Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5489

5189 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة قال ثنا حسين بن حفص قال ثنا سفيان قال حدثني سعد بن إبراهيم قال حدثني عمر بن أبي سلمة عن أبي هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المحاقلة والمزابنة قال والمحاقلة الشرط في الزرع والمزابنة التمر بالتمر في النخل فهذه الآثار قد تواترت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنهي عن بيع الكيل من الثمر بالثمر في رؤوس النخل فإن حمل تأويل العرايا على ما ذهب إليه أبو حنيفة كان النهي على عمومه ولم يبطل منه شيء وإن حمل على ما ذهب إليه مالك خرج منه ما تأول هو العرية عليه فلا ينبغي أن يخرج شيء من حديث متفق عليه إلا بحديث متفق على تأويله أو بدلالة أخرى متفق عليها وقد روى أيضا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد ذكرناه في غير هذا الموضع في النهي عن بيع الرطب بالتمر فإن حملنا معنى العرية على ما قال مالك ضاد ما روى فيها ما روى في النهي عن بيع الرطب بالتمر وإن حملناه على ما قال أبو حنيفة اتفقت معانيها ولم تتضاد والأولى بنا في صرف وجوه الآثار ومعانيها صرفها إلى ما ليس فيه تضاد ولا معارضة لسنة بسنة فقد ثبت بما ذكرنا في معنى العرايا ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمة الله عليه والله ولي التوفيق وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا أنه قال خففوا في الصدقات فإن في المال العرية والوصية

عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا محاقلہ کھیتی میں شرط رکھنے اور المزابنہ کھجور کے اوپر تازہ پھل خشک کھجور کے بدلے فروخت کرتا۔ یہ تواتر سے آنے والی روایات ہیں جن درختوں پر موجود پھل کو اتری ہوئی خشک کھجور یا پھل کے بدلے فروخت کی ممانعت کی گئی ہے اگر عرایا کا وہ مفہوم لیا جائے جو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے لیا ہے تو نہی اپنے عموم پرہے گی اور اس میں سے کو بھی باطل نہ ہوگا اور اگر اس کی تفسیر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ والی اختیار کی جائے تو ممانعت سے ان کا بیان کرده عر بی تو خرج ہوجائے گا اور کسی متفق علیہ والی روایت سے کسی چیز کو اسی صورت میں خارج کیا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابل حدیث کے مفہوم پراتفاق ہو یا کوئی اور دلالت موجود ہو جس پر اتفاق ہو۔ حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے تر کھجوروں کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کی ممانعت کے سلسلہ میں اور روایات بھی وارد ہیں اگر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ والا معنی لیا جائے تو تر کھجوروں کو خشک کے بدلے فروخت کی ممانعت سے تضاد لازم آئے گا اور اگر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ یہ والامعنی لیا جائے اور ان کے قول پر محمول کیا جائے تو ان کے معانی متفق رہیں گے اور تضاد نہ ہوگا اور زیادہ بہتر یہی ہوتا ہے کہ روایات کو ایسی بات کی طرف پھیرا جائے جس میں سنت کا سنت سے تضاد نہ ہو اور ان میں معارضہ نہ پایا جائے ۔ عرایا کے اس مفہوم سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ثابت ہوا والله التوفيق جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ صدقات میں نرمی برتا کرو اس لئے کہ مال میں عریہ اور وصیت بھی ہے یہ بات مکحول نے نقل کی ہے ۔

الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أبو بكرة بكار بن قتيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5489

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5490

5190 - حدثنا بذلك أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا جرير بن حازم قال سمعت قيس بن سعد يحدث عن مكحول الشامي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك فدل ذلك أن العرية إنما هي شيء يملكه أرباب الأموال قوما في حياتهم كما يملكون الوصايا بعد وفاتهم وحجة أخرى في أن معنى العرية كما قال أبو حنيفة رحمه الله لا كما قال مخالفه

مکحول شامی نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیاکہ صدقات میں تخفیف کرو کیونکہ اس میں وصیت اور عر یہ بھی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عریہ وہ چیز ہے جس کو مالدار اپنی زندگی میں غرباء کو مالک بناتے ہیں جس طرح وصیت کے ذریعہ محروم لوگوں کو اپنے مر جانے کے بعد مالک بناتے ہیں عریہ کا امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ والا معنی درست ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے۔

مخالفه ← أبو حنيفة لا كما ← مَكْحُولٍ الشَّامِيِّ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو عُمَرَ ← بذلك أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5490

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5491

5191 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن عون قال ثنا حماد بن سلمة عن أيوب وعبيد الله عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى البائع والمبتاع عن المزابنة قال وقال زيد بن ثابت رخص في العرايا في النخلة والنخلتين توهبان للرجل فيبيعهما بخرصهما تمرا فهذا زيد بن ثابت رضي الله عنه وهو أحد من روى عن النبي صلى الله عليه و سلم الرخصة في العرية فقد أخبر أنها الهبة والله أعلم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک دو درختوں کے عریہ کی اجازت دی ہے کہ وہ کسی آدمی کو بطور ہبہ دے دئیے جائیں ۔ پھر وہ آدمی ان کو اندازے کے ساتھ خشک کھجوروں کے بدلے فروخت کرے لیجیئے یہ حضرت زید بن حضرت ثابت رضی اللہ عنہ جو عریہ کی اجازت نقل کرنے والے راویوں میں سے ہیں انہوں نے عرایا کو صاف لفظ میں ہبہ قرار دیا ۔ واللہ اعلم ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5491

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5492

5192 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس عن سفيان عن حميد الأعرج عن سليمان بن عتيق عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع السنين وأمر بوضع الجوائح

سلیمان بن عتیق نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺنے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا اور تباہ ہونے والے پھل کو اصل میں سے نکالنے کا حکم فرمایا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5492

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5493

5193 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ نے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5493

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5494

5194 - حدثنا بكار بن قتيبة قال ثنا إبراهيم بن أبي الوزير قال ثنا سفيان عن حميد الأعرج عن سليمان بن عتيق عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بوضع الجائحة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن معنى هذه الجوائح التي أمر النبي صلى الله عليه و سلم بوضعها هي الثمار يبتاعها الرجل فيقبضها فيصيبها في يده جائحة فيذهب بثلثها فصاعدا قالوا فذلك يبطل ثمنها عن المشتري قالوا وما أصابها فأذهب بشيء منه دون ثلثها ذهب ذلك من مال المشتري ولم يبطل عنه من ثمنه شيء قليل ولا كثير قالوا وهذا مثل الحديث الآخر المروي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا ما قد

سلیمان بن عتیق نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ہلاک شدہ پھل کو نکال دینے کا حکم فرمایا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اس جائحہ ( ہلاکت ) جس کے نقصان کو اصل سے نکالنے کا حکم ان روایات میں مذکور ہے اس سے مراد پھلوں کا نقصان ہے اس کی شرط یہ ہے کہ خریدنے کے بعد اس کو قبضہ میں لے لے اور اس کے پاس پھل اتنا تباہ ہو کہ پھل کا تیسرا حصہ یا اس سے زیادہ تباہ کر دے وہ کہتے ہیں کہ اس آفت کی وجہ سے مشتری سے اس کی قیمت باطل ہو جاتی ہے اور اگر وہ ہلاکت معمولی نقصان کر دے تو وہ خریدار کے مال کا نقصان سمجھا جائے گا اور اس کی قیمت میں سے کوئی چیز کم نہ کی جائے گی نہ قلیل نہ کثیر ۔ یہ اس روایت کی طرح ہے جس کو جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5494

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5495

5195 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرنا بن جريج أن أبا الزبير أخبره عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن بعت من أخيك ثمرا فأصابته حائجة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق

ابو الزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اپنے بھائی کو پھل فروخت کرو پھر اس کو آفت پہنچ جائے تو تمہیں اس قیمت ( نقصان شدہ ) سے کچھ بھی لینا درست نہیں ۔ تم کیوں اپنے بھائی کا مال نا حق لیتے ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← بن جريج أن أبا الزبير ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5495

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5496

5196 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج فذكر بإسناده مثله قالوا قد بين هذا الحديث المعنى الذي ذكرناه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما ذهب من ذلك من شيء قل أو كثر بعد أن يقبضه المشتري ذهب من مال المشتري وما ذهب في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري بطل ثمنه عن المشتري وقالوا ما هذه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم التي ذكرتموها فمقبول صحيح على ما جاء ولسنا ندفع من ذلك شيئا لصحة مخرجه ولكنا نخالف التأويل الذي تأولها عليه أهل المقالة الأولى ونقول إن معنى الجوائح المذكورة فيها هي الجوائح التي يصاب الناس بها ويجتاحهم في الأرضين الخراجية التي خراجها للمسلمين فيوضع ذلك الخراج عنهم واجب لازم لأن في ذلك صلاحا للمسلمين وتقوية لهم في عمارة أرضيهم فأما في الأشياء المبيعات فلا فهذا تأويل حديث جابر الذي في أول هذا الباب وأما حديث جابر الثاني فمعناه غير هذا المعنى وذلك أنه ذكر فيه البيع ولم يذكر فيه القبض فذلك عندنا على البياعات التي تصاب في أيدي بائعيها قبل قبض المشتري لها فلا يحل للباعة أخذ أثمانها لأنهم يأخذونها بغير حق فهذا تأويل هذا الحديث عندهم فأما ما قبضه المشترون وصار في أيديهم فذلك كسائر البيعات التي يقبضها المشترون لها فيحدث بها الآفات في أيديهم فكما كان غير الثمار يذهب من أموال المشترين لها لا من أموال باعتها فكذلك الثمار فهذا هو النظر وهو أولى ما حمل عليه هذا الحديث لأنه قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد

ابو عاصم نے ابن جریج سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت نے فریق اول کے مؤقف کو خوب واضح کر دیا۔ دوسروں نے کہا قبضہ کے بعد قلیل و کثیر جو کچھ نقصان ہو گا وہ خریدار کا ہو گا اور مالک کے ہاتھ میں جب تک وہ چیز موجود ہے اس وقت ہونے والے نقصان کی قیمت مشتری کے ذمہ نہ ہو گی ۔ ان آثار مرویہ میں جو کچھ آیا وہ بالکل درست ہے اسناد کی درستی کی وجہ سے کوئی بھی قابل رد نہیں ۔ البتہ ان کی وہ تاویل جو آپ نے کی ہے اس کو درست قرارنہیں دیتے ۔ درست تاویل ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اول کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد وہ آفات ہیں جو خراجی زمینوں میں پہنچیں اور لوگوں کو محتاج کر دیں تو اس وقت خراج کا ان سے ہٹانا لازم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہے اور اراضی کی آبادی میں یہ چیز معاون ہے فروخت شدہ اشیاء سے اس کا تعلق نہیں ۔ اس روایت میں بیع کا ذکر ہے قبضے کا اس میں تذکرہ ہی نہیں ۔ ہمارے ہاں اس سے مراد وہ بیوع ہیں جن میں مشتری کا قبضہ ابھی ثابت نہ ہو تو اس آفت شدہ چیز کی قیمت خریدار سے لینا جائز نہیں کیونکہ وہ بلا بدل ہے ۔یہ اس روایت کی تاویل ہے باقی وہ بیوع جن پر مشتری قبضہ کرے تو دیگر تمام بیوع کی طرح اس میں پیش آمدہ آفت کا تعلق مشتری سے ہو گا جیسا کہ پھلوں کے علاوہ اشیاء میں وہ خریداروں کا مال جاتا ہے ۔ مالکوں کا اس سے تعلق نہیں ہونا پھلوں کا بھی یہی حکم ہے ۔ نظر کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس حدیث کا اس پر محمول کرنا اولیٰ ہے ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5496

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5497

5197 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث ح

ابن وہب نے عمرو بن الحارث سے روایت کی ہے ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5497

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5498

وحدثنا يونس قال أخبرنا عبد الله بن يوسف ح

یونس نے عبداللہ بن یوسف سے روایت کی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5498

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5499

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث

ربیع المؤذن نے شعیب بن لیث سے روایت کی ہے ۔

شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← وحدثنا ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5499

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5500

ح وحدثنا أبو أمية قال ثنا يحيى بن إسحاق السيلحيني قال ثنا الليث قالوا جميعا عن بكير بن الأشج عن عياض بن عبد الله عن أبي سعيد الخدري قال أصيب رجل من ثمار ابتاعها فكثر دينه [ ص 36 ] فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تصدقوا عليه فتصدق عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يبطل دين الغرماء بذهاب الثمار وفيهم باعتها ولم يرده على الباعة بالثمن إن كانوا قد قبضوا ذلك منه ثبت أن الجوائح الحادثة في يد المشتري لا تكون مطالبة عنه شيئا من الثمن الذي عليه للبائع فإن قال قائل إن الثمار لا تشبه سائر البياعات لأنها معلقة في رؤوس النخل لا يصل إليها يد من إبتاعها إلا بقطعه إياها وسائر الأشياء ليست كذلك فما يكون مقبوضا بغير قطع مستأنف فهو الذي يذهب من مال المشتري وما كان لا يقبض إلا بقطع مستأنف فهو الذي يذهب من مال البائع قيل له هذا الكلام فاسد من وجهين أما أحدهما فإن رأينا هذه الثمار إذا بيعت في رؤوس النخل فذهبت بكمالها أو ذهب منها شيء في أيدي باعتها ذهب ذلك من أموالهم دون أموال المشترين فكان ذهاب قليلها وكثيرها في ذلك سواء لأنهم لم يقبضوها فإذا قبضوها فذهب منها ما دون الثلث فقد أجمع أنه ذاهب من مال المشتري لأنه ذهب بعد قبضه إياه فلما أستوى ذهاب قليله وكثيره في يد البائع فكان قليله إذا ذهب في يد المشتري ذهب من ماله كان ذهاب كثيره كذلك وكان المشتري لتخلية البائع بينه وبين ثمر النخل قابضا له وإن لم يقطعه فهذا وجه ووجه آخر أنا رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن بيع الطعام حتى يقبض وأجمع المسلمون على ذلك وكانت الثمار في ذلك داخلة باتفاقهم وأجمعوا أن المشتري لها لو باعها في يد بائعها كان بيعه باطلا ولو باعها بعد أن خلى البائع بينه وبينها ولم يقطعها كان بيعه جائزا فصار قابضا لها بتخلية البائع بينه وبينها قبل قطعه إياها فثبت بذلك أن قبض المشتري المعلقة في رؤوس النخل هو بتخلية البائع بينه وبينها وإمكانه إياه منها فإذا فعل ذلك به فقد صارت في يده وضمانه وبرئ منها البائع فما حدث فيها من جائحة أتت عليها كلها أو على بعضها فهي ذاهبة من مال المشتري لا من مال البائع وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

تمام روات نے بکیر بن اشج سے انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی کے خریدے ہوئے پھل آفت سے تباہ ہو گئے اس پر قرض ہو گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ اسے صدقہ دیا گیا مگر وہ اتنی مقدار کو نہ پہنچا کہ جس سے قرض کی ادائیگی ہو تو آپ نے قرضداروں کو منع فرمایا یہ لے لو اور اس کے علاوہ تمہارے لئے کچھ نہیں ہے ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض داروں کا قرض پھل کے تباہ ہونے کے باوجود باطل قرار نہیں دیا اور ان قرض داروں میں فروخت کرنے والے بھی تھے اور نہ آپ نے ثمن کے ساتھ فروخت کرن ےوالے کی طرف لوٹایا کہ وہ اس پر قبضہ کر لیں ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مشتری کے ہاتھوں میں ہونے والے نقصان کی قیمت کے متعلق بائع سے کسی چیز کی کمی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ( اپنی مرضی سے کچھ چھوڑے یہ اس کی مرضی ہے ) اگر کوئی معترض کہے کہ پھل کو دوسری بیوع کے حکم میں شامل نہیں کر سکتے کیونکہ یہ تو کھجور کے اوپر ہوتے ہیں جہاں فروخت کرنے والے کا ہاتھ تو پھل توڑنے کی صورت میں پہنچ سکتا ہے اور دیگر اشیاء ایسی نہیں ۔ پس جو چیز کاٹنے کے بغیر قبضہ میں آتی ہے وہ خریدار کے مال سے جاتی ہے اور جو چیز کاٹنے کے بغیر قبضہ میں نہیں آتی وہ فروخت کرنے والے کے مال سے ضائع ہو گی ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا تمہاری یہ بات دو اعتبار سے غلط ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب پھلوں کو درختوں کے اوپر فروخت کریں اور وہ مکمل طور پر یا کچھ حصہ فروخت کرنے والے کے قبضہ کی صورت میں ضائع ہو جائے تو وہ فروخت کرنے والے کے مال سے ضائع ہوتا ہے خریدار کے مال سے ضائع نہیں ہوتا اس میں قلیل و کثیر کا ضیاع برابر ہے کیونکہ خریدار نے ابھی قبضہ نہیں کیا جب وہ قبضہ کر لے اور تہائی سے کم حصہ ضائع ہو تو بالا تفاق خریدار کے مال سے ضائع ہوگا۔ کیونکہ یہ اس کے قبضہ کے بعد ضائع ہوا۔ پس جب فروخت کرنے والے کے ہاتھ میں تھوڑے او ر زیادہ کا ضائع ہونا برابر ہے تو خریدار کے ہاتھ میں تھوڑے مال کا ضیاع جب اس کی طرف سے ضیاع شمار ہوتا ہے تو زیادہ کا ضیاع بھی اسی کی طرف سے ہوگا اور بائع کا خریدار کو اجازت دینا قبضہ قرار پائے گا۔ یہ فاسد ہونے کی اول وجہ ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے قبضہ کے بغیر غلہ کی فروخت کی ممانعت فرمائی ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے اور پھل بھی سب کے نزدیک اس میں داخل ہیں اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر وہ خریدار کے قبضہ میں ہوں اور خریدار فروخت کر دے تو یہ بیع باطل ہو گی اور اگر وہ بائع کی طرف سے پھلوں تک رسائی کی اجازت دینے کے بعد فروخت کرے اور ابھی پھل نہ توڑے تو یہ بیع جائز ہے ہے کیونکہ بائع کی طرف سے رکاوٹ کے خاتمہ پر وہ پھلوں پر قابض ہو گیا ہے اگر اس سے وہ پھل توڑے نہیں ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ درخت پر لگے ہوئے پھلوں پر خریدار کا قبضہ یہی ہے کہ مالک اسے پھلوں تک پہنچنے کی اجازت دے دے اور وہ ان پر قدر ت پا لے جب وہ ایسا کرے گا تو پھل اس کے قبضہ اور ضمان میں آ گئے اور بائع ان سے بری الذمہ ہو گیا اب جو آفت ان پھلوں پر آئے گی خواہ تمام یا بعض کا ضیاع ہو وہ خریدار کے مال کی ہلاکت ہو گی بائع کے مال سے نہیں ۔ یہی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

قَائِلٌ ← أصيب رجل من ثمار ابتاعها فكثر دينه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← جَمِيعًا ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5500

chevron_left Previous
1…111213…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter