شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5302
5016 - حدثنا الربيع بن سليمان المرادي قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا شعبة عن أبي حمزة قال كنت أقعد مع بن عباس رضي الله عنهما فقال إن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه و سلم قال من القوم أو من الوفد قالوا ربيعة قال مرحبا بالقوم أو بالوفد غير خزايا ولا نادمين قالوا يا رسول الله إنا لا نستطيع أن نأتيك إلا في الشهر الحرام فمرنا بأصل فصل نخبر به من وراءنا وندخل به الجنة قال أتدرون ما الإيمان بالله وحده قالوا الله ورسوله أعلم قال شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن يعطوا من المغنم الخمس
ابو حمزہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا وہ فرمانے لگے کہ وفد عبدالقیس جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا ۔ تم کون لوگ ہو ؟ یا تم کون وفد ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہم ربیعہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ نے فرمایا قوم یا وفد کو مرحبا ہو ۔ نہ رسوائی ہو نہ شرمندگی ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! ہم آُ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں رجب، زوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم میں آ سکتے ہیں ( باقی مہینوں میں لڑائی کا خطرہ ہوتا ہے ) آپ ہمیں اصل اور فیصلہ کن بات بتلائیں تا کہ ہم اپنے پچھلوں کو بتلائیں اور اس کے ذریعہ ہم جنت میں داخل ہوں آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالی کی توحید پر ایمان کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا اللہ تعالی اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا ۔ اس باگت کی گواہی دو کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اورحضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا ۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت سے پانچواں حصہ دو ۔
مرحبا بالقوم أو بالوفد غير خزايا ولا نادمين ← رَبِیعَۃَ، ← مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ؟ ← إن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه و سلم ← كنت أقعد مع بن عباس ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5302
