Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5290

5005 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا الحكم بن مروان الضرير ح

علی بن معبد نے کہا ہمیں حکم بن مروان الضریر نے بیان کی ۔

الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ الضَّرِيرُ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5290

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5291

وحدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قالا ثنا معروف بن واصل السعدي قال سمعت حفصة في سنة تسعين قال بن أبي داود في حديثه ابنة طلق تقول ثنا رشيد بن مالك وأبو عمير قال كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتي بطبق عليه تمر فقال أصدقة أم هدية فقال بل صدقة قال فوضعه بين يدي القوم والحسن بين يديه فأخذ الصبي تمرة فجعلها في فيه فأدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم أصبعه وجعله يترفق به فأخرجها فقذفها ثم قال إنا آل محمد لا نأكل الصدقة

معروف بن واصل سعدی بیان کرتےہیں میں حفصہ سے 90 ھ میں سنا ابن ابی داؤد نے اپنی روایت میں ذکر کیا کہ یہ حفصہ بنت طلق ہے وہ کہتی ہیں کہ ہمیں رشید بن مالک اور ابو عمیر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھے آپ کے پاس ایک کجھوروں کا تھال لایا گیا آپ نے دریافت فرمایا یہ صدقہ ہے یا ہدیہ ۔ اس نے جواب دیا یہ صدقہ ہے آپ نے اسے لوگوں کے سامنے رکھ دیا جو آپ کے سامنے بیٹھے تھے ۔ بچے نے ایک کھجور لے کر منہ میں رکھ لی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی اس کے منہ میں ڈالی اور اس ے نرمی اختیار کر کے اسے نکال لیا پھر فرمایا ہم آل محمد ﷺ صدقہ نہیں کھاتے ۔

بل صدقة ← أصدقة أم هدية ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتى بطبق عليه تمر ← رشيد بن مالك وأبو عمير ← بن أبى داود في حديثه ابنة طلق تقول ← حفصة في سنة تسعين ← مَعْرُوفِ بْنِ وَاصِلٍ السَّعْدِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5291

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5292

5006 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا علي بن حكيم الأودي قال أخبرنا شريك عن عبد الله بن عيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه قال دخلت مع النبي صلى الله عليه و سلم بيت الصدقة فتناول الحسن تمرة فأخرجها من فيه وقال إنا أهل بيت لا تحل لنا الصدقة

عبدالرحمن بن ابی لیلی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت الصدقہ میں داخل ہوا ۔ تو حسن نے ایک کجھور لے لی آپ نے وہ اس کے منہ سے نکال دی اور فرمایا ہم اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5292

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5293

5007 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرنا شريك فذكر بإسناده مثله غير أنه قال إنا أهل بيت لا تحل لنا الصدقة ولم يشك قال أبو جعفر رضي الله عنه أفلا يرى أن الصدقة التي تحل لسائر الفقراء من غير بني هاشم من جهة الفقر لا تحل لبني هاشم من حيث تحل لغيرهم فكذلك الفيء والغنيمة لو كان ما يعطون منها على جهة الفقر إذا لما حل لهم فأما ما أحتج به أهل هذا القول لقولهم من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فاطمة بالتسبيح عندما سألته أن يخدمها خادما عند قدوم السبي عليه فوكلها إذا بما أمرها به من التسبيح ولم يخدمها من السبي أحدا فذكر في ذلك ما

محمد بن سعید اصبھانی کہتے ہیں کہ ہمیں شریک نے خبر دی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے البتہ ہم اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہت اور انہوں نے یہ روایت بغیر شک کے الفاظ کے نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں کیا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ جو صدقہ تمام فقراء کے لئے جو بنی ہاشم کے علاوہ ہوں حلال ہے ۔ وہ بنو ہاشم کے لئے اس طرح حلال نہیں جس طرح دوسروں کے لئے حلال ہے مال فئی اور مال غنیمت کا بھی یہی حکم ہے ۔ اگر ان کو یہ مال فقر کی وجہ سے دیا جاتا تو اس صورت میں حالا نہ ہوتا ۔ ان حضرات کی بڑی دلیل یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب قیدیوں کی آمد پر ایک خادم کی درخواست کی تو آپ نے انہیں تسبیح کا حکم فرمایا اور قیدیوں میں سے کوئی غلام مرحمت نہ فرمایا ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5293

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5294

5008 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن الحكم قال سمعت عبد الرحمن بن أبي ليلى يحدث عن علي أن فاطمة رضي الله عنهما أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم تشكو إليه أثر الرحى في يديها وبلغها أن النبي صلى الله عليه و سلم أتاه سبي فأتته تسأله خادما فلم تلقه ولقيتها عائشة رضي الله عنهما فأخبرتها الحديث فلما جاء النبي صلى الله عليه و سلم أخبرته بذلك قال فأتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أخذنا مضاجعنا فذهبنا أن نقوم فقال ألا أدلكما على خير مما سألتما تكبران الله أربعا وثلاثين وتسبحان الله ثلاثا وثلاثين وتحمدان ثلاثا وثلاثين إذا أخذتما مضاجعكما فإنه خير لكما من خادم

عبدالرحمن بن ابی لیلی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ہاتھوں میں چکی کے اثرات کی شکایت کر رہی تھیں ان کو یہ اطلاع ملی کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ہاں کچھ قیدی آئے ہیں تو آپ سے خادم طلب کرنے آئیں چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی انہوں نے ان کے سامنے بات ذکر کی پھر جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس بات کی اطلاع دی حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ اس وقت ہمارے ہاں تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں پر جا چکے تھے ۔ ہم آپ کی آمد پراٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں جو تم نےمانگی ہے ؟ 34 مرتبہ اللہ اکبر ،33مرتبہ سبحان اللہ ،33 مرتبہ الحمداللہ اس وقت پڑھ لیا کرو جبکہ بستر پر لیٹو یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5294

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5295

5009 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبيه عن علي رضي الله عنه أنه قال لفاطمة ذات يوم قد جاء الله أباك بسعة من رقيق فاستخدميه فأتته فذكرت ذلك له فقال والله لا أعطيكما وأدع أهل الصفة يطوون بطونهم ولا أجد ما أنفق عليهم ولكن أبيعها وأنفق عليهم ألا أدلكما على خير مما سألتما علمنيه جبريل صلوات الله عليه كبرا في دبر كل صلاة عشرا وأحمدا عشرا وسبحا عشرا فإذا أويتما إلى فراشكما ثم ذكر مثل ما ذكر في حديث سليمان بن شعيب قال أبو جعفر فإن قال قائل أفلا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يخدمها من السبي خادما ولو كان لها فيه حق بما ذكر الله من ذوي القربى في آية الغنيمة وفي آية الفيء إذا منعها من ذلك وآثر غيرها عليها ألا تراه يقول والله لا أعطيكما وأدع أهل الصفة يطوون بطونهم ولا أجد ما أنفق عليهم قيل له منعه إياها يحتمل أن يكون لأنها لم تكن عنده قرابة ولكنها كانت عنده أقرب من القرابة لأن الولد لا يجوز أن يقال هو قرابة أبيه وإنما القرابة من بعد الولد ألا يرى إلى قول الله عز و جل في كتابه قل ما أنفقتم من خير فللوالدين والأقربين فجعل الوالدين غير الأقربين فكما كان الولدان يخرجان من قرابة ولدهما فكذلك ولدهما يخرج من قرابتهما ولقد قال محمد بن الحسن رحمة الله عليه في رجل أوصى بثلث ماله لذي قرابة فلان إن والديه وولده لا يدخلون في ذلك لأنهم أقرب من القرابة فيحتمل أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يعط فاطمة ما سألته لهذا المعنى فإن قال قائل فقد روى عنه أيضا في غير فاطمة من بني هاشم مثل هذا أيضا فذكر ما

عطا ء بن سائب نے اپنے والد سے انہوں نے جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دن کہا تمہارے والد کو اللہ تعالی نے غلاموں کی وسعت دی ہے تم ان سے ایک خادم طلب کر لو ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ کی خدمت میں یہ بات ذکر کی تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اہل صفہ کو بھوک سے لپٹتا چھوڑ کر تم دونوں کو نہ دوں گا جبکہ میری پاس ان پر خرچ کےلئے کوئی چیز نہیں لیکن میں ان جو فروخت کر کے ان خرچ کروں گا کای میں تم دونوں کو اس سے بہت بہتر چیز نہ دے دوں جو مجھے جبرائیل علیہ السلام نے سکھائی ہے؟ تم دونوں ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ اللہ اکبر ، دس دس مرتبہ الحمدللہ ، دس دس مرتبہ سبحان اللہ اسی طرح جب تم دونوں اپنے بستروں پر لیٹو ۔ پھر سلیمان بن شعیب جیسی روایت ذکر کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر کوئی کہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قیدیوں میں سے کوئی خادم نہیں دیا۔ اگر آیت غنیمت اور آیت فئی میں قرابت داروں کے ذکر کی وجہ سے ان کا حق ہوتا تو آپ ان سے نہ روکتے اور دوسروں کو ان پر ترجیح نہ دیتے اور میرے پاس ان پر خرچ کرنے کی کوئی چیز نہیں جو ان پر خرچ کر سکوں ۔ آپ کے ان کو عنایت نہ فرمانے م،یہں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کو آپ سے قرابت نہ ہو کیونکہ وہ تو قرابت سے بھی بڑھ کر نہت قریب تھیں ۔ کیونکہ اولاد سے متعلق یہ بات کہنا جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے والد کے قریبی ہیں اس لئے کہ قرابت تو اولاد کے بعد شروع ہوتی ہے کیا اللہ تعالی سے اس ارشاد کو نہیں دیکھتے کہ فرمایا ۔"قل ما انفقتم من خیر فللو الدین والا قربین الایۃ "(البقرہ 215)فرما دیں جو مال خرچ کر و وہ والدین اور اقربین کے لئے ہے ۔ اس آیت میں ماں باپ کو غیر قریبی قرار دیا ۔ تو جس طرح والدین اولاد کی قرابت سے خارج ہیں بالکل اسی طرح ان کی اولاد بھی ان کی قرابت سے خارج ہے ۔ امام محمد رحمۃاللہ علیہ کے قول سے تائید : امام محمد بن حسن رحمۃاللہ علیہ نے تحریر فرمایا کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میرا فلاں تہائی مال قرابت داروں کو دیا جائے وہ فرماتے ہیں کہ اس فلاں کے والدین اور اولاد اس میں داخل نہ ہوں گے کیونکہ وہ قرابت سے بڑھ کر قریب ہیں تو اس بات کااحتمال ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس مذکورہ بالا وجہ سے غلام عطاء نہ فرمایا ہو ۔ (اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال) اس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کیونکر تخصیص ہے جبکہ یہ بات اور بنو ہاشم کے متعلق بھی مروی ہے ۔ جیسا کہ روایت ہے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5295

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5296

5010 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا زيد بن الحباب قال حدثني عياش بن عقبة قال حدثني الفضل بن الحسن عن عمرو بن الحكيم أن أمه حدثته أنها ذهبت هي وأمها حتى دخلتا على فاطمة رضي الله عنها فخرجن جميعا فأتين رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أقبل من بعض مغازيه ومعه رقيق فسألنه أن يخدمهن فقال صريعكن يتامى أهل بدر

عمرو بن حکیم سے روایت ہےکہ ان کی والدہ نے ان سے بیان کیا کہ وہ اور ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئیں پھر وہاں سے نکل کر جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت اپ کسی غزوہ سے تشریف لائے تھے آپ کے ساتھ کچھ غلام تھے حضرت فاطمہرضی اللہ عنہا ان سب کے لئے غلام مانگے تو آپ نے فرمایا اہل بدر کے یتیم تمہاری بنسبت زیادہ پچھاڑے ہوئے ہیں (ضرورت مند ہیں) ۔

عمرو بن الحكيم ← الفضل بن الحسن ← عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5296

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5297

5011 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح قال ثنا محمد بن سلمة المرادي قال أملى علينا عبد الله بن وهب عن عياش بن عقبة الحضرمي أن الفضل بن الحسن بن عمرو بن أمية حدثه أن بن أم الحكيم أو ضباعة ابنتي الزبير بن عبد المطلب حدثه عن إحداهما أنها قالت أصاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سبيا فذهبت أنا وأختي فاطمة ابنة النبي صلى الله عليه و سلم فشكونا إليه ما نحن فيه وسألنا أن يعطينا شيئا من السبي فقال النبي صلى الله عليه و سلم سبقكن يتامى بدر ولكن سأدلكن على ما هو خير لكن تكبرن الله على إثر كل صلاة ثلاثا وثلاثين تكبيرة وثلاثا وثلاثين تسبيحة وثلاثا وثلاثين تحميدة ولا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير واحدة قال عياش وهما ابنتا عم رسول الله صلى الله عليه و سلم

ام حکیم یا ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے بیٹے نے بیان کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو قیدی ملے پھر میں اور میری بہن فاطمہ بنت النبی ؤﷺ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ہم نے ( پریشانی کی ) شکایت کی اور گزارش کی کہ آپ ہمیں کچھ قیدی عنایت فرمادیں ۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم سے بدر کے یتیم سبقت کر گئے لیکن میں تمہیں اس سے زیادہ بہتر راہنمائی کرتا ہوں ہر نماز کے بعد 33مرتبہ اللہ اکبر ،33مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمدللہ اور ایک مرتبہ لاالہ الا اللہ عحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیءِِ قدیر پڑھیں ۔

عياش بن عقبة الحضرمي ← أملى علينا عبد الله بن وهب ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5297

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5298

5012 - حدثنا يحيى بن عثمان قال ثنا أصبغ بن الفرج قال ثنا عبد الله بن وهب فذكر بإسناده مثله غير أنه قال ولا أدري ما أسم الرجل ولا أسم أبيه قيل له ليس هذا حجة لك على من أوجب سهم ذوي القربى لأنه إنما يوجبه لمن رأى النبي صلى الله عليه و سلم إيثاره به فقد يجوز أن يكون آثر به ذا قرباه من يتامى أهل بدر ومن الضعفاء الذين قد صاروا لضعفهم من أهل الصفة فلما أنتفى قول من رأى سهم ذوي القربى واحد بجملتهم على أنهم عنده بنو هاشم وبنو المطلب خاصة لا يتخطون إلى غيرهم وقول من قال إن حق ذوي القربى في خمس في الغنائم وفي الفيء بفقرهم ولحاجتهم بما احتججنا به على كل واحد من القولين ثبت القول الآخر وهو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان له أن يخص به من شاء منهم وحرم من منهم فإن قال قائل وما دليلك على ذلك قيل له قد ذكرنا من الدلائل على ذلك فيما تقدم من هذا الكتاب ما يغنينا عن إعادته ها هنا مع أنا نزيد في ذلك بيانا أيضا

اضبع بن فرج کہتے ہیں کہ عبداللہ بن وہب نے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت ذ کر کی ہے ۔ البتہ اتنی بات کہی کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ آدمی کا اور اس کے باپ کا کیا نام ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تمہارے لئے ان لوگوں کے خلاف دلیل نہین بن سکتی جو کہ قرابت داروں کے حصہ کو لازم قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ اسے ان لوگوں کے لئے واجب قرار دیتا ہے جن کو جناب رسول اللہ ﷺ ترجیح دینا مناسب سمجھیں ۔ تو عین ممکن ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ نقپنے قرابت داروں میں اہل بدر کے یتیموں اور ان کمزوروں کو ترجیح دی ہو جو اپنی کمزوری کی وجہ سے اہل صفہ میں سے ہو گئے ۔ جب ہامرے دلائل سے دونوں قولوں کی نفی ہو گئی یعنی اس آدمی کے قول کی بھی جو کہ قرابت داروں کے لئے ایک ہی حصہ قرار دیتا ہے یعنی اس کے نزدیک وہ صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے دوسروں کی طرف تجاوز نہ کرے گا اور دوسرا یہ قول جو غنائم اور فئی میں ان کا حصہ ان کی محتاجی اور حاجت کی وجہ سے قرار دیتا ہے ۔ تو تیسرا قول خود ثابت ہو گیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو اختیار تھا کہ جس کو چاہیں اس کے ساتھ خاص کریں اور جس کو چاہیں محروم کریں ۔ اس قول کی تماہرے پاس کیا دلیل ہے ۔ اس قول کے دلائل کا پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے البتہ چند اضافی دلائل پیش کئے جاتے ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5298

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5299

5013 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال ثنا جويرية بن أسماء عن مالك بن أنس عن الزهري أن عبد الله بن عبد الله بن نوفل بن الحارث حدثه أن عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث حدثه قال أجتمع ربيعة بن الحارث والعباس بن عبد المطلب فقالا لو بعثنا هذين الغلامين لي والفضل بن عباس على الصدقة فأديا ما يؤدي الناس وأصابا ما يصيب الناس قال فبينا هما في ذلك جاء علي بن أبي طالب ووقف عليهما فذكر ذلك له فقال علي لا تفعلا فوالله ما هو بفاعل فقالا ما يمنعك هذا إلا نفاسة علينا فوالله لقد نلت صهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فما نفسنا عليك فقال علي أنا أبو حسن أرسلاهما فانطلقا وأضطجع فلما صلى صلى الله عليه و سلم الظهر سبقناه إلى الحجرة فقمنا عندها حتى جاء فأخذ بآذاننا فقال أخرجا ما تضمران ثم دخل ودخلنا عليه وهو يومئذ عند زينب ابنة جحش فتواكلنا الكلام ثم تكلم أحدنا فقال يا رسول الله أنت أبر الناس وأوصل الناس وبلغنا النكاح وقد جئناك لتؤمرنا على بعض الصدقات فنؤدي إليك كما يؤدون ونصيب كما يصيبون فسكت حتى أردنا أن نكلمه وجعلت زينب تلمع إلينا من وراء الحجاب أن لا تكلماه فقال إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد إنما هي أوساخ الناس أدع إلي محمية وكان على الخمس ونوفل بن الحارث بن عبد المطلب فجاءاه فقال لمحية أنكح هذا الغلام ابنتك للفضل بن عباس فأنكحه وقال نوفل بن الحارث أنكح هذا الغلام فأنكحني فقال لمحمية أصدق عنهما من الخمس كذا وكذا أفلا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر محمية أن يصدق عنهما من الخمس ولم يقسم الخمس بعد ذلك عن عدد بني هاشم وبني المطلب فيعلم مقدار ما لكل واحد منهم فدل ذلك على أنه أتى ما سمى الله لذوي القربى في الآيتين اللتين ذكرناهما في صدر كتابنا هذا ليس لقوم بأعيانهم لقرابتهم لو كان ذلك كذلك إذا لوجب التسوية فيه بينهم وإذا لما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحبسه في يد محمية دون أهله حتى يضعه فيهم كما لم يحبس أربعة أخماس الغنائم عن أهلها ولم يول عليها حافظا دون أهلها ففي تولية النبي صلى الله عليه و سلم على الخمس من الغنائم من يحفظه حتى يضعه فيمن بأمره النبي صلى الله عليه و سلم فوضعه فيه دليل على أن حكمه إليه فيمن يرى في ذوي قرباه ولو كان لذوي القربى حق بعينه لا يجوز أن يصرف سهم عن كل واحد منهم حظه منه إلى من سواه وإن كانوا أولي قربى لما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحبس حقا للفضل بن العباس بن عبد المطلب ولا لعبد المطلب بن ربيعة بن الحارث ولا عن غيرهما حتى يؤدي إلى كل واحد منهم حقه ولما أحتاج الفضل بن العباس وعبد المطلب بن ربيعة أن يصدق عنهما شيئا قد جعله الله لهما بالآية التي ذكرهم فيها ففي انتفاء ما ذكرنا دليل صحيح وحجة قائمة أن ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم جعله في ذوي قرباه الذين جعله فيهم وما قد كان له صرفه عنهم إلى ذوي قرباه مثلهم وأن بعضهم لم يكن أولى به من بعض إلا من رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم وضعه فيه منه فيكون بذلك أولى ممن رأى يحظيه به منهم وفي ذلك أيضا حجة أخرى وهي أن فهد بن سليمان بن يحيى قد

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث نے بیان کیا کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب جمع ہوئے اور باہمی گفتگو کی کہ اگر ہم ان دو بچوں ( عبدالمطلب اور فضل ) کو صدقی کی وصولی کے لئے بھیجیں تو جو کچھ لوگ دیتے ہیں یہ بھی دیں اور جو کچھ لوگ حاصل کرتے ہیں یہ بھی حاصل کریں ۔ راوی کہتے ہیں وہ دونوں اسی حالت میں تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ان دونون کے پاس کھڑے ہو گئے انہوں نے آپ کے سامنے ذکر کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو ۔ اللہ کی قسم ! جناب رسول اللہ ﷺ ایسا نہ کریں گے ۔ ان دونوں نے کہا تم ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے اس بات سے رک رہے ہو ۔ اللہ کی قسم تمہیں جناب رسول اللہ ﷺ کی دامادی ملی ہم نے تو حسد نہیں کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ابو حسن ہوں ( یعنی حسد نہیں کرتا ) پس تم ان دونوں کو بھیج دو ۔ پھر وہ دونوں چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے جناب رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز ادا فرما چکے تو ہم آپ سے پہلے حجرہ مبارکہ میں پہنچ گئے اور وہاں کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ آپ تشریف لے آئے اور آپ نے (شفقت سے ) ہم دونوں کے کان پکڑے اور فرمایا جو کچھ تمہارے دل میں ہے ظاہر کرو ۔ پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اندر گئے ۔ آپ ان دنوں حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ ہم نے ایک دوسرے کو بات کرنے کا وکیل بنایا ۔ پھر ہم میں سے ایک نے کلام کیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ لوگوں میں سے سب سے زیادہ نیکی کرنے والے اورسب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں ہم دونوں نکاح کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ۔ ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں نعض صدقات (پر عامل ) مقرر فرمائیں تاکہ ہم بھی دوسروں کی طرح آپ تک ( وصول شدہ ) مال پہنچائیں اور دوسروں کی طرح ہم بھی فائدہ حاصل کریں ۔آپ ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی یہان تک کہ ہم نے ارادہ کیا کہ آپ سے ( دوسری مرتبہ ) کلام کریں ۔ مگر زینب رضی اللہ عنہا پردہ کے پیچھے سے ہمیں گفتگو نہ کرنے کا اشارہ فرما رہی تھیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ آل محمد ﷺ کے لئے صدقہ حلال نہیں یہ لوگوں کی میل کچیل ہے تم محمیہ کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ یہ خمس پر نگران تھے اور نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کو بھی بلاؤ ۔جب وہ دونوں آ گئے تو آپ نے حضرت محمیہ ۔ کو فرمایا اس لڑکے یعنی فضل بن عباس سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو ۔ چنانچہ انہوں نے نکاح کر دیا اور نوفل بن حارث کو فرمایا اس لڑکے عبدالمطلب بن ربیعہ سے تم بیٹی کا نکاح کر دو ۔ تو انہوں نے میرے ساتھ نکاح کر دیا ۔ پھر حضرت محمیہ سے فرمایا کہ ان دونوں کی طرف سے خمس میں سے اتنا اتنا مہر ادا کردو ۔ کیا معترض کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہت ایک کے لئے کتنی مقدار ہے ۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے ۔کہ اللہ تعالی نے ان دونوں آیات میں جن کو ہم نے شروع باب میں ذکر کیا ہے ۔ قرابتداروں کو جو حصہ بیان فرمایا ہے وہ قرابت کی وجہ سے کسی معین جماعت کے لئے نہیں اگر ایسا ہوتا تو اس صورت میں ان کے درمیان برابری ضروری ہوتی اور اس صورت میں جناب رسول اللہ ﷺ سے اہل بیت سے علیحدہ کرکے حضرت محمیہ رضی اللہ عنہ کے پاس نہ رکھتے حتی کہ وہ ان سب کو عطا ء فرماتے جیسا کہ آپ نے غنیمت کے چار حصے ان کے حقداروں سے نہیں روکے اور ان سے روک کر اس پر کوئی محافظ مقرر نہیں فرمایا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ کا غنیمت کے خمس پر کسی کو مقرر کرنا پھر آپ کے حکم سے اس کا کسی کو عطاء ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا اختیار آپ کو حاصل تھا کہ قرابت داروں میں سے جس کو مناسب سمجھیں عطاء فرمائیں ۔ اگر قرابت داروں کا مقررہ حصہ ہوتا تو آپ کسی قرابت دار کا حصہ دوسرے کو عطاء نہ فرماتے خواہ وہ کتنا ہی قریبی ہو اور آپ یقیناً حضرت فضل بن عباس اور عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث اور ان کے علاوہ دوسروں کا حق نہ روکتے بلکہ ان میں سے ہر ایک کو اس کا حق دیتے اور اس صورت میں حضرت فضل بن عباس اور عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہم کو اس بات کی محتاجی نہ ہوتی کہ ان کی طرف سے کوئی چیز بطور مہر ادا کی جائے ۔ جبکہ اللہ تعالی نے آیت مذکورہ کے ذریعہ ان کا حق عاجب قرار دیا ۔ ہم نے جو کچھ ذکر کیا یہ اس بات کی نفی پر صیح اور مضبوط دلیل ہے ۔کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جو عمل کیا کہ بعض کو عطا فرمایا اور دوسروں کو محروم کر دیا حالانکہ ان میں سے بعض دوسروں سے زیادہ قریبی نہ تھے تو اس کی صاف وجہ یہی تھی کہ آپ کو اس بات کا اختیار تھا کہ ان میں سے جس کو چاہیں مقدم کریں اور حصہ عنایت فرمائیں ۔ اس سلسلہ کی دوسری دلیل یہ ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5299

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5300

5014 - حدثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن بديل بن ميسرة عن عبد الله بن شقيق عن رجل من بلقين قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو بوادي القربى فقلت يا رسول الله لمن المغنم فقال لله سهم ولهؤلاء أربعة أسهم قلت فهل أحد أحق بشيء من المغنم من أحد قال لا حتى السهم يأخذه أحدكم من جنه فليس بأحق به من أخيه

بدیل بن میسرہ نے عبداللہ بن شفیق سے انہوں نے بلقین کے ایک آدمی سے روایت کی کہ میں جناب رسول اللہ ﷺجناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ اس وقت وادی قری میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! مال غنیمت کس کے لئے ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک حصہ اللہ تعالی کے لئے ان لوگوں ( غازیوں) کے لئے چار حصے میں نے پوچھا کای کوئی شخص دوسرے کی بنسبت غنیمت کا زیادہ حقدار ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ تم میں سے جو حصہ لیتا ہے تو اہ اپنے بھائی کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار نہیں ہے ۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو بوادي القربى فقلت ← رجل من بلقين ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5300

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5301

5015 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن خالد الحذاء عن عبد الله بن شقيق عن رجل من بلقين عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

خلد حذاء نے عبدللہ بن شفیق سے انہوں نے بلقین کے ایک آدمی سے اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← رجل من بلقين ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5301

chevron_left Previous
1…272829…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter