Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4990

4720 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا هشيم عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال حدثني أنس بن مالك قال لما فتحنا تستر بعثني أبو موسى إلى عمر فلما قدمت عليه قال ما فعل حجيبة وأصحابه وكانوا إرتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقتلهم المسلمون فأخذت به في حديث آخر فقال ما فعل النفر البكريون قلت يا أمير المؤمنين إنهم إرتدوا عن الإسلام ولحقوا معهم بالمشركين فقتلوا فقال عمر لأن يكون أخذتهم سلما أحب إلي من كذا وكذا قلت يا أمير المؤمنين ما كان سبيلهم لو أخذتهم سلما إلا القتل قوم إرتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقال لو أخذتهم سلما لعرضت عليهم الباب الذي خرجوا منه فإن رجعوا وإلا استودعتهم السجن

شعی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رویات کی ہے کہ جب ہم نے تستر فتح کر لیا تو ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا ۔ جب میں ا ن کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے پوچھا حجیبہ اور اس کے ساتھیوں نے کیا کیا ۔ یہ لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے تھے اور مشرکین سے جا ملے تھے ۔ پھر مسلمانوں نے ان کو قتل کر دیا ۔ پھر میں نے اور بات شروع کر دی آپ نے پھر دریافت فرمایا ۔ بکر قبیلہ کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا ۔ میں نے عرض کیا وہ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جاملے تھے ۔پس وہ قتل کر دیئے گئے ۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں ان کو سلامت پکڑتا تو اس سے مجھے زیادہ پسند تھا ۔ میں عرض کیا اے امیرالمومنین ! اگر وہ صیح سلامت پکڑ بھی لئے جاتے تب بھی قتل کے سوا چارہ نہ تھا کیونکہ وہ لوگ اسلام سے ارتداد اختیار کر کے مشرکین سے جا ملے تھے ۔ آپ نے فرمایااگر میں ان کو زندہ پکڑتا تو میں ان پر اس دروازے کو وسیع کر دیتا جس سے وہ نکلے تھے اگر وہ لوٹ آتے تو ٹھیک ورنہ میں ان کو قید کے سپرد کر دیتا ۔

لما فتحنا تستر بعثني أبو موسى إلى عمر فلما قدمت عليه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4990

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4991

4721 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال أخذ بالكوفة رجال يفشون حديث مسيلمة الكذاب فكتب فيهم إلى عثمان بن عفان فكتب عثمان أن أعرض عليهم دين الحق شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فمن قبلها وتبرأ من مسيلمة فلا تقتله ومن لزم دين مسيلمة فاقتله فقبلها رجال منهم فتركوا ولزم دين مسيلمة رجال فقتلوا

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ کوفہ میں کچھ لوگ ایسے گرفتار ہوئے جو مسیلمہ کذاب کا مذہب پھیلا رہےتھے ۔ پس ان کے متعلق حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا کہ ان کے سامنے دین حق پیش کرو اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت پیش کرو ۔ جو ان میں سے قبول کر کے مسیلمہ سے براءت کا اظہار کرے اس کو مت قتل کرو اور جو مسیلمہ کت دین کو اختیار کئےرہے اس قتل کر دو ۔ چنانچہ ان میں سے بعض افراد سے قبول کر لیا تو ان کو چھوڑ دیا گیا اور دوسروں نے مسیلمہ کے دین کو اختیار کئے رکھا ان کو قتل کر دیا گیا ۔

فيهم إلى عثمان بن عفان ← أخذ بالكوفة رجال يفشون حديث مسيلمة الكذاب ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4991

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4992

4722 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني يعقوب بن عبد الرحمن الزهري عن أبيه عن جده قال لما افتتح سعد وأبو موسى تستر أرسل أبو موسى رسولا إلى عمر فذكر حديثا طويلا قال ثم أقبل عمر على الرسول فقال هل كانت عندكم معربة خبر قال نعم يا أمير المؤمنين أخذنا رجلا من العرب كفر بعد إسلامه فقال عمر فما صنعتم به قال قدمناه فضربنا عنقه فقال عمر أفلا أدخلتموه بيتا ثم طينتم عليه ثم رميتم إليه برغيف ثلاثة أيام لعله أن يتوب أو يراجع أمر الله اللهم إني لم آمر ولم أشهد ولم أرض إذ بلغني

یعقوب بن عبدالرحمن زہری اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد اور ابو موسی رضی اللہ عنہ نے تستر فتح کرلیا تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے ایک قاصد حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا پھر انہوں نے طویل روایت بیان کی ۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ قاصد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ظاہر خبر ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! اے امیرالمومنین ہم نے ایک عرب کو پکڑا جس نے اسلام کے بعد کفر اختیار کر لیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے اس کو کسی گھر میں داخل نہ کیا پھر تم اس کا دروازہ بند کر دیتے اور تین دن کا کھانا اس کی طرف پھینک دیتے ۔ شاید وہ توبہ کر لیتا یا اللہ تعالی کے حکم کیطرف لوٹ آتا ۔ پھر یہ دعا کی ۔ اے اللہ میں نے ان کو یہ حکم نہیں دیا اور میں وہاں موجود بھی نہ تھا اور جب یہ معاملہ مجھے پہنچا تو میں اس پر راضی بھی نہیں ہوا

قدمناه فضربنا عنقه ← عمر فما صنعتم به ← نعم يا أمير المؤمنين أخذنا رجلا من العرب كفر بعد إسلامه ← هل كانت عندكم معربة خبر ← ثم أقبل عمر على الرسول ← حَدِيثًا طَوِيلًا ← لما افتتح سعد وأبو موسى تستر أرسل أبو موسى رسولا إلى عمر ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4992

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4993

4723 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن عبد القارئ عن أبيه عن جده أنه قال قدم على عمر رجل من قبل أبي موسى ثم ذكر نحوه فهذا سعد وأبو موسى رضي الله عنهما لم يستتيباه وأحب عمر أن يستتاب فقد يحتمل أن يكون ذلك لأنه كان يرجو له التوبة ولم يوجب عليهم بقتلهم شيئا لأنهم فعلوا ما لهم أن يروه فيفعلوه وإن خالف رأي إمامهم

عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری نے اپنے والد اور اس اپنے دادا سے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک آدمی حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہکی طرف سے آیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ان روایات میں حضرت سعد اور ابوموسی رضی اللہ عنہ کےفعل کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا اور دوسری طرف انکے قتلوں سے ان پر کوئی چیز (دیت وغیرہ) لازم نہیں کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند تھا کہ ان کو دعوت توبہ دی جاتی اور اس بات میں یہ احتمال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے متعلق توبہ کے امیدوار تھے اور ان کے قتل کی وجہ سے ان پر کوئی چیز لازم نہیں کیونکہ اس میں ان کو اپنی رائے (اجتہاد سے کرنے کا اختیار حاصل تھا پس انہوں نے کیا اگرچہ وہ امیرالمومنین کی رائےکے خلاف تھا ۔

قدم على عمر رجل من قبل أبي موسى ثم ← جَدِّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن عبد القاري ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4993

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4994

4724 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان ح

فہد نے ابو غسان سے روایت کی ہے ۔

أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4994

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4995

وحدثنا سليمان بن شعيب قال حدثني علي بن معبد قالا ثنا أبو بكر بن عياش قال ثنا عاصم بن بهدلة قال حدثني أبو وائل قال حدثني بن مغير السعدي قال خرجت أطلب فرسا لي بالسحر فمررت على مسجد من مساجد بني حنيفة فسمعتهم يشهدون أن مسيلمة رسول الله قال فرجعت إلى عبد الله بن مسعود فذكرت له أمرهم فبعث الشرط فأخذوهم فجئ بهم إليه فتابوا ورجعوا عما قالوا وقالوا لا نعود فخلي سبيلهم وقدم رجلا منهم يقال له عبد الله بن النواحة فضرب عنقه فقال الناس أخذت قوما في أمر واحد فخليت سبيل بعضهم وقتلت بعضهم فقال كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا فجاء بن النواحة ورجل معه يقال له حجر بن وثال وافدين من عند مسيلمة فقال لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم أتشهدان أني رسول الله فقالا أتشهد أنت أن مسيلمة رسول الله فقال لهما آمنت بالله وبرسوله لو كنت قاتلا وفدا لقتلتكما فلذلك قتلت هذا فهذا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قد قتل بن النواحة ولم يقبل توبته إذ علم أن هكذا خلقه يظهر التوبة إذا ظفر به ثم يعود إلى ما كان عليه إذا خلى

ابو وائل کہتے ہیں کہ مجھے ابن مغیرہ السعدی نے بیان کیا کہ میں سحری کے وقت اپنے گھوڑے کی تلاش میں نکلا میرا گزر بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے ہوا میں نے سنا کہ وہ گواہی دے رہےہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ راوی کہتا ہے کہ میں وہاں سے لوٹ کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور میں نے ان کے سامنے ان کا واقعہ ذکر کیا ۔ انہوں نے پولیس کو بھیجا اور وہ پکڑ لئے گئے اور ان کو لایا گیا انہوں نے توبہ کی اور اپنی باتون سے رجوعاختیار کیا اور کہنے لگے دوبارہ ایسا نہ کریں گے ۔ پس ان کا راستہ چھوڑ دیا گیا ۔ ان میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام عبداللہ بن نواحہ تھ اس کی گردن اڑا دی گئی ۔ لوگوں نے کہا تم نے ایک جماعت کو ایک ہی معاملہ میں پکڑا پس بعض کو بالکل چھوڑ دیا اور بعض کو تم نے قتل کر دیا تو انہوں نے بتلایا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابن نواحہ ایک اور آدمی کے ساتھ آیا ۔ اس آدمی کو حجر بن وثال کہتے ہیں یہ دونوں مسیلمہ کی طرف سے وفد بن کر آئے تھے ۔جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ دونوں کہنے لگے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ؟ آپؐ نے اقن کو فرمایا (امنت باللہ ورسولہ)سگر میں کسی وفد میں آنے والے کو قتل کرتا تو تم دونوں کو قتل کروا دیتا ۔ اسی وجہ سے میں نے اس کو قتل کیا ہے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ کو قتل کر دیا اور اس کی توبہ کو قبول نہ کیا اس لئے کہ ان کو علم تھا کہ یہ اس کی عادت ہے کہ جب اس پر قابو پالیا جائے توبہ کا اظہار کرتا ہے اور جب اس کو چھوڑ دیا جائے تو دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جاتا ہے ۔

بن مغير السعدي ← أَبُو وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4995

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4996

4725 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سعيد بن سليمان الواسطي قال ثنا صالح بن عمر قال أخبرنا مطرف عن أبي الجهم عن البراء أن عليا بعثه إلى أهل النهروان فدعاهم ثلاثا

ابو جہیم نے براء رضی اللہ عنہ سئ نقلہ کیا کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کے پاس بھیجا اور ان کو تین بار دعوت (حق) دی ۔

البراء أن عليا بعثه إلى أهل النهروان فدعاهم ثلاثا ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفٍ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4996

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4997

4726 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا زائدة بن قدامة عن عمر بن قيس الماضري عن زيد بن وهب قال أقبل علي حتى نزل بذي قار فأرسل عبد الله بن عباس إلى أهل الكوفة فأبطأوا عليه ثم دعاهم عمار فخرجوا قال زيد فكنت فيمن خرج معه قال فكف عن طلحة والزبير وأصحابهم ودعاهم حتى بدءوا فقاتلهم

زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے یہاں تک کہ مقام ذی وقار میں اترے پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اہل کوفہ کی طرف بھیجا انہوں نے دیر کی پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دعوت دی تب وہ نکلے ۔ زید کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ نکلنے والوں میں تھا راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہا اوار ان کے ساتھیوں سے درگزر کی اور ان کو رجوع کی دعوت دی یہاں تک کہ وہ سامنے آئے تو ان سے قتال کیا ۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← عمر بن قيس الماضري ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4997

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4998

4727 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا شريك بن عبد الله عن جابر عن الشعبي أن رجلا كان نصرانيا فأسلم ثم تنصر فأتي به علي رضي الله عنه فقال ما حملك على ما صنعت قال وجدت دينهم خيرا من دينكم فقال له ما تقول في عيسى قال هو ربي أو هو رب علي فقال أقتلوه فقتله الناس فقال علي بعد ذلك إن كنت لمستتيبه ثلاثا ثم قرأ إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم أزدادوا كفرا

شریک بن عبداللہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے شعی سے نقل کیا کہ ایک نصرانی شخص اسلاملایا اور پھر نصرانی ہو گیا اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا۔ تو آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔ تمہیں اس حرکت پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا میں نے نصرانیوں کا دین تمہارے دین سے بہتر پایا آپ نے ہوچھا کہ تم عیسی علیہ السلام کے متعلق کیا کہتے ہو ۔ اس نے کہا وہ میرا رب ہے یا وہ علی کا رب ہے ۔ اس پر آپ نے حکم فرمایا اس کو قتل کر دو ۔ تو لوگوں نے اس کو قتل کر دیا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کو تین مرتبہ دعوت دینا چاہئے تھی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ( ان الذین امنواثم کفر واثم امنوا ثم کفرواثم ازدادو کفرا)(النساء137)بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے ۔

أقتلوه فقتله الناس ← هو ربي أو هو رب علي ← له ما تقول في عيسى ← وجدت دينهم خيرا من دينكم ← مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ ← الشعبي أن رجلا كان نصرانيا فأسلم ثم تنصر فأتي به علي ← جَابِرٍ ← شريك بن عبد الله ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4998

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4999

4728 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا سليمان بن معاذ الضبي عن عمار بن أبي معاوية الدهني عن أبي الطفيل أن قوما إرتدوا وكانوا نصارى فبعث إليهم علي بن أبي طالب معقل بن قيس التيمي فقال لهم إذا حككت رأسي فاقتلوا المقاتلة وأسبوا الذرية فأتى على طائفة منهم فقال ما أنتم فقالوا كنا قوما نصارى فخيرنا بين الإسلام وبين ديننا فاخترنا الإسلام ثم رأينا أن لا دين أفضل من ديننا الذي كنا عليه فنحن نصارى فحك رأسه فقتلت المقاتلة وسبيت الذرية قال عمار فأخبرني أبو شعبة أن عليا أتى بذراريهم فقال من يشتريهم مني فقام مستقلة بن هبيرة الشيباني فاشتراهم من علي بمائة ألف فأتاه بخمسين ألفا فقال علي إني لا أقبل المال إلا كاملا فدفن المال في داره وأعتقهم ولحق بمعاوية فنفذ علي عتقهم

عمار بن ابی معاویہ دھنی نے ابوالطفیل سے روایت کی کہ کچھ لوگ مرتد ہو گئے وہ پہلے نصرانی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف معقل بن قیس التیمیکو بھیجا اور ان کو فرمایا جب سر کھجاؤ ں تو لڑنے والوں کو قتل کر دو اور ان کی اولاد کو قید کر لو ۔ ان میں سے ایک گروہ کو لایا گیا آپ نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم لوگ پہلے نصرانی تھے ہمیں نصرانیت اور اسلام میں اختیار دیا گیا تو ہم نے اسلام کو اختیار کر لیا پھر ہم نے دیکھا کہ کوئی دین ہمارے دین سے افضل نہیں ہے جس پر کہ ہم پہلےتھے پس ہم نصرانی ہو گئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا سر کھجایا تو ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنالیا گیا ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ابو شعبہ نےبتلایا کہ حضرت علی ۔ کے پاس ان کی اولاد کو لایا گیا تو آپ نے اعلان فرمایا ۔ ان کو کون مجھ سے خریدے گا ؟مصقلہ بن ہبیرہ شیبانی نے ان کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک لاکھ درہم کےبدلے خرید لیا ۔ اس پچاس ہزار ادا کیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مکمل مال لوں گا ۔ اس نے مال کو اپنے گھر میں دفن کیا اور ان کو آزاد کر دیا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا ۔حضرت علی نے ان کے عتق و آزادی کو برقرار رکھا ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عمار بن أبي معاوية الدهني ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4999

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5000

4729 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير عن أبيه قال سمعت النعمان يحدث عن الزهري عن عطاء بن يزيد الليثي عن عبيد الله بن عدي بن الخيار عن المقداد بن عمرو قال قلت يا رسول الله أرأيت إن إختلفت أنا ورجل من المشركين ضربتين فضربني فأبان يدي ثم قال لا إله إلا الله أقتله أم أتركه قال بل أتركه قلت وقد أبان يدي قال نعم فإن قتلته فأنت مثله قبل أن يقولها وهو بمنزلتك قبل أن تقتله

عبید اللہ بن عدی بن خیار نے مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر میرا اور مشرکین کا مقابلہ میں وار کا تبادلہ ہو اس نے میرے ہاتھ کو جدا کر دیا پھر اس نے کہا لاالہ الااللہ کیا میں اسے قتل کر دوں یا ترک کر دوں ۔

قُلْتُ ← الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ ← أَبِيهِ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5000

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5001

4730 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا عبد الله بن بكر قال ثنا حاتم بن أبي صغيرة عن النعمان بن عمرو بن أوس أخبره أن أباه أوسا قال إنا لقعود عند رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصفة وهو يقص علينا ويذكرنا إذ أتاه رجل فساره فقال إذهبوا فاقتلوه فلما ولى الرجل دعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أما تشهد أن لا إله إلا الله فقال الرجل نعم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذهبوا فخلوا سبيله فإني أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ثم يحرم دماؤهم وأموالهم إلا بحقها

نعمان بن عمرو بن اوس نے بتلایا کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صفہ میں بیٹھے تھے ۔ آپؐ ہمیں واقعات سنا رہے اور نصیحت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سرگوشی کرنے لگا آپؐ نے فرمای اسے لے جا کر قتل کر دو ۔ جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا تو جناب رسول اللہﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا کیا تم لا الہ الااللہ کی گواہی نہیں دیتے اس نے نعم سے جواب دیا ۔ تو جناب رسول اللہﷺ نے فرمای جاؤ ۔ اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں کے لا الہ الااللہ کہنے تک لوگوں سے لڑوں ! پھر ان کے خون اور اموال حق کے علاوہ حرام کت دئیے گئے۔

النعمان بن عمرو بن أوس ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5001

chevron_left Previous
1234…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter