شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5513
5210 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو الأحوص عبد العزيز بن رفيع عن عطاء عن حزام بن حكيم عن حكيم بن حزام قال كنت اشتري طعاما فأربح فيها قبل أن أقبضه فسألت النبي صلى الله عليه و سلم فقال لا تبعه حتى تقبضه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من اشترى طعاما ما لم يجز له بيعه حتى يقبضه ومن اشترى غير الطعام حل له بيعه وإن لم يقبضه واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وقالوا لما قصد رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنهي إلى الطعام دل ذلك أن حكم غير الطعام في ذلك بخلاف حكم الطعام وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ذلك النهي قد وقع على الطعام وغير الطعام وإن كان المذكور في الآثار التي ذكر ذلك النهي فيها هو الطعام واحتجوا في ذلك بما
عطاء نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں غلہ خریدتا تھا میں قبضہ سے پہلے اس میں نفع لیتا تھا میں نےجناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو فرمایا ۔ قبضہ سے پہلے اس کو فروخت نہ کرو ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جو غلہ بھی خریدا جائے قبضہ سے پہلے اس کی فروخت درست نہیں اور غلہ کے علاوہ اشیاء کی فروخت قبضہ سے پہلے بھی درست ہے جیسا کہ ان آثار بالا سے معلوم ہوتا ہے ۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب غلے کی ممانعت کا قصد کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ غیر طعام کا حال اس سے مختلف ہے ۔ اس ممانعت کا تعلق طعام وغیر طعام ہر دو سے ہے ۔ اگرچہ آثار میں طعام کا خصوصا تذکرہ ہے اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔
حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَطَاءٍ، ← أبو الأحوص عبد العزيز بن رفيع ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5513
