Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5513

5210 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو الأحوص عبد العزيز بن رفيع عن عطاء عن حزام بن حكيم عن حكيم بن حزام قال كنت اشتري طعاما فأربح فيها قبل أن أقبضه فسألت النبي صلى الله عليه و سلم فقال لا تبعه حتى تقبضه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من اشترى طعاما ما لم يجز له بيعه حتى يقبضه ومن اشترى غير الطعام حل له بيعه وإن لم يقبضه واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وقالوا لما قصد رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنهي إلى الطعام دل ذلك أن حكم غير الطعام في ذلك بخلاف حكم الطعام وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ذلك النهي قد وقع على الطعام وغير الطعام وإن كان المذكور في الآثار التي ذكر ذلك النهي فيها هو الطعام واحتجوا في ذلك بما

عطاء نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں غلہ خریدتا تھا میں قبضہ سے پہلے اس میں نفع لیتا تھا میں نےجناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو فرمایا ۔ قبضہ سے پہلے اس کو فروخت نہ کرو ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جو غلہ بھی خریدا جائے قبضہ سے پہلے اس کی فروخت درست نہیں اور غلہ کے علاوہ اشیاء کی فروخت قبضہ سے پہلے بھی درست ہے جیسا کہ ان آثار بالا سے معلوم ہوتا ہے ۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب غلے کی ممانعت کا قصد کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ غیر طعام کا حال اس سے مختلف ہے ۔ اس ممانعت کا تعلق طعام وغیر طعام ہر دو سے ہے ۔ اگرچہ آثار میں طعام کا خصوصا تذکرہ ہے اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَطَاءٍ، ← أبو الأحوص عبد العزيز بن رفيع ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5513

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5514

5211 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن خالد الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن أبي الزناد عن عبيد بن حنين عن بن عمر قال إبتعت زيتا بالسوق فلما استوجبته لقيني رجل فأعطاني به ربحا حسنا فأردت أن أضرب على يده فأخذ رجل من خلفي بذراعي فالتفت إليه فإذا هو زيد بن ثابت فقال لا تبعه حيث إبتعته حتى تحوزه إلى رحلك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا أن نبيع السلع حيث تبتاع حتى تحوزها التجار إلى رحالهم فلما أخبر زيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأن الزيت قد دخل فيما كان نهى عن بيعه قبل قبضه وهو غير الطعام الذي كان بن عمر رضي الله عنهما علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم النهي عن بيعه بعد إبتياعه حتى يقبض وعمل بن عمر رضي الله عنهما على ذلك فأراد بيع الزيت قبل قبضه لأنه ليس من الطعام فقبل ذلك منه بن عمر رضي الله عنهما ولم يكن كان ما سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم مما قد ذكرناه عنه في أول هذا الباب من قصده إلى الطعام بمانع أن يكون غير الطعام في ذلك بخلاف الطعام ثم أكد زيد بن ثابت رضي الله عنه في ذلك فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهانا عن إبتياع السلع حيث تبتاع حتى تحوزها التجار إلى رحالهم فجمع في ذلك كل السلع وفيها غير الطعام فدل ذلك على أنه لا يجوز بيع شيء ابتيع إلا بعد قبض مبتاعه إياه طعاما كان أو غير الطعام وقد قال بن عباس رضي الله عنه وقد علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم قصده بالنهي عن بيع ما لم يقبض إلى الطعام ما

عبید بن حنین نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے بازار سے زیتون کا تیل خریدا جب میں نے سودا کر لیا تو مجھے ایک اچھا بھلانفع دے رہا تھا میں نے اس کے ساتھ بیع کو مکمل کرنا چاہا تو میرے پیچھے ایک آدی نے میرے بازو کو پکڑا۔ میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے وہ کہنے لگے اس کو مت فروخت کرو جہاں تم نے خریدا ہے جب تک کہ اپنے کجاوے پر نہ لے جاؤ اس لئے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ سامان جہاں سے خریدا جائے وہیں اس کی بیع کا معاملہ کیا جائے جب تک کہ تجار اس کو اپنے کجاوے کی طرف منتقل نہ کر لیں۔ جب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ق سے روایت کرتے ہوئے بتلا دیا کہ قبضہ سے پہلے فروخت کی ممانعت میں زیتون بھی شامل ہے اور زیتون تو غلہ سے غیر ہے جس کے متعلق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہ ﷺ سے علم حاصل ہوا کہ خریدنے کے بعد اس کو قبضہ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کیا چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے زیتون کو بیچنے کا ارادہ فرمایا کیونکہ وہ غلہ نہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس بات کو قبول کیا اور انہوں نے ان روایات کے ضمن میں جن کو باب کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے جناب نبی اکرم ﷺ کے غلہ کا ارادہ کرنے کے سلسلے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی جو اس سلسلے میں غلہ کے علاوہ کے لئے مخالف حکم میں رکاوٹ بنتی ہو۔ پھر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس بات کو اور پختہ کر دیا انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمیں سامان کے اسی جگہ فروخت کرنے سے منع فرماتے تھے جہاں سے وہ خریدا گیا یہاں تک کہ تاجر حضرات اسے اپنے گھروں میں لے جائیں تو آپ نے اس میں ہر قسم کے سامان کا تذکرہ فرمایا۔ جس میں غلہ کے علاوہ اشیاء بھی داخل ہیں۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جس چیز کوخریدا جائے وہ غلہ ہو یا کوئی دوسری چیز قبضہ کے بغیر اسے فروخت کرنا جائز نہیں اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی بات فرمائی حالانکہ وہ جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ معلوم کر چکے تھے کہ آپ نے قبضہ سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت سے غلہ کا ارادہ فرمایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ملاحظہ ہو۔

بن عُمَرَ ← عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← بن إِسْحَاقَ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5514

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5515

5212 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن عمرو عن طاوس عن بن عباس قال أما الذي نهى عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فبيع الطعام قبل أن يستوفي قال بن عباس برايه وأحسب كل شيء مثله فهذا بن عباس رضي الله عنهما لم يمنعه قصد النبي صلى الله عليه و سلم بالنهي إلى الطعام أن يدخل في ذلك النهي غير الطعام وقد روي عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما مثل ذلك أيضا

طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے فرمایا سنو ! کہ جس چیز سے جناب رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا وہ قبضہ کرنے سے پہلے غلے کی فروخت ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں ہر چیز اس کی مثل ہے تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں جناب رسول اللہ ﷺ کی نہی سے غلہ مراد لینے کے باوجود ہر چیز کو اس ممانعت میں داخل کرنے سے کسی چیز نے نہیں روکا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5515

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5516

5213 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج عن أبي الزبير عن جابر في الرجل يبتاع المبيع فيبيعه قبل أن يقبضه قال أكرهه فهذا جابر رضي الله عنه قد سوى بين الأشياء المبيعة في ذلك وقد علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم قصده بالنهي عن البيع فيه حتى يقبض إلى الطعام بعينه فدل ذلك النهي على ما قد تقدم وصفنا له فإن قال قائل فكيف قصد بالنهي في ذلك إلى الطعام بعينه ولم يعم الأشياء [ ص 40 ] قيل له قد وجدنا مثل هذا في القرآن قال الله عز و جل لا تقتلوا الصيد وأنتم حرم ومن قتله منكم متعمدا فأوجب عليه الجزاء المذكور في الآية ولم يختلف أهل العلم في قاتل الصيد خطأ أن عليه مثل ذلك وأن ذكره العمد لا ينفى الخطأ فكذلك ذكره الطعام في النهي عن بيعه قبل القبض لا ينفي غير الطعام وقد رأينا الطعام يجوز السلم فيه ولا يجوز السلم في العروض وكان الطعام أوسع أمرا في البيوع من غير الطعام لأن الطعام يجوز السلم فيه وإن لم يكن عند المسلم إليه ولا يكون ذلك في غيره فلما كان الطعام أوسع أمرا في البيوع وأكثر جوازا ورأيناه قد نهى عن بيعه حتى يقبض كان ذلك فيما لا يجوز السلم فيه أحرى أن لا يجوز بيعه حتى يقبض فقصد رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنهي إلى الذي إذا نهي عنه دل نهيه صلى الله عليه و سلم عنه على نهيه عن غيره وأغناه ذكره له عن ذكره لغيره فقام ذلك مقام النهي لو عم به الأشياء كلها ولو قصد بالنهي إلى غير الطعام أشكل حكم الطعام في ذلك على السامع فلم يدر هل هو كذلك أم لا لأنه يجد الطعام يجوز السلم فيه وليس هو بقائم حينئذ وليس يجوز ذلك في العروض فيقول كما خالف الطعام العروض في جواز السلم فيه وليس عند المسلم إليه وليس ذلك في العروض فكذلك يحتمل أن يكون مخالفا له في جواز بيعه قبل أن يقبض وإن كان ذلك غير جائز في العروض فهذا هو المعنى الذي له قصد النبي صلى الله عليه و سلم بالنهي عن بيع ما لم يقبض إلى الطعام خاصة وفي ذلك حجة أخرى وذلك أن المعنى الذي حرم به على مشتري الطعام بيعه قبل قبضه هو أن لا يطيب له ربح ما في ضمان غيره فإذا قبضه صار في ضمانه فطاب له ربحه فجاز أن يبيعه حيث أحب والعروض المبيعة هذا المعنى بعينه موجود فيها وذلك أن الربح فيها قبل قبضها غير حلال لمبتاعها لأن النبي صلى الله عليه و سلم قد نهى عن ربح ما لم يضمن فكما كان ذلك قد دخل فيه الطعام وغير الطعام ولم يكن الربح يطيب لأحد إلا بتقدم ضمانه لما كان عنه ذلك الربح فكذلك الأشياء المبيعة كلها ما كان منها يطيب الربح فيه لبائعه فحلال له بيعه وما كان منها يحرم الربح فيه على بائعه فحرام عليه بيعه وقد جاءت أيضا آثار أخر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنهي عن بيع ما لم يقبض لم يقصد فيها إلى الطعام ولا إلى غيره

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کی ہے جو کسی چیز کو خریدنے کے بعد قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کرتا ہے انہوں نے جواب دیا میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اس سلسلہ میں تمام فروخت کی جانے والی اشیاء کو برابر رکھا حالانکہ وہ جناب رسول اللہ ﷺ سے معلوم کر چکے تھے کہ قبضہ سے پہلے جن چیزوں کی فروخت سے ممانعت ہے اس سے غلہ مراد ہے پس یہ نہی اس بات پر دلالت کرتی ہے جس کو ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ یہ کس طرح معلوم ہو گیا کہ نبی سے مراد صرف غلہ ہے ممانعت عام مرا د نہیں ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ قرآن مجید میں اس کی مثال پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جب تم حالت احرام میں ہو تو شکار کو قتل نہ کرو اور تم میں سے جو اس کو جان بوجھ کر قتل کرے "لاتقتلوا الصيد وانتم حرم الايه‘اس آیت میں جان بوجھ کر شکار کرنے والے کی سزا بیان کی گئی ہے اور اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ جو خطاء شکار کو قتل کرے اس کی سزا اس سے مختلف نہیں ہے تو جس طرح یہاں عمداً کا ذکر خطاء کی نفی نہیں کرتا اسی طرح قبضہ سے پہلے فروخت کی ممانعت کے سلسلہ میں غلہ کا تذکرہ اس کے علاوہ کی نفی کو لازم نہیں کرتا اور ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ غلہ میں بیع سلم جائز ہے اور سامان میں بیع جائز نہیں ہے خریدار کے لئے فروخت کے سلسلہ میں غلہ میں زیادہ گنجائش پائی جاتی ہے کیونکہ اس میں بیع سلم کی اجازت ہے خواہ غلہ مسلم الیہ کے پاس موجود نہ ہو۔ مگر دیگر اشیاء میں یہ جائز نہیں پس جب خرید وفروخت کے سلسلے میں غلہ میں زیادہ گنجائش ہے اور اس کا جواز بھی زیادہ ہے اور قبضہ کرنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا بھی جائز نہیں تو جن اشیاء میں بیع سلم جائز نہیں تو وہ اس بات کے زیادہ مناسب ہیں کہ قبضہ سے پہلے ان کا فروخت کرنا جائز نہ ہو۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ممانعت فرماتے ہوئے جس چیز کا ارادہ فرمایا وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کے علاوہ اشیاء بھی اس نہی میں شامل ہوں اور اس کے تذکرے نے دوسری اشیاء کے تذکرہ سے بے نیاز کر دیاتو یہی چیز اس کی نہی کے قائم مقام ہو جائے گی اگر تمام اشیاء مراد لی جائیں اور اگر ممانعت سے غلہ کے علاوہ کا قصد فرماتے تو سننے والے پر غلہ کاحکم مشتبہ ہو جاتا اور اس کو معلوم نہ ہوسکتا کہ کیا اس کا علم بھی یہی ہے یا دیگر۔ کیونکہ یہ بات تو اس کے سامنے ہے کہ غلے میں بیع سلم جائز ہے حالانکہ وہ اس وقت موجود نہیں جب کہ سامان میں ہر جائز نہیں تو وہ کہہ سکتا ہے کہ جس طرح بیع سلم کے جوز میں غلہ دوسرے اسباب سے مختلف ہے حالانکہ وہ مسلم الیہ کے پاس موجود نہیں۔ جبکہ یہ سامان کا حکم نہیں تو اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ باقی سامان کے برعکس غلہ کو قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کرنا جائز ہو۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جس کی خاطر جناب رسول اللہ ﷺ نے قبضہ سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت میں صرف غلے کا ارادہ فرمایا۔ وہ مفہوم جس کی بناء پرمشتری کے لئے غلے کی فروخت قبضے سے قبل حرام قرار پائی وہ یہ ہے اس کو اس چیزکانفع لینا مناسب نہیں جو دوسروں کی ضمان میں ہو پھر جب اس نے قبضہ کر لیا تو یہ چیز اس کی اپنی ضمان میں چلی گئی پس نفع لینا اس کے لئے مناسب ہوا پس وہ جہاں سینگ سمائیں فروخت کر دے۔ تو ہر فروخت ہونے والے سامان میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے۔ لیکن خریدار کے لئے قبضہ سے پہلے نفع لینا حلال نہیں ہے۔ کیونکہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس وقت تک نفع لینے سے روک دیا جب تک کہ وہ چیز اپنی ضمان میں نا آ جائے تو جس طرح اس میں غلہ اور اس کے علاوہ سامان داخل ہے اور کسی کے لئے بھی ضمان حاصل کرنے سے پہلے نفع لینا جائز نہیں کیونکہ یہ نفع منوع ہے تو اس طرح وہ تمام اشیا جنہیں فروخت کیا جا سکے اگر قبل الضمان ان کانفع لینا حلال ہے تو ان کا فروخت کرنا بھی جائز ہے اور اگر بائع پر اس کا نفع حرام ہے تو اس کا فروخت کرنا بھی حرام ہو گا۔ جناب رسول اللۃ ﷺ سے کچھ اور روایات بھی مراد ہیں جن میں آپ نے قبضہ سے پہلے کسی چیز کی فروخت سے منع فرمایا ہے اور ان میں آپ نے غلے اور اس کے علاوہ کا قصد نہیں فرمایا۔ ( بلکہ حکم عام ہے ) روایات عبداللہ بن عصمہ رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5516

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5517

5214 - حدثنا أبو حازم عبد الحميد بن عبد العزيز قال ثنا محمد بن بشار بندار قال ثنا حبان بن هلال عن أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير أن يعلى بن حكيم أخبره أن يوسف بن ماهك أخبره أن عبد الله بن عصمة أخبره أن حكيم بن حزام أخبره قال أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيدي فقال إذا أبتعت شيئا فلا تبعه حتى تقبضه

یوسف بن ماھک نے حضرت عبداللہ بن عصمہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا جب تم کوئی چیز خرید و تو قبضہ کرنے سے پہلے فروخت نہ کرو۔

إذا أبتعت شيئا فلا تبعه حتى تقبضه ← أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيدي ← أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِصْمَةَ ← أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أبو حازم عبد الحميد بن عبد العزيز

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5517

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5518

5215 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون قال ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال حدثني يعلى بن حكيم بن حزام أن أباه سأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني اشتريت بيوعا فما يحل لي منها قال إذا اشتريت بيعا فلا تبعه حتى تقبضه قال أبو جعفر فبهذا نأخذ وهو قول أبو حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم غير أن أبا حنيفة قال لا بأس ببيع الدور والأرضين قبل قبض مشتريها إياها لأنها لا تنقل ولا تحول وسائر البيعات ليست كذلك والنظر في هذا عندنا أن يكون العروض وسائر الأشياء في ذلك سواء على ما قد ذكرنا في الطعام

یعلیٰ بن حکیم نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا میں گئی سودے کرتا ہوں ان میں سے میرے لئے کیا کیا حلال ہے تو آپ نے فرمایا جب تم کوئی سودا لو تو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرو۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مکانات اور اراضی کو خریدنے والا قبضہ سے پہلے فروخت کر سکتا ہے کیونکہ وہ غیر منقول ہیں اوراپنی جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہو سکتیں جبکہ دیگر اشیاء کا یہ حال نہیں ہے ۔ مگر ہمارے ہاں قیاس کا تقاضا یہی ہے کہ سامان اور دیگر تمام اشیاء برابر ہیں جیسا کہ ہم نے غلہ کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے ۔

يعلى بن حكيم بن حزام ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5518

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5519

5216 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي عن جابر بن عبد الله أنه كان يسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على جمل له فأعياه فأدركه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما شأنك يا جابر فقال أعي ناضحي يا رسول الله فقال أمعك شيء فأعطاه قضيبا أو عودا فنخسه به أو قال ضربه فسار سيرة لم يكن يسير مثلها فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم بعنيه بأوقية قال قلت يا رسول الله هو ناضحك قال فبعته بأوقية واستثنيت حملانه حتى أقدم على أهلي فلما قدمت أتيته بالبعير فقلت هذا بعيرك يا رسول الله قال لعلك ترى أني إنما حبستك لأذهب ببعيرك يا بلال أعطه من العيبة أوقية وقال انطلق ببعيرك فهما لك قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا باع من رجل دابة بثمن معلوم على أن يركبها البائع إلى موضع معلوم أن البيع جائز والشرط جائز واحتجوا في ذلك بحديث جابر هذا وخالفهم في ذلك آخرون ثم إفترق المخالفون لهم على فرقتين فقالت فرقة البيع جائز والشرط باطل وقالت فرقة البيع فاسد وسنبين ما ذهبت إليه الفرقتان جميعا في هذا الباب إن شاء الله تعالى فكان من الحجة لهاتين الفرقتين جميعا على الفرقة الأولى في حديث جابر الذي ذكرنا أن فيه معنيين يدلان أن لا حجة لهم فيه فأما أحد المعنيين فإن مساومة النبي صلى الله عليه و سلم لجابر رضي الله عنه إنما كانت على البعير ولم يشترط في ذلك لجابر رضي الله عنه ركوبا قال جابر رضي الله عنه فبعته واستثنيت حملانه إلى أهلي فوجه هذا الحديث أن البيع إنما كان علي ما كانت عليه المساومة من النبي صلى الله عليه و سلم ثم كان الاستثناء للركوب من بعد فكان ذلك الاستثناء مفصولا من البيع لأنه إنما كان بعده فليس في ذلك حجة تدلنا كيف حكم البيع لو كان ذلك الاستثناء مشروطا في عقدته هل هو كذلك أم لا وأما الحجة الأخرى فإن جابرا رضي الله عنه قال فلما قدمت المدينة أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بالبعير فقلت هذا بعيرك يا رسول الله قال لعلك ترى أنى إنما حبستك لأذهب ببعيرك يا بلال أعطه أوقية وخذ بعيرك فهما لك فدل ذلك أن ذلك القول الأول لم يكن على التبايع فلو ثبت أن الاشتراط للركوب كان في أصله بعد ثبوت هذه العلة لم يكن في هذا الحديث حجة لأن المشترط فيه ذلك الشرط لم يكن بيعا ولأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن ملك البعير علي جابر فكان اشتراط جابر للركوب اشتراطا فيما هو له مالك فليس في هذا دليل على حكم ذلك الشرط لو وقع في بيع يوجب الملك للمشتري كيف كان حكمه وذهب الذين أبطلوا الشرط في ذلك وجوزوا البيع إلي حديث بريرة

شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک اونٹ پر سفر کر رہا تھا سفرنے اونٹ کو تھکا دیا جناب رسول اللہ ﷺ آکرملے اور فرمایا اے جابر! کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا میرا اونٹ چلنے سے رہ گیا آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے میں نے آپ کو ایک کھجور کی شاخ تھمائی تو آپ نے اس اونٹ کو کچوکا دیا یا وہ چھری ماری تو وہ اونٹ اس تیزی سے چلنے لگا آج تک بھی ایسا نہ چلا ہو گا فریق اول کے موقف کا جواب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ روایت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں فریق اول کی دلیل ندارد ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے جب کوئی آدی دوسرے کو مقرر ثمن کے بدلے کوئی چیز فروخت کردے اور شرط یہ لگائے کہ وہ فلاں جگہ تک اس پر سواری کرے گا یہ بیع جائز ہے اور شرط بھی درست ہے اس کی دلیل یہ روایت جابر رضی اللہ عنہ ہے۔ دوسروں نے کہا اس کے علماء دو جماعتوں میں بٹ گئے۔ نمبر1 : بیع درست شرط باطل ہو۔ نمبرا2: بیع فاسد ہوگی ان دونوں جماعتوں کے مؤقف کی تقریب وضاحت کریں گے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ روایت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں فریق اول کی دلیل ندارد ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ کا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نرخ مقررفرمانا صرف اونٹ کے لئے تھا اور اس میں سواری کی کوئی شرط نہ تھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو فروخت کیا اور اپنے گھر آنے تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کیا تو روایت کا مطلب یہ ہوا کہ سودا تو صرف اونٹ کا ہوا اسی کا نرخ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک اوقیہ چاندی مقرر فرمائی۔ سواری کاستثناء بعد میں ہوا۔ پس یہ استثناء بیع سے الگ ہے کیونکہ وہ سودے کے بعد ہوا اس روایت میں ان کے وقت استثناء کی شرط اور اس کا کوئی حکم موجودنہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺیہ اپنا اونٹ لے لیں تو آپ نے فرمایا شاید تمہارا خیال ہو کہ میں نے تمہیں اونٹ حاصل کرنے کے لئے روکا۔ اے بلال ایک اوقیہ چاندی دے دو اور اے جابر رضی اللہ عنہ آپ اپنا اونٹ بھی لے جائیں یہ دونوں تمہارے ہیں۔ اس میں اس بات کی ظاہردلالت ہے کہ پہلاقول سودے سے متعلق ہی نہ تھا اگر اس علت کے ثبوت کے بعد سواری کی شرط ثابت بھی ہوجائے کہ وہ اصل میں تھی تو پھر بھی یہ حدیث فریق اول کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ جس میں یہ شرط ہو وہ سرے سے بیع ہی نہیں ( کہ بیع کا اس پر حکم لگے ) جب جناب رسول اللہ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اونٹ کے مالک ہی نہیں ہے تو اب جابر رضی اللہ عنہ کاسواری کی شرط لگانا اپنے اپنی سواری سے متعلق تھا۔ بالفرض اگر یہ شرط اس بیع میں واقع ہو جس سے خریدنے والے کے لئے ملک ثابت ہوجاتی ہے تو اس کے حکم پربھی اس روایت میں کوئی دلالت نہیں پائی جاتی۔ جوحضرات بیع کو درست قرار دیتے ہیں مگر شرط کوخلاف عقد ہونے کی وجہ سے باطل کہتے ہیں ان کی دلیل روایت بریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ روایت بر یرہ ملاحظہ ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5519

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5520

5217 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر أن عائشة أرادت أن تشتري بريرة فتعتقها فقال لها أهلها نبيعكها علي أن ولاءها لنا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك فإنما الولاء لمن أعتق

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے گھر والوں نے کہا ہم اس شرط پر اس کو فروخت کرتے ہیں کہ اس کی ولاء ہمارے لئے ہو گی ام المومنین رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اس کے لئے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے ۔

بن عمر أن عائشة أرادت أن تشتري بريرة فتعتقها ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5520

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5521

5218 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن أن بريرة جاءت تستعين عائشة فقالت لها عائشة إن أحب أهلك أن أصب لهم ثمنك صبة واحدة وأعتقك فعلت فذكرت ذلك بريرة لأهلها فقالوا لا إلا أن يكون ولاؤك لنا قال مالك قال يحيى فزعمت عمرة أن عائشة ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق

عمرو بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے معاونت لینے آئیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تمہارے مالک پسند کریں تو میں ان کو یکمشت رقم دے دوں اور تمہیں آزاد کر دوں ۔ بریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنے مالکوں کو ذکر کی تو انہوں نے کہا ہم اس شرط پر کرنے کو تیار ہیں کہ تمہاری ولاء ہمیں ملے ۔ مالک کہتے ہیں کہ یحییٰ نے بتلایا کہ عمرہ کا خیال یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے ان کو خرید کر آزاد کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5521

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5522

5219 - وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أنها أرادت أن تشتري بريرة فتعتقها فاشترط مواليها ولاءها فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق

اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے حضرت بریرہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکوں نے ولاء کے حصول کی شرط لگائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا اس کو خرید کر آزاد کر دو ولاء کو آزاد کنندہ کو ملتا ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5522

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5523

5220 - وحدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن أهل بيت بريرة أرادوا أن يبيعوها ويشترطوا الولاء فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال إشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق

اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ بریرہ کے گھر والوں نے فروخت کا ارادہ کیا اور ولاء کی شرط لگائی تو انہوں نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ کو ذکر کی تو آپ نے فرمایا اس کو خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5523

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5524

5221 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن القاسم بن محمد عن عائشة أن بريرة جاءت تستعينها في كتابتها فقالت عائشة إن شاء أهلك اشتريتك ونقدتهم ثمنك صبة واحدة فذهبت إلى أهلها فقالت لهم ذلك فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اشتريها ولا يضرك ما قالوا فإنما الولاء لمن أعتق قالوا فلما كان أهل بريرة أرادوا بيعها على أن تعتق ويكون ولاؤها لهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها لا يضرك ذلك فإنما الولاء لمن أعتق دل ذلك أن هكذا الشروط كلها التي تشترط في البيوع وأنها تبطل وتثبت البيوع فكان من الحجة عليهم أن هذه الآثار هكذا رويت أنها أرادت أن تشتريها فتعتقها فأبى أهلها إلا أن يكون ولاؤها لهم وقد رواها آخرون على خلاف ذلك

قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بریرہ رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں بدل کتابت میں معاونت کے لئے آئیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہیں نقد رقم یکمشت دے کر خرید لوں وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور ان کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے ولاء کی شرط سے اس بات کو تسلیم کرنے کی بات رکھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اسے خرید لو ان کی شرف تمہیں نقصان نہ دے گی اس لئے کہ ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔ جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے انہیں اس شرط پر فروخت کا ارادہ ظاہر کیا کہ ولاء ان کو ملے اور ان کو آزاد کیا جائے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تمہارے لئے یہ بات مضر نہیں ہے ۔ بلا شبہ ولاء تو آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے تو یہ اس بات کی دلالت ہے کہ بیع میں اس قسم کی شروط ( جو خلا عقد ہوں ) وہ باطل ہوتی ہیں گویا یہ روایات فریق اول کے خلاف تب دلیل بن سکتی ہے جبکہ یہ آثار اسی طرح مروی ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے خرید کر بریرہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کرنا چاہا اس کے مالکوں نے اس شرط پر فروخت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی کہ ولاء ان کو ملے ۔ دوسرے فریق کا مؤقف یہ ہے کہ شرط سرے سے باطل ہے انہوں نے اس روایت کو مندرجہ ذیل طریق سے روایت کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5524

chevron_left Previous
1…131415…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter