شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5489
5189 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة قال ثنا حسين بن حفص قال ثنا سفيان قال حدثني سعد بن إبراهيم قال حدثني عمر بن أبي سلمة عن أبي هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المحاقلة والمزابنة قال والمحاقلة الشرط في الزرع والمزابنة التمر بالتمر في النخل فهذه الآثار قد تواترت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنهي عن بيع الكيل من الثمر بالثمر في رؤوس النخل فإن حمل تأويل العرايا على ما ذهب إليه أبو حنيفة كان النهي على عمومه ولم يبطل منه شيء وإن حمل على ما ذهب إليه مالك خرج منه ما تأول هو العرية عليه فلا ينبغي أن يخرج شيء من حديث متفق عليه إلا بحديث متفق على تأويله أو بدلالة أخرى متفق عليها وقد روى أيضا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد ذكرناه في غير هذا الموضع في النهي عن بيع الرطب بالتمر فإن حملنا معنى العرية على ما قال مالك ضاد ما روى فيها ما روى في النهي عن بيع الرطب بالتمر وإن حملناه على ما قال أبو حنيفة اتفقت معانيها ولم تتضاد والأولى بنا في صرف وجوه الآثار ومعانيها صرفها إلى ما ليس فيه تضاد ولا معارضة لسنة بسنة فقد ثبت بما ذكرنا في معنى العرايا ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمة الله عليه والله ولي التوفيق وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا أنه قال خففوا في الصدقات فإن في المال العرية والوصية
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا محاقلہ کھیتی میں شرط رکھنے اور المزابنہ کھجور کے اوپر تازہ پھل خشک کھجور کے بدلے فروخت کرتا۔ یہ تواتر سے آنے والی روایات ہیں جن درختوں پر موجود پھل کو اتری ہوئی خشک کھجور یا پھل کے بدلے فروخت کی ممانعت کی گئی ہے اگر عرایا کا وہ مفہوم لیا جائے جو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے لیا ہے تو نہی اپنے عموم پرہے گی اور اس میں سے کو بھی باطل نہ ہوگا اور اگر اس کی تفسیر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ والی اختیار کی جائے تو ممانعت سے ان کا بیان کرده عر بی تو خرج ہوجائے گا اور کسی متفق علیہ والی روایت سے کسی چیز کو اسی صورت میں خارج کیا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابل حدیث کے مفہوم پراتفاق ہو یا کوئی اور دلالت موجود ہو جس پر اتفاق ہو۔ حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے تر کھجوروں کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کی ممانعت کے سلسلہ میں اور روایات بھی وارد ہیں اگر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ والا معنی لیا جائے تو تر کھجوروں کو خشک کے بدلے فروخت کی ممانعت سے تضاد لازم آئے گا اور اگر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ یہ والامعنی لیا جائے اور ان کے قول پر محمول کیا جائے تو ان کے معانی متفق رہیں گے اور تضاد نہ ہوگا اور زیادہ بہتر یہی ہوتا ہے کہ روایات کو ایسی بات کی طرف پھیرا جائے جس میں سنت کا سنت سے تضاد نہ ہو اور ان میں معارضہ نہ پایا جائے ۔ عرایا کے اس مفہوم سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ثابت ہوا والله التوفيق جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ صدقات میں نرمی برتا کرو اس لئے کہ مال میں عریہ اور وصیت بھی ہے یہ بات مکحول نے نقل کی ہے ۔
الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أبو بكرة بكار بن قتيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5489
