Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5477

5177 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا القعنبي وعثمان بن عمر قالا ثنا مالك بن أنس عن داود بن الحسين عن مولى بن أبي أحمد عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص في بيع العرايا في خمسة أوسق أو في ما دون خمسة أوسق يشك داود في خمسة أوفي ما دون خمسة

مولی ابن ابی احمد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عرایا کی بیع کی اجازت پا نچ وسق یا پانچ وسق سے کم میں دی ہے ۔ داؤد راوی کو خمسہ یا مادون میں شک ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مولى بن أبي أحمد ← داود بن الحسین، ← مالک بن أنس ← القعنبي وعثمان بن عمر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5477

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5478

5178 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبد الله بن محمد التميمي قال أخبرنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن محمد بن يحيى بن حبان عن واسع بن حبان عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص في العرية في الوسق والوسقين والثلاثة والأربعة وقال في كل عشرة أقناء قنو يوضع في المسجد للمساكين

واسع بن حبان نے جابر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عرایات کے سلسلہ میں ایک دو تین چار وسق تک اجازت دی ہے اور فرمایا ہر دس گچھوں میں سے ایک گچھا مسجد میں مساکین کے لئے رکھا جائے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبد الله بن محمد التميمي ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5478

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5479

5179 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال أخبرنا بن إسحاق فذكر بإسناده مثله غير أنه قال ثم قال الوسق والوسقين والثلاثة والأربعة ولم يذكر قوله في كل عشرة قال أبو جعفر فقد جاءت هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وتواترت في الرخصة في بيع العرايا وقبلها أهل العلم جميعا ولم يختلفوا في صحة مجيئها وتنازعوا في تأويلها فقال قوم العرايا أن الرجل يكون له النخلة والنخلتان في وسط النخل الكثير لرجل آخر قالوا وقد كان أهل المدينة إذا كان وقت الثمار خرجوا بأهليهم إلى حوائطهم فيجئ صاحب النخلة أو النخلتين بأهله فيضر ذلك بأهل النخل الكثير فرخص رسول الله صلى الله عليه و سلم لصاحب النخل الكثير أن يعطى صاحب النخلة أو النخلتين خرص ماله من ذلك تمرا لينصرف هو وأهله عنه ويخلص تمر الحائط كله لصاحب النخل الكثير فيكون فيه هو وأهله وقد روى هذا القول عن مالك بن أنس رحمه الله وكان أبو حنيفة رحمه الله يقول فيما سمعت أحمد بن أبي عمران يذكر أنه سمعه من محمد بن سماعه عن [ ص 31 ] أبي يوسف عن أبي حنيفة قال معنى ذلك عندنا أن يعرى الرجل الرجل ثمر نخلة من نخلة فلا يسلم ذلك إليه حتى يبدو له فرخص له أن يحبس ذلك ويعطيه مكانه خرصه تمرا وكان هذا التأويل أشبه وأولى مما قال مالك لأن العرية إنما هي العطية ألا يرى إلى الذي مدح الأنصار كيف مدحهم إذ يقول ... ليست بسنيها ولا زجيبية ... ولكن عرايا في السنين الحوائج ... أي أنهم كانوا يعرونها في السنين الجوائح فلو كانت العرية كما ذهب إليه مالك إذا لما كانوا ممدوحين بها إذ كانوا يعطون كما يعطون ولكن العرية بخلاف ما قال فإن قال قائل فقد ذكرت في حديث زيد بن ثابت رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الثمر بالتمر ورخص في العرايا فصارت العرايا في هذا الحديث أيضا هي بيع ثمر بتمر قيل له ليس في الحديث من ذلك شيء إنما فيه ذكر الرخصة في العرايا مع ذكر النهي عن بيع الثمر بالتمر وقد يقرن الشيء بالشيء وحكمهما مختلف فإن قال قائل فقد ذكر التوقيف في حديث أبي هريرة رضي الله عنه على خمسة أوسق وفي ذكره ذلك ما ينفى أن يكون حكم ما هو أكثر من ذلك كحكمه قيل له ما فيه ما ينفي شيئا مما ذكرت وإنما يكون ذلك كذلك لو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يكون العرية إلا في خمسة أوسق أو فيما دون خمسة أوسق فإذا كان الحديث إنما فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص في بيع العرايا في خمسة أوسق أو فيما دون خمسة أوسق فذلك يحتمل أن يكون أن النبي صلى الله عليه و سلم رخص فيه لقوم في عرية لهم هذا مقدارها فنقل أبو هريرة رضي الله عنه ذلك وأخبر بالرخصة فيما كانت ولا ينفي ذلك أن يكون تلك الرخصة جارية فيما هو أكثر من ذلك فإن قال قائل ففي حديث عمر وجابر رضي الله عنهما إلا أنه رخص في العرايا فصار ذلك مستثنى من بيع الثمر بالتمر فثبت بذلك أنه بيع ثمر بتمر قيل له قد يجوز أن يكون قصد بذلك إلى المعري له فرخص له أن يأخذ ثمرا بدلا من ثمر في رؤوس النخل لأنه يكون بذلك في معنى البائع وذلك له حلال فيكون الاستثناء لهذه العلة وفي حديث سهل بن أبي حثمة إلا أنه رخص في بيع العرية بخرصها تمرا يأكلها أهلها رطبا فقد ذكر للعرية أهلا وجعلهم يأكلونها رطبا ولا يكون ذلك إلا وملكها الذين عادت إليهم بالبدل الذي أخذ منهم فذلك يثبت قول أبي حنيفة فإن قال قائل لو كان تأويل هذه الآثار ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمة الله عليه لما كان لذكر الرخصة فيها معنى قيل له بل له معنى صحيح ولكن قد اختلف فيه ما هو فقال عيسى بن أبان معنى الرخصة في ذلك أن الأموال كلها لا يملك بها إبدالا إلا من كان مالكها لا يبيع رجل ما لا يملك ببدله فيملك ذلك البدل وإنما يملك ذلك البدل إذا ملكه بصحة ملكه للشئ الذي هو بدل منه قال فالمعري لم يكن ملك العرية لأنه لم يكن قبضها والتمر الذي يأخذه بدلا منها قد جعل طيبا له في هذا الحديث وهو بدل من رطب لم يكن ملكه قال فهذا هو الذي قصد بالرخصة إليه وقال غيره الرخصة أن الرجل إذا أعرى الرجل الشيء من ثمره وقد وعده أن يسلمه إليه ليملكه المسلم إليه بقبضه إياه وعلى الرجل في دينه أن يفي بوعده وإن كان غير مأخوذ به في الحكم فرخص للمعري أن يحتبس ما أعرى بأن يعطى المعري خرصه تمرا بدلا منه من غير أن يكون آثما ولا في حكم من اختلف موعدا فهذا موضع الرخصة وهذا التأويل الذي ذكرناه عن أبي حنيفة رحمة الله عليه أولى مما حمل عليه وجه هذا الحديث لأن الآثار قد جاءت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم متواترة بالنهي عن بيع الثمر بالتمر فمنها ما قد ذكرناه في أول هذا ومنها ما قد

ابن اسحاق نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی البتہ اس نے یہ لفظ نقل کیے ہیں :”الوسق و الوسقين والغلاله والاربعة“ اس نے "في كل عشر ذکر نہیں کیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بیع عرایا کی اجازت کے سلسلہ میں متواتر آثار وارد ہیں تمام اہل علم نے ان کوقبول کیا ہے ان کی صحت میں کسی کو کلام نہیں البتہ عرایا کی تعریف میں اختلاف ہے۔ عرایا یہ ہے کہ کیا کے نخلستان کے درمیان دو یا ایک کھجور ہوان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اہل مدینہ پھلوں کے موسم میں اپنے گھر والوں کو باغات میں لے جاتے ایک یا دو درختوں کا مالک اپنے گھر والوں کے ساتھ آتا اس طرح زیادہ درختوں کے مالک کو تکلیف پہنچی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے زیادہ درختوں والے کو اجازت مرحمت فرمائی کہ وہ ایک یا دو درختوں کے مالک کو اس کی کھجوروں کے اندازے پر خشک کھجوریں دے دے تا کہ اس کے اہل خانہ واپس لوٹ جائیں اور باغ کی تمام کھجور میں زیادہ کھجوروں کے مالک کے لئےخاص ہوجائیں اور اب ان میں صرف اس کا اور اس کے اہل خان کاحق رہ جائے ۔ یہ قول امام مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ ہمارے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کو اپنے درخت کا پول بطور عطیہ دے اور پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کے حوالے نہ کرے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ اس عطیہ کوروک کر اس کی جگہ اندازہ کر کے کھجور یں دے دے یہ قول امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے قول سے زیادہ عمدہ اور بہتر ہے کیونکہ عریہ کی حقیقت عطیہ ہے۔ ذرا توجہ تو فرمائیں کہ جس نے انصار کی تعریف کی ہے تو وہ کس طرح کی ہے۔(شعر کا ترجمہ )ان کا عطیہ ان درختوں کی صورت میں نہیں ہوتا جو ایک سال میں ایک مرتبہ پھل دیتے ہیں اور دوسرے سال پھل نہیں دیتے اور نہ ایسے درخت ہیں کہ جن کو سہارے کے لئے ستون دیا جاتا ہے۔ بلکہ وہ قحط کے سالوں میں عطیات دیتے ہیں۔ اگر عرایا کا وہ مفہوم لیا جائے جو امام مالک رحمتہ اللہ علیہ (فریق اول) کے ہاں ہے تو اس صورت میں ان کافعل قابل مدح وستائش نہیں۔ وہ تو عام اور ہر ایک کافعل ہے مگر عرایا کا مفہوم اس کے خلاف ہے (یہ گویا قحط کے اوقات میں غرباءکو دیئے جانے والے عطیات ہیں ) اگر کوئی معترض کہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے روایت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میں ذکر فرمایا کہ تازہ کھجور کی بیع خشک کھجور کے بدلے جائز نہیں ہے تو اس روایت میں بھی عرایا سے خشک کھجوروں کے بدلے تازہ کھجوروں کی بیع مراد ہے۔ تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں حدیث میں تو ایسی بات نہیں ہے روایت میں صرف عرایا کی اجازت کا تذکرہ ہے اور اس کے ساتھ خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجوروں کی ممانعت بھی مذکور ہے اور بھی ایک چیز کو دوسری سے ملا کر لے آتے ہیں مگر ان کا حکم مختلف ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو عرایا کی پانچ وسق تک اجازت ثابت ہوتی ہے اس سے زائد کی نفی ظاہر ہے نفی کی بات تو روایات میں موجود نہیں ہے تو اس صورت میں ہے جبکہ جناب رسول اللہ ﷺ اس طرح فرماتے کہ عطیہ صرف پا نچ وسق میں ہے یا اس سے کم میں ہے۔ بلکہ روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عرایا کی اجازت پانچ وسق یا اس سے کم میں دی تو ان کی وجہ ممکن ہے یہ ہو کہ آپ نے جس خاص قوم کو عطیہ کی ہی اجازت دی ان کے عطیہ کی مقدار اتنی تھی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی کو نقل کر دیا اور جو اجازت دی گئی تھی اس کی اطلاع دے دی لیکن اس سے زائد میں عرایا کی نفی ہوتی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے " الا انہ رخص فی العرایا " تو خشک کھجور کے بدلے کھجور کی بیع سے استثناء ہے اس سے تو معلوم ہورہا ہے کہ یہ بھی تازه کھجور کے بدلے خشک کھجور کی بیع ہے (جو کہ ممنوع ہے) تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس میں ممکن ہے کہ آپ کا مقصود وہ آدی ہو جس کو عرایادیا گیا ہے تو اس کو اجازت دی گئی کہ درخت کے اوپر والی کھجوروں کے بدلے اتاری ہوئی کھجور یں لے لے کیونکہ اس طرح وہ معنوی اعتبار سے بائع کہلائے گا اور یہ اس کے لئے درست ہے پس اس علت کی بنا ء یہ استثناء ہے اور حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: "الا انه رخص في بيع العريه بخرصها تمرا " کہ اندازے والی خشک کھجور کے بدلے عریہ فروخت کرنے کی اجازت ہے تا کہ ما لک تازہ کھجور یں استعمال کرلے اور یہ بات اس وقت ہوسکتی ہے جبکہ وہ لوگ جن کے پاس یہ کھجور یں آئی ہیں عوض دے کر مالک بن جائیں اور یہ بات تو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے قول کو ثابت کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اگر ان روایات کا مفہوم ہو جو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے لیا ہے تو اس کی اجازت کا کوئی معنی ہی نہیں ( عطیہ تو خود اجازت ہے) عرایا کا یہ ایک درست معنی ہے جس کو امام صاحب نے اختیار کیا ہے البتہ دیگر حضرات نے اس کا دوسرا معنی بتلایا ہے ۔ عیسی بن ابان رحمتہ اللہ علیہ کا قول عرایا کی اجازت کا مطلب یہ ہے بدل کے طور پر مالک کا مالک وہی شخص ہوسکتا ہے جواس عطیہ کامالک ہو جائے اور جوشخص کسی چیز کا بدل کی وجہ ہے مالک ہوتا ہے وہ اس کو فروخت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وہ بدل کی وجہ سے مالک ہوا اسی طرح تو وہ اس بدل کا مالک ہوجائے گا وہ اس بدل کا مالک اسی صورت میں ہوتا جب بدلے میں دی جانے والی چیز کا صیح طور پر وہ مالک ہو۔ پس جس کو عطیہ دیا گیا وہ اس عطیہ کا مالک نہیں کیونکہ اس نے اس پر قبضہ نہیں کیا اور جو کھجوریں وہ اس کے عوض میں لیتا ہے حدیث کے مطابق وہ اس کے لئے درست قرار دی گئیں ہیں اور وہ ان تازہ کھجوروں کا عوض ہے جن کا وہ مالک نہیں ہوا۔ ان کے ہاں رخصت کا یہی مطلب ہے۔ دیگر علماء کا کہنا ہے کہ اجازت سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص جب کسی دوسرے آدمی کو اپنا کچھ پھل عرایا کے طور پر دیتا ہے اور اس سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسے اس کے حوالے کر دے گا۔ تا کہ وہ شخص جس کو دیا گیا ہے قبضہ کر کے اس کا مالک بن جائے اور قرض کے معاملے میں وعدے کو پورا کرتا آدی پر لازم ہوتا ہے اگر اس کے حکم پراس سے مواخذ ہ نہیں ہوتا تو آپ ﷺ نے عطیہ دینے والے کو اجازت مرحمت فرمائی کہ وہ اس چیز کوروک رکھے جواس نے عطیہ دیا ہے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کھجوریں دے دے اس میں وہ گنہگار نہیں ہوگا اور نہ وہ وعدہ خلافی کرنے والوں میں شمار ہوگا تو رخصت کا یہ موقع ہے۔ اس روایت کی تمام توجیہات میں وہ تو جیہ جس کو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اختیار کیا وہ سب سے بہتر ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے متعدد روایات میں وارد ہے کہ خشک کھجوروں کی بیع تازہ کھجوروں کے بدلے درست نہیں ہے۔ ان میں سے چند روایات ہم شروع باب میں ذکر کر آئے ہیں اور بعض یہ ہیں

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5479

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5480

5180 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال حدثني سعيد وأبو سلمة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تبايعوا الثمر بالتمر قال بن شهاب وحدثني سالم بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله سواء

سعید و ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تازه کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے فروخت نہ کرو۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے سالم نے اپنے والد عبداللہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اسی طرح فرمایا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5480

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5481

5181 - حدثنا يزيد وابن أبي داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

سالم نے اپنے والد سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يزيد وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5481

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5482

5182 - حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا خالد بن عبد الرحمن قال ثنا حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار قال سمعت بن عمر سئل عن رجل اشترى ثمرة بمائة فرق يكيل له قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن هذا يعني المزابنة

عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کوفرماتے سنا جبکہ ان سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو سوفره (ایک پیمانہ) کے بدلے پھل خریدتا ہے اور کیل کر کے دیتا ہے تو انہوں فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے یہ مزابنہ ہے۔

هذا يعني المزابنة ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رجل اشترى ثمرة بمائة فرق يكيل له ← بن عمر سئل ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5482

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5483

5183 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا أسد قال ثنا يحيى بن زكريا قال ثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع ثمر النخل بالتمر كيلا والزبيب بالعنب كيلا والزرع بالحنطة كيلا

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے تازہ پھل کی بیع کھجور خشک کے بدلے کیل کر کے منع فرمائی اسی طرح کشمش کوانگور کے بدلے کیل کر کے اور گندم کی کھیتی کو گندم کے بدلے ماپ کر دینے سے منع فرمایا ہے۔

بيع ثمر النخل بالتمر كيلا والزبيب بالعنب كيلا والزرع بالحنطة كيلا ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أسد ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5483

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5484

5184 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن عون قال أخبرنا حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار أن بن عمر سئل عن رجل باع ثمرة أرضه من رجل بمائة فرق فقال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن هذا وهو المزابنة

عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس آدی کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی زمین کا پھل ایک آدمی کو سوفرق کے بدلے فروخت کیا توانہوں نے فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ یہ مزابنہ ہے۔

هذا وهو المزابنة ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رجل باع ثمرة أرضه من رجل بمائة فرق ← عمرو بن دينار أن بن عمر سئل ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5484

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5485

5185 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا أبو زرعة وهب الله بن راشد قال أخبرني يونس قال حدثني نافع ان عبد الله بن عمر قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المزابنة قال والمزابنة أن يشتري الرجل أو يبيع حائطه بتمر كيلا أو كرمه بزبيب كيلا وأن يبيع الزرع كيلا بشيء من الطعام

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور فرمایا مزابنہ یہ ہے کہ کوئی آدی باغ خرید یا فروخت کرے کہ کھجور کے بدلے کیل کر کے یاباغ کی بیلیں کشمش کے بدلے۔ کیل کر کے فروخت کرے اورکھیت میں پائے جانے والے دانوں کو خشک گندم کے بدلے کیل سے فروخت کرنا۔

الْمُزَابَنَةِ. ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← يُونُسَ ← أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5485

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5486

5186 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا أبو معاوية عن أبي إسحاق الشيباني عن عكرمة عن بن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المحاقلة والمزابنة

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔

الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5486

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5487

5187 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس عن سفيان عن بن جريج عن عطاء عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد أن يبيع الرجل الزرع بمائة فرق حنطة والمزابنة أن يبيع الثمر في رؤوس النخل بمائة فرق

عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ کوئی شخص کھڑی فصل کو گندم کے سوفرق کے بدلے فروخت کر دے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کے اوپر موجود چهل کو ایک سوفرق کے بدلے فروخت کرے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5487

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 7 باب العرايا ) · حديث 5488

5188 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا محمد بن مسلم الطائفي قال أخبرنا إبراهيم بن ميسرة قال أخبرني عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المخابرة والمزابنة والمحاقلة

عمرو بن دینار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع مخابرہ ، مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا۔

المخابرة والمزابنة والمحاقلة ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5488

chevron_left Previous
1…101112…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter