شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5326
5039 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو كريب قال ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال حدثني سعد بن طارق عن مسلمة بن نعيم عن أبيه قال كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم حين جاءه رسول مسيلمة بكتابه ورسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لهما وأنتما تقولان مثل ما يقول فقالا نعم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أما لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما والدليل على خروج أهل مكة من الصلح بما كان بين بني بكر وبين خزاعة وبما كان من معونة قريش لبني بكر في ذلك طلب أبي سفيان تجديد الحلف وتوكيد الصلح عند سؤال أهل مكة إياه ذلك ولو كان الصلح لم ينتقض إذا لما كان بهم إلى ذلك حاجة ولكان أبو بكر الصديق وعمر بن الخطاب وعلي وفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سألهم أبو سفيان ما سألهم من ذلك يقولون ما حاجتك وحاجة أهل مكة إلى ذلك إنهم جميعا في صلح وفي أمان لا تحتاجون معهما إلى غيرهما ثم هذا عمرو بن سالم واحد خزاعة يناشد رسول الله صلى الله عليه و سلم بما قد ذكرنا من مناشدته إياه في حديث عكرمة والزهري وسأله في ذلك النصر ويقول فيما يناشده من ذلك ... إن قريشا أخلفوك الموعدا ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا ... ورسول الله صلى الله عليه و سلم لا ينكر ذلك عليه ثم كشف له عمرو بن سالم المعنى الذي به كان نقض قريش ما كانوا عاهدوه عليه ووافقوه بأن قال ... وهم أتونا بالوتير هجدا ... فقتلونا ركعا وسجدا ... ولم يذكر في ذلك أحدا غير قريش من بني نفاثة ولا من غيرهم ثم أنشد حسان بن ثابت في الشعر الذي ذكرناه عنه في حديث عكرمة المعنى الذي ذكره عمرو بن سالم في الشعر الذي ناشد به رسول الله صلى الله عليه و سلم ففي ذلك دليل أن رجال بني كعب أصابهم من نقض قريش الذي به خرجوا من عهدهم ببطن مكة ألا تراه يقول ... أتاني ولم أشهد ببطحاء مكة ... رجال بني كعب تحز رقابها ... ثم ذكر ما بيناه لمن كان سببا من ذلك قريش ورجالها فقال ... فياليت شعري هل لنا لزمرة ... سهيل بن عمرو حولها وعقابها ... وسهيل بن عمرو هو كان أحد من عاقده رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلح فأما ما ذكر لك رسول الله صلى الله عليه و سلم لما افتتحها لم يقسم مالا ولم يستعبد أحدا ولم يغنم أرضا فكيف يستعبد من قد من عليه في دمه وماله فأما أرض مكة فإن الناس قد اختلفوا في ترك النبي صلى الله عليه و سلم التعرض لها فمن يذهب إلى أنه افتتحها عنوة فقال تركها منة عليهم كمنته عليهم في دمائهم وفي سائر أموالهم وممن ذهب إلى ذلك أبو يوسف لأنه كان يذهب إلى أن أرض مكة تجري عليها الإملاك كما تجري على سائر الأرضين وقال بعضهم لم تكن أرض مكة مما وقعت عليه الغنائم لأن أرض مكة عندهم لا تجري عليها الإملاك وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة وسفيان الثوري رحمهما الله وقد ذكرنا في هذا الباب الآثار التي رواها كل فريق ممن ذهب إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف رحمهما الله في كتاب البيوع من شرح معاني الآثار المختلفة المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأحكام فأغنانا ذلك عن إعادته ها هنا ثم رجع الكلام إلى ما يثبت أن مكة فتحت عنوة فإن قلتم إن حديثي الزهري وعكرمة اللذين ذكرنا منقطعان قيل لكم وقد روي عن بن عباس رضي الله عنهما حديث يدل على ما رويناه
مسلمہ بن نعیم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اس وقت موجود تھا جبکہ آپ کے پاس مسیلمہ کا قا صد خط لے کر آیا جناب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو فرمایا کیا تم دونوں اسی طرح کہتے ہو جیسے وہ کہتا ہے ؟ انہوں نے ہاں کہ کر قرار کیا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا ۔بنو بکر اور بنو خزاعہ کے باہمی پیش آنے والے قتال سے اہل مکہ کے صلح سے نکل جانے کی دلیل ہے ۔ نمبر 1 قریش نے بنو بکر کی مدد کی ۔ نمبر 2 ابو سفیان نے تجدید معاہدہ کی درخواست کی اور جب اہل مکہ سے اس سلسلے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس کو صلح کی تاکید قرار دیا ۔ اگر صلح ٹوٹی نہ تھی تو قریش کو اس کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ نمبر 3 : اور دوسری طرف حضرت ابو بکر ، عمر ، علی ، فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ابو سفیان ہر گز اس کا سوال نہ کرتا جبکہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ جب وہ صلح و امان کی چنداںضرورت نہیں ۔ نمبر 4 : نیز یہ عمر و بن سالم خزاعی قسم دے کر جناب رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کرتا ہے جیساعکرمہ زہری کی روایت میں موجود ہے اور آپ سے مدد کا سوالی ہے یا د دہانی کا ایک شعریہ ہے۔ "ان قریشا اخلفو ک الموعدا ۔ ونقفو ا میثاقک المؤکدا ۔ اس شعر کو سن کر جناب رسول اللہ ﷺ نے ذرا انکار نہیں فرمایا ۔ پھر عمرو بن سالم قریش کے عہد توڑنے کی وضاحت کرتا ہے کہ قریش نے جس بات پر معاہدہ کیا تھا سی کو توڑ ڈالا ۔ شعر یہ ہے ۔ وھم اتونا بلوتیر ھجدا ۔ فقتلو نا رکعا سجدا ۔ اور اس شعر میں قریش کے علاوہ بنو نفاثہ وغیرہ کسی کا تذکرہ نہیں کیا ۔ نمبر 5 : پھر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے روایت عکرمہ میں وہی مفہوم ذکر کیا جو عمر و بن سالم خزاعی نے اپنے شعر میں جناب رسول اللہ ﷺ کو یاد دلایا ۔ اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ بنو کعب کے لوگوں کو قریش کا عہد توڑنا پہنچا جس کیہ وجہ سے بطن مکہ میں معاہدے سے نکل گئے حسان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتانی ولھو اشھد بطحا ء مکہ ۔ رجال بنی کعب تحزر قابھا ۔ نمبر 6 پھر حسان قریش اور اس کے لوگوں کا تذکرہ کیا جو اس کا باعث بنے فیالیت شعری ھل لنا لزمرۃ ۔ سھل بن عمرو حولھا و عقابھا ۔ بعض نے ھل لنا لزمرۃ کی بجائے تنالن نصرتی ذکر کیا اور حولھا کی بجائے حرھاذ کر کیا ۔ مطلب یہ ہے کاش سہیل بن عمرو کے گروہ کو معلوم ہو جاتا کہ ہ ہمارے لئے ان پر قابواور سزا دینے کا اختیار ہے یا کاش مجھے معلوم ہوجاتا کہ میری مدد کا جذبہ و جوش سہیل بن عمر و کو پہنچ جائے گا اور سہیل بن عمرو وہ شخص ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ کے معاہدہ میں ان کی طرف سے پیش پیش تھا ۔ باقی یہاں یہ سوال کہ مکہ کو فتح کیا تو مال غنیمت نہ لیا نہ کسی کو غلام بنا یا نہ زمین کو غنیمت کا مال قرار دیا ۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ لوگوں کو کس طرح غلام بنا سکتے تھے ۔ جبکہ آپ ان کے اموال و خون کے سلسلہ میں احسان کر کے امان دے چکے تھے ۔ رہا زمین مکہ کا معاملہ تو جناب رسول اللہ ﷺ کے اس پر تعرض نہ فرمانے کی وجہ جان و مال کی طرح اس کو بھی امان دے دی تھی ۔ نمبر 6 سر زمین مکہ کا کوئی مالک نہیں ، یہ امام ابو حنیفہ ، سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کا مؤقف ہے ۔ کتاب البیوع میں اس کا تذکرہ تفصیل سے آئے گا ۔ اب دوبارہ فتح مکہ پر غلبہ کی نوعیت کی طرف بات لوٹ ائی ہے ۔ آپ نے جو روایت اس سلسلہ میں ذکر کی ہیں وہ دونوں ہی منقطع ہیں جن سے احتجاج ہی درست نہیں ۔
أَبِيهِ ← مسلمة بن نعيم ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5326
