شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5357
5068 - حدثني يونس بن عبد الأعلى الصدفي قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن أبا الزبير حدثه أن بسر بن سعيد حدثه عن معمر بن عبد الله أنه أرسل غلاما له بصاع من قمح هو الحنطة فقال له بعه ثم اشتر به شعيرا فذهب الغلام فأخذ صاعا وزيادة بعض صاع فلما جاء معمر أخبره فقال له معمر لم فعلت انطلق فرده ولا تأخذ إلا مثلا بمثل فإني كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الطعام بالطعام مثلا بمثل وكان طعامنا يومئذ الشعير قيل له فإنه ليس مثله قال إني أخاف أن يضارعه أن يشبهه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وقالوا لا يجوز بيع الحنطة بالشعير إلا مثلا بمثل وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس ببيع الحنطة بالشعير متفاضلا مثلين بمثل أو أكثر من ذلك وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في الحديث الذي احتجوا به عليهم أن معمرا أخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يسمعه يقول الطعام بالطعام مثلا بمثل ثم قال معمر وكان طعامنا يومئذ الشعير فيجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بقوله الذي حكاه عنه معمر الطعام الذي كان طعامهم يومئذ فيكون ذلك على الشعير بالشعير فلا يكون في هذا الحديث شيء من ذكر بيع الحنطة بالشعير مما ذكر فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم وإنما هو مذكور عن معمر من رأيه ومن تأويله ما كان سمع من النبي صلى الله عليه و سلم ألا ترى أنه قيل له فإنه ليس مثله أي ليس من نوعه فلم ينكر ذلك على من قاله وكان جوابه له إني أخشى أن يضارعه كأنه خاف أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي سمعه يقوله وهو ما ذكرنا في حديثه على الأطعمة كلها فتوقى ذلك وتنزه عنه للريب الذي وقع في قلبه منه فلما انتفى أن يكون في هذا الحديث حجة لأحد الفريقين على صاحبه نظرنا هل في غيره ما يدلنا على حكم ذلك كيف هو فاعتبرنا ذلك
بسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو گندم کا صاع دے کر بھیجا فرمایا کہ اس کے بدلے جو خر یدلاؤ غلام گیا اور ایک صاع سے زائد جولایا جب حضرت معمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو آپ نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ۔ اسے واپس کرواور برابر برابر بدلو۔ میں نے جناب رسول ﷺکو فرماتے سناہے کہ آپ نے فرمایا غلہ غلہ کے بدلے برابر ہونا چاہئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں ہمارا غلہ جو تھا۔ ان سے کہا گیا کہ جو اس کی مثل نہیں تو فرمانے لگے مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ اس کے کہیں مشابہ نہ ہو۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جیسا یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ گندم اور جو کی خرید وفروخت باہمی برابر برابر کے علاوہ درست نہیں۔ دوسروں نے کہا جو اور گندم کی بیع کم زیادہ مقدار کے ساتھ جائز ہے خواہ گندم ایک مثل ہو اور جو اس سے دو گنا ہوں۔ فریق اول کا جواب : اس روایت میں حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول ﷺ سے جو بات سنی ہے وہ اس قدر ہے الطعام بالطعام مثلا بمثل معمر کہتے ہیں کہ ہم ان دنوں بطور طعام جو استعمال کرتے تھے پس یہ جائز ہے کہ جناب رسول ﷺکی جو کے مقابلے میں جو کی بیع ہو پس اس روایت میں گندم کے بدلے جو کی بیع کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں بقیہ اگے حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے جو آپﷺ سےسنا اس کی تعبیر میں انہوں نے گندم و جو کے الگ نوع ہونے سے انکارنہیں فرمایا۔ بلکہ اپنے ہاں کمال احتیاط برتتے ہوئے محض اپنے شک کی بناء پر اس کو مثلا بمثل میں داخل ماتا۔ اب جب بی احتمال پیدا ہوا تو یہ روایت فریق اول کی دلیل نہ رہی کسی فیصلہ پہنچنے کے لئے دیگر روایات کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔ جس معنی کی تائید مل جائے گی اسے تسلیم کر لیا جائے گا۔ روایت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔
عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ
Hadith 5357
