Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5302

5016 - حدثنا الربيع بن سليمان المرادي قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا شعبة عن أبي حمزة قال كنت أقعد مع بن عباس رضي الله عنهما فقال إن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه و سلم قال من القوم أو من الوفد قالوا ربيعة قال مرحبا بالقوم أو بالوفد غير خزايا ولا نادمين قالوا يا رسول الله إنا لا نستطيع أن نأتيك إلا في الشهر الحرام فمرنا بأصل فصل نخبر به من وراءنا وندخل به الجنة قال أتدرون ما الإيمان بالله وحده قالوا الله ورسوله أعلم قال شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن يعطوا من المغنم الخمس

ابو حمزہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا وہ فرمانے لگے کہ وفد عبدالقیس جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا ۔ تم کون لوگ ہو ؟ یا تم کون وفد ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہم ربیعہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ نے فرمایا قوم یا وفد کو مرحبا ہو ۔ نہ رسوائی ہو نہ شرمندگی ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! ہم آُ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں رجب، زوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم میں آ سکتے ہیں ( باقی مہینوں میں لڑائی کا خطرہ ہوتا ہے ) آپ ہمیں اصل اور فیصلہ کن بات بتلائیں تا کہ ہم اپنے پچھلوں کو بتلائیں اور اس کے ذریعہ ہم جنت میں داخل ہوں آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالی کی توحید پر ایمان کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا اللہ تعالی اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا ۔ اس باگت کی گواہی دو کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اورحضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا ۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت سے پانچواں حصہ دو ۔

مرحبا بالقوم أو بالوفد غير خزايا ولا نادمين ← رَبِیعَۃَ، ← مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ؟ ← إن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه و سلم ← كنت أقعد مع بن عباس ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5302

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5303

5017 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن زيد عن أبي حمزة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه و سلم فعلم أنه قد أضاف الخمس من الغنيمة إلى الله عز و جل ولم يضف إليه أربعة أخماسها وأن ما سواه منها لقوم بغير أعيانهم يضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم على ما يرى ولو كان لذي القربى المعلوم عددهم لم يكن كذلك أفلا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأخذ الخمس ليضعه فيما يرى وضعه ويقسم ما بقي بعده على السهمان فدل أن ما كان يقسمه على السهمان أنه لقوم بأعيانهم لا يجوز لأحد منعهم منه وأن الذي يأخذه لا يقسمه حتى يدخل فيه رأيه هو الذي ليس لقوم بأعيانهم وأنه مردود إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى يضعه فيما يرى ثم تكلم الناس في حكم ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يضعه في ذوي قرباه في حياته كيف حكمه بعد وفاته صلى الله عليه و سلم فقال قائلون هو راجع من قرابته إلى قرابة الخليفة من بعده وقال آخرون هو لبني هاشم ولبني المطلب خاصة وقال آخرون وهم الذين ذهبوا إلى أن ما كان في حياة النبي صلى الله عليه و سلم لما رأى النبي صلى الله عليه و سلم وضعه فيه من قرابته هو منقطع عنهم بوفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظرنا في هذه الأقوال لنستخرج منها قولا صحيحا فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في حياته في المغنم سهم الصفي لا اختلاف بين أهل العلم في ذلك وقد روي عنه فيه ما

عبد القیس ، ابو حمزہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وفد عبدالقیس جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اس سے ان کو معلوم ہوا کہ خمس غنیمت کی اضافت اللہ تعالی نے اپنی طرف کی ہے اور چار حصے آپ کی طرف منسوب نہیں کئے اور ان کے علاوہ مال لوگوں کے لئے بلا تعین ہے اس کو جناب رسول اللہ ﷺ اپنی رائے کے مطابق استعمال فرمائیں گے ۔ اگر یہ ذی القربی مقرر ہوتے اور انہی کو دیا جاسکتا تو اس طرح نہ ہوتا ۔ طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کیا یہ جانی پہچانی باے نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ خمس لیتے تا کہ اس کی اپنی مرضی کے مطابق صرف کریں اور باقی کو دوحصوں میں بانٹ دیں اس سے یہ خود ثابت ہو گیا کہ جس کے دو حصے کئے جاتے وہ معین لوگوں کے لئے تھا کہ کسی کو یہ جائز نہ تھا کہ اس حصہ سے ان کو محروم کرے اور جس کو اپنی رائے کے مطابق صرف کرنے کے لئے رکھتے وہ متعین لوگوں کے لئے نہ تھا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹایا جانے والا تھا تاکہ جہاں چاہیں صرف فرمائیں ۔ اس میں تین قول ہین ایک حصہ آپ کے قرابت والوں سے ہٹ کر خلفاء کے قرابت والوں کو ملےگا ۔ ہ حصہ بنی ہاشم و بنو مطلب کو بعد میں بھی ملتا رہے گا ۔ ان کا قول یہ ہے کہ جوحصہ جناب نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں اس طرح تھا کہ جس کو قرابت والوں میں پسند فرماتے عنایت فرماتے وہ حصہ عفات رسول ﷺ سے منقطع ہوجائے گا ۔ اب ان تمام اقوال پر غور کرتےہیں تاکہ صیح قول کو دوسرے اقوال سے الگ کیا جائے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مال غنیمت میں سے ایک وہ منتخب حصہ ہے جس کو آپ ﷺ اپنی زندگی میں لیتے تھے اور اہل علم کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات میں وارد ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5303

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5304

5018 - حدثنا الربيع بن سليمان المرادي قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا أبو هلال الراسبي عن أبي حمزة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا إن بيننا وبينك هذا الحي من مضر وإنا لا نستطيع أن نأتيك إلا في الشهر الحرام فمرنا بأمر نأخذ به ونحدث به من بعدنا قال آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع شهادة أن لا إله إلا الله وأن تقيموا الصلاة وتؤتوا الزكاة وتعطوا سهم الله من الغنائم والصفي وأنهاكم عن الحنتم والدباء والنقير والمزفت

ابو حمزہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عبدالقیس کا وفد جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے ہمارے اور آپ کے مابین یہ مضر کا قبیلہ آباد ہے اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ تک پہنچ نہیں سکتے پس آپ ہمیں ایسی باتوں کا حکم فرمائیں جن کو ہم اختیار کر یں اور پچھلے لوگوں کو بیا ن کر سکیں ۔ آُ نے فرمایا تمہیں چاروں باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے روکتا ہوں ۔ 1: اقرار شہادتیں ۔2: نماز کو قائم کرو ۔ 3: زکوۃ ادا کرو ۔ 4: غنائم سے اللہ تعالی کا اور منتخب حصہ نکالو اور جن باتوں سے منع کرتا ہوں وہ یہ ہیں شراب کے تمام اقسام کے برتنوں سے منع کرتا ہوں ۔1: سبز گھڑے ۔ 2: کدو ۔ 3: لکڑی کھود کر بنائے ہوئے ۔ 4: تار کول لگے ہوئے برتن سے ۔( جب برتنوں کا استعمال ممنوع ہوا تو شراب پہلے ہی حرام تھی ۔)

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5304

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5305

5019 - حدثنا أحمد بن داود بن موسى قال ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا بن أبي الزناد عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تنفل صفة ذا الفقار يوم بدر

عبید اللہ بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذوالفقار نامی تلوار بدر کے دن بطور زائد کے لیا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أحمد بن داود بن موسى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5305

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5306

5020 - حدثنا مالك بن يحيى الهمداني قال ثنا أبو النذر قال ثنا الأشجعي عن سفيان عن مطرف قال سألت الشعبي عن سهم النبي صلى الله عليه و سلم كسهم رجل من المسلمين وكان الصفي يصفي به إن شاء عبدا وإن شاء أمة وإن شاء فرسا

مطرف کہتے ہیں کہ میں نے شعی رحمۃاللہ علیہ سے پوچھا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کا حصہ مال غنیمت میں مسلمانوں کے حصہ کی طرح تھا اور منتخب حصہ وہ آپ کی مرضی پر غلام یا لونڈی یا گھوڑے کی صورت میں جو چاہتے لیتے تھے ۔

سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ ← مُطَرِّفٍ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أبو النذر ← مالك بن يحيى الهمداني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5306

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5307

5021 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما قال تنفل رسول الله صلى الله عليه و سلم صفة ذا الفقار يوم وهو الذي رأى فيه الرؤيا يوم أحد

عبید اللہ بن وعبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذوالفقار کو بدر کے دن اپنے لئے زائد منتخب فرمایا ۔ یہی وہ تلوار ہے کس کے متعلق احد کے دن خواب میں دیکھا کہ اس میں دندانے ہیں ( تو اس کی تعبیر صحابی کرام کی شہادت سے فرمائی )

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5307

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5308

5022 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عبد العزيز بن محمد عن أسامة بن زيد الليثي عن بن شهاب عن مالك بن أوس أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال فيما يحتج به كانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاث صفايا بني النضير وخيبر وفدك فأما بنو النضير فكانت فجزأها ثلاثة أجزاء فقسم منها جزءا بين المسلمين وحبس جزءا للنفقة فما فضل عن أهله رده إلى فقراء المهاجرين رضي الله عنهم

مالک بن اوس کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دلیل میں ذکر کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے منتخب مال تین تھے ۔ نمبر 1 بنو نضیر ۔ نمبر 2 خیبر نمبر 3 فدک سے حاصل شدہ مال ۔ پھر اموال بنو نضیر کو آپ نے تین حصوں میں تقسیم فرمایا ۔ نمبر ایک حصۃ مسلمانوں کے لئے ۔ نمبر 2 ایک حصہ ذاتی خرچہ جات کے لئے ۔ نمبر 3 فقراء مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین کے لئے ۔

مالك بن أوس أن عمر بن الخطاب ← بن شِهَابٍ ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5308

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5309

5023 - حدثنا مالك بن يحيى الهمداني قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أخبرنا الجريري عن أبي العلاء قال بينما أنا مع مطرف بأعلى المربد في سوق الإبل إذ أتي علينا أعرابي معه قطعة أديم أو قطعة جراب شك الجريري فقال هل فيكم من يقرأ فقلت أنا أقرأ قال ها فاقرأه فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتبه لنا فإذا فيه من محمد النبي لبني زهير بن قيس حي من عكل إنهم شهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وفارقوا المشركين وأقروا بالخمس في غنائمهم وسهم النبي صلى الله عليه و سلم وصفية فإنهم آمنون بأمان الله فقال له بعضهم هل سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا تحدثنا قال نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من سره أن يذهب عنه وخر الصدر فليصم شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر فقال رجل من القوم أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ألا أراكم تروننا أني أكذب على رسول الله صلى الله عليه و سلم لا حدثتكم اليوم حديثا فأخذها ثم أنطلق قال أبو جعفر وأجمعوا جميعا أن هذا السهم ليس للخليفة بعد النبي صلى الله عليه و سلم وأنه ليس فيه كالنبي صلى الله عليه و سلم فلما كان الخليفة لا يخلف النبي صلى الله عليه و سلم فيما كان له مما خصه الله به دون سائر المقاتلين معه كانت قرابته أحرى أن لا تخلف قرابة النبي صلى الله عليه و سلم فيما كان لهم في حياته من الفيء والغنيمة فبطل بهذا قول من قال إن سهم ذوي القربى بعد موت النبي صلى الله عليه و سلم لقرابة الخليفة من بعده ثم رجعنا إلى ما قال الناس سوى هذا القول من هذه الأقوال التي ذكرناها في هذا الفصل فأما من خص بني هاشم وبني المطلب دون من سواهم من ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم وجعل سهم ذوي القربى لهم خاصة فقد ذكرنا فساد قوله فيما تقدم في كتابنا هذا فأغنانا ذلك عن إعادته ها هنا وكذلك من جعله لفقراء قرابة النبي صلى الله عليه و سلم دون أغنيائهم وجعلهم كغيرهم من سائر فقراء المسلمين فقد ذكرنا أيضا فيما تقدم من هذا الكتاب فساد قوله فأغنانا عن إعادته ها هنا وبقى قول الذين يقولون إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان له أن يضعه فيمن رأى وضعه فيه من ذوي قرابته وأن أحدا منهم لا يستحق منه شيئا حتى يعطيه إياه رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان له أن يصطفي من المغنم لنفسه ما رأى فكان ذلك منقطعا بوفاته غير واجب لأحد من بعد وفاته فالنظر على ذلك أن يكون كذلك ماله أن يخص به من رأى من ذوي قرباه دون من سواه من ذوي قرباه في حياته إلا أن يكون ذلك إلى أحد من بعد وفاته ولما بطل أن يكون ذلك إلى أحد بعد وفاته بطل أن يكون ذلك السهم لأحد من ذوي قرابته بعد وفاته فإن قال قائل فقد أبى ذلك عليكم عبد الله بن عباس رضي الله عنهما ثم ذكر

ابو العلا ء کہتے ہیں کہ میں مطرف کے ساتھ اونٹوں کے بازار میں مربد کے بالائی حصہ میں موجود تھا کہ ہمارے پاس ایک بدو کھال کا ٹکڑا یا تلوار کے خوال کا ٹکڑا لایا ۔ جریری کو اس میں شک ہے کہ کو ن سا ابوا لعلاء نے بتلایا اور کہنے لگے کیا تم میں کوئی پڑھا لکھا ہے میں نے کہا میں پڑھ سکتا ہوں ۔ اس نے کہا لو یہ پڑھو ۔ یہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں لکھ کر دیا ہے ۔ اس میں یہ لکھا تھا ۔ یہ محمد نبی ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن قیس کے نام ہے جو عکل کا ایک خاندان ہے ۔ انہوں نے کہا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دی ہے اور مشرکین سئ جدائی اختیار کر لی ہے اور انہوں نے اپنے غنائم میں خمس کا اقرار کیا ہے اور یہ بھی اقرار کیا پیغمبر ﷺ کا حصہ اور منتخب حصۃ دیں گے وہ اللہ تعالی کی امان کے سبب امن میں آنے والے ہیں ۔ بعض لوگوں نے اس دیہاتی سے کہا کیا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز سنی ہے اگر سنی ہے تو تم ہمیں بیان کرو ؟ اس نے کہا ہاں میں نے آپ کو کہتے سنا جس کو یہ پسند ہو کہ اس سے سینے سے بخل نکل جائے تو وہ صبر ( رمضان) کے مہینہ کے روزے اور ہر ماہ کے تین روزے رکھے مجمع میں سے ایک نے کہا کیا تم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ کیا تم میرے بارے میں یہ خیال کرتے ہو کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کے متعلق جھوٹی بات بتاؤں گا ؟ میں آج تم سے کوئی حدیث بیان نہ کروں گا پھر اس نے وہ چمڑا کا ٹکڑا لیا اور پھر چلا گیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں اس بات پر تمام علامء کا اتفاق ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ حصہ خلیفہ کے لئے نہیں اس لئے کہ خلیفہ اس حکم میں نبی اکرم ﷺ کی طرح نہیں ۔ پس جب خلیفۃالمسلمین اس خصوصی مال میں اللہ تعالی نے مجاہدین کے علاوہ آپ کے ساتھ خاص کیا تو آپ کے قرابت داران خلیفہ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ جو قرابت نبوت کی وجہ سے آپ کے قرابت والوں کو ملتا تھا وہ اس کے مستحق نہ وہ خواہ وہ مال فئی ہو یا غنیمت ۔ پس اس سے ان لوگوں کا قول باطل ہوگیا جو ذوی القربی کے حصہ کو وفات نبی اکرم ﷺ کے بعد خلیفہ کے قرابت والوں کو اس کو مستحق قرار دیتے ہین ۔ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ حصص بنو ہاشم و بنو مطلب کے ساتھ خاص ہوں گے دیگر ذوالقربی کو نہ ملے گا انہی کے ساتھ یہ حصہ خاص رہے گا اس قول کا ابطال ہم پہلے کر چکے ہیں جس کو دہرانے کی چنداں حاجت نہیں ہے۔ اسی طرح یہ قول بھی باطل ہے کہ جنہوں نے یہ کہا کہ یہ فقراء قرابت داروں کو دیا جائے گا مالداروں کو نہ دیا جائے گا اور یہ عام مسلمان فقراء کا حکم رکھتے تھےاس کا ابطال طاہر کر دیا گیا دوبارہ دہرانے کی وکئی ضرورت نہیں ۔ اس قول کے قائلین کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی مرضی پر موقوف تھا جہاں اور جس پر چاہتے خرچ کر سکتے تھے ان میں سے کوئی قرابت دار دوسرے کے مقابے میں زیادہ استحقاق نہ رکھتا تھا اور آپ کو اپنے ذات کے لئے مال غنیمت جس کو چاہیں چننے کا اختیار تھا ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ آپ کی وفات سے یہ منقطع ہو گیا وفات کے بعد کسی کے لئے لازم نہیں ہے ۔ نظر کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اپنی زندگی میں اختیار تھا اپنے قرابت دار وں میں سے جسے چاہیں عطا فرمائیں اور دوسروں کو چھوڑ دیں آپ کے وصال کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں تو پھر جب آپ کے وصال کے بعد کسی کے لئے اختیار کا ہو ان باطل ہو گیا تو آپ کی وفات کے بعد اس حصے کا آپ کے کسی قرابتدار کے لئے ہونا بھی باطل ہو گیا ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بات کا انکار کیا ہے ۔

بَيْنَمَا ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مالك بن يحيى الهمداني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5309

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5310

5024 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال حدثني عمي جويرية بن أسماء عن مالك عن بن شهاب عن يزيد بن هرمز حدثه أن نجدة صاحب اليمامة كتب إلى بن عباس رضي الله عنهما يسأله عن سهم ذوي القربى فكتب إليه بن عباس رضي الله عنهما إنه لنا وقد كان عمر بن الخطاب دعانا لينكح منه أيمنا ويقضي منه غارمنا فأبى أن يسلمه لنا كله ورأينا أنه له

یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ یمامہ کے حکمران نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا وہ ذوی القربی کے حصے کے بارے میں پوچھ رہے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ وہ حصہ ہمارے لئے تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلایا تا کہ وہ ہمارے لئے رنڈوں کا نکاح کریں اور اس سے ہمارے قرضوں کو ادا کریں تو ہم نے انکار کیا مگر یہ کہ وہ تمام مال ہمیں دیں ۔ ہمارا یہی خیال ہے کہ وہ ہمارا حق ہے ۔

سهم ذوي القربى ← إلى بن عباس يسأله ← أن نجدة صاحب اليمامة ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5310

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5311

5025 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت قيسا يحدث عن يزيد بن هرمز قال كتب نجدة إلى بن عباس رضي الله عنهما يسأله عن سهم ذوي القربى الذين ذكرهم الله عز و جل وفرض لهم فكتب إليه وأنا شاهد كتابه إنهم قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى ذلك علينا قومنا قيل له إنا لم ندفع أن يكون قد خولفنا فيما ذهبنا إليه مما ذكرنا ولكن عبد الله بن عباس رأى في ذلك أن سهم ذوي القربى ثابت وأنهم بنو هاشم في حياة النبي صلى الله عليه و سلم وبعد وفاته وقد أخبر أن قومه أبوا ذلك عليه وفيهم عمر بن الخطاب رضي الله عنه ومن تابعه منهم رضي الله عنهم وعلى ذلك فمثل من ذكرنا يكون قوله معارضا لقول عبد الله بن عباس رضي الله عنهما ولقد

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا ان سے ذوی القربی کے حصہ کے متعلق پوچھا جن کا اللہ تعالی نے ذکر فرمایا اور حصہ مقرر کیا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا اور میرے سامنے لکھا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابت دار ہیں لیکن ہماری قوم نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ ہم اس ابت کا انکار نہیں کرتے کہ ہمارے مؤقف کی مخالفت نہیں کی گئی لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس سلسلہ میں خیال یہ ہے کہ ذوالقربی کا حق ثابت ہے اور وہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ اور وفات کے بعد بھی اسی طرح ثابت ہے اور انہوں نے بتلایا کہ ان کی قوم نے ان کی اس بات کا انکار کیا اور ان انکار کرنے والوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی اتباع کرنے والے لوگ ہیں چنانچہ اس کے مطابق جن کا ہم تذکرہ کیا ان کا قول عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کا معارضہ کر سکتا ہے ۔

شاهد كتابه ← إِلَيْهِ ← سهم ذوي القربى الذين ذكرهم الله عز و جل وفرض لهم ← نجدة إلى بن عباس يسأله ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← قَيْسًا ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5311

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5312

5026 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا سفيان بن عيينة عن عبد الله بن بشر الخثعمي عن بن حميد قال وقعت جرة فيها ورق من دير حرب فأتيت بها علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقال أقسمها على خمسة أخماس فخذ أربعة وهات خمسا فلما أدبرت قال أفي ناحيتك مساكين فقراء فقلت نعم قال فخذه فاقسمه بينهم أفلا يرى أن عليا رضي الله عنه قد أمره أن يقسم الخمس من الركاز في فقراء ناحيته فلم يوجب عليه دفع شيء منه إلى أحد من ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم فهذا خلاف ما كان عبد الله بن عباس رضي الله عنهما رآه في ذلك وقد

عبداللہ بن بشر شعمی نے ابن حمید سے نقل کیا کہ میں نے ایک گھڑا پایا جس میں برباد گرجے کی چاندی تھی میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا تو آپ نے فرمایا اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کرو اور چار خود لے لو اور پانچواں میرے پاس لے آؤ ۔ ( میں نے ایسا کر دیا ) جب میں پیٹھ پھیر کر چل دیا تو فرمایا کیا تمہاری طرف فقراء و مساکین ہیں میں نے کہا جی ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا اس کو لے جاؤ اور ان کے مابین تقسیم کر دو ۔ اس معترض کو دیکھنا چاہئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گڑھے ہوئے مال کے خمس کو اس طرف کے فقراء میں تقسیم کا حکم فرمایا اور اس میں سے کوئی چیز اقارب رسول اللہﷺ کو دینی لازم نہیں کی ۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے بھی ابن عباس کی رائے کے خلاف ہے ۔

بن حميد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5312

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5313

5027 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أزهر بن سعد السمان عن بن عون قال حدثني عمير بن إسحاق قال حدثني عبد الله بن عبد الله بن أمية اللهم أو حدث القوم وأنا فيهم قال حدثني عبد الرحمن بن عوف قال أرسل إلي عمر ظهرا فأتيته فلما انتهيت إلى الباب سمعت نحيبا شديدا فقلت إنا لله وإنا إليه راجعون أعيري عمر أمير المؤمنين فدخلت حتى جئت فوقعت يدي عليه فقلت لا بأس بك يا أمير المؤمنين فقال أعجبك ما رأيت قلت نعم قال ها إن الخطاب على الله لو كرسنا عليه كان حذا إلى صاحبي قبلي قال ثم قال اجلس بنا نتفكر فكتبنا المحقين في سبيل الله وكتبنا أزواج النبي صلى الله عليه و سلم ومن دون ذلك فأصاب المحقين في سبيل الله أربعة آلاف وأصاب أمهات المؤمنين رضوان الله عليهن ومن دون ذلك ألفا حتى وزعن المال أفلا ترى أن عمر وعبد الرحمن بن عوف قد سويا بين المحقين وبين أهل الدرجة التي بعدهم ولم يدخل في ذلك ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم لقرابتهم كما أدخلا الاستحقاق باستحقاقهم وقد

عمیر بن اسحاق کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قسم عبداللہ بن عبداللہ بن امیہ نے مجھے یا لوگوں کو بیان کیا اور میں اس میں موجود تھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ظہر کے وقت کسی آدمی کو بھیجا جب میں ان کے پاس آیا دروازے پر پہنچا تو میں نے زور دار رونے کی آواز سنی میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا ۔ یہ بات امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کو پیش آئی ۔ میں داخل ہو کر ان کے پاس پہنچا اور ہاتھ ان پر پڑا تو میں کہا امیر المؤمنین آپ بالکل ٹھیک ہیں ۔ آپ نے فرمایا جو تم نے دیکھا اس پر تعجب کیا ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ پھر فرمایا ۔ اللہ تعالی کے مخاطبات پر اگر سختی سے ہم عمل کریں تو تب اپنے سے پہلے ساتھ کے قدم بقدم چل سکیں گے ۔ پھر فرمانے لگے ہمارے ساتھ بیٹھو ہم سوچ بچار کرتے ہیں ہم نے اللہ تعالی کی راہ میں جو حقدار ہیں ان کے نام لکھے ہیں ہم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا اور ان کے علاوہ دوسروں کے نام بھی لکھے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں حقدار ہیں ان کو چار ہزار ملے گا اور ان کے علاوہ ہیں ان کو ایک ایک ہزار ملا یہاں تک کہ انہوں نے مال تقسیم کر دیا ۔ غور فرائیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حقدار اور بعد کے درجہ والوں کے درمیان برابری برتی اور قرابت رسول ﷺ ککی وجہ سے ذوالقربی کو اس طرح شامل نہیں کیا جیسا کہ حقداروں کو ان کے استحقاق کی وجہ سے داخل کیا ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← فِيهِمْ» ← عبد الله بن عبد الله بن أمية اللهم أو حدث القوم ← عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← بن عون ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5313

chevron_left Previous
1…282930…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter