شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5314
5028 - حدثنا أيضا يزيد بن سنان قال ثنا محمد بن أبي رجاء الهاشمي قال ثنا أبو معشر عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن عبد الله مولى غفرة قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وولي أبو بكر رضي الله عنه قدم عليه مال من البحرين فقال من كان له على رسول الله صلى الله عليه و سلم عدة فليأتني وليأخذ [ ص 305 ] فأتى جابر بن عبد الله فقال وعدني رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتاه مال من البحرين أعطاني هكذا وهكذا وهكذا ثلاث مرات ملء كفيه قال خذ بيدك فأخذ بيده فوجدها خمسمائة فقال أعدد إليها ألفا ثم أعطى من كان وعده رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ثم قسم بين الناس ما بقى فأصاب كل إنسان منهم عشرة دراهم فلما كان العام المقبل جاءه مال كثير أكثر من ذلك فقسمه بين الناس فأصاب كل إنسان عشرون درهما وفضل من المال فضل فقال يا أيها الناس قد فضل فضل ولكم قدم يعالجون لكم ويعملون لكم فإن شئتم رضخنا لهم فرضخ لهم خمسة دراهم خمسة دراهم فقيل يا خليفة رسول الله صلى الله عليه و سلم لو فضلت المهاجرين والأنصار بفضلهم قال إنما أجورهم على الله إنما هذا مغانم والأسوة في المغانم أفضل من الأثرة فلما توفي أبو بكر رضي الله عنه واستخلف عمر فتحت عليه الفتوح وجاءهم مال أكثر من ذلك فقال كان لأبي بكر رضي الله عنه في هذا المال رأي ولي رأي آخر رأي أبو بكر أن يقسم بالسوية ورأيت أن أفضل المهاجرين والأنصار ولا أجعل من قاتل رسول الله صلى الله عليه و سلم كمن قاتل معه ففضل المهاجرين والأنصار فجعل لمن شهد بدرا منهم خمسة آلاف ومن كان له إسلام مع إسلامهم إلا أنه لم يشهد بدرا أربعة آلاف أربعة آلاف وللناس على قدر إسلامهم ومنازلهم وفرض لأزواج النبي صلى الله عليه و سلم اثني عشر ألفا لكل أمرأة منهن إلا صفية وجويرية فرض لهما ستة آلاف ستة آلاف فأبتا أن تأخذا فقال إنما فرضت لكن بالهجرة فقالتا إنما فرضت لهن لمكانهن من رسول الله صلى الله عليه و سلم ولنا مثل مكانهن فأبصر ذلك عمر رضي الله عنه فجعلنه سواء وفرض للعباس بن عبد المطلب اثني عشر الفا لقرابته من رسول الله صلى الله عليه و سلم وفرض لنفسه خمسة آلاف وفرض لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه خمسة آلاف وربما زاد الشيء وفرض للحسن والحسين رضي الله عنهما خمسة آلاف خمسة آلاف ألحقهما بأبيهما لقرابتهما من رسول الله صلى الله عليه و سلم وفرض لأسامة بن زيد رضي الله عنه أربعة آلاف وفرض لعبد الله بن عمر رضي الله عنهما ثلاثة آلاف فقال له عبد الله بن عمر رضي الله عنهما بأي شيء زدته علي قال فبما فما كان لأبيه من الفضل ما لم يكن لك ولم يكن له من الفضل ما لم يكن لي فقال إن أباه كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من أبيك وكان هو أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم منك وفرض لأبناء المهاجرين والأنصار ممن شهد بدرا ألفين ألفين فمر به عمر بن أبي سلمة فقال زده ألفا يا غلام وقال محمد بن عبد الله بن جحش لأي شيء زدته علي والله ما كان لأبيه من الفضل ما لم يكن لآبائنا قال فرضت لأبي سلمة ألفين وزدته لأم سلمة ألفا فلو كانت لك أم مثل أم سلمة زدتك ألفا وفرض لأهل مكة ثماني مائة في الشرف منهم ثم الناس على قدر منازلهم وفرض لعثمان بن عبد الله بن عثمان بن عمرو ثماني مائة وفرض للنضر بن أنس في الفي درهم فقال له طلحة بن عبيد الله جاءك بن عثمان بن عمرو ونسبه إلى جده ففرضت له ثماني مائة وجاءك هنبة من الأنصار ففرضت له في الفين فقال إني لقيت أبا هذا يوم أحد فسألني عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ما أراه إلا قد قتل فسل سيفه وكسر غمده وقال إن كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قتل فإن الله حي لا يموت وقاتل حتى قتل وهذا يرعى الغنم بمكة أفتراني أجعلهما سواء قال فعمل عمر عمره كله بهذا حتى إذا كان في آخر السنة التي قتل فيها سنة ثلاث وعشرين حج فقال أناس من الناس لو مات أمير المؤمنين قمنا إلى فلان بن فلان فبايعناه قال أبو معشر يعنون طلحة بن عبيد الله فلما قدم عمر المدينة خطب فقال في خطبته رأى أبو بكر في هذا المال رايا رأى أن يقسم بينهم بالسوية ورأيت أن أفضل المهاجرين والأنصار بفضلهم فإن عشت هذه السنة أرجع إلى رأي أبي بكر فهو خير من رأي أفلا ترى أن أبا بكر رضي الله عنه لما قسم سوى بين الناس جميعا فلم يقدم ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم على من سواهم ولم يجعل لهم سهما في ذلك المال أبانهم به عن الناس فذلك دليل على أنه كان لا يرى بهم بعد موت رسول الله صلى الله عليه و سلم حقا في مال الفيء سوى ما يأخذونه كما يأخذ من ليس بذوي القربى ثم هذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما أفضى إليه الأمر ورأى التفضيل بين الناس على المنازل لم يجعل لذوي القربى سهما يبينون أي يمتازون به على الناس ولكنه جعلهم وسائر الناس سواء وفضل بينهم بالمنازل غير ما يستحقونه بالقرابة لو كان لأهلها سهم قائم فدل ذلك على ما ذهبنا إليه من ارتفاع سهم ذوي القربى بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث روى عن عمر رضي الله عنه
غفرہ کے آزاد کردہ غلام عمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس بحرین کا مال آیا ۔ تو انہوں نے اعلان فرمایا ۔ جس آدمی کا جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی وعدہ ہو ۔ وہ آئے اور لے لے ۔ پس حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بحرین کا مال آئے گا مجھے اتنا ۔ اتنا عنایت فرمائیں گے آپ نے تین مرتبہ دونوں ملا کر بھر کر فرمایا ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنےلگے اپنے ہاستھ سے لے لو ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے لیا تو شمار کرنے پر پانچ سو نکلے انہوں نے فرمایا ان کے ساتھ ایک ہزار اور گن لو ۔ پھر انہوں نے جن کے ساتھ جناب رسول اللہ ﷺ نے کچھ بھی وعدہ فرمایا تھا ان کو دیا ۔ بقیہ مال لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہر آدمی کو بیس بیس درہم ملے پھر بھی مال مین سے کچھ بچ گیا ۔ تو اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کے قول فھی لھولہ ء ۔ سے ذوالقربی کے حصہ کا اس وقت تک کے لئے باقی رہنا لازم نہیں آتا جس میں اس کے متعلق وہ کہا گیا جو کہا گیا ۔ حضرت مالک بن اوس کی یہ روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے جو ذوالقربی کے حصہ سے متعلق ہے یہ روایت مخالف اور معارض ہے اور صیح معارض ہے ۔ (پس اس پر اعتراض باطل ہوا ) ذرا غور تو کرو کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان مال کو برابر تقسیم کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابتداروں کو دوسروں سے مقدم نہ کیا ان کے لئے اس مال میں ایسا حصہ مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے امتیاز والے ہوں اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آُ کے قرابت داروں کے لئے مال فئی میں صرف وہی حصہ خیال کرتے تھے جو وہ غیر قرابت داروں کو دیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب حکومت ملی تو انہوں نے صاحبہ کرام میں درجات کے لحاظ سے فضیلت دینا مناسب خیال کیا تو انہوں نے بھی اہل قرابت کے لئے کوئی ایسا حصہ مقرر نہیں جس کی وجہ سے انہیں دوسرے لوگوں پر برتری حاصل ہو بلکہ انہوں نے ان کو اور باقی کوگوں کو برابر رکھا اور ان کے مابین صرف مراتب کے لحاظ سے فضیلت کو قائم کیا نہ کہ جس کے وہ قرابت کے لحاظ سے حقدار تھے اگر ان کا کوئی مقررہ حصہ ہوتا تو وہ ضرور قائم کرتے ۔ کہ ذوالقربی کا حصہ وفات رسول اللہﷺ سے مرتفع ہو گیا ۔ جیسا کہ رویات عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے ۔ اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آیت " واعلمو انما غنمتم الایۃ" تلاوت فرمائی پھر فرمایا یہ غنیمت ان لوگوں کے لئے ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ذوی القربی کا حصہ ان کے ہاں جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ثابت تھا ۔ جیسا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں ثابت تھا ۔ تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زوی القربی کا حصہ ان کو دینے سے انکار فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ان حضرات کا حق نہ بنتا تھا تو اس بات کے ہوتے ہوئے پھر یہ دعوی مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت سے کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ وہ وفات رسول اللہ کے بعد اس حصے کے قائل تھے ۔ بلکہ اس روایت سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حصہ ان کوگوں کے لئے ہے یعنی اللہ تعالی نے یہ آیت جناب رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی تو اس وقت یہ ان کا حصہ تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کےلئے مقرر فرمایا ۔ جسو طرح کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حصہ کی اضافت آپ کی طرف فرمانے کا معنی بھی یہی ہے کہ وہ آپ کی حیات مبارکہ میں اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے لئے نہ تھا بلکہ آپ کی نزندگی میں تو جاری تھا مگر وفات شریفہ سے منقطع ہو گیا بالکل اسی طرح جو کچھ آپ کے قرابت داروں کی طرف منسوب ہوا وہ بھی آپ کی حیات طیبہ سے یہ حصہ مرتفع (ختم ) ہو گیا ۔ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کچھ مال بچ گیا ہے تمہارے لئے کچھ لوگ مقدم ہیں جو تمہارے لئے کال کرتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں اگر تم پسند کرتے ہو تو ہم ان کو دے دیتے ہیں پس ان کو پانچ پانچ درہم عنایت فرمائے ۔ آپ سے کہا گیا اے خلیفہ رسول اللہﷺ اگر آپ مہاجرین و انصار کو ان کی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دیتے ہیں تو مناسب تھا ۔ آپ نے فرمایا ان کے اجر اللہ تعالی کے ذمہ ہیں یہ تو غنائم ہیں ان میں نترجیح کی بنسبت برابرہ افضل ہے ۔ پھر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور ان کے ہاتھوں خوب فتوحات ہوئیں اور ان کے پاس اس سے زیادہ اموال آئے تو انہوں نے فرمایا اس مال کے متعلق ایک حضرت ابو بکر ۔ کی رائے تھی اور ایک میری رائے ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے برابر تقسیم کی تھی اور میری رائے یہ ہے کہ میں مہاجرین و انصار کو فضیلت دوں اور ان کو جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑائی کے (زمانہ کفر میں ) ان کی طرح قرار نہ دوں جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر ( ہمیسہ کفر کے خلاف ) لڑائی کی ۔ پس آپ نے مہاجرین و انصار کو فضیلت دی بدرپین کو پانچ ہزار اور جو ان کے ساتھ اسلام لائے مگر بدر میں حاضر نہیں ہوئے ان کےلئے چار ہزار اور دیگر لوگوں کو ان کے اسلام اور مراتب کے مطابق دیا ۔ اور ازواج نبی ﷺ کے لئے بارہ ہزار مقرر کیا یہ مقدار تمام کے لئے یکساں رکھی مگر صفیہ رضی اللہ عنہا اور جویریہ رضی اللہ عنہا کی طرف چھ ہزار بھیجا انہوں نے لینے سے انکار کیا تو آپ نے فرمایا میں نے ہجرت کی وجہ سے مقرر کیا ۔ دونؤں نے کہا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ان کے لئے مقر رکیا اور ہمارا مرتبہ بھی بحثیت زوجہ ان کے ساتھ برابر ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو سمجھ گئے اور ان کا حصہ برابر کر دیا ۔جناب رسول اللہ ﷺ سے قرابت کی وجہ سے حضرت عبا س بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے لئے بارہ ہزار مقرر فرمائے اور اپنے لئے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے بھی پانچ ہزار مقرر کئے اور بعض اوقات زائد بھی دئیے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لئے بھی پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے ۔ قرابت کی وجہ سے ان دونوں حضرات کو ان کے والد کے ساتھ ملا دیا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے چار ہزار اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے تین ہزار مقرر فرمائے ۔ انہوں نے گزارش کی کہ آپ نے کس وجہ سے انہیں مجھ سے زیادہ دیا ان کے والد کو آپ کی طرح ٖجیلت حاصل نہیں اور انہیں مجھ سے بڑھ کر فضیلت نہیں ۔ حضرت عمر فرمانے لگے جناب رسول اللہ ﷺ کو ان کے والد تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے ۔ انصار و مہاجرین کے بچو ں کے لئے دو ہزار مقرر فرمائے ۔ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا اے غلام ! ان کو کچھ زیادہ دے دو اس پر محمد بن عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے ان کو مجھ سے زیادہ کس وجہ سے دئیے تو فرمایا ان کے والد کو اللہ کی قسم ! ہمارے آباؤ اجداد سے زیادہ فضیلت حاصل نہیں ہے آپ نے فرمایا میں نے حضرت ابو سلمہ کے لئے دو ہزار مقرر کئے ہیں اور حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ایک ہزار کا اضافہ کیا ہے ۔ اگر تمہاری ماں بھی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا جیسی ہوتی تو میں تمہیں بھی ایک ہزار زائد دیتا ۔ اہل مکہ کے لئے ان کے احترام و اعزاز میں آٹھ سو مقررکیا پھر ان کو ان کے مرتبے کے مابق عنایت فرمایا حضرت عثمان بن عبداللہ بن عثمان بن عمرو کے لئے آٹھ سو مقرر فرمائے جبکہ نضر بن انس رضی اللہ عنہ کے لئے دو ہزار ۔ اس پت حضرت طلحہ بن عبیدا للہ نے عرض کیا کہ آپ کے پاس حضرت عثمان بن عمر و رضی اللہ عنہ کا بیٹا آیا ( اور دادا کی طرف نسبت بتلائی ) تو آپ نے اس کو آٹھ سو دئیے اور انصار کا ایک سست آدمی آیا تو آپ نے اس کےلئے دو ہزار مقرر کردئیے ۔ آپ نے فرمایا میں غزوہ احد کے دن اس کے باپ سے ملاقات کی تو اس نے مجھ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے متعلق دریافت کیا میں کہا میرا خیال ہے کہ آپ شہید ہو گئے ہین چنانچہ اس نے تلوار لے کر اس کا پرتلہ توڑ ڈالا اور کہ اجناب رسول اللہ ﷺ اگر شہید ہو گئے تو خدا تو زندہ ہے اسے موت نہ آئے ی اور لڑتے رہے بیہاں تک کہ شہید ہو گئے اور یہ مکہ میں بکریاں چراتا رہا تمہارا کیا خیال ہے کہ میں ان کو برابر کر دوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت اپنے دور خلافت میں اسی پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ جب آخری سال آیا جس میں جام شہادت نوش کیا 23 ھ کو تو آپ نے حج کیا بعض لوگوں نے کہا اگر امیر المؤمنین وفات پا جائیں تو ہم فلاں فلاں کی بیعت کر لیں گے ۔حضرت ابو معشر راوی کہتےہیں ان کی مراد حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے جب عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس لوٹے تو آپ نے خطبہ دیا اور اپنے خطبہ میں فرمایا ۔ اس مال کے متعلق ایک رائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تھی کہ ان کے مابین برابر تقسیم کیا جائے اور میری رائے یہ تھی کہ مہاجرین و انصار کو ان کی فضیلت کے باعث ترجیح دوں اگر میں اس سال زندہ رہا تو میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف رجوع کروں گا ان کی رائے میری رائے سے بہتر ہے ۔ ذرا غور تو کرو کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان مال کو برابر تقسیم کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابتداروں کو دوسروں سے مقدم نہ کیا ان کے لئے اس مال میں ایسا حصہ مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے امتیاز والے ہواس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آپ کے قرابت داروں کے لئے مال فئی میں صرف وہی حصہ خیال کرتے تھے جو غیر قرابت داروں کو دیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب حکومت ملی تو انہوں نے صحابہ کرام میں درجات کے لحاظ سے فضیلت دینا مناسب خیال کیا تو انہوں نے بھی اہل قرابت کے لئے کوئی ایسا حصہ مقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں دوسرے لوگوں پر برتری حاصل ہو بلکہ انہوں نے ان کو اور باقی لوگوں کو برابر رکھا اور ان کے مابین صرف مراتب کے لحاظ سے فضیلت کو قائم کیا نہ کہ جس کے وہ قرابت کے لحاظ سے حقدار تھے اگر ان کا کوئی مقررہ حصہ ہوتا تو وہ ضرور قائم ہوتا ۔
عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أبو معشر ← محمد بن أبي رجاء الهاشمي ← أيضا يزيد بن سنان
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5314
