Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5002

4731 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال ثنا سعيد بن المسيب أن أبا هريرة أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله

سیعید بن المسیب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویات کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں پس جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا اس نے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی سوائے اس کے کہ اسلام کا کوئی حق ہو ( اور اس کی وجہ سے لازم ہو جائے ) اور اس کا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے ۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5002

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5003

4732 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

اعرج نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5003

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5004

4733 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5004

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5005

4734 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يعلى بن عبيد قال ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر وعن أبي صالح عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو صالح نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ اس طرح روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَابِرٍ وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5005

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5006

4735 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يحيى بن سعيد قال ثنا بن عجلان قال سمعت أبي يحدث عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابن عجلان کہتےہیں کہ میں اپنے والد کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے سنا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5006

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5007

4736 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج عن أبي الزبير عن جابر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فقد ذهب قوم إلى أن من قال لا إله إلا الله فقد صار بها مسلما له ما للمسلمين وعليه ما على المسلمين واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لهم لا حجة لكم في هذا الحديث لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان يقاتل قوما لا يوحدون الله تعالى فكان أحدهم إذا وحد الله علم بذلك تركه لما قوتل عليه وخروجه منه ولم يعلم بذلك دخوله في الإسلام أو في بعض الملل التي توحد الله تعالى ويكفر بجحدها وغير ذلك من الوجوه التي يكفر بها أهلها مع توحيدهم لله فكان حكم هؤلاء أن لا يقاتلوا إذا وقعت هذا الشبهة حتى تقوم الحجة على من يقاتلهم وجوب قتالهم فلهذا كف رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتال من كان يقاتل بقولهم لا إله إلا الله فأما من سواهم من اليهود فإنا قد رأيناهم يشهدون أن لا إله إلا الله ويجحدون بالنبي صلى الله عليه و سلم فليسوا بإقرارهم بتوحيد الله مسلمين إن كانوا جاحدين برسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أقروا برسول الله صلى الله عليه و سلم علم بذلك خروجهم من اليهودية ولم يعلم به دخولهم في الإسلام لأنه قد يجوز أن يكونوا انتحلوا قول من يقول إن محمدا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى العرب خاصة وقد أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب حين بعثه إلى خيبر وأهلها يهود بما

ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے لا الہ الا اللہ کہنے سے مسلمان ہو جاتا ہے اور اس کو ہوی حقوق مل جاتے ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو مسلمانوں پر ہیں اور اس کی دلیل مندرجہ بالا آثار ہیں ۔ دوسروں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس روایت میں تمہارے موقف کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی لڑائی ان لوگوں سے تھی جو اللہ تعالی کو وحدہ لا شریک نہیں مانتے تھے پس جب ان میں سے کو ئی اقرار توحید کر لیتا تو اس سے یہ معلوم ہو جاتا کہ جس کی وجہ سے اس سے لڑا جا رہا ہے وہاس سے نکل گیا ہے اس سے اس کا اسلام میں داخل ہونا یا کسی اور ملت میں داخل ہونا معلوم نہ ہوتا تھا جو اللہ تعالی کو وحدہ لا شریک مانتے ہوں اور اس کے انکار سے دوسری وجوہ کفر سے باوجود اقرار توحید کے ان کی تکفیر کی جاتی ہے ۔ ایسے لوگوں کا حکم یہی تھا کہ اس شبہہ کے واقع ہونے کی وجہ سے ان پر قتال نہ کیا جائے جب تک کہ دلیل سے ان کا ایسے لوگوں میں شامل ہونا ثابت نہ ہو گا جن سے لڑائی واجب ہے یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اللہﷺ لڑائی کرنے والوں سے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتے ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ ک اانکار کرتے ہیں یہ لوگ فقط اپنے اقرار توحید سے مسلمان شمار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ جناب رسول اللہ ﷺ کا انکار کرتے رہیں گے جب وہ آپؐ کی رسالت کا اقرار کر لیں گے تو اس سے معلوم ہوگا کہ وہ یہودیت سے نکل گئے ہیں البتہ اسلام میں داخل ہونا معلوم نہ ہو سکے گا کیونکہ عین ممکن ہے کہ انہوں نے اس قائل کی طرف اقرار رسالت کی نسبت کی ہو جو کہتا بے شک محمد ﷺ اللہ تعالی کے رسول ہیں البتہ ان کی بعثت خاص اہل عرب کے لئے ہے ۔(یعنی رسول ہیں مگر فقط اہل عرب کے ) جناب رسول اللہ ﷺنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خیبر کے قلعہ کی طرف روانہ ہوتے ہوئے فرمایا ، حالانکہ وہاں کے باشندے یہودی تھے ۔اماما طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد یہ ہے کہ علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے مسلمان ہو جاتا ہے اور اس کو وہی حقوق مل جاتے ہیں کو مسلمانوں کوحاصل ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریا ں ہیں جو مسلمانوں پر ہیں اور اس کی دلیل مندرجہ بالا آثار ہیں

أبو جعفر فقد ذهب قوم إلى أن من ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5007

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5008

4737 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يعقوب بن عبد الرحمن عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما دفع الراية إلى علي حين وجهه إلى خيبر قال أمض ولا تلتفت حتى يفتح الله عليك فسار علي شيئا ثم وقف ولم يلتفت فصرخ يا رسول الله على ماذا أقاتل قال قاتلهم حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فإذا فعلوا ذلك فقد منعوا منك دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان أباح له قتالهم وإن شهدوا أن لا إله إلا الله حتى يشهدوا مع ذلك أن محمدا رسول الله لأنهم قوم كانوا يوحدون الله ولا يقرون برسول الله فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا بقتالهم حتى يعلم خروجهم مما أمر بقتالهم عليه من اليهودية كما أمر بقتال عبدة الأوثان حتى يعلم خروجهم مما قوتلوا عليه وليس في إقرار اليهود أيضا بأن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ما يجب أن يكونوا مسلمين ولكن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بترك قتالهم إذا قالوا ذلك لأنه قد يجوز أن يكونوا أرادوا به الإسلام أو غير الإسلام فأمر بالكف عن قتالهم حتى يعلم ما أرادوا بذلك كما ذكرنا فيما قد تقدم من حكم مشركي العرب وقد أتى اليهود إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأقروا بنبوته ولم يدخلوا في الإسلام فلم يقاتلهم على إبائهم الدخول في الإسلام إذ لم يكونوا عنده بذلك الإقرار مسلمين

سہلبن ابی صالح نے اپنے والد سے انہوں نے جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف روانہ فرمایا تو جھنڈا سپرد کرتے ہوئے فرمایا ۔ چلتے جاؤ اور ادھر ادھر مت مڑو ۔یہاں تک کہ اللہ تعالی تم کو فتح عنایت فرما دیں ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ تھوڑی دور چل کر رک گئے مگر ادھر ادھر توجہ کرنے کے بغیر زور سے آواز دی یا رسول اللہ ﷺ میں کس بات پر ان سے قتال کروں ؟آپؐ نے فرمایا ان سے لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ﷺ سے اقرار تک لڑتے رہو اور ان کا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے ۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ لڑائی کو مباح کیا اگرچہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت دیں جب تک کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی شہادت نہ دیں کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالی کو وحدہ لا شریک تو مانتے تھے ۔ مگر جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار نہ کرتے تھے ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا یہاں تک کہ ان کو معلوم ہو کہ کس چیز سے نکلنے کی بناءپر یہودی ہونے کے باوجود ان سے قتال کیا جا رہا ہے ۔ جیسا کہ بت پرستوں کے خلاف اس وقت تک قتال کاحکم ہے یہاں تک کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ کس چیز سے نکنے کی بناء پر ان سے لڑا جا رہا ہے اور دوسری طرف یہود کے اقرار سے کہ لاالہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ سے ان کا مسلمان ہونا لازم نہیں آتا لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے ان سے لڑائی چھوڑ دینے کا حکم دیا جب کہ وہ یہ اقرار کر لیں کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ انہوں نے اس سے اسلام کا ارادہ کیا ہو یا عدم اسلام کا ۔ پس آپ نے ان سے لڑائی نہ کرنے کا حکم دیا جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ ان کی مراد کیا ہے جیسا کہ ہم نے مشرکین عرب کا حکم ذکر کیا ۔ یہودی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی نبوت کا اعتراف کیا مگر وہ اسلام مین داکل نہ ہوئے تو آپﷺ نے ان کے اسلام میں داخل نہ ہونے کی بنا پر ان سے قتال نہیں فرمایا جبکہ آپ کے ہاں بھی وہ اپنے اس اقرار سے مسلمان نہ تھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5008

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5009

4738 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق وإبراهيم بن أبي داود وأبو أمية وأحمد بن داود وعبد العزيز بن معاوية قالوا حدثنا أبو الوليد ح

عبدالعزیز بن معاویہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو الولید نے بیان کیا ۔

أَبُو الْوَلِيدِ، ← عبد العزيز بن معاوية ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5009

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5010

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود ح

ابو ابکر نے ابو داؤد سے بیان کیا ۔

أَبُو دَاوُدَ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5010

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5011

وحدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا حجاج بن محمد ح

ابو بشر الرقی نہ کہا حجاج بن محمد نے بیان کیا ۔

حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← وحدثنا أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5011

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5012

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن مرزوق قال ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة عن صفوان بن عسال أن يهوديا قال لصاحبه تعال نسأل هذا النبي فقال له الآخر لا تقل له نبي فإنه إن سمعها صارت له أربعة أعين فأتاه فسأله عن هذه الآية ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات فقال لا تشركوا بالله شيئا ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تسحروا ولا تأكلوا الربا ولا تمشوا ببرئ إلى سلطان ليقتله ولا تقذفوا المحصنة ولا تفروا من الزحف وعليكم خاصة اليهود أن لا تعدوا في السبت قال فقبلوا يده وقالوا نشهد أنك نبي قال فما يمنعكم أن تتبعوني قالوا إن داود دعا أن لا يزال في ذريته نبي وإنا نخشى إن اتبعناك أن تقتلنا اليهود قال أبو جعفر ففي هذا الحديث أن اليهود قد كانوا أقروا بنبوة رسول الله صلى الله عليه و سلم مع توحيدهم لله فلم يقاتلهم رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى يقروا بجميع ما يقر به المسلمون فدل ذلك أنهم لم يكونوا بذلك القول مسلمين وثبت أن الإسلام لا يكون إلا بالمعاني التي تدل على الدخول في الإسلام وترك سائر الملل وقد روى عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يدل على ذلك

عبداللہ بن سلمہ نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے اپنے دوست کو کہا ۔ آؤ ہم اس نبی سے کچھ سوالات کریں ۔ دوسرے یہودی نے کہا ۔ اس کو نبی مت کہو اس نے اگر سن پایا تو اس کو چار آنکھیں لگ جائیں گی ۔ وہ یہودی آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے اس آیت کے متعلق سوال کیا (ولقد اتینا موسی تسع آیات بینات )(الاسراء:101)آپ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا :1-اللہ تعالہ کے ساتھ کسی چیز کو مت ٹھہراؤ ۔2-اور اس نفس کو قتل مت کرو جس کو اللہ تعالی نے ح ق کے بغیرحرام کیا ہے ۔3-فضول خرچی مت کرو۔4-زنا نہ کرو ۔5-جادو مت کرو۔6-سود مت کھاؤ ۔7-کسی بری الذمہ کو بادشاہ کے پاس مت لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ۔8-پاک دامنہ پر تہمت مت لگاؤ ۔9-میدان جنگ سے مت بھاگو اور خاص طور پر یہود کے لئے بھی لازم کیا گیا کہ 10-ہفتہ کے معاملہ میں حد سے مت گزرا ۔ راوہ کہتا ہے کہ وہ یہودی (سوال کا جواب سن کر ) آپ ؐ کے ہاتھ چومنے لگے اور دونوں کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا ۔ تمہیں میری پیروی سے کون سی چیز مانع ہے ۔ انہوں نے کہا داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ انکی اولاد میں ایک نبی ہو گا اور ہمیں ڈر یہ ہے کہ اگر ہم آپ کی اتباع کریں گے تو یہود ہمیں قتل کر دیں گے ۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5012

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5013

4739 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن أيوب عن حميد الطويل عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فإذا شهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وصلوا صلاتنا واستقبلوا قبلتنا وأكلوا ذبيحتنا حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها لهم ما للمسلمين وعليهم ما عليهم قال أبو جعفر فدل ما ذكر في هذا الحديث على المعنى الذي يحرم به دماء الكفار ويصيرون به مسلمين لأن ذلك هو ترك ملل الكفر كلها وجحدها والمعنى الأول من توحيد الله خاصة هو المعنى الذي نكف به عن القتال حتى نعلم ما أراد به قائله الإسلام أو غيره حتى تصح هذه الآثار ولا تتضاد فلا يكون الكافر مسلما محكوما له وعليه بحكم الإسلام حتى يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويجحد كل دين سوى الإسلام ويتخلى منه كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما

حمید الطویل نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالی کے رسول ہیں ۔ جب وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کیگواہی دے دیں اور ہماری نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہیں مگر یہ کہ اسلام کا پتہ چل گیا جس سے کفار کے خون حرام ہو جاتے ہیں اور وہ مسلمان شمار ہوتے ہیں کیونکہ یہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جبکہ وہ تمام ملتوں کو چھوڑ دیں اور انکا ر کر دیں اور پہلی بات جو توحید باری تعالی کے اقرار سے خاص طور پر متعلق ہے وہ ایسا مقصد ہے جس کی وجہ سے ہم لڑائی سے ہاتھ روک لیں گے یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے توحید کا اقرار اسلام پر ہے یا غیر اسلام پر ہی ہے اور یہ تاویل اس لئے ہے کہ تا کہ یہ آثار درست ہوں آپس میں متضاد نہ رہیں ۔ پس کافر پر مسلمان کا حکم اس وقت نہیں لگایا جا سکتا جب تک کہ لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ کی شہادت نہ دے دے اور اسلام کے علاوہ ہر دین کاا نکار کر دے اور اس سے علیحدگی کا اظہار کرے جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5013

chevron_left Previous
12345…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter