Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5314

5028 - حدثنا أيضا يزيد بن سنان قال ثنا محمد بن أبي رجاء الهاشمي قال ثنا أبو معشر عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن عبد الله مولى غفرة قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وولي أبو بكر رضي الله عنه قدم عليه مال من البحرين فقال من كان له على رسول الله صلى الله عليه و سلم عدة فليأتني وليأخذ [ ص 305 ] فأتى جابر بن عبد الله فقال وعدني رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتاه مال من البحرين أعطاني هكذا وهكذا وهكذا ثلاث مرات ملء كفيه قال خذ بيدك فأخذ بيده فوجدها خمسمائة فقال أعدد إليها ألفا ثم أعطى من كان وعده رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ثم قسم بين الناس ما بقى فأصاب كل إنسان منهم عشرة دراهم فلما كان العام المقبل جاءه مال كثير أكثر من ذلك فقسمه بين الناس فأصاب كل إنسان عشرون درهما وفضل من المال فضل فقال يا أيها الناس قد فضل فضل ولكم قدم يعالجون لكم ويعملون لكم فإن شئتم رضخنا لهم فرضخ لهم خمسة دراهم خمسة دراهم فقيل يا خليفة رسول الله صلى الله عليه و سلم لو فضلت المهاجرين والأنصار بفضلهم قال إنما أجورهم على الله إنما هذا مغانم والأسوة في المغانم أفضل من الأثرة فلما توفي أبو بكر رضي الله عنه واستخلف عمر فتحت عليه الفتوح وجاءهم مال أكثر من ذلك فقال كان لأبي بكر رضي الله عنه في هذا المال رأي ولي رأي آخر رأي أبو بكر أن يقسم بالسوية ورأيت أن أفضل المهاجرين والأنصار ولا أجعل من قاتل رسول الله صلى الله عليه و سلم كمن قاتل معه ففضل المهاجرين والأنصار فجعل لمن شهد بدرا منهم خمسة آلاف ومن كان له إسلام مع إسلامهم إلا أنه لم يشهد بدرا أربعة آلاف أربعة آلاف وللناس على قدر إسلامهم ومنازلهم وفرض لأزواج النبي صلى الله عليه و سلم اثني عشر ألفا لكل أمرأة منهن إلا صفية وجويرية فرض لهما ستة آلاف ستة آلاف فأبتا أن تأخذا فقال إنما فرضت لكن بالهجرة فقالتا إنما فرضت لهن لمكانهن من رسول الله صلى الله عليه و سلم ولنا مثل مكانهن فأبصر ذلك عمر رضي الله عنه فجعلنه سواء وفرض للعباس بن عبد المطلب اثني عشر الفا لقرابته من رسول الله صلى الله عليه و سلم وفرض لنفسه خمسة آلاف وفرض لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه خمسة آلاف وربما زاد الشيء وفرض للحسن والحسين رضي الله عنهما خمسة آلاف خمسة آلاف ألحقهما بأبيهما لقرابتهما من رسول الله صلى الله عليه و سلم وفرض لأسامة بن زيد رضي الله عنه أربعة آلاف وفرض لعبد الله بن عمر رضي الله عنهما ثلاثة آلاف فقال له عبد الله بن عمر رضي الله عنهما بأي شيء زدته علي قال فبما فما كان لأبيه من الفضل ما لم يكن لك ولم يكن له من الفضل ما لم يكن لي فقال إن أباه كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من أبيك وكان هو أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم منك وفرض لأبناء المهاجرين والأنصار ممن شهد بدرا ألفين ألفين فمر به عمر بن أبي سلمة فقال زده ألفا يا غلام وقال محمد بن عبد الله بن جحش لأي شيء زدته علي والله ما كان لأبيه من الفضل ما لم يكن لآبائنا قال فرضت لأبي سلمة ألفين وزدته لأم سلمة ألفا فلو كانت لك أم مثل أم سلمة زدتك ألفا وفرض لأهل مكة ثماني مائة في الشرف منهم ثم الناس على قدر منازلهم وفرض لعثمان بن عبد الله بن عثمان بن عمرو ثماني مائة وفرض للنضر بن أنس في الفي درهم فقال له طلحة بن عبيد الله جاءك بن عثمان بن عمرو ونسبه إلى جده ففرضت له ثماني مائة وجاءك هنبة من الأنصار ففرضت له في الفين فقال إني لقيت أبا هذا يوم أحد فسألني عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ما أراه إلا قد قتل فسل سيفه وكسر غمده وقال إن كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قتل فإن الله حي لا يموت وقاتل حتى قتل وهذا يرعى الغنم بمكة أفتراني أجعلهما سواء قال فعمل عمر عمره كله بهذا حتى إذا كان في آخر السنة التي قتل فيها سنة ثلاث وعشرين حج فقال أناس من الناس لو مات أمير المؤمنين قمنا إلى فلان بن فلان فبايعناه قال أبو معشر يعنون طلحة بن عبيد الله فلما قدم عمر المدينة خطب فقال في خطبته رأى أبو بكر في هذا المال رايا رأى أن يقسم بينهم بالسوية ورأيت أن أفضل المهاجرين والأنصار بفضلهم فإن عشت هذه السنة أرجع إلى رأي أبي بكر فهو خير من رأي أفلا ترى أن أبا بكر رضي الله عنه لما قسم سوى بين الناس جميعا فلم يقدم ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم على من سواهم ولم يجعل لهم سهما في ذلك المال أبانهم به عن الناس فذلك دليل على أنه كان لا يرى بهم بعد موت رسول الله صلى الله عليه و سلم حقا في مال الفيء سوى ما يأخذونه كما يأخذ من ليس بذوي القربى ثم هذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما أفضى إليه الأمر ورأى التفضيل بين الناس على المنازل لم يجعل لذوي القربى سهما يبينون أي يمتازون به على الناس ولكنه جعلهم وسائر الناس سواء وفضل بينهم بالمنازل غير ما يستحقونه بالقرابة لو كان لأهلها سهم قائم فدل ذلك على ما ذهبنا إليه من ارتفاع سهم ذوي القربى بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث روى عن عمر رضي الله عنه

غفرہ کے آزاد کردہ غلام عمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس بحرین کا مال آیا ۔ تو انہوں نے اعلان فرمایا ۔ جس آدمی کا جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی وعدہ ہو ۔ وہ آئے اور لے لے ۔ پس حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بحرین کا مال آئے گا مجھے اتنا ۔ اتنا عنایت فرمائیں گے آپ نے تین مرتبہ دونوں ملا کر بھر کر فرمایا ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنےلگے اپنے ہاستھ سے لے لو ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے لیا تو شمار کرنے پر پانچ سو نکلے انہوں نے فرمایا ان کے ساتھ ایک ہزار اور گن لو ۔ پھر انہوں نے جن کے ساتھ جناب رسول اللہ ﷺ نے کچھ بھی وعدہ فرمایا تھا ان کو دیا ۔ بقیہ مال لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہر آدمی کو بیس بیس درہم ملے پھر بھی مال مین سے کچھ بچ گیا ۔ تو اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کے قول فھی لھولہ ء ۔ سے ذوالقربی کے حصہ کا اس وقت تک کے لئے باقی رہنا لازم نہیں آتا جس میں اس کے متعلق وہ کہا گیا جو کہا گیا ۔ حضرت مالک بن اوس کی یہ روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے جو ذوالقربی کے حصہ سے متعلق ہے یہ روایت مخالف اور معارض ہے اور صیح معارض ہے ۔ (پس اس پر اعتراض باطل ہوا ) ذرا غور تو کرو کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان مال کو برابر تقسیم کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابتداروں کو دوسروں سے مقدم نہ کیا ان کے لئے اس مال میں ایسا حصہ مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے امتیاز والے ہوں اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آُ کے قرابت داروں کے لئے مال فئی میں صرف وہی حصہ خیال کرتے تھے جو وہ غیر قرابت داروں کو دیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب حکومت ملی تو انہوں نے صاحبہ کرام میں درجات کے لحاظ سے فضیلت دینا مناسب خیال کیا تو انہوں نے بھی اہل قرابت کے لئے کوئی ایسا حصہ مقرر نہیں جس کی وجہ سے انہیں دوسرے لوگوں پر برتری حاصل ہو بلکہ انہوں نے ان کو اور باقی کوگوں کو برابر رکھا اور ان کے مابین صرف مراتب کے لحاظ سے فضیلت کو قائم کیا نہ کہ جس کے وہ قرابت کے لحاظ سے حقدار تھے اگر ان کا کوئی مقررہ حصہ ہوتا تو وہ ضرور قائم کرتے ۔ کہ ذوالقربی کا حصہ وفات رسول اللہﷺ سے مرتفع ہو گیا ۔ جیسا کہ رویات عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے ۔ اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آیت " واعلمو انما غنمتم الایۃ" تلاوت فرمائی پھر فرمایا یہ غنیمت ان لوگوں کے لئے ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ذوی القربی کا حصہ ان کے ہاں جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ثابت تھا ۔ جیسا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں ثابت تھا ۔ تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زوی القربی کا حصہ ان کو دینے سے انکار فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ان حضرات کا حق نہ بنتا تھا تو اس بات کے ہوتے ہوئے پھر یہ دعوی مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت سے کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ وہ وفات رسول اللہ کے بعد اس حصے کے قائل تھے ۔ بلکہ اس روایت سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حصہ ان کوگوں کے لئے ہے یعنی اللہ تعالی نے یہ آیت جناب رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی تو اس وقت یہ ان کا حصہ تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کےلئے مقرر فرمایا ۔ جسو طرح کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حصہ کی اضافت آپ کی طرف فرمانے کا معنی بھی یہی ہے کہ وہ آپ کی حیات مبارکہ میں اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے لئے نہ تھا بلکہ آپ کی نزندگی میں تو جاری تھا مگر وفات شریفہ سے منقطع ہو گیا بالکل اسی طرح جو کچھ آپ کے قرابت داروں کی طرف منسوب ہوا وہ بھی آپ کی حیات طیبہ سے یہ حصہ مرتفع (ختم ) ہو گیا ۔ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کچھ مال بچ گیا ہے تمہارے لئے کچھ لوگ مقدم ہیں جو تمہارے لئے کال کرتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں اگر تم پسند کرتے ہو تو ہم ان کو دے دیتے ہیں پس ان کو پانچ پانچ درہم عنایت فرمائے ۔ آپ سے کہا گیا اے خلیفہ رسول اللہﷺ اگر آپ مہاجرین و انصار کو ان کی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دیتے ہیں تو مناسب تھا ۔ آپ نے فرمایا ان کے اجر اللہ تعالی کے ذمہ ہیں یہ تو غنائم ہیں ان میں نترجیح کی بنسبت برابرہ افضل ہے ۔ پھر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور ان کے ہاتھوں خوب فتوحات ہوئیں اور ان کے پاس اس سے زیادہ اموال آئے تو انہوں نے فرمایا اس مال کے متعلق ایک حضرت ابو بکر ۔ کی رائے تھی اور ایک میری رائے ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے برابر تقسیم کی تھی اور میری رائے یہ ہے کہ میں مہاجرین و انصار کو فضیلت دوں اور ان کو جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑائی کے (زمانہ کفر میں ) ان کی طرح قرار نہ دوں جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر ( ہمیسہ کفر کے خلاف ) لڑائی کی ۔ پس آپ نے مہاجرین و انصار کو فضیلت دی بدرپین کو پانچ ہزار اور جو ان کے ساتھ اسلام لائے مگر بدر میں حاضر نہیں ہوئے ان کےلئے چار ہزار اور دیگر لوگوں کو ان کے اسلام اور مراتب کے مطابق دیا ۔ اور ازواج نبی ﷺ کے لئے بارہ ہزار مقرر کیا یہ مقدار تمام کے لئے یکساں رکھی مگر صفیہ رضی اللہ عنہا اور جویریہ رضی اللہ عنہا کی طرف چھ ہزار بھیجا انہوں نے لینے سے انکار کیا تو آپ نے فرمایا میں نے ہجرت کی وجہ سے مقرر کیا ۔ دونؤں نے کہا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ان کے لئے مقر رکیا اور ہمارا مرتبہ بھی بحثیت زوجہ ان کے ساتھ برابر ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو سمجھ گئے اور ان کا حصہ برابر کر دیا ۔جناب رسول اللہ ﷺ سے قرابت کی وجہ سے حضرت عبا س بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے لئے بارہ ہزار مقرر فرمائے اور اپنے لئے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے بھی پانچ ہزار مقرر کئے اور بعض اوقات زائد بھی دئیے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لئے بھی پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے ۔ قرابت کی وجہ سے ان دونوں حضرات کو ان کے والد کے ساتھ ملا دیا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے چار ہزار اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے تین ہزار مقرر فرمائے ۔ انہوں نے گزارش کی کہ آپ نے کس وجہ سے انہیں مجھ سے زیادہ دیا ان کے والد کو آپ کی طرح ٖجیلت حاصل نہیں اور انہیں مجھ سے بڑھ کر فضیلت نہیں ۔ حضرت عمر فرمانے لگے جناب رسول اللہ ﷺ کو ان کے والد تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے ۔ انصار و مہاجرین کے بچو ں کے لئے دو ہزار مقرر فرمائے ۔ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا اے غلام ! ان کو کچھ زیادہ دے دو اس پر محمد بن عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے ان کو مجھ سے زیادہ کس وجہ سے دئیے تو فرمایا ان کے والد کو اللہ کی قسم ! ہمارے آباؤ اجداد سے زیادہ فضیلت حاصل نہیں ہے آپ نے فرمایا میں نے حضرت ابو سلمہ کے لئے دو ہزار مقرر کئے ہیں اور حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ایک ہزار کا اضافہ کیا ہے ۔ اگر تمہاری ماں بھی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا جیسی ہوتی تو میں تمہیں بھی ایک ہزار زائد دیتا ۔ اہل مکہ کے لئے ان کے احترام و اعزاز میں آٹھ سو مقررکیا پھر ان کو ان کے مرتبے کے مابق عنایت فرمایا حضرت عثمان بن عبداللہ بن عثمان بن عمرو کے لئے آٹھ سو مقرر فرمائے جبکہ نضر بن انس رضی اللہ عنہ کے لئے دو ہزار ۔ اس پت حضرت طلحہ بن عبیدا للہ نے عرض کیا کہ آپ کے پاس حضرت عثمان بن عمر و رضی اللہ عنہ کا بیٹا آیا ( اور دادا کی طرف نسبت بتلائی ) تو آپ نے اس کو آٹھ سو دئیے اور انصار کا ایک سست آدمی آیا تو آپ نے اس کےلئے دو ہزار مقرر کردئیے ۔ آپ نے فرمایا میں غزوہ احد کے دن اس کے باپ سے ملاقات کی تو اس نے مجھ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے متعلق دریافت کیا میں کہا میرا خیال ہے کہ آپ شہید ہو گئے ہین چنانچہ اس نے تلوار لے کر اس کا پرتلہ توڑ ڈالا اور کہ اجناب رسول اللہ ﷺ اگر شہید ہو گئے تو خدا تو زندہ ہے اسے موت نہ آئے ی اور لڑتے رہے بیہاں تک کہ شہید ہو گئے اور یہ مکہ میں بکریاں چراتا رہا تمہارا کیا خیال ہے کہ میں ان کو برابر کر دوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت اپنے دور خلافت میں اسی پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ جب آخری سال آیا جس میں جام شہادت نوش کیا 23 ھ کو تو آپ نے حج کیا بعض لوگوں نے کہا اگر امیر المؤمنین وفات پا جائیں تو ہم فلاں فلاں کی بیعت کر لیں گے ۔حضرت ابو معشر راوی کہتےہیں ان کی مراد حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے جب عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس لوٹے تو آپ نے خطبہ دیا اور اپنے خطبہ میں فرمایا ۔ اس مال کے متعلق ایک رائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تھی کہ ان کے مابین برابر تقسیم کیا جائے اور میری رائے یہ تھی کہ مہاجرین و انصار کو ان کی فضیلت کے باعث ترجیح دوں اگر میں اس سال زندہ رہا تو میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف رجوع کروں گا ان کی رائے میری رائے سے بہتر ہے ۔ ذرا غور تو کرو کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان مال کو برابر تقسیم کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابتداروں کو دوسروں سے مقدم نہ کیا ان کے لئے اس مال میں ایسا حصہ مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے امتیاز والے ہواس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آپ کے قرابت داروں کے لئے مال فئی میں صرف وہی حصہ خیال کرتے تھے جو غیر قرابت داروں کو دیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب حکومت ملی تو انہوں نے صحابہ کرام میں درجات کے لحاظ سے فضیلت دینا مناسب خیال کیا تو انہوں نے بھی اہل قرابت کے لئے کوئی ایسا حصہ مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں دوسرے لوگوں پر برتری حاصل ہو بلکہ انہوں نے ان کو اور باقی لوگوں کو برابر رکھا اور ان کے مابین صرف مراتب کے لحاظ سے فضیلت کو قائم کیا نہ کہ جس کے وہ قرابت کے لحاظ سے حقدار تھے اگر ان کا کوئی مقررہ حصہ ہوتا تو وہ ضرور قائم ہوتا ۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أبو معشر ← محمد بن أبي رجاء الهاشمي ← أيضا يزيد بن سنان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5314

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5315

5029 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن هلال قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة بن خالد عن مالك بن أوس قال كنت جالسا إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فجاءه علي والعباس رضي الله عنهما يختصمان قال العباس يا أمير المؤمنين أقض بيني وبين هذا الكذا الكذا قال حماد أنا أكني عن الكلام فقال والله لأقضين بينكما إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما توفي وولي أبو بكر صدقته فقوي عليها وأدى فيها الأمانة فزعم هذا أنه خان وفجر وكلمة قالها أيوب قال والله يعلم أنه ما خان ولا فجر ولا كذا [ ص 307 ] قال حماد وحدثنا عمرو بن دينار عن مالك وغير واحد عن الزهري أنه قال لقد كان فيها راشدا تابعا للحق ثم رجع إلى حديث أيوب فلما توفي أبو بكر رضي الله عنه وليتها بعده فقويت عليها فأديت فيها الأمانة وزعم هذا أتى خنت ولا فجرت ولا تيك الكلمة وفي حديث عمرو عن الزهري ولقد كنت فيها راشدا تابعا للحق ثم رجع إلى حديث عكرمة ثم أتياني فقالا أدفع إلينا صدقة رسول الله صلى الله عليه و سلم فدفعتها إليهما فقال هذا لهذا أعطني نصيبي من بن أخي وقال هذا لهذا أعطني نصيبي من أمرأتي من أبيها وقد علم أن نبي الله صلى الله عليه و سلم لا يورث ما ترك صدقة وفي حديث عمرو عن الزهري إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إنا لا نورث ما تركنا صدقة ثم رجع إلى حديث عكرمة ثم تلا عمر رضي الله عنه إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها الآية فهذه لهؤلاء ثم تلا وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى آلى آخر الآية ثم قال وهذه لهؤلاء وفي حديث عمرو عن الزهري قال ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب إلى آخر الآية فكانت هذه خاصة لرسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم يوجف المسلمون فيه خيلا ولا ركابا فكان يأخذ من ذلك قوته وقوت أهل ويجعل بقية المال لأهله ثم رجع إلى حديث أيوب ثم تلا ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى إلى آخر الآية ثم للفقراء المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم حتى بلغ أولئك هم الصادقون فهؤلاء المهاجرون ثم قرأ والذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلهم حتى بلغ حماء فأولئك هم المفلحون قال فهؤلاء الأنصار قال ثم قرأ والذين جاؤوا من بعدهم حتى بلغ رؤوف رحيم فهذه الآية استوعبت المسلمين الإله حق إلا ما يملكون من رقيقكم فإن أعش إن شاء الله لم يبق أحد من المسلمين إلا سآتيه حقه حتى راعى الثلة يأتيه حظه أو قال حقه قال فهذا عمر رضي الله عنه قد تلا في هذا الحديث وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى إلى آخر الآية ثم قال وهذه لهؤلاء فدل ذلك أن سهم ذوي القربى قد كان ثابتا عنده لهم بعد وفاة النبي صلى الله عليه و سلم كما كان لهم في حياته قيل له ليس فيما ذكرت على ما ذهبت إليه وكيف يكون لك فيه دلالة على ما ذهبت إليه وقد كتب عبد الله بن عباس رضي الله عنهما إلى نجدة حين كتب يسأله عن سهم ذوي القربى قد كان عمر بن الخطاب دعانا إلى أن ينكح منه أيمنا ويكسو منه عارينا فأبينا عليه إلا أن يسلمه لنا كله فأبى ذلك علينا فهذا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يخبر أن عمر أبى عليهم دفع السهم إليهم لأنهم لم يكن عنده لهم فكيف يتوهم عليه فيما روي عنه مالك بن أوس غير ذلك ولكن معنى ما روى عنه مالك بن أوس في هذا الحديث من قوله فهذه لهؤلاء أي فهي لهم على معنى ما جعلها الله لهم في وقت إنزاله الآية على رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم وعلى مثل ما عني به عز و جل ما جعل لرسول الله صلى الله عليه و سلم فيها من السهم الذي أضافه إليه فلم يكن ذلك السهم جاريا له صلى الله عليه و سلم في حياته وبعد وفاته غير منقطع إلى يوم القيامة بل كان جاريا له في حياته منقطعا عنه بموته وكذلك ما أضافه فيها إلى ذوي قرباه كذلك أيضا واجبا لهم في حياته يضعه عليه السلام فيمن شاء منهم مرتفعا بوفاته كما لم يكن قول عمر فهذه لهؤلاء لا يجب به بقاء سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الوقت الذي قال فيه ما قال كان ذلك قوله فهي لهؤلاء لا يجب به بقاء سهم ذوي القربى إلى الوقت الذي قال فيه ما قال معارضة صحيحة باقية أن يكون حديث مالك بن أوس هذا عن عمر مخالفا لحديث عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عن عمر رضي الله عنه في سهم ذوي القربى ولقد

مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ جھگڑتے ہوئے آ ئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر المؤمنین میرے اور اس کے مابین جو ایسا ۔ ایسا ہے ضرور فیصلہ فرمائیں ۔ حماد رواوی کہتے ہیں کہ میں کلام سے کنایہ کرتا ہوں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اللہ کی قسم تمہارے مابین ضرور فیصلہ کروں گا ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے صدقہ کے ذمہ دار بنے تو وہ اس پر مضبوط رہے اور انہوں نے اس میں امانت کو ادا کیا اس شخص کو خایل ہوا کہ انہوں نے خیانت کی او رگناہ کیا ۔ ایوب راوی نے یہ بات نقل کی ہے اور اللہ تعالی جانتے ہیں کہ انہوں نے نہ خیانت کیاور نہ بکواس کی اور اس طرح کیا ۔ حماد کہتے ہیں کہ ہمیں عمرو بن سینار نے مالک سے اور بہت سی روایات نے زہری سے رایت کی ہے کہ انہوں نے کہا ابو بکر اس بات میں ہدایت پر تھے اور حق کی اتباع کرنے والے تھے ۔ پھر ایوب والی روایت کے الفاظ کی طرف رجوع کیا جب حضرت باو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور میں اس صدقے کا ان کے بعد ذمہ دار بنا ۔ تو میں اس پر مضبوط رہا اورمیں امانت ادا کرتا رہا اور ان کو خیال ہوا کہ میں نے خیانت کی اور گناہ کیا حالانکہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں نے نہ خیانت کی ہے اور نہ گناہ میں مبتلا ہوا اور نہ وہ کمہ کہا ۔ روایت عمرو عن الزہری میں ہے ، میں اس میں سیدھی راہ چلنے والا تھا پھر عکرمہ کی روایت کی طرف بات لوٹ آتی ہے کہ یہ دونوں حضرات آئے اور مجھے کہنے لگے تم جناب رسول اللہ ﷺ کے صدقہ کو ہمارے حوالہ کرو میں وہ ان کے حوالے کر دیا پھر اس نے اس کو کہا میرے بھتیجے کی طرف سے میرا حصہ دے دو اور اس نے اس کو کہا میری بیوی کا حصہ جو ان کے والد کی طرف سے بنتا ہے وہ دے دو حالنکہ اس کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی کے پیغمبر کی رواثت نہین ہوتی جو چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا ہے ۔ روایت عمرو بن عن الزہری میں ہے بے شک میں جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہماری وراثت نہیں ہوتی جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ پھر رویت عکرمہ کی طرف بات لوٹی ۔ کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی "انما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیھا " (التوبہ 42) بے شک صدقات فقراء مساکین اور عمال کا حق ہے ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ صدقات ان کا حق ہے ( جن کا آیت میں ذکر ہے ) کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " ما افا ء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل لا رکاب الی آخر الایۃ " کہ جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بطور فئی عنایت فرمایا پس تم اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ۔ پس آپ اس سے اپنی اور اہل ع عیال کا خرچہ لیتے اور بقیہ مال اپنے گھر والون کے لئے رکھ لیتے ۔ پھر روایت حدیث ایوب کی طرف لوٹی ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی " ما افاء اللہ الی اولیک ھم الصادقون " ( الحشر 5) آیت کے آخر تک ۔ ( کہ وہی لوگ سچے ہیں ) پھر یہ آیت تلاوت کی للفقراء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم و اموالھم ( الحشر 8)) اولئک ھم الصادقون ( الحشر 8) پس یہ مہاجرین ہیں پھر آیت " والذین تبو االدار " پڑھی یہاں تک کہ حماد " فاولئک ھم المفلحون ( الحشر 9) تک پہنچے پس یہ انصار ہیں روای کہتے ہیں پھر پڑھا والذین جا ء وا من بعدھم ( الحشر 10) یہاں تک کہ " رؤف رحیم " ( الحشر 10 ) تک پہنچے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آیت نے تمام مسلمانوں کے لئے حق کو ثابت کر دیا سوائے ان غلاموں کے جن کے مالک وہ ہون ۔ اگر میں زندہ رہا تو ( انشاءاللہ ) تو کوئی مسلمان ایسا باقی نہ رہے گا جس کو میں حصۃ نہ دوں یہاں تک بھیڑوں کا ریوڑ چرانے والے کو بھی اس کا حق دوں گا ۔ آپ نے حظ یا حق کا لفظ استعمال فرمایا دونوں کا معنی ایک ہے ۔ اس روایت میں حجرت عمر رضی اللہ عنہ نے آیت واعلمو انما غنمتم ۔۔۔۔ تلاوت فرمائی پھر فرمایا یہ غنیمت ان لوگوں کے لئے ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ذوی القربی کا حصہ ان کے ہاں جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ثابت تھا ۔ جیسا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں ثابت تھا ۔ اس روایت میں جو تم نے پیش کی تمہارے مستدل کی کوئی گنجائش نہیں اور دلیل کیسے بنتی جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ خط موجود ہے جو انہوں نے جدہ حاکم یمامہ کے استفسار کے جواب میں لکھا ۔ اس میں صآف موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلایا تاکہ وہ اس مال میں سے ہمارے رنڈوں کا نکاح کر یں اور ہمارے بلا پوشاک لوگوں کو لباس پہنائیں تو ہم نے وہ لینے سے انکار کر دیا ۔ تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذوی القربی کا حصہ ان کو دینے سے انکار فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ان حضرات کا حق نہ بنتا تھا تو اس بات کے ہوتے ہوئے پھر یہ دعوی مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت سے کس طرح کیا جاسکتا ہے کہ وہ وفات رسول اللہﷺ کے بعد اس حصے کے قائل تھے ۔ بلکہ اس روایت سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حصہ ان لوگوں کے لئے ہے یعنی جب اللہ تعالی نے یہ آیت جناب رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی تو اس وقت یہ ان کا حصہ تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے لئے مقرر فرمایا ۔ جس طرح کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حصہ کی ا ضافت آپ کی طرف فرمانے کا معنی بھی یہی ہے کہ وپ آپ کی حیات مبارکہ میں تھا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے لئے نہ تھا بلکہ آپ کی زندگی میں تو جاری ھت امگر وفات شریفہ سے منقطع ہو گیا بالکل اس طرح جو کچھ آپ کے قرابت داروں کی طرف منسوب ہوا وہ بھی آپ کی حیات طیبہ تھا ، میں آپ کی وفات طیبہ سے یہ حصہ مرتفع ( ختم ) ہو گیا ۔ تو جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کہ یہ ان لوگوں کے لئے ہے ، اس سے جناب رسول اللہ ﷺ کے حصہ کا اس وقت تک کے لئے باقی رہنا لازم نہیں آتا جس وقت اس حصہ کے متعلق کہا گیا تو اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کے قول فھی لھولاء ۔ سے ذوی القربی کے حصہ کا اس وقت تک کے لئے باقی رہنا لازم نہیں آتا جس میں اس کے متعلق وہ کہا گیا جو کہا گیا ۔ حضرت مالک بن اوس کی یہ روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے جو ذوی القربی کے حسہ سے متعلق ہے یہ روایت مخالف اور معارض ہے اور سیح معارض ہے ۔ ( پس اس پر اعتراض باطل ہوا )

الكلام فقال والله لأقضين بينكما ← أكني ← حَمَّادٌ، ← العباس يا أمير المؤمنين أقض بيني وبين هذا الكذا الكذا ← كنت جالسا إلى عمر بن الخطاب فجاءه علي والعباس يختصمان ← مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بن هلال ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5315

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5316

5030 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن الكلبي عن أبي صالح عن أم هانئ أن فاطمة رضي الله عنها قالت يا أبا بكر من يرثك إذا مت قال ولدي وأهلي قالت فما لك ترث النبي صلى الله عليه و سلم دوني قال يا ابنة رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ورث أبوك دارا ولا ذهبا ولا غلاما قالت ولا سهم الله عز و جل الذي جعله لنا وصافيتنا التي بيدك فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إنما هي طعمة أطعمنيها الله عز و جل فإذا مت كانت بين المسلمين

ابو صالح نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اے ابو بکر جب تم مر جاؤ گے تو تمہارا کون وارث ہو گا َ انہوں نے کہا میری اولاد اور بیوی ۔ کہنے لگیں پھر کیا وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وراثت میری بجائے آپ لیتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا اے جناب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی آپ کے والد محترم وراثت میں نہ کوئی گھر چھوڑا اور سونا اور نہ غلام ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کیا اس حصے کے بھی وارث نہ بنے جو اللہ تعالی کا حصہ ہے جو اس نے ہمارے لئے مقرر کیا اور وہ ہمارا وہ خالص حصہ جو آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا وہ لقمہ ہے جو اللہ تعالی نے ہمیں کھانے کو دیا ۔ جب میں مر جاؤں تو وہ مسلمانوں میں تقسیم ہو گا ۔

أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5316

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5317

5031 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن السائب عن أبي صالح عن أم هانئ أن فاطمة رضي الله عنها قالت لأبي بكر من يرثك إذا مت قال ولدي وأهلي قالت فمالك ترث رسول الله صلى الله عليه و سلم دوننا قال يا ابنة رسول الله ما ورث أبوك دارا ولا مالا ولا غلاما ولا ذهبا ولا فضة قالت فدك التي جعلها الله لنا وصافيتنا التي بيدك لنا قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إنما طعمة أطعمنيها الله عز و جل فإذا مت فهي بين المسلمين أفلا يرى أن أبا بكر رضي الله عنه قد أخبر في هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه و سلم أن ما كان يعطيه ذوي قرباه فإنما كان من طعمة أطعمها الله إياه وملكه إياها حياته وقطعها عن ذوي قرابته بموته وقد ذكرنا في صدر هذا الكتاب عن الحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم أنه قال أختلف الناس بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال قائل سهم ذوي القربى لقرابة الخليفة وقال قائل سهم النبي صلى الله عليه و سلم للخليفة من بعده ثم أجتمع رأيهم على أن جعلوا هذين السهمين في الخيل والعدة في سبيل الله فكان ذلك في إمارة أبي بكر رضي الله عنه فلما أجمعوا بعد ما كانوا اختلفوا كان إجماعهم حجة وفيما اجمعوا عليه من ذلك بطلان سهم ذوي القربى من المغانم والفئ بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن قال قائل فأما ما رويتموه عن علي رضي الله عنه فإنما كان فيما ذهب إليه من ذلك متابعا لأبي بكر وعمر رضي الله عنهما كراهة أن يدعى عليه خلافهما وذكر في ذلك ما

ابو صالح نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا تماہرا کون وارث ہو گا جب تم مر جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا میری اولاد اور بیوی ۔ وہ کہنے لگیں پھت کیا وجہ ہے کہ تم ہامرے بجائے جناب رسول اللہ ﷺ کی وراثت کے حقدار بن گئے ابو بکر کہنے لگے اے جناب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ۔ تمہارے والد محتر نے وراثت میں نہ مال چھوڑا نہ ہی سونا اور چاندی ۔ انہوں نے کہا فدک کی وہ زمینیں جو اللہ تعالی نے ہامرے لئے مقرر کیں اور ہمارا خالص حصہ جو تماہرے پاس ہے ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ! اے جناب رسول اللہ ﷺ کی بیٹی میں جناب رسول اللہﷺ کر فرماتے سنا کہ وہ مال تو لقمہ ہے کو اللہ تعالی نے ہمیں کھانے کو دیا ہے ۔ جب میں فوت ہوجاؤں وہ مسلمانوں کے لئے وقف ہوگی ۔ کیا معترض کو یہ بات نظر نہیں آتی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس میں یہ اطلاع دی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ذوی القربی کو جو زندگی میں عنایت فرمایا یہ لقمہ ہے جو اللہ تعالی نے انکو کھلایا ہے اور حایۃ مقدسہ میں اس کا مالک بنایا ہے اور آپ کی وفات سے اس کو منقطع کر دیا ہے ۔ ہم نے اس کتان کے شروع میں حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہوا کہ ذوی القربی کو وفات رسول اللہﷺ کے بعد حصہ ملے گا یا نہیں ۔ تو بعض نے کہا ذوی القربی کا حصہ خلیفہ کے قرابت والوں کے لئے ہو گا ۔ دوسروں نے کہہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ کے بعد خلیفہ کو ملے گا پھر اس پر اجماع ہوا کہ یہ دونوں حصے گھوڑوں اور جہاد کے اسلحہ کے لئے صرف کئے جائیں اور یہ اجماع خلافت صدیقی رضی اللہ عنہ میں ہوا جب صحابہ کرام کا اختلاف کے بعد اجماع ہو گیا تو ان کا اجماع حجت ہے ۔ ذوی القربی کو جو حصہ مغانم و فئی میں تھا رسول اللہ ﷺکے بعد اس اجماع سے منقطع ہو گیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو روایت تم نے بیان کی ہے وہ بات انہوں نے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی متابعت میں کی ہے تا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ وہ ان کی مخالفت کرنے والے ہیں ۔ اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے ۔

أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← محمد بن السائب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5317

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5318

5032 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن محمد بن إسحاق قال سألت أبا جعفر قلت أرأيت علي بن أبي طالب رضي الله عنه حيث ولى العراق وما ولى من أمر الناس كيف صنع في سهم ذوي القربى قال سلك به والله سبيل أبي بكر وعمر رضي الله عنهما قلت وكيف وأنتم تقولون قال أما والله ما كان أهله يصدرون إلا عن رأيه قلت فما منعه قال كره والله أن يدعى عليه خلاف أبي بكر رضي الله عنه قيل له هذا تأوله محمد بن علي علي علي بن أبي طالب رضي الله عنه في تركه خلاف أبي بكر وعمر رضي الله عنهما وهو يرى في الحقيقة خلاف ما رأيا لا يجوز ذلك عندنا على علي بن أبي طالب رضي الله عنه ولا يتوهم على مثله فكيف يتوهم عليه وقد خالف أبا بكر وعمر رضي الله عنهما في أشياء وخالف عمر وحده في أشياء أخر منها ما رأى من جواز بيع أمهات الأولاد بعد نهي عمر عن بيعهن ومن ذلك ما رأى من التسوية بين الناس في العطاء وقد كان عمر رضي الله عنه يفضل بينهم على قدر سوابقهم ولعلي بن أبي طالب رضي الله عنه كان أعرف بالله من أن يجري شيئا على ما الحق عنده في خلافه ولكنه أجرى الأمر بسهم ذوي القربى على ما رآه حقا وعدلا فلم يخالف أبا بكر وعمر رضي الله عنهما فيه ولقد كان علي بن أبي طالب رضي الله عنه فيه يخالف أبا بكر وعمر رضي الله عنهما في حياتهما في أشياء قد رأيا في ذلك خلاف ما رأى فلا يرى الأمر عليه في ذلك دنفا ولا يمنعانه من ذلك ولا يؤخذانه عليه فكيف يسعه هذا في حال الأمام فيها غيره ثم بصق عليه في حال هو الإمام فيها نفسه هذا عندنا محال ولقد

محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر رحمۃاللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب عراقق کے حکمران ہوئے تو اس وقت ذوی القربی کے حصہ کے سلسلہ میں انہوں نے کیا کیا ؟انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! انہوں نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی راہ اختیار کی ۔ میں نے کہا ۔ یہ کیسے حالانکہ تم اور کچھ کہتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا ۔ سنو ! اللہ کی قسم ! ان کے اہل و عیال تو ان کے رائے پر چلتے تھے ۔ میں نے کہا انکو کیا رکاوٹ تھی ؟ ابو جعفر کہنے لگے اللہ کی قسم ! انہوں نے نا پسند کیا کہ لو گ ان پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کا الزام لگائیں ۔ یہ محمد بن علی رحمۃاللہ علیہ کا تاویل کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت کے الزام سے بچنے کے لئے ان کی رائے کی موافقت کی حالنکہ ان کی رائے اس کے خلاف تھی ۔ہامرے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ الزام لگانا غلط ہے بلکہ ہم تو ان کے متعلق ایسا وہم کرنا بھی درست نہیں سمجھتے اور کیسے سمجھ سکتے ہیں جبکہ کئی مواقع میں انہو ں نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی رائے کی مخالفت کی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کئی چیزوں میں اختلاف منقول ہے چند مسائل یہ ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ام ولدہ کی بیع کو منع کیا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے جواز کے قائل تھے اور رہے ۔ عطیات میں برابری کی جائے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سبقت کرنے والوں کو دوسروں سے فضیلت کے قائل وعامل تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کی خوب پہچان کرنے والےتھے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ خلاف حق دیکھیں اور اس کو جاری رہنے دیں ۔ لیکن انہوں نے ذوی القربی کے معاملے نافذ حکم کو حق و انصاف پایا اس لئے انہوں نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہیں کی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ شیخین کی کئی معاملات میں ان کی زندگی میں مخالفت کرت تھے اور اس کو معیوب نہ سمجھا جاتا تھا اور نہ وہ دونوں حضرات ان کو اس بات سے روکتے تھے اور نہ اس پر کوئی مواخذہ کرتے تھے ۔ جب یہ بات اس وقت بھی ان کے متعلق کہی نہیں جا سکتی جبکہ دوسرا امام ہو ۔ تو اس صورت میں اسی پر قائم رہنا اور بھی بعید تر ہے جبکہ وہ خود حاکم ہوں ۔ ہمارے ہاں یہ محال ہےپس وہ تاویل درست نہیں ۔ اس کی تائیدی دلیل ملاحظہ ہو ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5318

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5319

5033 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا جرير بن حازم عن عيسى بن عاصم عن زاذان قال كنا عند علي فتذاكرنا الخيار فقال أما أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه قد سألني عنه فقلت إن إختارت زوجها فهي واحدة وهي أحق بها وإن اختارت نفسها فواحدة بائنة فقال عمر ليس كذلك ولكنها إن أختارت نفسها فهي واحدة وهو أحق بها وإن أختارت زوجها فلا شيء فلم أستطع إلا متابعة أمير المؤمنين فلما آل الأمر إلي عرفت أني مسؤل عن الفروج فأخذت بما كنت أرى فقال بعض أصحابه رأي رأيته تابعك عليه أمير المؤمنين أحب إلي من رأي انفردت به فقال أما والله لقد أرسل إلى زيد بن ثابت فخالفني وإياه فقال إذا إختارت زوجها فواحدة وهو أحق بها وإن أختارت نفسها فثلاث لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره أفلا يرى أن عليا رضي الله عنه قد أخبر في هذا الحديث أنه لما خلص إليه الأمر وعرف أنه مسئول عن الفرج أخذ بما كان يرى وأنه لم ير تقليد عمر فيما يرى خلافه رضي الله عنهما وكذلك أيضا لما خلص إليه الأمر إستحال مع معرفته بالله ومع علمه أنه مسئول عن الأموال أن يكون يبيحها من يراه من غير أهلها ويمنع منها أهلها ولكنه كان القول عنده في سهم ذوي القربى كالقول فيما كان عند أبي بكر وعمر رضي الله عنهما فأجرى الأمر على ذلك لا على ما سواه فأما أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهم فإن المشهور عنهم في سهم ذوي القربى أنه قد أرتفع بوفاة النبي صلى الله عليه و سلم وأن الخمس من الغنائم وجميع الفيء يقسمان في ثلاثة أسهم لليتامى والمساكين وابن السبيل

عیسی بن عاصم نے زاذان سے روایت کی ہے کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ۔ ہم نے باہمی خیار عورت کے متعلق مذاکرہ کیا تو فرمانے لگے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا وہ عورت اپنے خاوند کی طرف لوٹ آئے تو ایک طلاق رجعی ہے اور وہ خاوند اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ عورت اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک بائنہ طلاق ہو گی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ اس طرح ہے کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک طلاق رجعی ہوگی اور وہ خاوند اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا اور اگر وہ پنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے تو اس پر کچھ نہیں ( کوئی طلاق ہی نہیں ) تو اس وقت میرے لئے امیر المؤمنین کی اتباع کے علاوہ چارہ نہ تھا ۔ اب جبجکہ معاملہ میرے پاس آیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ کل مجھ سے ان شرمگاہوں کے متعلق سوال ہو گا تو میں نے اپنے اجتہاد کو اختیار کیا ۔ اس پر ان کے بعض ساتھیوں نے کہا اگر امیر المؤمنین تمہاری رائے پر چلتے تو یہ بات مجھے زیادہ پسند تھی کہا آپ اپنی انتہا رائے پر چلتے تو انہوں نے فرمایا ۔ سنو صاحب ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف آدمی بھیج کر دریافت کیا تو انہوں نے میری اور ان کی رائے کے خلاف رائے دی انہوں نے کہا اگر عورت اپنے خاوند کو اختیار کرے تو ایک طلاق رجعی اور خاوند اس کا دوسروں سے زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ عورت اپنے نفس کو پسند کرلیتی ہے تو تین واقع ہو جائیں گی اور وہ عورت اور خاوند سے نکاح کے بغیر اس کے لئے حلال نہ ہو گی ۔ معترض کو نظر نہیں آتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد میں یہ خبر دی کہ جب ان کو حکومت ملی تو انہوں نے عورتوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ دارخیال کرتے ہوئے کہ وہ مسؤل ہیں اپنے اجتہاد پر عمل کیا اور جس بات میں حجرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے خلاف رائے تھی اس پر ان کی تقلید کو جائز قرار نہیں دیا ۔ تو ان جب آپ کی خلافت ملی تو یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی کی معرفت اور اس کا علم رکھنے کے باوجود وہ اموال کے سلسلے میں مسؤل ہونے کے باوجود غیر مستحق لوگوں کو دیتے رہے اور اہل لوگوں سے روک لیا ۔ از خود ثابت ہوا کہ ان کا قول قرابت داروں کے سلسلہ میں ان کے قول کے موافق تھا فلہذا انہوں نے اس حکم کو جاری رکھا اس کے علاوہ کو اختیار نہیں کیا ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کے متعلق مشہور یہی ہے کہ وہ اسی بات کے قائل تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد قرابت داروں کا حصہ منقطع ہو گیا اور مال فئی اور خمس غنائم ان تین حصوں میں بانٹیں گے ۔ یتامی ۔ محتاج ۔ مسافر ۔ جیسا یہ اثر ہے ۔

زَاذَانَ ← عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5319

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5320

5034 - وكذلك حدثني محمد بن العباس بن الربيع اللؤلئي قال ثنا محمد بن معبد قال ثنا محمد بن الحسن قال أخبرنا يعقوب بن إبراهيم عن أبي حنيفة وهكذا يعرف عن محمد بن الحسن في جميع ما روى عنه في ذلك من رأيه ومما حكاه عن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمة الله عليهما

یعقوب بن ابراہیم نے امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ہے اور امام محمد رحمۃاللہ علیہ کی تمام مرویات مین یہی رائے پائی جاتی ہے اور انہوں نے ابو حنیفہ ، ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ سے اسی طرح نقل کیا ہے ۔ اصحاب امالی کا قول یہ ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5320

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5321

فأما أصحاب الإملاء فإن جعفر بن أحمد حدثنا قال ثنا بشر بن الوليد قال أملى علينا أبو يوسف في رمضان في سنة إحدى وثمانين ومائة قال في قوله تعالى وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل فهذا فيما بلغنا والله أعلم فيما أصاب من عساكر أهل الشرك من الغنائم والخمس منها على ما سمى الله عز و جل في كتابه أربعة أخماسها بين الجند الذي أصابوا ذلك للفرس سهما وللرجل سهم على ما جاء من الأحاديث والآثار وقال أبو حنيفة رحمة الله عليه للرجل سهم وللفرس سهم والخمس يقسم على خمسة أسهم خمس الله والرسول واحد وخمس ذوي القربى لكل صنف سماه الله عز و جل في هذه الآية خمس الخمس ففي هذه الرواية ثبوت سهم ذوي القربى قالوا وأملى علينا أبو يوسف في مسألة قال أبو حنيفة إذا ظهر الإمام على بلد من بلاد أهل الشرك فهو بالخيار يفعل فيه الذي يرى أنه أفضل وخير للمسلمين إن رأى أن يخمس الأرض والمتاع ويقسم أربعة أخماسه بين الجند الذي افتتحوا معه فعل ويقسم الخمس على ثلاثة أسهم للفقراء والمساكين وابن السبيل وإن رأى أن يترك الأرضين ويترك أهلها فيها ويجعلها ذمة ويضع عليهم وعلى أرضهم الخراج وكما فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه بالسواد كان ذلك كله قال أبو جعفر ففي هذه الرواية سقوط سهم ذوي القربى وهذا القول هو المشهور عنهم والذي اتفقت عليه هاتان الروايتان في الفيء وفي خمس الغنيمة أنهما إذا خلصا جميعا وضع خمس الغنائم فيما يجب وضعه فيه مما ذكرنا وأما الفيء فيبدأ منه بإصلاح القناطر وبناء المساجد وأرزاق القضاة وأرزاق الجند وجوائز الوقود ثم يوضع ما بقى منه بعد ذلك في مثل ما يوضع فيه خمس الغنائم سواء فهذه وجوه الفيء وأخماس الغنائم التي كانت تجري عليها في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أن توفي وما يجب أن يمتثل فيها بعد وفاته صلى الله عليه و سلم يوم القيامة فقد بينا ذلك وشرحناه بغاية ما ملكنا والله نسأل التوفيق وأما سفيان الثوري فإنه ثنا مالك بن يحيى قال ثنا أبو النضر قال ثنا الأشجعي قال ثنا سفيان سهم النبي صلى الله عليه و سلم من الخمس هو خمس الخمس وما بقي فلهذه الطبقات التي سمى الله والأربعة الأخماس لمن قاتل عليه

بشیر بن ولید بیان کرتے ہیں کہ ہمیں امام ابو یوسف نے رمضان 181ھ میں یہ لکھوایا اللہ تعالی کا قول " واعلمو ا انما غنمتم " (الانفال 41) اور تم جان لو ! کہ جو کچھ تم مال غنیمت سے حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالی کے لئے اس کے رسول ﷺ کے لئے اور آپ کے قرابت داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تو یہ اس چیز کے بارے میں جیسا کہ ہم تک بات پہنچی ( اللہ تعالی بہتر جانتے ہیں ) کہ مشرکین کے لشکروں سے جو مال غنیمت کے طور پر حاصل ہو، اس میں خمس ہو گا جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور چار حصے اس لشکر کے ہوں گے جس نے اس کو حآسل کیا ایک حصہ گھوڑے کا اور ایک حصہ اس آدمی کا ۔ جیسا کہ احادیث و آثار میں مروی ہے ۔ حاصل اثر اس میں ذوی القربی کے لئے خمس کا ثبوت ملتا ہے ۔ اصحاب امالی کی دوسری روایت : ( بشر بن ولید وغیرہ ) نے بیان کیا کہ ہمیں ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ نے یاک مسئلہ اس طرح املاء کروایا امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ جب امام کو مشرکین کے کسی علاقہ پر غلبہ حاصل ہو تو اسے اختیار ہے کہ وہ اس کے متعلق وہ طرز عمل اختیار کرے جو بہتر اور مسلمانوں کے لئے خیر کا باعث ہو ۔ اگر اس کی رائے ہو کہ وہ زمین اور سامان کا خمس لے لے اور چار حصے بقیہ فاتح لشکریوں میں تقسیم کر دے تو اس کو اجازت ہے اور خمس کو تین حصوں میں تقسیم کر ے ۔ نمبر 1 فقراء ۔نمبر 2 مساکین ۔ نمبر 3 مسافر اور اگر وہ مناسب خیال کرے زمینوں کو وہاں کے قابضین کو اس میں چھوڑ دے اور ان کو ذمی بنائے اور ان کی زمینوں پر خراج اور ان پر خراج مقرر کر دے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سواد عراق کے متعلق کیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ روایت ثابت کر رہی ہے کہ ذوی القربی کا حصہ ساقط ہو گا ۔ ہامرے ائمہ کا مشہور قول یہی ہے ۔ ان دونون روایات کے اتفاق سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ فئی اور خمس غنائم جب حاصل ہو جائیں تو اہل حق کو دیا جا ئے ۔ فئی کے مصارف وفود کے اخراجات و انعامات ہیں پھر ان سے جو بچ رہےبوہ خمس غنائم کو جہاں خرچ کیا جاتا ہے وہیں صرف کیا جائے ۔ ان میں کچھ فرق نہیں ۔ خمس غنائم اور فئی کی وہ صورتیں جن پر جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں وفات تک عمل ہوتا رہا ار جو صورتہائے عمل آپ کی وفات کے بعد قیامت تک لئے واجب التعمیل تھیں ان کو حتی الامکان ہم نے اپنی ہمت کے مطابق وضاحت سے ذکر کر دیا ۔ جہاں تک سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کا تعلق ہے ہمیں مالک نم یحیی نے انہوں نے ابو النضر انہوں نے اشجعی سے انہوں نے سفیان سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا حصہ خمس میں خمس الخمس ہے اور خمس کے باقی چار حصے ان طبقات میں تقسیم ہوں گے جن کا اللہ تعالی نے اس آیت میں ذکر کیا اور کل کے چار حصے مقاتلین کے ہوں گے ۔

بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← فأما أصحاب الإملاء فإن جعفر بن أحمد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5321

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5322

5035 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة قال لما وادع رسول الله صلى الله عليه و سلم أهل مكة وكانت خزاعة حلفاء رسول الله صلى الله عليه و سلم في الجاهلية وكانت بنو بكر حلفاء قريش فدخلت خزاعة في صلح رسول الله صلى الله عليه و سلم ودخلت بنو بكر في صلح قريش فكان بين خزاعة وبين بني بكر بعد قتال فأمدهم قريش بسلاح وطعام وظللوا عليهم وظهرت بنو بكر على خزاعة فقتلوا فيهم فخافت قريش أن يكونوا على قوم قد نقضوا فقالوا لأبي سفيان اذهب إلى محمد فأجد الحلف وأصلح بين الناس وأن ليس في قوم ظللوا على قوم وأمدوهم بسلاح وطعام ما إن يكونوا نقضوا فانطلق أبو سفيان وسار حتى قدم المدينة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جاءكم أبو سفيان وسيرجع راضيا بغير حاجة فأتى أبا بكر رضي الله عنه فقال يا أبا بكر أجد الحلف وأصلح بين الناس أو بين قومك قال فقال أبو بكر رضي الله عنه الأمر إلى الله تعالى وإلى رسوله وقد قال فيما قال له بأن ليس في قوم ظللوا على قوم وأمدوهم بسلاح وطعام ما إن يكونوا نقضوا قال فقال أبو بكر رضي الله عنه الأمر إلى الله عز و جل وإلى رسوله قال ثم أتى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فذكر له نحوا مما ذكر لأبي بكر رضي الله عنه [ ص 313 ] فقال عمر رضي الله عنه أنقضتم فما كان منه جديدا فأبلاه الله تعالى وما كان منه شديدا أو قال متينا فقطعه الله تعالى فقال أبو سفيان وما رأيت كاليوم شاهد عشرة ثم أتى فاطمة رضي الله عنها فقال لها يا فاطمة هل لك في أمر تسودين فيه نساء قومك ثم ذكر لها نحوا مما قال لأبي بكر رضي الله عنه ثم قال لها فتجددين الحلف وتصلحين بين الناس فقالت رضي الله عنها ليس إلا إلى الله وإلى رسوله قال ثم أتى عليا رضي الله عنه فقال له نحوا مما قال لأبي بكر رضي الله عنه فقال علي رضي الله عنه ما رأيت كاليوم رجلا أصل أنت سيد الناس فأجد الحلف وأصلح بين الناس فضرب أبو سفيان إحدى رجليه على الأخرى وقال قد أخذت بين الناس بعضهم من بعض قال ثم أنطلق حتى قدم والله ما أتيتنا بحرب فيحذر ولا أتيتنا بصلح فيأمن أرجع أرجع قال وقدم وفد خزاعة على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره بما صنع القوم ودعاه بالنصرة وأنشد في ذلك ... لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا ... ... والدا كنا وكنت ولدا ... إن قريشا أخلفوك الموعدا ... ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا ... وجعلوا لي بكداء رصدا ... ... وزعموا أن لست تدعوا أحدا ... وهم أذل وأقل عددا ... ... وهم أتونا بالوتير هجدا ... نتلوا القرآن ركعا وسجدا ... ... ثمت أسلمنا ولم ننزع يدا ... فأنصر رسول الله نصرا أعتدا ... ... وأبعث جنود الله تأتي مددا ... في فيلق كالبحر يأتي مزبدا ... ... فيهم رسول الله قد تجردا ... إن سيم خسفا وجهه تربدا ... قال حماد هذا الشعر بعضه عن أيوب وبعضه عن يزيد بن حازم وأكثره عن محمد بن إسحاق ثم رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة قال ما قال حسان بن ثابت رضي الله عنه ... أتاني ولم أشهد ببطحاء مكة ... رجال بني كعب تحز رقابها ... ... وصفوان عود خر من ودق أسته ... فذاك أوان الحرب حان غضابها [ ص 314 ] فياليت شعري هل لنا مرة ... ... سهيل بن عمرو حولها وعقابها ... ... قال فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالرحيل فأرتحلوا فساروا حتى نزلوا بمر الظهران قال وجاء أبو سفيان حتى نزل ليلا فرأى العسكر والنيران فقال ما هذا قيل هذه تميم أمحلت بلادها فانتجعت بلادكم قال هؤلاء والله أكثر من أهل منا أو مثل أهل منا فلما علم أنه النبي صلى الله عليه و سلم تنكر وقال دلوني على العباس بن عبد المطلب وأتى العباس فأخبره الخبر وأنطلق به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في قبة له فقال يا أبا سفيان أسلم تسلم قال وكيف اصنع باللات والعزى قال أيوب حدثني أبو الخليل عن سعيد بن جبير رحمه الله قال قال عمر رضي الله عنه وهو خارج من التيه ما قلتها أبدا قال أبو سفيان من هذا قالوا عمر رضي الله عنه فأسلم أبو سفيان فانطلق به العباس فلما أصبحوا ثار الناس لظهورهم قال فقال أبو سفيان يا أبا الفضل ما للناس أمروا في شيء قال فقال لا ولكنهم قاموا إلى الصلاة فأمره فتوضأ وأنطلق به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة كبر فكبر الناس ثم ركع فركعوا ثم رفع فرفعوا فقال أبو سفيان ما رأيت كاليوم طاعة قوم جمعهم من ها هنا وها هنا ولا فارس الأكارم ولا الروم ذات القرون بالطوع منهم قال حماد وزعم يزيد بن حازم عن عكرمة قال قال أبو سفيان يا أبا الفضل أصبح والله بن أخيك عظيم الملك قال ليس بملك ولكنها نبوة قال أو ذاك أو ذاك قال ثم رجع إلى حديث أيوب عن عكرمة قال فقال أبو سفيان وأصباح قريش قال فقال العباس رضي الله عنه يا رسول الله لو أذنت لي فأتيت أهل مكة فدعوتهم وأمنتهم وجعلت لأبي سفيان شيئا يذكر به قال فانطلق فركب بغلة رسول الله صلى الله عليه و سلم الشهباء وانطلق قال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ردوا علي أبي ردوا على أبي إن عم الرجل صنوا أبيه إني أخاف أن تفعل بك قريش كما فعلت ثقيف بعروة بن مسعود دعاهم إلى الله فقتلوه أما والله لئن ركبوها منه لأضرمنها عليهم نارا قال فانطلق العباس رضي الله عنه فقال يا أهل مكة أسلموا تسلموا فقد استبطنتم بأشهب بازل قال وقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث الزبير من قبل أعلى مكة وبعث خالد بن الوليد من قبل أسفل مكة قال فقال لهم هذا الزبير من قبل أعلى مكة وهذا خالد من قبل أسفل مكة وخالد وما خالد وخزاعة مجدعة الأنوف ثم قال من ألقى سلاحه فهو آمن ومن أغلق بابه فهو آمن ومن دخل دار أبي سفيان فهو آمن ثم قدم النبي صلى الله عليه و سلم فتراموا بشيء من النبل ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ظهر عليهم فأمن الناس إلا خزاعة عن بني بكر وذكر أربعة مقيس بن ضبابة وعبد الله بن أبي سرح وابن خطل ومارة مولاة بني هاشم قال حماد سبارة في حديث أيوب أو في حديث غيره قال فقاتلهم خزاعة إلى نصف النهار فأنزل الله عز و جل ألا تقاتلون قوما نكثوا أيمانهم وهموا بإخراج الرسول إلى قوله عز و جل ويشف صدور قوم مؤمنين قال خزاعة ويذهب غيظ قلوبهم ويتوب الله على من يشاء

ایوب نے عکرمہ سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ سے صلح کر لی قبیلہ بنو خزاعہ زمانہ جاہلیت سے آپ کا حلیف چلا آ رہا تھا اور بنو بکر قبیلہ قریش کا حلیف تھا ۔ بنو خزاعہ جناب رسول اللہ ﷺ اور بنو بکر قریش کے معاہدہ و صلح میں شامل ہو گئے اس کے بعد بنو خزقعہ اور بنو بکر میں باہمی لڑائی ہو گئی قریش ن اسلحہ اور رسد سے ان کی معاونت کی اور ان کی پیٹھ ٹھونکی چنانچہ بنو بکر کو بنو خزاعہ پر غلبی حاصل ہو ا تو انہوں نے ان کو خوب قتل کیا قریش کو معاہدہ توڑنے والے گروہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے خطرہ محسوس ہوا ۔ چنانچہ انہوں نے ابو سفیان بن حرب سے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کے پاس جا کر معاہدہ کی تجدید کر لو ۔ لوگوں کے مابین صلح کرواؤ اور یہ کہو کہ اگر کچھ لوگوں نت ان کی ہتھیار اور رسد سے مدد کی اور سایہ بھی کیا تو یہ نقض عہد ہرگز نہیں ہے ۔(حضرت ) ابو سفیان اہوں سے چل کر مدینہ طیبہ پہنچا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابو سفیان تمہارے پاس آ رہے ہیں مگر یہ بے نیل و مرام خوش ہوکر لوٹ جائے گا ۔ چنانچہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے ۔ اے ابو بکر ! معاہدے کی تجدید کرو اور لوگوں کے درمیان کہا یا اپنی قوم کہا کے درمیان صلح کراؤ راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ معاملہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے ہاتھ میں ہے ۔ انہوں نے اس دوران یہ بھی کہا کہ اگر کچھ لوگوں نے ان لوگوں پر سایہ کیا اور ہتھیاروں اور رسد سے بنو بکر کی امداد کی ہے تو یہ کوئی عہد توڑنا نہیں راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا معاملہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے ہاتھ می ہے ۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بھی وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے عہد شکنی کی ہے جو عہد نیا تھا اللہ تعالی نے اسے پرانا کر دیا اور وہ جو اس میں سے سخت تھا یا مضبوط تھا اس کو اللہ تعالی نے بودا کردیا ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں آج کے دن جیسا سخت دن نہیں دیکھا ۔ پھر وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان کو کہا اے فاطمہ رضی اللہ عنہا ! کیا تم کسی معاملے میں اپنی قوم کی عورتوں کی سرداری کرو گی پھر ان سے بھی وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی ۔ پھر ان سے کہا کہ معاہدہ کی تجدید کرا دو اور لوگوں کے درمیان صلح کرا دو ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ معاملہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے اختیار میں ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے آج کے دن کی طرح کوئی آدمی نہیں دیکھا کو زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو تم لوگوں کے سردار ہو ۔ تم خود حلف کی تجدید کرو اور صلح کراؤ ۔ ابو سفیان نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر مارا اور کہا کہ میں نے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا پھر چل دیا اور واپس لوٹ آیا ۔ تو کفار قریش کہنے لگے اللہ کی قسم ! تو ہمارے پاس نہ تو لڑائی کی خبر لایا کہ ہم احتیاط برتیں اور نہ صلح کی اطلاع لایا کہ مطمئن ہو جائیں جلد واپس جاؤ ۔ جاؤ ۔ ادھر بنو خزاعہ کا وفد جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور جو کفار قریش نے کاروائی کی تھی اس کی اطلاع دی اور آپ ﷺ کو مدد کی درخواست کی اور یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے ۔ نمر 1: اے اللہ ۔ میں محمد ﷺ کے سامنے ان کے جد امجد کا حلف یاد دلانے والا ہوں ۔ نمبر 2: ہم والد کی جگہ تھے اور آپ کی اولاد کی جگہ تھے بلا شبہ قریش نے آپ سے بد عہدی کی ہے ۔ نمبر 3 : آپ کے ساتھ پختہ عہد کو توڑ ڈالا ہے اور مقام کداء میں میرے خلاف بھی مورچہ بند ی کی ۔ نمبر 4: ان کا خیال یہ ہے کہ آپ کسی کے بلاوے کا جواب نہ دیں گے قریش کمزور اور گنتی میں کم ہیں نمبر 5: وہ مقام و تیر میں ہم پر حملہ آور ہوئے جبکہ تہجد کے وقت ہم تلاوت قرآن مجید اور رکوع و سجود کی حالت میں تھے ۔ نمبر6 : اسی جگہ ہم نے صلح کی تھی اس لئے ہم نے ہاتھ نہ کھینچا ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ ہماری بھرپور مدد فرمائیں ۔ نمبر 7 : آپ اتنے بڑے لشکر کو بھیج دیں جو سمندر کی طرح جوش سے جھاگ نکال رہا ہو ۔ نمبر 8 : اس لشکر میں اللہ کے رسول ہوں جو تلوار کو بے نیام کرنے والے ہوں اگر قوم کو ذلت پہنچے تو آپ کا چہرہ مبارک اس سے دوری اختیار کرنے والا ہو ۔ حماد راوی کا بیان ہے کہ ان میں سے بعض اشعار ایوب جبکہ دوسرے یزید بن حازم سے نقل کئے گئے ہیں اور اکثر اشعار محمد بن اسحاق سے لئے گئے ہیں ۔ پھر راوی اس روایت کی طرف لوٹا جو ایوب نے عکرمہ سے نقل کی ہے اور اس نے وہ بیان کیا جو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا ترجمہ یہ ہے ۔نمبر 1 : میرے پاس بنو کعب کے وہ لوگ بطحاء مکہ میں حاضر ہوئے جن گردنوں کو تن سے جدا ہونا تھا مگر میں وہاں موجود نہ تھا ۔نمبر 2: اور اس لکڑی کی صفائی کا کیا کہنا جو اپنی جڑ کے کنارے سے کاٹی گئی پو پس ہپ تو لڑائی کا زمانہ ہے جو مشکل وقت تک آن پہنچا ۔ نمبر 3 : کاش مجھے معلوم ہو تا کہ میری مدد کا جوش و جذبہ اور بدلے کا جذبہ سہیل بن عمرو تک پہنچ جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کوچ کا حکم دیا صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ مر ظہران میں اترے ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سفیان آیا اور وہاں رات کو اترا اور لشکر اور آگ کو دیکھا تو کہا یہ کیا؟ کسی نے کہا یہ قبیلہ تمیم ہے جن کے ملک میں قحط سالی پڑ گئی ہے اور وہ رزق کی تلاش میں تمہارے علاقے میں آئے ہیں ۔ ابو سفیان کہنے لگے ! اللہ کی قسم یہ تو منی والوں سے زیادہ ہیں یا منی والوں جتنے ہیں جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو جناب نبی اکرم ﷺ ہیں تو اس کی حالت خراب ہوگئی پھر کہا کہ حضرت عباس بن عبدا لمطلب کے متعلق میری راہنمائی کرو اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ماجرا ذکر کیا تو ان کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر گئے آپ ایک خیمہ میں تھے آپ نے فرمایا ۔ اے سفیان ایمان لے آؤ بچ جاؤ گے انہوں نے کہا لات و عزی کا کیا کروں ؟ ایوب کہتے ہیں مجھے ابو الخلیل نے سعید بن جبیر رحمۃاللہ علیہ سے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر میدان میں تھے وہ فرمانے لگے میں نے یہ کبھی نہیں کہا ابو سفیان نے پوچھا یہ کون ہے ! انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اسی وقت ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا ابو الفضل عباس ان کو (اپنے خیمے میں ) لے گئے ۔ جب صبح ہوئی تو لوگ اپنی سواریوں کی طرف تیزی سے گئے ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سفیان کہنے لگے ابوالفضل عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو وضو کا کہا تو انہوں نے وضو کیا اور ان کو لے کر خدمت نبوی کی طرف روانہ ہوئے جناب رسول اللہ ﷺ نے نماز میں داخل ہونے کے لئے تکبیر کہی تو لوگوں نے تکبیر کہی ۔ پھر آپ نے رکوع کیا تو انہوں نے رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا ۔ ابو سفیان کہنے لگے میں نے آج کے دن جیسی اطاعت یہاں سے وہاں تک اکھٹی کسی قوم میں نہیں دیکھی ۔ معزز فارسی قلعوں والے رومی اطاعت میں ان جیسے نہیں ہیں ۔ حماد کا قول : حماد کہتے ہیں کہ یزید بن حازم نے عکرم سے اپنے خیال کے مطابق یہ بیان کیا کہ ابو سفیان نے کہا اے ابوالفضل تمہارا بھتیجا تو بڑا بادشاہ بن گیا ۔ حضرت عباس کہنے لگے یہ بادشاہی نہیں بلکہ یہ بنوت ہے ۔ اس نے کہا وہ ہو یا وہ ہو ۔ (بہر حال وہ بڑا بن گیا ہے )راوی کہتے ہیں کہ پھر بات روایت ایوب عن عکرمہ کی طرف لوٹ آئی کہ ابو سفیان کہنے لگے پھر تو قریش کی بربادی ! راوی کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! اگر آپ مجھے اجازت مرحمت فرماتے تو میں اہل مکہ کے ہاں جاتا اور ان کو دعوت دیتا اور ان کو امان دیتا اور آپ ابو سفیان کے لئے کوئی ایس قابل تذکرہ چیز ٹھہرا دیں راوی کہتے ہیں وہ چل دئیے اور جناب رسول اللہ ﷺ کی شہباء نامی خچر پر سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔ راوی کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ میرے باپ کو میری طرف واپس لوٹاؤ میرے باپ کو میری طرف واپس لوٹاؤ ۔ بلا شبہ آدمی کا چچا اور باپ ایک ہی نسل سے ہوتے ہیں مجھے خطرہ ہے کہ قریش تمہارے ساتھ وہ سلوک کریں گے جو عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ قوم ثقیف نے کیا کہ اس نے ان کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دی تو انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ خبر دار ! اللہ کی قسم ! اگر انہوں نے ایسا ہی کیا میں ان پر آگ برساؤں گا ۔ راوی کہتے ہیں عباس روانہ ہوئے اور اعلان فرمایا ۔ اے اہل مکہ اسلام لاؤ ۔ بچ جاؤ گے ۔ تم دشوار اور سخت معاملے میں الجھ گئے ہو ۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بالائی مکہ کی طرف سے اور خالد بن ولید کی مسفلہ مکہ کی طرف سے روانہ فراما ۔ راوی کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے اور ان کو اعلان فرمایا یہ زبیر مکہ کی بالائی جانب سے اور خالد مکہ کے مسفلہ کی جانب سے آ رہے ہیں اور خالد تو خالد ہے اور خزاعہ کی ناک کاٹنے والے ہیں ۔ عبا س نے فرمایا ۔ جو ہتھیار ڈال دے ا سےامن ہے پھر جناب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اہل مکہ نے ان کی طرف تیر پھینکے ادھر سے بھی پھینکے گئے آپ ان پر غالب آ گئے تو لوگ امن میں آ گئے خزاعہ بنی بکر سے امن میں نہ تھے اور چار کا تذکرہ فرمایا مقیس بن ضبابہ ، عبداللہ بن ابی سرح ، ابن خطل ، بنی ہاشم کو لونڈی سارہ ان کو امن حاصل نہ تھا ۔ حماد کا قول : حماد نے حدیث ایوب یا کسی دوسرے روایت میں سارہ بتلایا ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے ان سے نصف نہار تک لڑائی کی پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ " الا تقاتلوں قوما نکفو ا ایمانھم وھموا با خراج الرسول " ( التوبی -15)تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا اور جناب رسول اللہ ﷺ کو نکالنے کا ارادہ کیا ۔ آیت کے آخر تک ۔

عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5322

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5323

5036 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس قال سمعت بن إسحاق يقول حدثنا محمد بن مسلم بن شهاب الزهري وغيره قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد صالح قريشا عام الحديبية على أنه من أحب أن يدخل في عقد رسول الله صلى الله عليه و سلم وعهده دخل فيه ومن أحب أن يدخل في عقد قريش وعهدهم دخل فيه فتواثبت خزاعة وبنو كعب وغيرهم معهم فقالوا نحن في عقد رسول الله صلى الله عليه و سلم وسلم وعهده [ ص 316 ] وتواثبت بنو بكر فقالوا نحن في عقد قريش وعهدهم وقامت قريش على الوفاء بذلك سنة وبعض سنة ثم إن بني بكر عدوا على خزاعة على ما لهم بأسفل مكة فقال له الزبير بيتوهم فيه فأصابوا منهم رجلا ونجاوز القوم فاقتتلوا ورفدت قريش بني بكر بالسلاح وقاتل معهم من قاتل من قريش بالنبل مستخفيا حتى جاوزوا خزاعة إلى الحرم وقائد بني بكر يومئذ نوفل بن معاوية فلما انتهوا إلى الحرم قالت بنو بكر يا نوفل إلهك إلهك إنا قد دخلنا الحرم فقال كلمة عظيمة لا إله له اليوم يا بني بكر أصيبوا ثأركم قد كانت خزاعة أصابت قبل الإسلام نفرا ثلاثة وهم متحرفون دويبا وكلثوما وسليمان بن الأسود بن زريق بن يعمر فلعمري يا بني بكر إنكم تسرقون في الحرم أفلا تصيبون ثأركم فيه قال وقد كانوا أصابوا منهم رجلا ليلة بيتوهم بالوتير ومعه رجل من قومه يقال له منبه رجلا مفردا فخرج هو وتميم فقال منبه يا تميم أنج بنفسك فأما أنا فوالله إني لميت قتلوني أو لم يقتلوني فأنطلق تميم فأدرك منبه فقتلوه وأفلت تميم فلما دخل مكة لحق إلى دار بديل بن ورقاء ودار رافع مولى لهم وخرج عمرو بن سالم حتى قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم فوقف ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس في المسجد فقال عمرو ... لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا ... ... والدا كنا وكنت ولدا ... ثمة أسلمنا فلم ننزع يدا ... ... فأنصر رسول الله نصرا أعتدا ... وأدع عباد الله يأتوا مددا ... ... فيهم رسول الله قد تجردا ... إن سيم خسفا وجهه تربدا ... ... في فيلق كالبحر يأتي مزبدا ... إن قريشا أخلفوك الموعدا ... ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا ... وجعلوا لي في كداء رصدا ... ... وزعموا أن لست أدعو أحدا ... وهم أذل وأقل عددا ... ... هم بيتونا بالوتير هجدا ... فقتلونا ركعا وسجدا ... قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نصرت بني كعب ثم خرج بديل بن ورقاء في نفر من خزاعة حتى قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالمدينة فأخبروه بما أصيب منهم وقد رجعوا وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كأنكم بأبي سفيان قد قدم ليزيد في العهد ويزيد في المدة ثم ذكر نحوا مما في حديث أيوب عن عكرمة في طلب أبي سفيان الجواب من أبي بكر ومن عمر ومن علي ومن فاطمة رضي الله عنهم أجمعين وجواب كل واحد منهم له بما أجابه في ذلك على ما في حديث أيوب عن عكرمة ولم يذكر خبر أبي سفيان مع العباس رضي الله عنه ولا أمان العباس إياه ولا إسلامه ولا بقية الحديث قال أبو جعفر في هذين الحديثين أن الصلح الذي كان بين رسول الله صلى الله عليه و سلم وبين أهل مكة دخلت خزاعة في صلح رسول الله صلى الله عليه و سلم للحلف الذي كان بينهم وبينه ودخلت بنو بكر في صلح قريش للحلف الذي كان بينهم وبينه فصار حكم حلفاء كل فريق من رسول الله صلى الله عليه و سلم ومن قريش في الصلح كحكم رسول الله صلى الله عليه و سلم وحكم قريش وكان بين حلفاء رسول الله صلى الله عليه و سلم وبين حلفاء قريش من القتال ما كان فكان ذلك نقضا من حلفاء قريش للصلح الذي كانوا دخلوا فيه وخروجا منهم بذلك منه فصاروا بذلك حربا لرسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه رضي الله عنهم ثم أمدت قريش حلفاءها هؤلاء بما قووهم به على قتال خزاعة حتى قتل منهم من قتل وقد كان الصلح منعهم من ذلك فكان فيما فعلوا من ذلك نقضا للعهد وخروجا من الصلح فصارت قريش بذلك حربا لرسول الله صلى الله عليه و سلم ولأصحابه فقال الآخرون وكيف يكون بما ذكرتم كما وصفتم وقد رويتم أن أبا سفيان وفد على رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة بعد أن كان بين بني بكر وبين خزاعة من القتال ما كان وبعد أن كان من قريش لبني بكر من المعونة لهم ما كان علم رسول الله صلى الله عليه و سلم بموضعه فلم يصله ولم يعرض له فدل ذلك على أنه كان عنده في أمانه على حاله غير خارج منه مما كان من بني بكر في قتال خزاعة وما كان من قريش في معونة بني بكر بما أعانوهم به من الطعام والسلاح والتظليل غير ناقض لأمانه بصلحه الذي كان بينه وبين رسول الله صلى الله عليه و سلم وغير مخرج له منه فكان من الحجة عليهم للآخرين أن ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم التعرض لأبي سفيان لم يكن لأن الصلح الذي كان بين رسول الله وبين أهل مكة قائم ولكنه تركه لأنه كان وافدا إليه من أهل مكة طالبا الصلح الثاني سوى الصلح الأول لانتقاض الصلح الأول فلم يعرض له رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل ولا غيره لأن من سنة الرسل أن لا يقتلوا

محمد بن مسلم بن شہاب زہری وغیرہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قریش سے حدیبیہ والے سال اس شرط پر صلح کی جو قبیلہ چاہے جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدے میں شامل ہو جائے اور جو آدمی چاہے وہ عقد قریش میں داخل ہو ۔ تو بنو خزاعہ اور بنو کعب وغیرہ اور ان کے حامی قبائل کود پڑے اور کہنے لگے ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے عقد اور عہد میں شامل ہوتے ہیں قریش نے اس معاہدے کی ایک سال اور دوسرے سال کا کچھ حصہ پاسداری کی ۔ پھر اسفل مکہ میں بنو بکر نے بنو خزاعہ کے مال پر حملہ کر کے لوٹ لیا ۔ زبیر نے کہا ان پر رات کو حملہ کر دو ۔ چنانچہ انہوں نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا وہ لوگ آگے بڑھے اور باہمی لڑنے لگے ۔ قریش نے اسلحہ سے بنو بکر کی امداد کی اور قریش نے خفیہ طور پر تیروں کے ذریعہ لڑائی میں شرکت کی ۔ یہاں تک کہ بنو خزاعہ حرم تک پہنچ گئے اس وعقت بنو بکر کا سپہ سالار نوفل بن معاویہ تھا۔ جب وہ حرم میں داخل ہو چکے ۔ تو اس نے بڑی بری بات کہی ۔ آج اس کا کوئی معبود نہیں ۔ اے بنی بکر تم اپنا بدلہ چکاؤ اسلام سے پہلے بنو خزاعہ نے ان کے تین آدمی قتل کئے تھے اور وہ لڑائی سے الگ تھے ان کے نام یہ تھے نمبر 1 ذویب ۔ نمبر 2 کثوم ۔ نمبر 3 سلیمان بن اسود بن زریق یعمری ۔ اے بنی بکر ۔ میری عمر کی قسم ! اگرچہ تم حرم میں پہنچ رہے ہو کیا تم اس میں اپنا بدلہ نہ لو گے ؟ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے بنوخزاعہ کے ایک آدمی کو مقام و تیر میں شب خون مار کر قتل کر دیا تھا اس وقت اس کے ساتھ اس کی قوم کا ایک منبہ نامی آدمی تھا وہ اکیلا آدمی تھا چنانچہ وہ اور تمیم دونوں نکلے۔ منبہ نے کہا اے تمیم تم اپنے آپ کو بچاؤ ، اللہ کی قسم ! میں مارا جاؤ ں گا ۔ خواہ وہ مجھے قتل کریں یا اور کچھ ۔ تمیم چلا گیا انہوں نے منبہ کو پا کر قتل کر دیا اور تمیم بچ نکلا ۔ جب وہ مکہ میں داخل ہوا تو بدیل بن ورقاء اور ان کے غلام رافع سے ملا اور عمرو بن سالم خزاعی وہاں سے نکلا اور جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کھڑا ہو گیا اس وقت جناب رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور اس نے یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے ۔ نمبر 1 : اے اللہ ! میں حضرت محمد ﷺ کو پانا اور اپنے دادا کا پرانا عہد یاد دلاتا ہوں ۔ نمبر 2 : ہم تمہارے لئے باپ کی جگہ تھے اور تم بیٹوں کی جگہ بلا شبہ قریش نے اپنے عہد کو توڑڈالا ہے ۔ نمبر 3: اور آپ کے پکے وعدے کو توڑ دیا ہے اور انہوں نے میرے لئے بھی مقام کداء میں مورچہ بنایا ۔ نمبر 4: ہم وہاں اسلام لائے اور آج تک بیعت سے ہاتھ نہیں کھینچا ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ ہماری مضبوط مدد فرمائیں ۔ نمبر 5 : اللہ تعالی کے بندوں کو بلاؤ ۔ وہ مدد کے لئے آئیں گے ۔ نمبر 6 : ان میں اللہ کا رسول ہے جنہوں نے تلوار کو سونتا ہے اگر کسی نے ذلت کا ارادہ کیا تو آپ کا چہرہ محفوظ کر دیا جاتا ہے ۔ نمبر 7 : وہ بہت بڑے لشکر میں ہیں جو جھاگ مارنے والے سمندر کی طرح ہے ۔نمبر 8: اور ان کا خیال یہ تھا کہ میں کسی کو نہ بلاؤں گا حالانکہ وہ زیادہ ذلیل اور عدد میں کم ہیں ۔ نمبر 9 : تہجد کے وقت مقام و تیر میں انہوں نے ہم پر شب خون مار کر رکوع و سجدہ میں ہمیں قتل کر دیا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور اپنے اوپر گزری ہوئی واردات سنا کر واپس آ گئے آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس ابو سفیان معاہدے کی طوالت اور مدت میں اضافے کے لئے آئے گا ۔ پھر اسی قسم کی روایت بیان کی کہ ابو سفیان نے حضرت ابو بکر ، عمر اور علی المرتضی ۔ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ بات کی اور ان حضرات نے جو جوابات دئیے وہ ذکر کئے ۔ ایوب نے اپنی روایت میں ابو سفیان کی عباس رضی اللہ عنہ سے گفتگو اور ان کو امن دینے اور ان کے اسلام لانے کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کا باقی حصہ نقل کیا ہے ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں ، ان ددونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صلح جو جناب رسول اللہ ﷺ اور اہل مکہ میں ہوئی بنو خزاعہ قبیلہ اس میں داخل ہو گیا اس لئے وہ پہلے سے آپ کے حلیف چلے آ رہے تھے اور بنو بکر قریش کی صلح میں شامل ہو گئے کیونکہ ان کے اور قریش کے مابین پہلے سے معاہدہ چلا آ رہا تھا اور ہر فریق کے حلیف کا حکم بھی اصل معاہدہ کرنے والوں جیسا ہو گیا جناب رسول اللہ ﷺ کے حلفاء اور قریش کے حلفاء میں لڑائی ہو گئی اس سے حلفاء قریش اس معاہدے سے خارج ہو گئے اس سے وہ جناب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرا م کے خلاف لڑنے والے بن گئے پھر اس سے بڑھ کر قریش نے اپنے حلفاء کی امداد کر کے ان کو بنو خزاعہ کے قتل کے لئے تقویت پہنچائی اور ان کے کئی آدمی مقتول ہوئے حالانکہ صلح اس کے لئے رکاوٹ تھی ۔ پس ان کی یہ حرکت نبھی نقص عہد تھا اور سلح سے نکلنا تھا اس سے قریش بھی آپ کے اور اصحاب کے محارب بن گئے ۔ جو تم نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ابو سفیان مدینہ منورہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور یہ حاضری بنو بکر و بنو خزاعہ کی لڑائی کے بعد تھی اور قریش اس سے قبل بنو بکر کی مدد کر چکے تھے جناب رسول اللہ ﷺ کو ابو سفیان کی اس حالت کا علم تھا مگر اس کے باوجود نہ تو آپ نے صلہ رحمی فرمائی اور نہ ہی اس پر تعرض فرمایا تو کیا یہ اس بات کی کھلی دلیل نہیں کہ آپ کے نزدیک وہ امان میں تھا بنو بکر و بنوخزاعہ کی لڑائی کی وجہ سے وہ امان سے خارج نہ ہوا تھا اور قریش نے بنو بکر کی اسلحہ او رکھانے سے جو معاقنت کی تھی اس کے باوجود وہ صلح ختم نہ ہوئی تھی ۔ جو ان کے اور جناب نبی اکرم ﷺ کے درمیان ہوئی تھی اور نہ وہ اس سے خارج ہوئے تھے ۔ فریق اول کا کہنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ابو سفیان سے تعرض نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ جو صلح آپ کے اور مکہ والوں کے درمیان ہوئی تھی وہ ابقی تھی بلکہ آپ کے چھوڑنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کی خدمت میں تجدید صلح کے لئے آیا تھا ۔ کیونکہ پہلی صلح ٹوٹ چکی تھی ( جیسا کہ روایات میں یہ بات واضح ہے ) اس کی آمد کی غرض سے آپ نے بذریعہ وحی پہلے مطلع کیا ) باقی قتل کے لئے تعرض نہ کرنے کی وجہ صلح کا نہ ٹوٹنا نہیں بلکہ یہ وجہ تھی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا ۔ جیسا کے مندرجہ ذیل روایت اس شاہد ہے ۔

محمد بن مسلم بن شهاب الزهري وغيره ← بن إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5323

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5324

5037 - ثم قد روي عنه في ذلك ما حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل قال ثنا أبو بكر بن عياش قال ثنا عاصم بن بهدلة قال حدثني أبو وائل قال ثنا بن معير السعدي قال خرجت أستبق فرسا لي بالشجر فمررت على مسجد من مساجد بني حنيفة فسمعتهم يشهدون أن مسيلمة رسول الله فرجعت إلى عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فذكرت له أمرهم فبعث الشرط فأخذوهم وجئ بهم إليه فتابوا ورجعوا عما قالوا وقالوا لا نعود فخلي سبيلهم وقدم رجل منهم يقال له عبد الله بن النواحة فضرب عنقه فقال الناس أخذت قوما في أمر واحد فخليت سبيل بعضهم وقتلت بعضهم فقال كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا فجاءه بن النواحة ورجل معه يقال له بن وثال بن حجر وافدين من عند مسيلمة فقال لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم أتشهدان أني رسول الله فقالا أتشهد أنت أن مسيلمة رسول الله فقال آمنت بالله وبرسوله لو كنت قاتلا وفدا لقتلتكما فلذلك قتلت هذا

ابو وائل نے ابن معیر سعدی سے روایت کی ہے کہ میں مقام شجرہ میں اپنے گھوڑے کو دوڑ لگوانے کے لئے نکلا ، میرا گزر بنو حنیفہ کی ایک مسجد کے پاس سے ہوا میں سنا کہ وہ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ میں اسی دم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ کر آیا اور میں نے ان کا معاملہ ان کے سامنے رکھا انہوں نے پولیس بھیج کر ان کو گرفتار کرا لیا اور ان کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا ( ترغیب دلانے پر ) انہوں نے توبہ کر کے اپنی بات سے رجوع کیا اور انہوں نے نے وعدہ کیا کہ ہم دوبارہ یہ حرکت نہ کریں گے آپ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا ۔ ان میں ایک آدمی آیا جس کو عبداللہ بن نواحہ کہتے ہیں تھے چنانچہ اس کی گردن اڑا دی گئی تو لوگ کہنے لگے تم نے ایک گروہ کو ایک ہی معاملے میں پکڑا اور ان میں بعض کو جانے دیا اور بعض کو قتل کر دیا ( یہ تفاوت کیوں ؟ ) تو آپ نے فرمایا میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ابن النواحہ آپ کی خدمت میں آ یا اور اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا جو ابن وثال بن حجر کے نام سے پکارا جاتا تھا یہ دونوں مسیلمہ کی طرف سے وفد بن کر آئے تھے ۔ ان دونوں کی جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میری رسالت کی گواہی دیتے ہو ؟ دونوں کہنے لگے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ؟ آپ نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسدول پر ایمان لاتا ہوں اگر میں وفد کو قتل کرتا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا تو اس شخص کو میں نے اسی وجہ سے قتل کیا ہے ۔

بن معير السعدي ← أَبُو وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5324

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5325

5038 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن بكير بن الأشج أن الحسن بن علي بن أبي رافع حدثه أن أبا رافع أخبره أنه أقبل بكتاب من قريش إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فلما رأيت النبي صلى الله عليه و سلم ألقي في قلبي الإسلام فقلت يا رسول الله إني والله لا أرجع إليهم أبدا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أما إني لا أخيس بالعهد ولا أحبس البرد ولكن أرجع فإن كان في قلبك الذي في قلبك الآن فأرجع قال فرجعت ثم أقبلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأسلمت قال بكير وأخبرني أن أبا رافع كان قبطيا

حسن بن علی بن ابی رافع نے بیان کیا کہ مجھے رافع نے بتلایا کہ میں قریش کی طرف سے ایک خط لے کر جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام ڈال دیا گیا تو میں نے کہا یا رسول اللہﷺ میں تو کبھی قریش کی طرف لوٹ کر نہ جاؤں گا ۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں لیکن تم لوٹ کر جاؤ ۔ اگر تیرے دل میں وہی رہے جو تیرے دل میں اب ہے تو واپس لوٹ آؤ ۔ ابو رافع کا بیان ہے کہ میں واپس لوٹ آیا پھر جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا ۔

أن أبا رافع ← بُكَيْرِ بنِ الأَشَجِّ، أَنَّ الحَسَنَ بْنَ عَليِّ بنِ أَبي رَافِعٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5325

chevron_left Previous
1…2930313233
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter