Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5525

5222 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني رجال من أهل العلم منهم يونس بن يزيد والليث عن بن شهاب حدثهم عن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت جاءت بريرة إلي فقالت يا عائشة إني قد كاتبت أهلي على تسع أواق في كل عام أوقية فأعينيني ولم تكن قضت من كتابتها شيئا فقالت لها عائشة ارجعي إلى أهلك فإن أحبوا أن أعطيهم ذلك جميعا ويكون ولاؤك لي فعلت فذهبت إلى أهلها فعرضت ذلك عليهم فأبوا وقالوا إن شاءت أن تحتسب عليك فلتفعل ويكون ولاؤك لنا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك منها إبتاعي وأعتقي فإنما الولاء لمن أعتق [ ص 44 ] وقام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد فما بال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز و جل كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط قضاء الله أحق وشرط الله أوثق فإنما الولاء لمن أعتق قال أبو جعفر ففي هذا الحديث غير ما في الأحاديث الأول وذلك أن في الأحاديث الأول أن أهل بريرة أرادوا أن يبيعوها على أن تعتقها عائشة رضي الله عنها ويكون ولاؤها لهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم لا يمنعك ذلك اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان في هذا الحديث إباحة البيع على أن يعتق المشتري وعلى أن يكون ولاء المعتق للبائع فإذا وقع ذلك ثبت البيع وبطل الشرط وكان الولاء للمعتق وفي حديث عروة عن عائشة رضي الله عنها أن عائشة رضي الله عنها قالت لها إن أحب أهلك أن أعطيهم ذلك تريد الكتابة صبة واحدة فعلت ويكون ولاؤك لي فلما عرضت عليهم بريرة ذلك قالوا إن شاءت أن تحتسب عليك فلتفعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها لا يمنعك ذلك منها اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان الذي في هذا الحديث مما كان من أهل بريرة من اشتراط الولاء ليس في بيع ولكن في أداء عائشة رضي الله عنها إليهم الكتابة عن بريرة وهم تولوا عقد تلك الكتابة ولم يكن تقدم ذلك الأداء من عائشة رضي الله عنها ملك فذكرت ذلك عائشة رضي الله عنها للنبي صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك منها أي لا ترجعين لهذا المعنى عما كنت نويت في عتاقها من الثواب اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان ذكر ذلك الشراء ههنا ابتداء من النبي صلى الله عليه و سلم ليس مما كان قبل ذلك بين عائشة رضي الله عنها وبين أهل بريرة في شيء ثم كان قام النبي صلى الله عليه و سلم فخطب فقال ما بال أقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز و جل كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط إنكارا منه على عائشة رضي الله عنها في طلبها ولاء من تولى غيرها كتابتها بحق ملكه عليها ثم نبهها وعلمها بقوله فإنما الولاء لمن أعتق أي إن المكاتب إذا أعتق بأداء الكتابة فمكاتبه هو الذي أعتقه فولاؤه له فهذا حديث فيه ضد ما في غيره من الأحاديث الأول وليس فيه دليل على اشتراط الولاء في البيع كيف حكمه هل يجب به فساد البيع أم لا فإن قال قائل فإن هشام بن عروة قد رواه عن أبيه فزاد فيه شيئا قلنا له صدقت

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ آئیں اور کہنے لگیں۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہ ! میں نے 9اوقیہ چاندی پر اپنے مالکوں سے مکاتبت کی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینے کا وعدہ کیا ہے تم میری بدل کتابت میں معاونت کرو۔ اس وقت تک بدل کتابت میں سے کچھ بھی ادائیگی نہ کی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بریرہ کو کہا اپنے مالکوں کو کہو اگر ان کو پسند ہو تو تمام بدل کتابت دے دوں اور تیری ولاء میرے لئے ہوگی۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہ بات پیش کی تو انہوں نے کہا اگر وہ چاہتی ہیں کیت پر صدقہ کردیں تو کر ڈالیں مگر تمہاری ولاء تو ہماری ہی ہوگی پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اسی سلسلہ میں آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا یہ چیز تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بن سکے گی تو خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء و آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا مضمون پلی روایات کے خلاف ہے حضرت بریرہ کے مالکوں نے ان کو اس شرط پر فروخت کرنا چاہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ اس کو آزاد کرے اور ولا ءبھی ان کو ملے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ شرط تمہارے لئے رکاوٹ نہ بننی چاہئے تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ یہ روایت بیع کی اباحت کو اس شرط کے ساتھ ثابت کر رہی ہے ک مشتری اس کو آزاد کر دے اور معتق کا ولاء بھی بائع کو ملے جب یہ بات اس طرح ہو جائے تو بیع ثابت ہوجائے گی اور شرط باطل ہو جائے گی اور ولا ء معتق کو ملے گا اور روایت عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا اگر تمہارے ما لک پسند کریں تو میں ان کو تمام بدل کتابت ایک مرتبہ دے دوں گی مگر ولا ء میرے لئے ہوگی جب یہ بات بریرہ رضی اللہ عنہ اپنے مالکوں کو پیش کی تو انہوں نے کہا اگر وہ ثواب کمانا چاہتی ہیں تو کر ڈالیں مگر ولاء ہماری ہوگی جناب رسول الللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہ یہ شرط تمہیں اس کی خریداری اور آزادی سے مانع نہ ہو جائے ولا ء معتق کا ہوتا ہے۔ پس اس روایت میں یہ ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے مالکوں کی طرف سے ولاء کی شرط بیع میں تو نہیں تھی لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ان کی طرف سے کتابت کی ادائیگی میں شرط تھی وہ عقد کتابت کے ذمہ دار تھے اور اس اداء سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ملک حاصل نہ تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کی تو آپ نے فرمایا ان کی شرط تمہیں اس عمل سے مانع نہ بننی چاہئے تم جو عتاق سے ثواب کی نیت کر چکی ہو اس کو پورا کرو ولاء تو معتق کو ہی ملتا ہے اور یہ شراءکا تذکرہ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے بطور ابتدا فرمایا اس سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور بریرہ کے مالکوں میں تو اس کا نشان بھی نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ کا خطبہ دین مذکور ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا جو ایسی شرائط مقرر کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ۔ ہر وہ شرط جو کتاب میں نہیں وہ باطل ہے خواہ ایسی سو شرائد ہوں ۔ اس میں آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے طلب ولاء والے مطالبے سے انکار فرمایا جو حق ملک کی وجہ سے مکاتبہ کے مالک تھے پھر ان کو بتلایا کہ ولا ء تو خود معتق ہی کو ملتا ہے یعنی بدل کتابت کی ادائیگی سے جب مکاتب آزاد کرا دیا جائے تو اب اس کا مکاتب و معتق ہے اس لئے ولا ء اس کی طرف جائے گی۔ یہ روایت پہلی روایت کے خلاف ہے اور اس میں بیع کے اندر ولا ء کی شرط لگانے کا بالکل ذکر نہیں کہ اس سے بیع فاسد ہو جائے گی یا نہیں۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ہشام بن عروہ نے اس روایت کونقل کیا تو اس میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ہم کہیں گے تم نے سچ کہا۔

جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← رجال من أهل العلم منهم يونس بن يزيد والليث ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5525

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5526

5223 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس عن مالك بن أنس عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أنها قالت جاءتني بريرة فقالت إني كاتبت أهلي على تسع أواق في كل عام أوقية فأعينيني فقالت لها عائشة إن أحب أهلك أن أعدها لهم عددتها لهم ويكون ولاؤك لي فعلت فذهبت بريرة إلى أهلها فقالت لهم ذلك فأبوا عليها فجاءت من عند أهلها ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس فقالت إني قد عرضت ذلك عليهم فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فسمع بذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألها فأخبرته عائشة فقال خذيها واشترطي فإنما الولاء لمن أعتق ففعلت عائشة ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فذكر مثل ما في حديث الزهري

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ بریرہ نے میرے ہاں آ کر کہنے لگیں میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے تم میری مدد کرو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تمہارے مالک پسند کریں کہ میں ان کو گن دوں تو میں گن دوں گی اور ولاء میرے لئے ہو گی بریرہ اپنے مالکوں کے ہاں گئیں اور ان کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ تو وہ مالکان سے ہو کر آئیں اس وقت جناب رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے وہ کہنے لگیں میں نے ان کو وہ بات پیش کی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور ولاء کی شرط لگائی تو اس بات کو جناب رسول اللہ ﷺ نے سنا اور اس سے دریافت کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے بات بتلائی تو آپ نے فرمایا تو اس کو خرید لو اور شرط لگا لو ولاء تو معتق کو ملتا ہے ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا پھر زہری کی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5526

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5527

5224 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك فذكر بإسناده ففي هذا الحديث مثل ما في حديث الزهري أن الذي كان فيه الاشتراط من أهل بريرة أن يكون الولاء لهم وإباء عائشة رضي الله عنها إلا أن يكون الولاء لها هو أداء عائشة رضي الله عنها عن بريرة الكتابة فقد اتفق الزهري وهشام على هذا وخالفا في ذلك أصحاب الأحاديث الأول وزاد هشام على الزهري قول رسول الله صلى الله عليه و سلم خذيها واشترطي فإنما الولاء لمن أعتق هكذا في حديث هشام وموضع هذا الكلام في حديث الزهري إبتاعي وأعتقي فإنما الولاء لمن أعتق ففي هذا اختلف هشام والزهري فإن كان الذي يعتبر في هذا هو الضبط والحفظ فيؤخذ بما روى أهله ويترك ما روى الآخرون فإن ما روى الزهري أولى لأنه أتقن وأضبط وأحفظ من هشام وإن كان الذي يعتبر في ذلك هو التأويل فإن قوله خذيها قد يجوز أن يكون معناه إبتاعها كما يقول الرجل لصاحبه بكم آخذ هذا العبد يريد بذلك بكم أبتاع هذا العبد وكما يقول الرجل للرجل خذ هذا العبد بألف درهم يريد بذلك البيع ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم واشترطي فلم يبين ما تشترط فقد يجوز أن يكون أراد واشترطي ما يشترط في البياعات الصحاح فليس في حديث هشام هذا لما كشف معناه خلاف لشيء مما في حديث الزهري ولا بيان فيهما كيف حكم البيع إذا وقع فيه مثل هذا الشرط هل يكون فاسدا أو هل يكون جائزا وأما ما احتج به الذين أفسدوا البيع بذلك الشرط فما

ابن وہب نے مالک سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اس روایت میں بھی زہری کی روایت کی طرح ہے کہ بریرہ کے مالکان کی طرف سے ولاء کی شرط تھی اور انکار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھا کہ ولاء میری ہو گی تو میں یعنی عائشہ رضی اللہ عنہ ، بریرہ کی طرف سے بدل کتابت ادا کر دوں گی۔ اب زہری اور ہشام دونوں اس بات پر متفق ہیں اور حدیث اول کے روات اس کے خلاف ہیں البتہ زہری نے ہشام سے چند الفاظ زائد بیان کیے ہیں ۔ کہ " خذیھا واشتر طی فانما الولاء لمن اعتق، کذا فی روایہ ھشام " روایت زہری میں کلام کی جگہ تو یہ الفاظ ہیں " ابتاعی واعتقی ، فانما الولاء لمن اعتق " اس میں ہشام و زہری کا اختلاف ہے ۔ اگر ضبط و اتقان کا لحاظ کیا جائے تو ہشام سے زہری کا مرتبہ بڑھ کر ہے پس اس کی روایت کو لیا جائے اور دوسری روایت چھوڑ دی جائے ۔ اگر تاویل کو دیکھا جائے تو " خذیھا " کا معنی خریدنا ہے جیسا کہ کہتے ہیں " بکم اخذ ھذا العبد ؟ " اس سے مراد خریدنا ہوتا ہے ۔ جیسا کہتے ہیں " خذ ھذا العبد بالف درھم " مراد بیع کرنا ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اشترطی" مگر شرط کی وضاحت نہیں ۔ تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جو صحیح بیوع میں شرط لگاتے ہیں وہ لگا لو۔ روایت ہشام میں اس کا معنی ظاہر کرنے والی کوئی بات نہیں اور حدیث زہری کے کوئی بات مخالف بھی نہیں اور ان دونوں روایتوں میں یہ مذکور نہیں کہ جب ایسی شرط لگا دی جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا ۔ بیع فاسد ہو گئی یا جائز ہو گی۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5527

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5528

5225 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال أخبرنا حماد بن سلمة عن داود بن أبي هند عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع وسلف وعن شرطين في بيعة

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض اور بیع سے اور بیع میں دو شرطوں سے منع فرمایا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5528

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5529

5226 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا حماد عن أيوب عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرض اور بیع حلال نہیں اور دو شرطیں بیع میں درست نہیں۔

لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5529

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5530

5227 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله

سلیمان بن حرب نے حماد بن زید سے انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5530

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5531

5228 - حدثنا أبو أمية قال ثنا محمد بن الفضل قال ثنا حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله

محمد بن فضل نے حماد بن زید سے پھر انہوں نے اسی طرح اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5531

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5532

5229 - حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل قال ثنا هشيم عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شرطين في بيع وعن سلف وبيع

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع میں دو شرائط اور قرض اور بیع سے منع فرمایا ہے ۔

شرطين في بيع وعن سلف وبيع ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← هُشَيْمٌ ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← الحسن بن عبد الله بن منصور

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5532

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5533

5230 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أخبرنا عبد الله بن رجاء قال أخبرنا همام عن عامر الأحول عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عمرو بن شعیب عن ابیہ و عن جدہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5533

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5534

5231 - حدثنا يونس قال أنا عبد الله بن نافع عن داود بن قيس عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع وسلف قالوا فالبيع في نفسه شرط فإذا شرط فيه شرط آخر فكان هذا شرطين في بيع فهذا هو الشرطان المنهي عنهما عندهم المذكوران في هذا الحديث وقد خولفوا في ذلك فقيل الشرطان في البيع هو أن يقع البيع على ألف درهم حال أو على مائة دينار إلى سنة فيقع البيع على أن يعطيه المشتري أيهما شاء فالبيع فاسد لأنه وقع بثمن مجهول وكان من الحجة لهم في ذلك مما قد روى عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع اور ادھار سے منع فرمایا ۔ بیع بذات خود شرط ہے جب اس پر دوسری شرط لگا دیں تو یہ سودے میں دو شرطیں ہو گئیں جن کی ممانعت مندرجہ بالا روایت میں ہے ۔ دو شرائط کی مراد کیا ہے : نمبر 1 بیع اور ایک اور شرط لگانا جیسا ابھی کہا گیا ہے ۔ نمبر 2 ۔ دو شرائط سے مراد یہ ہے کہ اگر نقد لو تو ایک ہزار درہم قیمت اور اگر تم ایک سال بعد دو تو ایک سو دینار قیمت ہے تو اس سے سودا اس بات پر ہوا کہ خریدنے والا جا چاہے دے تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ قیمت مجہول ہے ۔ اس کی تائید اقوال صحابہ کرام سے ہوتی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5534

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5535

5232 - أن مبشر بن الحسن حدثنا قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة عن خالد بن سلمة قال سمعت محمد بن عمرو بن الحارث يحدث عن زينب امرأة عبد الله بن مسعود أنها باعت عبد الله جارية واشترطت خدمتها فذكر ذلك لعمر فقال لا يقربنها ولا أجد فيها مثوبة

محمد بن عمرو بن الحارث حضرت زینب زوجہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے ابن مسعود کو ایک لونڈی فروخت کی اور اس کی خدمت کی شرط لگائی۔ جب یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا وہ ہر گز اس کے قریب نہ جائیں میں اس میں کوئی ثواب نہیں پاتا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5535

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5536

5233 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير عن عبيد الله بن عمر قال حدثني نافع عن بن عمر قال لا يحل فرج إلا فرج إن شاء صاحبه باعه وإن شاء وهبه وإن شاء أمسكه لا شرط فيه

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ کوئی فرج حلال نہیں مگر ایک فرج، اگر اس کا مالک چاہے تو فروخت کر دے اور اگر چاہے تو اس کو ہبہ کر دے اور اگر چاہے تو اس کو روک کر رکھے اس میں کوئی شرط نہ ہو۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← زُهَيْرٍ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5536

chevron_left Previous
1…141516…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter