہ چاہتی ہیں کیت پر صدقہ کردیں تو کر ڈالیں مگر تمہاری ولاء تو ہماری ہی ہوگی پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اسی سلسلہ میں آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا یہ چیز تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بن سکے گی تو خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء و آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا مضمون پلی روایات کے خلاف ہے حضرت بریرہ کے مالکوں نے ان کو اس شرط پر فروخت کرنا چاہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ اس کو آزاد کرے اور ولا ءبھی ان کو ملے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ شرط تمہارے لئے رکاوٹ نہ بننی چاہئے تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ یہ روایت بیع کی اباحت کو اس شرط کے ساتھ ثابت کر رہی ہے ک مشتری اس کو آزاد کر دے اور معتق کا ولاء بھی بائع کو ملے جب یہ بات اس طرح ہو جائے تو بیع ثابت ہوجائے گی اور شرط باطل ہو جائے گی اور ولا ء معتق کو ملے گا اور روایت عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا اگر تمہارے ما لک پسند کریں تو میں ان کو تمام بدل کتابت ایک مرتبہ دے دوں گی مگر ولا ء میرے لئے ہوگی جب یہ بات بریرہ رضی اللہ عنہ اپنے مالکوں کو پیش کی تو انہوں نے کہا اگر وہ ثواب کمانا چاہتی ہیں تو کر ڈالیں مگر ولاء ہماری ہوگی جناب رسول الللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہ یہ شرط تمہیں اس کی خریداری اور آزادی سے مانع نہ ہو جائے ولا ء معتق کا ہوتا ہے۔ پس اس روایت میں یہ ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے مالکوں کی طرف سے ولاء کی شرط بیع میں تو نہیں تھی لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ان کی طرف سے کتابت کی ادائیگی میں شرط تھی وہ عقد کتابت کے ذمہ دار تھے اور اس اداء سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ملک حاصل نہ تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کی تو آپ نے فرمایا ان کی شرط تمہیں اس عمل سے مانع نہ بننی چاہئے تم جو عتاق سے ثواب کی نیت کر چکی ہو اس کو پورا کرو ولاء تو معتق کو ہی ملتا ہے اور یہ شراءکا تذکرہ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے بطور ابتدا فرمایا اس سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور بریرہ کے مالکوں میں تو اس کا نشان بھی نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ کا خطبہ دین مذکور ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا جو ایسی شرائط مقرر کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ۔ ہر وہ شرط جو کتاب میں نہیں وہ باطل ہے خواہ ایسی سو شرائد ہوں ۔ اس میں آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے طلب ولاء والے مطالبے سے انکار فرمایا جو حق ملک کی وجہ سے مکاتبہ کے مالک تھے پھر ان کو بتلایا کہ ولا ء تو خود معتق ہی کو ملتا ہے یعنی بدل کتابت کی ادائیگی سے جب مکاتب آزاد کرا دیا جائے تو اب اس کا مکاتب و معتق ہے اس لئے ولا ء اس کی طرف جائے گی۔ یہ روایت پہلی روایت کے خلاف ہے اور اس میں بیع کے اندر ولا ء کی شرط لگانے کا بالکل ذکر نہیں کہ اس سے بیع فاسد ہو جائے گی یا نہیں۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ہشام بن عروہ نے اس روایت کونقل کیا تو اس میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ہم کہیں گے تم نے سچ کہا۔
جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← رجال من أهل العلم منهم يونس بن يزيد والليث ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5525
