Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 4 باب ما ينهى عن قتله من النساء والولدان في دار الحرب ) · حديث 5062

4786 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حبان قال ثنا أبان بن يزيد قال ثنا قتادة عن زرارة بن أوفى عن عمران بن حصين أن رجلا عض ذراع رجل فانتزع ذراعه فسقطت ثنيتا الذي عضه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أردت أن تقضم يد أخيك كما يقضم الفحل فأبطلها

زرارہ بن اوفی نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے بازو کو دانتوں سے کاٹا ۔ اس آدمی نے اپنا بازو زور سے کھینچ لیا جس سے کاٹنے والے کے سامنے والے دو دانت گر گئے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے بھائی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانے کی کوشش کی ہے ۔ پس آپؐ نے اس بدلے کو باطل قرار دیا ۔

زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← حِبَّانُ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5062

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 4 باب ما ينهى عن قتله من النساء والولدان في دار الحرب ) · حديث 5063

4787 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أخبرنا شعبة عن قتادة فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فلما كان المعضوض نزع يده وإن كان في ذلك تلف ثنايا غيره وكان حراما عليه القصد إلى نزع ثنايا غيره بغير إخراج يده من فيه ولم يكن القصد في ذلك إلى غير التلف كالقصد إلى التلف في الإثم ولا في وجوب العقل كان كذلك كل من له أخذ شيء وفي أخذه إياه تلف غيره مما يحرم عليه القصد إلى تلفه كان له القصد إلى أخذ ماله أخذه من ذلك وإن كان فيه تلف ما يحرم عليه القصد إلى تلفه فكذلك العدو قد جعل لنا قتالهم وحرم علينا قتل نسائهم وولدانهم فحرام علينا القصد إلى ما نهينا عنه من ذلك وحلال لنا القصد إلى ما أبيح لنا وإن كان فيه تلف ما قد حرم علينا من غيرهم ولا ضمان علينا في ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

شعبہ بن قتادہ سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت اس طرح نقل کی ہے ۔ ان روایات سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے ۔ جس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا جب اس نے اپنے ہاتھ کھینچا اگرچہ اس کی وجہ سے دوسرے آدمی کے دانت گر گئے اس کے منہ سے ہاتھ کو نکالنے کے بغیر دانتوں کی کسی اور طریقے سے نکالنے کا قصد کرنا بھی حرام تھا اور دیت کے لازم ہونے کے اعتبار سے برابر نہیں تو بالکل اس طرح ہر وہ آدمی جس کو کسی چیز کے لینے کا اختیار ہوا اور اس کے لینے میں کسی دوسرے کا ایسا نقصان ہوتا ہو جس کا ارادہ کرنا حرام ہے ۔ اس کے باوجود بھی وہ آدمی اپنی چیز لے سکتا ہے خواہ دوسرے کی وہ چیز ضائع ہو جائے جس کا قصداً ضائع کرنا حرام ہے بلاکل اسی طرح معاملہ دشمن کا بھی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ان سے لڑنے کا حکم دیا اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا بھی ہم پر حرام کر دیا پس جس بات سے ہمیں روکا گیا ہے اس کا ارادہ کرنا حرام ہے لیکن جس چیز کو ہمارے لئے جائز کیا گیا ہے اس کا ارادہ کرنا بھی جائز ہے اگرچہ اس کے حصول کے لئے کوئی ایسی چیز ضائع ہوتی ہو جس کا ضائع کرنا حرام ہو ۔ فلہذا اس سلسے میں ہم ہر کوئی تاوان بھی لازم نہیں ہو گا ۔ ہمارے ئمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔

بإسناده مثله ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5063

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 5 باب الشيخ الكبير هل يقتل في دار الحرب أم لا ) · حديث 5064

4788 - حدثنا فهد قال ثنا أبو كريب قال ثنا أبو أسامة عن يزيد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى قال لما فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم من حنين بعث أبا عامر على جيش إلى أوطاس فلقي دريد بن الصمة فقتل دريد وهزم الله أصحابه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فقالوا لا بأس بقتل الشيخ الكبير في الحرب واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وبان دريدا قد كان حينئذ في حال من لا يقاتل ورووا في ذلك ما

یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہﷺ غزہ حنین سے فارغ ہوئے ےو ابو عامر کو اوطاس کی طرف ایک لشکر دے کر روانہ فرمایا تو اس کی درید بن صمہ سے لڑائی ہوئی درید مارا گیا اور اس کت ساتھی شکست کھا گئے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ لڑائی زیادہ بوڑھے کو بھی قتل میں کوئی حرج نہیں ۔ انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا درید بن صمہ اس وقت خود لڑائی کی حالت والے لوگوں سے نہ تھا اور مزید دلیل کے طور پر اس روایت کی بھی پیش کیا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5064

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 5 باب الشيخ الكبير هل يقتل في دار الحرب أم لا ) · حديث 5065

4789 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال عبد الله بن إدريس قال ثنا محمد بن إسحاق قال وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أوطاس فأدرك دريد بن الصمة ربيع بن رفيع فأخذ بخطام جمله وهو يظن أنه امرأة فإذا هو شيخ كبير قال ماذا تريد مني قال أقتلك ثم ضربه بسيفه قال فلم يغن شيئا قال بئسما سلحتك أمك خذ سيفي هذا من مؤخر رحلي ثم أضرب وارفع عن العظام وارفع عن الدماغ فإني كذلك كنت أقتل الرجال قالوا فلما قتل دريد وهو شيخ كبير فان لا يدفع عن نفسه فلم يعب رسول الله صلى الله عليه و سلم عليهم دل ذلك أن الشيخ الفاني يقتل في دار الحرب وأن حكمه في ذلك حكم الشبان لا حكم النسوان وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا ينبغي قتل الشيوخ في دار الحرب وهم في ذلك كالنساء والذرية واحتجوا في ذلك بما

عبداللہ بن ادریس نے محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا تو حضرت ربیع بن رفیع نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی لگام لے کر چل دئیے ان کا خیال تھا کہ وہ عورت ہے ۔ تو اچانک انہوں نے دیکھا کہ یہ تو بوڑھا آدمی ہے اس نے کہا ۔ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا میں تمہیں قتل کروں گا پھر اس کو تلوار ماری تو اس سے کچھ بی فائدہ نہ ہوا ۔ اس نے کہا تمہاری ماں تمہیں ہتھیار پکڑنے کا بد ترین طریقہ سکھایا ہے اس نے کہا میری تلوار میرے کجاوے کے پیچھے لٹکی ہے اسے لے کر مارو اسے ہڈیوں اور دماغ سے الگ رکھنا میں اسی طرح قتل کیا کرتا تھا ۔ جبکہ انتہائی بوڑھا درید جو اپنی طرف سے دفاع بھی نہ کر سکتا تھا وہ قتل ہوا اور جناب رسول اللہﷺ نے ان صحابہ کو ملامت نہ کی تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دارالحرب میں اگر نہایت بوڑھا قتل ہو ۔ تو اس کا حکم جوانوں والا ہے ۔ عورتوں والا نہیں ۔ دارالحرب میں بھی انتہائی بوڑھوں کا قتل درست نہیں ان کا حکم اس میں بچوں اور عورتوں کی طرح ہے دلیل یہ ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5065

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 5 باب الشيخ الكبير هل يقتل في دار الحرب أم لا ) · حديث 5066

4790 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا اصبغ بن الفرج قال ثنا علي بن عابس عن أبان بن ثعلب عن علقمة بن مرثد عن بن بريدة عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا بعث سرية يقول لا تقتلوا شيخا كبيرا ففي هذا الحديث المنع من قتل الشيوخ وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا في حديث مرقع بن صيفي في المرأة المقتولة ما كانت هذه تقاتل فدل ذلك أن من أبيح قتله هو الذي يقاتل ولكن لما روى حديث دريد هذا وهذه الأحاديث الأخر وجب أن تصحح ولا يدفع بعضها ببعض فالنهي من رسول الله صلى الله عليه و سلم في قتل الشيوخ في دار الحرب ثابت في الشيوخ الذين لا معونة لهم على شيء من أمر الحرب من قتال ولا رأي وحديث دريد على الشيوخ الذين لهم معونة في الحرب كما كان لدريد فلا بأس بقتلهم وإن لم يكونوا يقاتلون لأن تلك المعونة التي تكون منهم أشد من كثير من القتال ولعل القتال لا يلتئم لمن يقاتل إلا بها فإذا كان ذلك كذلك قتلوا والدليل على ذلك قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث رباح أخي حنظلة في المرأة المقتولة ما كانت هذه تقاتل أي فلا تقتل فإنها لا تقاتل فإذا قاتلت قتلت وارتفعت العلة التي لها منع من قتلها وفي قتلهم دريد بن الصمة للعلة التي ذكرنا دليل على أنه لا بأس بقتل المرأة إذا كانت أيضا ذات تدبير في الحرب كالشيخ الكبير ذي الرأي في أمور الحرب فهذا الذي ذكرنا هو الذي يوجبه تصحيح معاني هذه الآثار وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتل أصحاب الصوامع

علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے انہوں نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو ان کو ہدایت فرماتے انتہائی بوڑھے کو قتل مت کرنا ۔ اس روایت میں بوڑھوں کو قتل کرنے کی صاف ممانعت ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے مرقع بن صیفی کی روایت میں مقتولہ عورت کے متعلق فرمایا۔ یہ لڑائی تو نہ کرتی تھی ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس بوڑھے کا قتل مباح کیا گیا وہ لڑنے والا ہے لیکن روایت درید اور دوسری احادیث وارد ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے مابین تضاد نہ رہے ۔ دارالحرب میں شیوخ کے قتل والی روایت وہ ان شیوخ کے متعلق ثابت ہے جن کو لڑائی کے معاملات میں کس طرح کی دلچسپی نہ ہو اور نہ ان کی رائے کی حیثیت رہے اور روایت درید کا تعلق ایسے بوڑھے لوگوں سے ہے جو لڑائی میں معاونت کر سکتے ہوں جیسا کہ درید کو یہ بات حاصل تھی سیے لوگوں کے قتل میں کوئی حرج نہیں اگرچہ وہ براہ راست لوڑئی میں حصہ نہ لیتے ہوں مگر لڑائی کے سلسلہ میں ان کی اعانت قہ قتال سے بڑھ کر ہے شاید کہ لرنے والے کی لڑائی اسی سے ہی درست ہو جو وہ رائے دے تو جب ایاس ہی ہے تو ایسے لوگوں کو قتل کیا جائے گا اور اس کی دلیل جناب رسول اللہﷺ کا قول ( جو حدیث رباح میں موجود ہے جوکہ حنظلہ کے بھائی تھے ) جو اس مقتولہ عورت کے متعلق فرمایا کہ یہ تو لڑتی نہ تھی ۔ اگر وہلڑے تو اس کو قتل کیا جائے کیونکہ جو وجہ اس کے قتل نہ کرنے کی تھی وہ ختم ہو گئی اور اس مذکورہ علت کی وجہ سے صحابہ کرام کا درید بن صمہ کا قتل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عورت لڑائی کے مشورے دینے والی ہو تو اس کو قتل کرنے میں حرج نہیں ۔ جیسا کہ لڑائی کے معاملات میں ماہرانہ رائے دینے والے بوڑھے کا قتل کرنا جائز ہے ۔ روایات کے معنی تصیح سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہی ہے جس کا ہم نے ذکر کر دیا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ اس روایت میں ۔

لا تقتلوا شيخا كبيرا ففي هذا الحديث المنع من قتل الشيوخ وقد ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا بعث سرية ← أَبِيهِ ← بن بريدة ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبَانَ بْنِ ثَعْلَبٍ ← علي بن عابس ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5066

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 5 باب الشيخ الكبير هل يقتل في دار الحرب أم لا ) · حديث 5067

4791 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال أخبرنا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة الأشهلي عن داود بن حصين عن عكرمة عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا بعث جيوشه قال لا تقتلوا أصحاب الصوامع فلما جرت سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم على ترك قتل أصحاب الصوامع الذين حبسوا أنفسهم عن الناس وانقطعوا عنهم وأمن المسلمون من ناحيتهم دل ذلك أيضا على أن كل من أمن المسلمون من ناحيته من أمرأة أو شيخ فان أو صبي كذلك أيضا لا يقتلون فهذا وجه هذا الباب وهذا قول محمد بن الحسن وهو قياس قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمة الله عليهم أجمعين

داؤد بن حصین نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ جب اپنے لشکر روانہ فرماتے تو ارشاد فرماتے کہ عبادت خانوں میں گوشہ نشینوں کو مت قتل کرنا ۔ جب جناب نبی اکرم ﷺ کا طریقہ مبارک یہ جاری ہےکہ جو لوگ دوسروں سے الگ تھلگ ہو کر عبادت گاہوں میں گوشہ نشین ہو جاتے ہیں ان کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ ان کی کنارہ کشی سے مسلمان بے خطر ہو جاتے ہیں ۔تو اس سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ مسلمان جس شخص سے بھی اس کی علیحدگی کی وجہ سے بے خطر ہو جائے وہ خواہ عورت ہو یا بہت بوڑھا آدمی یا بچہ ان میں سے کسی کو قتل نہ کیا جائے گا یہ قول امام محمد بن الحسن رحمۃاللہ علیہ کا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کے قول کا قیاس بھی اسی بات کا متقاضی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5067

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5068

4792 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي قال ثنا يوسف بن الماجشون قال ثنا صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل السلب للقاتل

صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عود نے اپنے والد انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ مقتول کا سامان قاتل کو ملے گا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5068

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5069

4793 - حدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل عن شريك عن عبد الكريم عن عكرمة عن بن عباس قال انتدب رجل من المشركين فأمر النبي صلى الله عليه و سلم الزبير فخرج إليه فقتله فجعل له النبي صلى الله عليه و سلم سلبه

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مشرک نے لڑائی کی دعوت دی تو آپﷺ نے زبیر کو حکم فرمایا وہ اس کی طرف نکلے اور اس کو قتل کر دیا تو جناب رسول اللہﷺ نے ان کے لئے مقتول کا سامان مقرر فرمایا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← شَرِيکٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← الحسن بن عبد الله بن منصور

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5069

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5070

4794 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو السكسكي عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن خالد بن الوليد وعوف بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بالسلب للقاتل

عبدالرحمن بن جبیر بن نضیر نے اپنے والد سے اور انہوں نے خالد بن ولید اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جناب رسول اللہﷺ نت قاتل کے لئے مقتول کے سامان کا فیصلہ فرمایا ۔

خالد بن الوليد وعوف بن مالك ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانَ بْنِ عَمْرِو السَّكْسَكِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5070

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5071

4795 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا الوليد بن مسلم قال ثنا صفوان بن عمرو قال حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك الأشجعي قال قلت لخالد بن الوليد يوم موته ألم تعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يخمس السلب قال بلى

عبدالرحمن بن جبیر بن نضیر نے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو موتہ کے دن کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جناب رسول اللہﷺ مقتول کے سامان کا خمس نہیں لیا انہوں نے کہا کیوں نہیں ۔

قلت لخالد بن الوليد يوم موته ألم تعلم ← عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5071

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5072

4796 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن كثير بن أفلح عن أبي محمد عن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه و سلم نفل أبا قتادة سلب قتيل قتله

ابو محمد نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ابو قتادہ کو مقتول کا سامان حصہ غنیمت سے زائد عنایت فرمایا ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← أبي محمد ← عمرو بن كثير بن أفلح ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5072

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5073

4797 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن كثير بن أفلح عن أبي محمد مولى أبي قتادة عن أبي قتادة بن ربعي أنه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم عام حنين فلما التقينا كانت للمسلمين جولة قال فرأيت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين فاستدرت له حتى أتيته من ورائه فضربته السيف على حبل عاتقه ضربة حتى قطعت حبل الدرع فأقبل علي فضمني ضمة حتى وجدت منها ريح الموت ثم أدركه الموت فأرسلني فلقيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقلت ما بال الناس فقال أمر الله ثم إن الناس رجعوا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه قال فقمت فقلت من يشهد لي ثم جلست ثم قال ذلك الثانية ثم قال ذلك الثالثة فقمت فقال رسول صلى الله عليه و سلم ما بالك يا أبا قتادة فقصصت عليه القصة فقال رجل من القوم صدق يا رسول الله وسلب ذلك القتيل عندي فأرضه مني يا رسول الله فقال أبو بكر الصديق لا هاء الله إذا لا يعمد إلى أسد من أسد الله يقاتل عن الله وعن رسوله فيعطيك سلبه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم صدق فأعطه إياه فقال أبو قتادة فأعطانيه فبعث الدرع فابتعت به مخرفا في بني سلمة فإنه لأول مال نأثلته في الإسلام

ابو محمد مولی ابو قتادہ نے حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے نقل کیےا کہ ہم جناب رسول اللہﷺکے ساتھ حنین کے سال نکلے جب ہمارا کفار سے سامنا ہوا تو مسلمانوں نے حملہ کیا کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان پر حملے میں غالب آرہا ہے میں اس کی طرف گھوما یہاں تک کہ میں نے اس کو پیچھے سے آکر کندھے کی رگ پر تلوار ماری جس سے اس کی زرہ کی زنجیر کٹ گئی وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھےزور سے پکڑ کر دبایا یہاں تک کہ میں اس سے موت کی بو محسوس کی پھر وہ مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا تو میں عمر رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے پوچھا لوگوں کا کیا حال ہے انہوں نے کہا اللہ تعالی کا حکم اسی طرح تھا ۔ پھر لوگ واپس لوٹ گئے جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جس آدمی نے کسی (مشرک ) کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس قتل کا ثبوت بھی ہو تو اس کو مقتول کا سامان ملے گا ابو قتادہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے پکار کر کہا کون میرے متعلق گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا آپ نے یہ بات پھر دوسری مرتبہ فرمائی اور تیسری مرتبہ فرمائی تو میں کھڑا ہو ا۔ جناب رسول اللہﷺ نے فرامیا اے ابو قتادہ تمہیں کیا ہے ؟ تو میں نے اپنا واقعہ بیان کر دیا ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہﷺ ! اس نے سچ کہا اور مقتول کا سامان میرے پاس ہے یا رسول اللہﷺ !اس کو میری طرف سے راضی کر دیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اللہ کی قسم ! جناب رسول اللہﷺ ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کے لئے لڑتا ہے اور اس کا سامان تمہیں دے دیں ۔ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا ابو بکر نے ٹھیک کہا ۔ وہ سامان اس کو دے دو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سامان اس نے مجھے دے دیا میں نے وہ زرہ فروخت کر کے بنی سلمہ میں کھجوروں کے درخت خرید لئے ۔ یہ اسلام میں پہلا مال تھا جو مجھے ملا ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5073

chevron_left Previous
1…8910…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter