Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5357

5068 - حدثني يونس بن عبد الأعلى الصدفي قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن أبا الزبير حدثه أن بسر بن سعيد حدثه عن معمر بن عبد الله أنه أرسل غلاما له بصاع من قمح هو الحنطة فقال له بعه ثم اشتر به شعيرا فذهب الغلام فأخذ صاعا وزيادة بعض صاع فلما جاء معمر أخبره فقال له معمر لم فعلت انطلق فرده ولا تأخذ إلا مثلا بمثل فإني كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الطعام بالطعام مثلا بمثل وكان طعامنا يومئذ الشعير قيل له فإنه ليس مثله قال إني أخاف أن يضارعه أن يشبهه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وقالوا لا يجوز بيع الحنطة بالشعير إلا مثلا بمثل وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس ببيع الحنطة بالشعير متفاضلا مثلين بمثل أو أكثر من ذلك وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في الحديث الذي احتجوا به عليهم أن معمرا أخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يسمعه يقول الطعام بالطعام مثلا بمثل ثم قال معمر وكان طعامنا يومئذ الشعير فيجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بقوله الذي حكاه عنه معمر الطعام الذي كان طعامهم يومئذ فيكون ذلك على الشعير بالشعير فلا يكون في هذا الحديث شيء من ذكر بيع الحنطة بالشعير مما ذكر فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم وإنما هو مذكور عن معمر من رأيه ومن تأويله ما كان سمع من النبي صلى الله عليه و سلم ألا ترى أنه قيل له فإنه ليس مثله أي ليس من نوعه فلم ينكر ذلك على من قاله وكان جوابه له إني أخشى أن يضارعه كأنه خاف أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي سمعه يقوله وهو ما ذكرنا في حديثه على الأطعمة كلها فتوقى ذلك وتنزه عنه للريب الذي وقع في قلبه منه فلما انتفى أن يكون في هذا الحديث حجة لأحد الفريقين على صاحبه نظرنا هل في غيره ما يدلنا على حكم ذلك كيف هو فاعتبرنا ذلك

بسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو گندم کا صاع دے کر بھیجا فرمایا کہ اس کے بدلے جو خر یدلاؤ غلام گیا اور ایک صاع سے زائد جولایا جب حضرت معمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو آپ نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ۔ اسے واپس کرواور برابر برابر بدلو۔ میں نے جناب رسول ﷺکو فرماتے سناہے کہ آپ نے فرمایا غلہ غلہ کے بدلے برابر ہونا چاہئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں ہمارا غلہ جو تھا۔ ان سے کہا گیا کہ جو اس کی مثل نہیں تو فرمانے لگے مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ اس کے کہیں مشابہ نہ ہو۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جیسا یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ گندم اور جو کی خرید وفروخت باہمی برابر برابر کے علاوہ درست نہیں۔ دوسروں نے کہا جو اور گندم کی بیع کم زیادہ مقدار کے ساتھ جائز ہے خواہ گندم ایک مثل ہو اور جو اس سے دو گنا ہوں۔ فریق اول کا جواب : اس روایت میں حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول ﷺ سے جو بات سنی ہے وہ اس قدر ہے الطعام بالطعام مثلا بمثل معمر کہتے ہیں کہ ہم ان دنوں بطور طعام جو استعمال کرتے تھے پس یہ جائز ہے کہ جناب رسول ﷺکی جو کے مقابلے میں جو کی بیع ہو پس اس روایت میں گندم کے بدلے جو کی بیع کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں بقیہ اگے حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے جو آپﷺ سےسنا اس کی تعبیر میں انہوں نے گندم و جو کے الگ نوع ہونے سے انکارنہیں فرمایا۔ بلکہ اپنے ہاں کمال احتیاط برتتے ہوئے محض اپنے شک کی بناء پر اس کو مثلا بمثل میں داخل ماتا۔ اب جب بی احتمال پیدا ہوا تو یہ روایت فریق اول کی دلیل نہ رہی کسی فیصلہ پہنچنے کے لئے دیگر روایات کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔ جس معنی کی تائید مل جائے گی اسے تسلیم کر لیا جائے گا۔ روایت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5357

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5358

5069 - فإذا علي بن شيبة قد حدثنا قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن مسلم بن يسار عن أبي الأشعث عن عبادة بن الصامت أنه قام فقال يا أيها الناس إنكم قد أحدثتم بيوعا لا أدري ما هي وإن الذهب بالذهب وزنا بوزن تبره وعينه والفضة بالفضة وزنا بوزن تبرها وعينها ولا بأس ببيع الذهب بالفضة والفضة أكثرهما يدا بيد ولا يصلح نسيئا والبر بالبر مدا بمد يدا بيد والشعير بالشعير مدا بمد يدا بيد ولا بأس ببيع الشعير بالبر والشعير أكثرهما يدا بيد ولا يصح نسيئة والتمر بالتمر حتى عد الملح مثلا بمثل من زاد أو استزاد فقد أربى قال أبو جعفر فهذا عبادة بن الصامت رضوان الله عليه قد خالف معمر بن عبد الله فيما ذهب إليه على ما ذكرنا عنه في الحديث الأول وقد روى عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه هذا الكلام عن النبي صلى الله عليه و سلم

ابوالاشعث نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کھڑے ہونے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو! تم نے بیع کی کئی اقسام گھڑ لی ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ سنو! سونے کی ڈلی سونے کی ڈلی کے بدلے اور اس کا سکہ سکے کے بدلے برابر وزن میں اسی طرح چاندی کی ڈلی اور سکہ چاندی کے بدلے جب وزن میں برابر ہوں (تو فروخت کرو) اور اس میں حرج نہیں کہ سونے کو چاندی کے بدلے زیادہ نقدی میں لیا دیا جائے ۔ یہ ادھار درست نہیں اور کھجور کے بدلے کھجور برابر دیا جائے اور نمک کونمک کے بدلے برابر دیا جائے جس نے ان میں (جب جنس ایک ہو) کمی اضافہ کیا اس نے سود لیا۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حضرت عبادہ نے معمر رضی اللہ عنہ کے موقف کے خلاف بات کہی یہ بات صرف عبادہ رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے نہیں بلکہ انہوں نے جناب نبی اکرمﷺ نقل کی ہے۔ روایت عبادہ رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← فإذا علي بن شيبة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5358

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5359

5070 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب السختياني عن محمد بن سيرين عن مسلم بن يسار ورجل آخر عن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين ولكن بيعوا الذهب بالورق والورق بالذهب والبر بالشعير والشعير بالبر والتمر بالملح والملح بالتمر يدا بيد كيف شئتم قال ونقص أحدهما التمر بالملح وزاد الآخر من زاد أو إزداد فقد أربى

مسلم بن یسار اور ایک دوسرے شخص نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسولﷺ نے فرمایا۔ سونا سونے کے بدلے ؛اور چاندی چاندی کے بدلے گندم گندم کے بدلے۔ جو جو کے بدلے کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر فروخت کرو مگر سونے کو چاندی اور چاندی کو سونے کے بدلے اسی طرح گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے نقد أجس طرح چاہو فروخت کرو۔ کھجور ونمک میں سے ایک چیز کم ہو اور دوسری زیادہ ہو تو یہ اضافہ درست ہے اور جب جنس ایک ہو) تو جس نے زیادہ لیا اس نے سود کا کام کیا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5359

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5360

5071 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أخبرنا المعلى بن أسد قال ثنا وهيب عن أيوب فذكر بإسناده مثله

وہیب نے ایوب سے پھرانہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔

أيوب فذكر بإسناده مثله ← وُهَيْبٌ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5360

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5361

5072 - حدثنا سليمان بن شعيب الكيساني عن أبيه عن محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن إبراهيم بن طهمان عن أيوب بن أبي تميمة عن محمد بن سيرين عن بن يسار عن أبي الأشعث قال سمعت عبادة بن الصامت يقول نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تبايعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق إلا وزنا بوزن ولا التمر بالتمر ولا الحنطة بالحنطة ولا الشعير بالشعير ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين فمن زاد أو إزداد فقد أربى ولكن بيعوا الذهب بالورق والحنطة بالشعير والتمر بالملح يدا بيد كيف شئتم

ابوالاشعث نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایا اس طرح فرمایا تم سونے کو سونے کے بدلے اور نہ چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت کر ومگر اس صورت میں جبکہ ان کا وزن برابر ہو۔ اسی طرح کھجور کو کھجور کے بدلے اور نہ گندم کو گندم کے عوض اور نہ جوکو جو کے عوض اور نمک کو نمک کے عوض فروخت کرو مگر اس صورت میں جبکہ یہ برابر ہوں اور ایک ہی جنس ہوں پس جس نے بڑھایا اس نے سودی کاروبار کیا لیکن سونا چاندی کے بدلے اور گندم جو کے بدلے اور کھجور کے بدلے دست بدست جس طرح چاہو کم زیادہ دے سکتے ہو۔

نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أو ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← بن يسار ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5361

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5362

5073 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبي الخليل عن مسلم المكي عن أبي الأشعث الصنعاني عن عبادة بن الصامت أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أن يباع الذهب بالذهب تبره وعينه إلا وزنا بوزن والفضة بالفضة تبرها وعينها إلا مثلا بمثل وذكر الشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح كيلا بكيل فمن زاد أو إزداد فقد أربى ولا بأس ببيع الشعير بالبر يدا بيد والشعير أكثرهما

اشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ نے سونے کا ٹکڑا اور سکہ سونے کے بدلے فروخت کرنے سے روکا مگر اس صورت میں جبکہ دونوں کا وزن برابر ہو۔ چاندی کا ٹکڑا اور اس کا سکہ بھی چاندی کے ٹکڑے کے بدلے برابر برابر وزن میں ہونا چاہئے۔ آپ نے جو کے بدلے جو اور کھجور کے بدلے کھجور، نمک کے بدلے نمک کا ذکر فرمایا کہ دونوں کا پیمانہ برابر ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کیا فرمایا اس نے سودکمایا۔ البتہ گندم و جو کے بدلے دست بدست فروخت کرنا کمی و اضافہ کے ساتھ دینے میں حرج نہیں۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← مُسْلِمٍ الْمَکِّيِّ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5362

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5363

5074 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثله

ابوالاشعث نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺنے اس طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم بمثله ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5363

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5364

5075 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا سلمة بن علقمة عن محمد بن سيرين عن مسلم بن يسار وذكر آخر حدثاه أو حدثنا قال جمع المنزل بين عبادة بن الصامت ومعاوية في كنيسة أو بيعة فحدث عبادة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين قال أحدهما ولم يقل الآخر قال عبادة أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نبيع الذهب بالفضة والبر بالشعير والشعير بالبر يدا بيد كيف شئنا قال أبو جعفر ففي هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إباحة بيع الشعير بالحنطة مثلين بمثل فقد ثبت القول بذلك من طريق الآثار ثم التمسنا حكم ذلك من الحنطة كم هي فقال بعضهم هي نصف صاع لكل مسكين وقال بعضهم هي مد لكل مسكين فكان الذين جعلوها من الحنطة نصف صاع يجعلونها من الشعير صاعا وكان الذي جعلوها من الحنطة مدا يجعلونها من الشعير مدين وقد ذكرنا ذلك بأسانيده عنهم في غير هذا الموضع فثبت بذلك أنهما نوعان مختلفان لأنهما لو كانا من نوع واحد إذا لأجزى من أحدهما ما يجزى من الآخر فإن قال قائل إنه إنما زيد في الشعير على ما جعل في ذلك من الحنطة لغلو الحنطة واتساع الشعير فالجواب له في ذلك إنا رأينا ما يعطى من جيد الحنطة ومن رديئها في كفارة الأيمان سواء وكذلك الشعير ألا ترى أن من وجبت عليه كفارة يمين فأعطى كل مسكين نصف مد يساوي نصف صاع أن ذلك لا يجزئه من نصف صاع ولا من مد فلما كان ما ذكرنا كذلك وكان الشعير يؤدى منه كفارات الأيمان مثلي ما يؤدى من الحنطة فثبت بذلك أنه نوع خلاف الحنطة فثبت بذلك أن لا بأس ببيعه بالحنطة مثلين بمثل وأكثر من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

محمد بن سیرین نے مسلم بن یسار اور دوسرے کا بھی ذکر کیا دونوں نے اس کو بیان یا ہم نے بیان کیا کہ عباده بن صامت رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جو ایک جگہ جمع ہوئے جو عیسائیوں یا یہودیوں کا گرجا تھا۔ تو عباد ہ نے بیان کیا کہ جناب رسول ﷺنے فرمایا سونا بدلے سونے کے اور چاندی کے بدلے چاندی اور جو کے بدلے جو مت فروخت کرو اور کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک مگر برابر برابر اور عین کے بدلے عین پر ایک راوی نے آخری الفاظ کہے دوسرے نے نہیں کہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول ﷺ جوکی بیع گندم کے بدلے دومثل ایک مثل کے بدلے جائز قرار دی ہے جب روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی اب گندم کی مقدار کا حکم تلاش کیا۔ کہ گندم و جو میں نسبت کیا ہوگی ۔ بعض صحابہ کرام کا قول: نمبرا ہر مسکین کو گندم کا نصف صاع۔ نمبر2 ہر مسکین کو ایک مددیاجائے گا۔ جن حضرات نے گندم کے نصف صاع اور جو کا صاع برابر قرار دیا دوسروں سے گندم کا ایک مد اور جو دومد۔یہ صدقہ الفطر میں تفصیل سے ذکر کر دیا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم اور جو ایک دوسرے سے الگ انواع ہیں کیونکہ اگر ان کی نوع ایک ہوتی تو پھر ایک میں جو چیز جائز ہے دوسری میں بھی مقدار اتنی ہی رہتی۔ جو میں اضافے کی وجہ انواع کامختلف ہونا نہیں بلکہ گندم کی گرانی اور جو کے سستا ہونے کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ ذرا توجہ تو فرمائیں گندم میں عمدہ ہو یا ردی کی مقدار یکساں رہے گی اور جو کا بھی یہی حال ہے مثلا کسی پرقسم کا کفارہ لازم ہوا اس نے ہر مسکین کونصف مد گندم دی جو قیمت میں نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا ۔ نہ نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا نہ نصف صاع کے اعتبار سے نہ مد کے لحاظ سے۔ جب یہ بات ثابت شدہ ہے تو کفارات کی ادائیگی آج تک تو گندم سے دونے جو سے ادا کی جاتی رہی اس سے ثابت ہوگیا کہ یا الگ نوع ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم کو ایک مثل یا دو مثل سے فروخت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ یہی امام ابوحنیفہ ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ اور کہنے لگے جناب رسول ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم سونے کو چاندی اور گندم کو جو اور جو کو گندم کے بدلے فروخت کریں جیسے چاہیں بدست بدست فروخت کریں۔

آخر حدثاه أو ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5364

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5365

5076 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا بن وهب أن مالكا وأسامة بن زيد حدثاه عن عبد الله بن يزيد مولى الأسود بن سفيان أن زيدا أبا عياش أخبره أنه سأل سعدا عن السلت بالبيضاء فقال سعد شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأل عن الرطب بالتمر فقال أينقص الرطب إذا جف فقالوا نعم قال فلا إذا وكرهه

زید ابوعياش نے بتلایا کہ انہوں نے سعد سے پوچھا کہ چھلکے والے جو اور گندم کے متعلق دریافت کیا تو حضرت سعد کہنے لگے میں نے جناب رسولﷺ سے تر کھجور اور خشک کھجور کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کیاتر کھجور خشک ہونے سے کم ہو جاتی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا پھر جائز نہیں اور اس کو آپ نے ناپسند فرمایا۔

فلا إذا وكرهه ← نَعَمْ ← أينقص الرطب إذا جف ← الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ← سعد شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأل ← السلت بالبيضاء ← أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ← بن وهب أن مالكا وأسامة بن زيد حدثاه ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5365

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5366

5077 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك عن عبد الله بن يزيد عن زيد أبي عياش عن سعد بن أبي وقاص قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وجعلوه أصلا ومنعوا به بيع الرطب بالتمر وممن ذهب إلى ذلك أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما وخالفهم في ذلك آخرون فجعلوا الرطب والتمر نوعا واحدا وأجازوا بيع كل واحد منهما بصاحبه مثلا بمثل وكرهوه نسيئة فاعتبرنا هذا الحديث الذي احتج به عليهم مخالفهم هل دخله شيء

زید ابوعیاش نے سعد رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول ﷺکو اس طرح فرماتے سنا پھراسی طرح روایت ذکر کی ۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں اس روایت کے پیش نظر بعض علماء نے تر کھجور کی خریدوفروخت خشک کھجور کے عوض ممنوع قرار دی ہے اور یہ امام ابو یوسف ؒاور محمد ؒ نے اختیار کیا ہے۔ دوسروں نے کہاتر کهجور یا خشک دونوں ایک قسم ہیں ان کی بیع نقد برابر برابر ایک دوسرے کے ساتھ درست ہے اور ادھار جائز نہیں۔ مؤقف اول کا جواب یہ ہے کہ جس حدیث سے استدلال کیا گیا دیگر آثار کو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی ممانعت کی گئی وہ ان کی ادھار بیع ہے پس فریق اول کی مستدل نہ رہی۔ روایت ملاحظہ .فرمائیں۔

مِثْلَہُ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5366

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5367

5078 - فإذا بابن أبي داود قد حدثنا قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي قال ثنا معاوية بن سلام عن يحيى بن أبي كثير عن عبد الله بن يزيد أن زيدا أبا عياش أخبره عن سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الرطب بالتمر نسيئة فكان هذا أصل الحديث فيه ذكر النسيئة زاده يحيى بن أبي كثير على مالك بن أنس فهو أولى وقد روى هذا الحديث أيضا غير عبد الله بن يزيد على مثل ما رواه يحيى بن أبي كثير أيضا

ابوعياش زید نے سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺ تر کھجور کی خشک کھجور کے بدلے خرید ادھار کی صورت میں منع کیا ہے۔ پس اصل روایت میں نسیہ (ادھار) کا لفظ موجود ہے اور یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت مالک بن انس کی روایت سے جو اضافہ پایا جاتا ہے یہی اولئ ہے۔ اس روایت کو یحییٰ کے علاوہ عبداللہ بن یزید نے بھی اسی طرح روایت کیا جیسا کہ یحییٰ نے کی ہے۔ روایت عبد الله بن یزید ملاحظہ ہو۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← فإذا بابن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5367

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5368

5079 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرنا عمرو بن الحارث عن بكير بن عبد الله حدثه عن عمران بن أبي أنس أن مولى لبني مخزوم حدثه أنه سئل سعد بن أبي وقاص عن الرجل يسلف الرجل الرطب بالتمر إلى أجل فقال سعد نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن هذا فهذا عمران بن أبي أنس وهو رجل متقدم معروف قد روى هذا الحديث كما رواه يحيى فكان ينبغي في تصحيح معاني الآثار أن يكون حديث عبد الله بن يزيد لما اختلف عنه فيه أن يرتفع ويثبت حديث عمران هذا فيكون هذا النهي الذي جاء في حديث سعد هذا إنما هو لعلة النسيئة لا لغير ذلك فهذا سبيل هذا الباب من طريق تصحيح الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد رأيناهم لا يختلفون في بيع الرطب بالرطب مثلا بمثل أنه جائز وكذلك التمر بالتمر مثلا بمثل وإن كانت في أحدهما رطوبة ليست في الآخر وكل ذلك ينقص إذا بقي نقصانا مختلفا ويجف فلم ينظروا إلى ذلك في حال الجفوف فيبطلوا البيع به بل نظروا إلى حاله في وقت وقوع البيع فعملوا على ذلك ولم يراعوا ما يئول إليه بعد ذلك من جفوف ونقصان فالنظر على ذلك أن يكون كذلك الرطب بالتمر ينظر إلى ذلك في وقت وقوع البيع ولا ينظر إلى ما يئول إليه من تغيير وجفوف وهذا قول أبي حنيفة رحمة الله تعالى عليه وهو النظر عندنا

عبداللہ نے عمران بن ابی انس سے روایت کی کہ بنی مخزوم کے ایک مولیٰ نے مجھے بیان کیا کہ میں نے سعد رضی اللہ عنہ د سے دریافت کیا گیا کہ جو آدمی خشک کھجور کے بدلے تر کھجور کی بیع سلم کرتا ہے تو سعد فرمانے لگے جناب رسولﷺنے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ عمران بن ابوانس معروف مشہور آدمی ہیں ۔ انہوں نے بھی روایت کو یحییٰ بن ابی کثیر کی طرح روایت کی ہے۔ معانی کو درست اور ان کے مابین تطبیق کا تقاضا یہ ہے کہ عبداللہ بن یزید کی روایت ان سے مختلف ہے تو وہ مرتفع ہوگئی اور عمران والی روایت جس کا مضمون سب روایات میں ہے وہ باقی رہی پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہونے والی روایت میں جس نہی کا تذکرہ ہے اس کاتعلق بس ادھار سے ہے۔ روایات کے لحاظ سے مطابقت ثابت کر دی گئی تو اب نظری دلیل بھی پیش کی جارہی ہے کھجور کوتر کھجور کے عوض برابر فروخت کرنے میں کی کوکلام نہیں۔ اسی طرح خشک کھجور کو خشک کھجور کے عوض برابر فروخت کرنے میں سب جواز کے قائل ہیں۔ اگر ان میں سے کسی میں کم زیادہ رطوبت باقی ہو تو اس کی طرف تو نہیں کی گئی کہ جس سے خشکی کی حالت کا اعتبار کر کے بیع کو باطل قرار دیں بلکہ خرید وفروخت کے وقت اس کی حالت کا لحاظ رکھا گیا اس کے آئندہ نفع ونقصان یاوزن میں کمی کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ کھجور کے سلسلہ میں خرید وفروخت کے وقت اس کی حالت کا لحاظ کیا جائے گا آئندہ اس کے خشک ہو کر بدلنے کا لحاظ نہ ہو گا یہ امام ابوحنیفہ ؒ کا قول ہے اور ہمارے ہاں تقاضا نظر بھی یہی ہے۔

أنه سئل سعد بن أبي وقاص ← عمران بن أبي أنس أن مولى لبني مخزوم ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5368

chevron_left Previous
1234…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter