شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4990
4720 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا هشيم عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال حدثني أنس بن مالك قال لما فتحنا تستر بعثني أبو موسى إلى عمر فلما قدمت عليه قال ما فعل حجيبة وأصحابه وكانوا إرتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقتلهم المسلمون فأخذت به في حديث آخر فقال ما فعل النفر البكريون قلت يا أمير المؤمنين إنهم إرتدوا عن الإسلام ولحقوا معهم بالمشركين فقتلوا فقال عمر لأن يكون أخذتهم سلما أحب إلي من كذا وكذا قلت يا أمير المؤمنين ما كان سبيلهم لو أخذتهم سلما إلا القتل قوم إرتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقال لو أخذتهم سلما لعرضت عليهم الباب الذي خرجوا منه فإن رجعوا وإلا استودعتهم السجن
شعی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رویات کی ہے کہ جب ہم نے تستر فتح کر لیا تو ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا ۔ جب میں ا ن کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے پوچھا حجیبہ اور اس کے ساتھیوں نے کیا کیا ۔ یہ لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے تھے اور مشرکین سے جا ملے تھے ۔ پھر مسلمانوں نے ان کو قتل کر دیا ۔ پھر میں نے اور بات شروع کر دی آپ نے پھر دریافت فرمایا ۔ بکر قبیلہ کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا ۔ میں نے عرض کیا وہ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جاملے تھے ۔پس وہ قتل کر دیئے گئے ۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں ان کو سلامت پکڑتا تو اس سے مجھے زیادہ پسند تھا ۔ میں عرض کیا اے امیرالمومنین ! اگر وہ صیح سلامت پکڑ بھی لئے جاتے تب بھی قتل کے سوا چارہ نہ تھا کیونکہ وہ لوگ اسلام سے ارتداد اختیار کر کے مشرکین سے جا ملے تھے ۔ آپ نے فرمایااگر میں ان کو زندہ پکڑتا تو میں ان پر اس دروازے کو وسیع کر دیتا جس سے وہ نکلے تھے اگر وہ لوٹ آتے تو ٹھیک ورنہ میں ان کو قید کے سپرد کر دیتا ۔
لما فتحنا تستر بعثني أبو موسى إلى عمر فلما قدمت عليه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4990
